درسی کتب میں تاریخ  کا تذکرہ

مبارک علی

70

عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ امریکی  سماج نہایت کشادہ و فراخ   ہے  جو ہر آنے والے نئے فرد کو باآسانی اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ جبکہ  یہ مفروضہ مکمل طور پر درست نہیں ہے۔امریکہ آنے والے تمام تارکینِ وطن نے ہمیشہ اپنے ہم وطنوں  کے ساتھ رہنے اور اپنی اطالوی،آئرش یا یونانی شناخت برقرارا رکھنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم پہچان  کا یہ معاملہ  اس وقت پیچیدگی اختیارکر لیتا  ہے جب امریکہ میں رہائش پذیر سیاہ فاموں کی افریقی نژاد ، بھارتیوں کی بھارتی نژاداور پاکستانیوں کی پاکستانی نژاد امریکیوں  کے طورپر  دوہری شناخت کی تخصیص کی جاتی ہے۔چہ جائیکہ یہ سچ ہے کہ 1776 میں جب  13 نوآبادیوں کی جانب سے سرکارِ برطانیہ کے خلاف بغاوت کی گئی تو انہیں قومیت کی بنیاد پر متحد کرنے کی کوشش کی گئی تھی ،مگر آزادی کے بعدمختلف  شناختوں کے منظرِ عام پر آنے سے یہ اتحاد قصہِ پارینہ ہو گیا۔ باایں ہمہ امریکی طلباء کو نصابی کتابوں میں تاجِ برطانیہ کے خلاف خوں آشام جنگیں بپا کرنے والے امریکہ کے بانی راہنماؤں ، جنگی ملیشیاؤں اور اپنے آبا   پر ہمیشہ  فخر کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔جوزف موریو نے اپنی کتاب "نصاب زدہ قوم: امریکہ کی نصابی  کتب میں موجودتاریخی  تضادات "میں درسی کتب کے مصنفین کی مشکلات کا ذکر کیا ہے۔جوزف موریو لکھتے ہیں کہ قومی یگانگت کا تصور اسی روز ختم ہو گیا تھا جب امریکہ کے شمالی اور جنوبی علاقوں کے باشندوں نے ثقافتی بنیادیں الگ کر لی تھیں۔

جنوبی حصوں میں فراواں  زرعی اجناس سفید فاموں کی ملکیت ہوئیں جہاں افریقی غلام کاشتکای اور مزدوری کرتے تھے۔نتیجتاً یہاں کے باشندوں کا طرزِ بودوباش شمالی حصوں میں رہائش پذیر  سفید فاموں سےکلیتاً معکوس  نہج پر پروان چڑھا۔ جنوبی باشندوں نے اپنی دولت و ثروت اور مراعات یافتہ رتبے کی بقاء کیلئے ڈھیروں دولت کمائی، عالیشان محل تعمیر کئے اور سامانِ تعیش سے زیست کو آراستہ کیا۔انہوں نے مذہب اور نسل پرستی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے تصورِ غلامی کو  دوام بخشا،  غلاموں کو غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا اور انہیں انسانی احساسات  سے محروم کردیا ۔    اسی  نسلی تعصب، مذہبی جنونیت اور جاگیردارانہ روایت کا عکس ان کی نصابی کتب سے  عیاں  ہوتا تھا۔ دوسری طرف شمالی ریاستیں صنعتی  مراکز کے طور پر پنپ رہی تھیں، سو یہاں کے باشندوں میں جمہوری اقدارو روایات  اور وسعتِ نظری  و آزاد خیالی کو فروغ ملا۔یہاں کا نصاب بھی انہیں اخلاقیات کی نمائندگی کرتاتھا۔ 1861 سے 1865 کے دوران جنوبی اور شمالی ریاستوں کے مابین خانہ جنگی  میں جنوبی ریاستیں شکست سے دو چار ہوئیں اور  قومی اتحاد کی تجدید ممکن ہوئی۔نتیجتاً  نئے سیاسی نظام سے مطابقت پیدا کرنے کیلئے  نصاب کو تبدیل کر دیا گیا۔افریقی نژاد باشندوں کو سفید فاموں سے کم تر قرار دینے والے نسلی تعصبات کے خاتمے کی کوششیں کی گئیں۔تاہم ان تمام کوششوں کے باوجود ابھی تک امریکہ میں نسلی امتیاز  برقرار ہے۔

مصنفین کی ایک مشکل یہ بھی تھی کہ وہ ان مصائب و آلام  کو کس طرح بیان کریں جو امریکہ کے مقامی ریڈ انڈین باشندوں نے برداشت کیں، سفید فام باشندے جن کی زمینوں پرقابض ہوئے اور جنہیں  سفید فام غاصبوں کے خلاف  ہر مزاحمت پر خاک وخون میں نہلا دیاگیا۔اس نقطہ پر امریکی تاریخ  کی توضیحات بدل جاتی ہیں۔امریکی سرزمین سفید فاموں کیلئے آبادکاری  اور حرصِ فراوانی کی تکمیل کا ایک سنہرا موقع تھا ،جبکہ یورپیوں کی وہاں آمداور مقامی باشندوں کے ساتھ ان کا ظالمانہ رویہ وہاں کے مقامی باشندوں کیلئےانتہائی  تباہ کن ثابت ہوا۔ ایک مقامی امریکی باشندے کا کہنا تھا کہ جب وہ نصاب میں سفید فام ہیروؤں کی مہم جوئی اوران کے کارناموں کے بارے میں پڑھتا ہے تو  اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے یہاں کے مقامی لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کیا اور انہیں بے دردی سے قتل کر ڈالا تھا، اس حقیقت کے بعد وہ انہیں ہیروکیسے  تسلیم کرسکتا ہے؟ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے مابین  مذہبی اور فرقہ وارانہ تعصبات کے بارے میں لکھنا بھی درسی کتب کے مصنفین کیلئے ایک مستقل مسئلہ رہا۔بیشترانگریز آبادکار مسلکاً پروٹسٹنٹس تھے اور ان میں کیتھولکس کے خلاف نفرت گھر کر چکی تھی۔اسی لئے یہ ایک کٹھن کام تھا کہ کس طرح دونوں فرقوں  کے مابین مفاہمت کو  فروغ دیا جائے۔ اور یہودیوں کی آمد کے بعد یہ مسئلہ اور شدت سے سامنے آیا کہ کس طرح ان اعتقادات میں توازن پیدا کیا جائے تاکہ وہ امریکی سماج میں رچ بس سکیں ۔

اطالوی اور دیگر مغربی یورپی باشندوں کے امریکی ساحلی علاقوں میں آ بسنے سے امریکی معاشرے نے مزید تغیرات کا سامنا کیا۔ یہ باشندےنہ صرف  اپنی تاریخ، ثقافت اور پہچان کو برقرار رکھنے کیلئے پرجوش تھےبلکہ ان کی خواہش  تھی کہ ان کی قومی روایات کو امریکی درسی کتب میں شامل کیا جاناچاہئے۔جبکہ اولین  امریکی نو آباد کار  اینگلو سیکسن تھے، سو وہ اپنا تاریخی و ثقافتی ناطہ برطانیہ سے رکھنے پر مصر تھے۔ جنگِ آزادی کے دوران مختصر عرصے کیلئے یہ رجحان ختم ہوا  مگر بعد ازاں برطانوی روایات سے نسبت کو دوسری قومیتوں پر برتری  کے احساس کے ساتھ  فخریہ طور پر اپنایا جا نے لگا۔ مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی  قومیتوں پر مبنی امریکی معاشرے کی تاریخ کو نصابی کتابوں میں تحریر کرنا مورخین کیلئے ہمیشہ مشکل امر رہا ہے کہ کس طرح امریکی نصا ب میں تمام قومیتوں کی نمائندگی کو بغیر کسی اختلاف اور تعصب کے یقینی بنایاجائے۔

امریکی مورخین سمجھ چکے ہیں اور ان کی بنیادی فکربھی یہی ہے     کہ درسی کتب میں سماجی و سیاسی تغیرات کو قلمبند کرتے  ہوئے امریکی قومیت  کے راسخ احساسات کو طلباء میں پروان چڑھایا جائے تاکہ وہ امریکی سماج کی عظمت و رفعت سے شناسائی حاصل کر سکیں۔تاہم یہ نصابی کتب امریکی سامراجیت اوردوسرے ممالک میں بدامنی و   خون ریزی کو جنم دیتی  امریکی مداخلت کے تذکرے سے خالی ہیں۔اسی طرح یہ کتب  دیگر اقوام  کے ساتھ غیرمہذب امریکی برتاؤ اور ان کے معاملات میں مداخلتِ بیجا کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کرتیں  اور  اس پراحساسِ ندامت یا احساسِ جرم کے اظہار کے برعکس وہ اپنی قومیت اوراستعماریت  پر نازکرتی ہیں۔درسی کتب میں مسخ شدہ تاریخ کی تعلیم دیے جانے سے  نوجوان طلباء کے اذہان آلودہ ہوتے ہیں  اور یہ کیفیت عمر بھر اُن پر طاری رہتی ہے۔

پاکستانی نصابی کتب کے مصنفین کو دیگر ممالک کے تجربات سے  سبق سیکھنا چاہئےکہ  مختلف مذہبی، نسلی اور اقلیتی گروہوں کا  تذکرہ  درسی کتب میں اس طرح کیاجائےکہ ملک میں قومیت اور یگانگت کے احساسات جنم لیں۔

ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ : دی نیوز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...