پاکستان میں سزائے موت کا قانون

181

پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پاکستان کے نظام انصاف میں موت ہونے یا نہ ہونے پر وسیع مباحثہ کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔سنیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ہمارے قانونی نظام میں قانون کا جھکاؤ امیر اور طاقتور لوگوں کی جانب ہے، سزائے موت پر پابندی اٹھنے کے تین سال بعد اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ انسداد دہشتگردی قوانین، فوجی عدالتوں اور گوانتا نامو بے جیل جیسی سزائیں دہشتگردی کے خلاف لڑنے میں کس حد تک کارآمد ثابت ہوئی ہیں۔

سانحہ پشاور کے بعد جیلوں میں موجود دہشت گردوں کو پھانسیاں دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا،ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک 500 سے زائد لوگوں کو پھانسیاں دی گئی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پھانسی پانے والے اکثر لوگ عام مجرم یعنی پکے دہشت گرد نہیں تھے جبکہ پھانسی کی سزا کو اس تخصیص کے ساتھ بحال کیا گیا تھا کہ صرف دہشت گردوں کو پھانسیاں دی جائیں گی۔

دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ہماری ریاست میں پھانسی کی سزاؤں کے سا تھ لاپتہ افراد کا معاملہ اس کے علاوہ ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو سالہا سال سے لاپتہ ہیں۔

اسلام میں پھانسی کی سزا صرف دوجرائم پر دی جاسکتی ہے مگر ہمارے قانون میں27 قسم کے ایسے جرائم پائے جاتے ہیں جن پر سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ ان جرائم پر نظر ثانی کی جائے اور اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ پاکستان کے نظام انصاف میں سزائے موت کا قانون ہونا چاہیے یا نہیں؟

حراستی سینٹرز میں موجود لوگوں کی صحیح تعداد کسی ادارے کے پاس نہیں ہے؟ ان میں سے کتنے لوگ ان مراکز میں وفات پا چکے ہیں اورکتنے لوگوں پر کس عدالت میں کس الزام کے تحت مقدمات چلائے جا رہے ہیں؟انہیں بنیادی انسانی حقوق اور قانون تک رسائی حاصل ہے یا نہیں؟ایسے بیسیوں دیگر سوالات ایسے ہیں جن پر ایک وسیع مکالمے اور مباحثے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں معاشرے کے تمام طبقات بشمول سیاسی پارٹیوں، وکلاء، مذہبی سکالرز، دانشور، میڈیا اور پروفیسرز پر مشتمل وسیع مشاورت کا اہتمام ہونا چاہیے۔

تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...