کشمکش فیصلہ کن مرحلے میں داخل

77

جس سرعت سے سیاسی ماحول میں انتشار بڑھا رہا ہے،اس سے تو یہی لگتا ہے کہ سویلین اور مقتدرہ کے درمیان ستّر سالوں سے جاری کشمکش کسی فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہونے والی ہے۔بدھ کے روز مسلم لیگ نون  نے پانامہ نظرثانی کیس کے فیصلہ اور سپریم کورٹ کے ججز کے ریمارکس کو مسترد کردیا۔ بلاشبہ واقعات کا تناظر ہی حقائق کے ادارک کا واحد طریقہ ہے اور پانامہ کیس کو ماضی کے عدالتی فیصلوں کے تناظر میں دیکھنا ایک فطری امر تھا۔اب سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ عمران خان اور جہانگیرترین کے کسیز کا جو بھی فیصلہ دے گا ،اسے پانامہ کیس فیصلہ کے میعار پر پردیکھا جائے گا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثارکی قیادت میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ  نے اگر عمران کے حق میں فیصلہ دیا تو عدالتی فیصلوں میں امتیاز کی لکیر مزید گہری ہو گی اور اگر فیصلہ خلاف آیا تو عدالتیں پی ٹی آئی کی پاپولر سپورٹ سے محروم ہو جائیں گی۔پی پی پی اور  لیگی قیادت تو پہلے ہی عدالتوں سے شاکی تھیں اب اگر پی ٹی آئی بھی جوڈیشل ایکٹیوازم کا شکار ہوئی تو اعلیٰ عدلیہ کے لئے اپنی غیر جانبدارانہ ساکھ کو بچانا دشوار ہو جائے گا۔بیشک ہماری سیاسی تاریخ عدالتی دانش کے ہاتھوں مغلوب رہی اور نظریہ ضرورت پہ محمول عدلیہ کے متنازع فیصلوں نے ہمیشہ قومی سیاست کے بہتے دھارے کا رخ موڑ کے زندگی کی بوقلمونی کو پا بہ زنجیر رکھا ،لیکن  سچ پوچھیے تو نواز شریف اس وقت جس کارزار میں اترنے جا رہے ہیں، وہ حیات اجتماعی کے اسی فطری تلّون کا اظہار ہے جسے زیادہ دیر تک منجمد رکھنا  ممکن نہیں تھا۔ہمارے سیاسی نظام میں وقفہ وقفہ سے تصادم کے جو شعلے بھڑک اٹھتے ہیں وہ دراصل نادیدہ قوتیں کی جانب سے سیاست کو کنٹرول کرنے کی گھٹن کا ردعمل ہوتے ہیں۔اس وقت بھی حقائق کو نظرانداز کر کے مرضی کی سیاسی صف بندی کی کوششیں سماجی انتشار کو بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں۔ایم ایم اے کی بحالی اورکراچی میں ایم کیو ایم کے تراشیدہ دھڑوں کو ایک مخصوص کردار میں ڈھالنے کی مساعی مملکت کو  تباہ کن انتشارکی دلدل میں دھکیل دے گی۔رومی دانشور کہتے تھے کہ زندگی کے کھیل میں کچھ قوانین ایسے ہونے چاہیں جنہیں وہ بھی تسلیم کریں جو انکی خلاف ورزی کرتے ہیں۔اس لیے بہتر ہو گا کہ  سیاسی نظم و ضبط کو اپنے فطری رجحانات کے تحت ارتقاء پذیر ہونے کا موقعہ دیا جائے۔تمام تر قانونی جکڑبندیوں کے باوجود آزادی سے سوچنا ہمیشہ شخصی اور اجتماعی زندگی کا محور رہا اور آج بھی یہی خواہش زیست کی چھپی ہوئی بنیاد ہے۔

مملکت اس وقت جن مشکل حالات سے گزر رہی ہے ،اسمیں سیاسی نظم و ضبط کے تقاضے زیادہ ناگزیر ہو گئے ہیں۔انسانوں کو یہ احساس ملنا چاہیے کہ کوئی انہیں خارجی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کر رہا اور قدم قدم پہ انہیں موت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

عمومی مشاہدہ سے اس حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے کہ قانونی تادیب کے باوجود نواز شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اسی جمود پرور سوچ کے استرداد کا اظہار ہے کیونکہ ایک مدت سے عوام کی اکثریت کسی ایسے مزاحمتی کردار کی متلاشی تھی جو انہیں اس افسردہ کن جمود سے باہر نکالے جس نے ستّر سالوں سے ہمارے اجتماعی شعورکو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔پچھلی سات دہائیوں میں ایک ہی بیانیہ اور ایک جیسے الزامات کی تکرار نے معاشرے پہ اکتاہٹ طاری کر رکھی ہے۔ٹوٹتی بنتی حکومتوں کا مایوس کن کھیل معاشرے کو  پراگندہ اور مملکت کو ہر آن استحکام سے دور لے گیا ہے۔چنانچہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق پوری سوسائٹی کسی پائیدار سیاسی استحکام کی امید پر اس جنگ میں کودنے کو تیار ہو چکی ہے، جسے نواز شریف اب شروع کرنے والے ہیں۔ قرائن بتاتے ہیں کہ مسلم لیگ کی کہنہ مشق قیادت داخلی اختلافات کے آشوب اور اپوزیشن جماعتوں کے ہوائی حملوں میں الجھے بغیر اپنی توجہ کو سپریم کورٹ کے ججز اور مقتدرہ کو ہدف تنقید بنانے پہ مرتکز رکھنا چاہتی ہے۔چند دن قبل نواز شریف نے لاہور میں وکلاء کنونشن سے خطاب میں ریاستی اشرافیہ کے سامنے جو بارہ سوالات رکھے ان کا اشارہ،طاقت اور عدلیہ کا اتصال تھا۔چنانچہ اب پانامہ کیس فیصلہ کے خلاف نواز شریف کی مزاحمتی تحریک حنا جیلانی، ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی اور ظفرعلی شاہ کیس کے تناظر کو جذب کر لے گی۔سیاستدانوں کی  تازہ مزاحمت دراصل آزاد عدلیہ کی بحالی اور ایک صحت مند معاشرے کے قیام کی وہی صدائے بازگشت ہے، جسے ساٹھ سال قبل نظریہ ضرورت نے خاموش کرا دیا تھا۔یہ ایک ابدی اصول ہے کہ جو چیز ابھرتی ہے وہ گرتی بھی ضرور ہے ۔

سیاسی آزادیوں کے حصول کیلئے کسی بھی سیاستدان کی مزاحمتی جدوجہدکو ذاتی منفعت قرار دیکر فکری مغالطے پیدا کرنے کا روایتی حربہ اب کار آمد نہیں رہا۔ماضی گواہ ہے کہ عوامی خواہشات کی نمائندگی کرنے والے سیاستدانوں نے ہمیشہ باہمی کھینچاتانی  میں سماجی انصاف اور بنیادی آزادیوں کے حصول کی منزل گنوا کے خود کو تاریخ کے عبرت کدوں کا سامان بنایا، لیکن اب کی بار صورت حال قدرے مختلف دکھائی  دیتی ہے۔

پیپلز پارٹی سمیت تمام جمہوریت پسند سیاستدان حیات اجتماعی کی حقیقتوں کو فراموش کر کے پاور پالیٹکس کے  تقاضوں کے مفید فریب میں مبتلا نہیں ہوں گے۔جیمز سٹیفن نے کہا تھاکہ سیاسی طاقت فقط شکل بدلتی ہے اپنی فطرت نہیں بدلتی۔کراچی میں ایم کیو ایم کو پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ ملوث کر کے انتشار میں مبتلا کرنے کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکی،جسکے ردعمل میں فاروق ستار پہلی بار واقعی ایک  مہاجر لیڈر کے طور پر ابھر کے سامنے آئے،ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے اپنی جماعت میں کبھی دوسرے درجہ کی لیڈر شپ کو ابھرنے کا موقعہ نہیں  دیا اور وہ ممبران اسمبلی سمیت رابطہ کمیٹی کے اراکین کو ہمشہ کارکنوں کے ہاتھوں بے آبرو کرا کے متبادل قیادت کے امکانات کو محدود کرتے رہے۔اسی نفسیاتی پس منظر میں جب ایم کیو ایم کو الطاف حسین سے جدا کر کے فاروق ستار کے حوالے کیا گیا تو ممبران اسمبلی اور  رابطہ کمیٹی  سمیت مہاجروں کی اکثریت فاروق ستار کو ذہنی طور پہ لیڈر تسلیم نہ کر سکی لیکن پی ایس پی سے اتحاد کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات کے نتیجہ میں جب فاروق ستار مستعفی ہوئے تو ایم کیو ایم کے ممبران اسمبلی اور مقامی لیڈرشپ کو انکی اہمیت کا احساس ملا۔ انہوں نے منت سماجت کر کے انہیں متحدہ کی قیادت سنبھالنے پر آمادہ کیا تو فاروق ستار پہلی بار ایک بااعتماد مہاجر لیڈر بن کر سامنے آئے اور اسی احساس نے انہیں شہداء قبرستان کے تالے توڑنے کی ہمت عطا کی ۔اگلے مرحلہ میں فاروق ستار نائن زیرو کے تالے توڑ کر سب کو حیران کرسکتے ہیں۔اسی طرح  ایم ایم اے کی بحالی مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی مستقبل کو مخدوش کر دے گی۔ایم ایم اے کی کاغذی جماعتوں میں جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے سوا کوئی پارٹی ایسی نہیں جس کا اپنا ووٹ بنک ہو۔جماعت اسلامی خود بھی فطری زوال کا شکار بن کے معدوم ہونے والی ہے۔ لاہور کے حلقہ این اے 120 اور پشاور کے این اے 4 میں جماعت اسلامی نے نوزائیدہ لبیک پارٹی سے کم ووٹ حاصل کر کے اپنی کمزوریوں کو عیاں کر دیا ہے۔مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی سمیت ملک کی کوئی بڑی پارٹی جماعت اسلامی سے اتحادکو تیار نہیں تھی ۔ایسے میں مولانا فضل الرحمٰن جیسے زیرک سیاستدان  نے ایم ایم اے کی بحالی کی آڑ میں جماعت اسلامی سمیت دیگر کاغذی جماعتوں کا وبال اپنے سر لے کر اپنی متنوع سیاست کی موت کے اسباب پیدا کیے۔چنانچہ دوہزار اٹھارہ کا الیکشن مولانا فضل الرحمٰن کا رومال چرانے کا میلہ ثابت ہو گا۔ہمارے خیال میں ایم ایم اے بحالی کی بجائے مولانا فضل الرحمٰن اگر مسلم لیگ نواز، اے این پی،پیپلزپارٹی اور قومی وطن پارٹی سے سیٹ ایڈجسمنٹ کرتے تو اسے عام انتخابات میں بہتر نتائج مل جانے کی امید ہوتی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...