احسن اقبال اور خادم حسین رضوی کی خدمت میں

3,282

ایک ہفتے سے پوری دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے کہ کیسے پاکستان کے وفاقی دارلحکومت کو تحریک لبیک یارسول اللہ (TLY) اور سنی تحریک کے کارکنوں نے جام کر رکھا ہے ۔ یہ دھرنا راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر گذشتہ سات دنوں سے جاری ہے جس میں تقریبا تین ہزار افراد شریک ہیں ۔ سخت سردی اور بارش میں بھی لبیک پارٹی کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جس سے ان کی کمٹمنٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔تحریک لبیک یارسول اللہ (TLY) اور سنی تحریک کا مطالبہ ہے کہ انتخابی بل کے حلف نامے میں ختم نبوت کی شق میں ردوبدل کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور توہین رسالت کیس میں قید آسیہ مسیح کو سزائے موت دی جائے ۔ جب حلف نامے میں تبدیلی ہوئی تو پہلے کہا گیا کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور الفاظ کی تبدیلی کے اثرات حلف نامے کی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے ۔ بعد میں تسلیم کیا گیا کہ واقعی تبدیلی ہوئی ہے، کہا گیا کہ یہ ایک بڑی سازش ہے ۔ اس پر جب احتجاج شروع ہوا تو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پارٹی کے اندر انکوائری کمیٹی قائم کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ۔ سینٹ میں قائد ایوان راجا ظفر الحق کی سربراہی میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور مشاہد اللہ خان پر مبنی تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم کی ۔

گذشتہ دنوں اسلام آباد سے شائع ہونے والے ایک اخبار 92 نیوز کے رپورٹر غلام مرتضیٰ نے دعویٰ کیا کہ کمیٹی نے رپورٹ مکمل کر لی ہے جس میں وزیر قانون زید حامد کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ تاہم کمیٹی کے چئیر مین راجا ظفر الحق ، ارکان احسن اقبال اور مشاہد اللہ خان نے اپنے دستخطوں سے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ختم نبوت سے متعلق انتخابی فارم کے بارے میں ذمہ داروں کے تعین سے متعلق شائع شدہ خبر بے بنیاد اور من گھڑت ہے ۔اطلاعات کے مطابق انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر دی ہے تاہم ابھی تک کمیٹی کی رپورٹ اور ذمہ داران کا تعین کے بارے میں رپورٹ کو اوپن نہیں کیا گیا ۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ تین رکنی کمیٹی کی رپورٹ سیل کر کے چودہ دنوں کے اندر عدالت میں پیش کرے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کو اول حلف نامے میں تبدیلی کی ضروت کیوں کر پیش آئی ؟ اگر یہ واقعی ضرورت تھی تو پھر اس سے فرار کیوں اختیار کیا گیا ؟ حکومت کو اپنا مقدمہ پیش کرنا چاہیے تھا اور عوام کو مطمئن کرنا چاہیے تھا ۔ بات تو وہی ہے کہ جو کام کر نہیں سکتے تو پھر اسے چھیڑتے کیوں ہو ؟ دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ دانستہ کیا گیا ہے تو پھر ذمہ داروں کا تعین کیوں نہیں کیا جا رہا ؟ مولانا فضل الرحمان کے بقول پوری پارلیمان اس معاملے میں گناہ گار ہے تو پارلیمان نے اپنے اس گناہ پرایوان میں قرارداد پیش کر کے معافی مانگی ؟ جب خود ہی انکوائری کمیٹی قائم کی ہے تو پھر اس کی رپورٹ قوم کے سامنے پیش کی جائے اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں سزا دی جائے ۔ حکومت کے اس کمزور اور مبہم کردار نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں ۔کچھ اہم شخصیات کا کہنا ہے کہ رپورٹ اوپن نہ کرنے کی ایک وجہ سے یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ذمہ دار کے تعین کے بعد اس کی سزا کا مطالبہ سامنے آئے گا اور اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں . اسے قادیانی یا قادیانیوں کا ایجنٹ قرار دیکر جانی نقصان بھی پہنچایا جا سکتا ہے . اس خدشے کے پیش نظر رپورٹ سامنے نہیں لائی جا رہی . تحریک لبیک کے لوگ فارم میں تبدیلی کا ذمہ دار وزیر قانون زاہد حامد کو قرار دیتے ہیں تاہم گذشتہ دنوں زاہد حامد نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اس سے برات کا اعلان کرتے ہوئے خود کو عاشق رسول کہا ہے . ان کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کا خاندان اسلام پر فخر کرتے ہیں ۔

ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی ادارے کیا کر رہے ہیں ؟ انہیں علم نہیں تھا کہ دھرنے والے کیا مطالبات لیکر آ رہے ہیں اور ان کا موڈ کیا ہے ؟ کیا انہیں علم نہیں تھا کہ تحریک لبیک کا ایک گروپ دو ہفتے پہلے ایک ہفتے کا دھرنا دیکر مذاکرات کے نتیجے میں واپس گیا ہے تو دوسرے گروپ کے لیے کیا اقدامات کرنے ہیں ؟ کیا حکومتیں صرف مزاکرات تک محدود رہتی ہیں ۔ کوئی آؤٹ آف دی باکس حل کیوں نہ سوچے گئے ؟ حکومت کی صفوں میں بریلوی مسلک کی سر کردہ شخصیات مذہبی امور کے وزیر مملکت پیر سید امین الحسنات شاہ ، رکن قومی اسمبلی پیر سید عمران علی شاہ ، رکن صوبائی اسمبلی پیر محفوظ مشہدی اور کیپٹن صفدر سمیت دیگر لوگوں کو کیوں متحرک نہیں کیا گیا ؟ ان لوگوں کے ذریعے دھرنے کو لاہور میں ہی روکا جا سکتا تھا ۔ اگر انہیں اسلام آباد آنے کا شوق ہی تھا تو انہیں روات روک لیتے ۔ مین اسلام آباد آنا تھا انہیں فیض آباد کے قریب پریڈ گراؤنڈ میں منتقل کر دیتے تاکہ اسلام آباد کے شہریوں کو تکلیف نہ ہوتی ۔

پاکستانی میڈیا کا کردار بھی بڑا عجیب و غریب ہے ۔ کبھی یہ الطاف حسین ، فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال پر پوری میراتھن ٹرانسمیشن کرتا ہے اور کبھی بڑےبڑے ایونٹ چھوڑ دیتا ہے ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی ممتاز قادری کے جنازے کو پوری دنیا کے میڈیا نے کور کیا ۔ میں نہیں کہتا کہ اس پر میرا تھن ٹرانسمیشن چلائی جاتی تاہم تیس سیکنڈ کی خبر تو ضروری تھی ۔ابھی دھرنے کے شرکا ایک ہفتے سے بیٹھے ہیں کیا نیوز بلیٹن میں بطور ایک ایونٹ کے ان کی خبر نہیں چلانی چاہیے ۔ خبریں نہ چلنے کی وجہ سے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد انہیں کس مصیبت سے گذرنا پڑے گا ۔ میڈیا کو اپنے کردار پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ خصوصا آسمان سے اترے ہوئے اینکرز کو تھوڑا وقت نکال کر اپنے الفاظ اور انداز تکلم پر بہت زیادہ سوچنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے جدید صحافتی لغت کی بنیاد رکھی ہے جسے سن کر بچے تمیز اور تہذیب سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ سیاستدانوں اور مذہبی رہ نماؤں کے لغو گفتگو کو نشر کر کے میڈیا نے پوری قوم کو ایک ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے ۔ جب آپ اس طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں اشتعال پھیلتا ہے ۔ میڈیا مالکان یا انتظامی شعبوں سے وابستہ لوگ تو محفوظ رہتے ہیں تاہم رپورٹر اور کمیرامین کو جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔

میں سوچ رہا ہوں کہ آخر یہ دھرنا ہے کس کے خلاف ؟ اگر یہ حکومت کے خلاف ہے تو حکمرانوں کے راستے کھلے ہیں ۔ آج تک ہم نے نہیں سنا کہ دھرنے کی وجہ سے وزیر اعظم ، وزیر داخلہ ، سپیکر اسمبلی یا کوئی بھی اہم شخصیت ٹریفک جام میں پھنس گئی ۔ دھرنے کی وجہ سے نہ آرمی چیف کا راستہ بند ہوا اور ناہی چیف جسٹس کا ، اگر ہوتا تو وہ ضرور ایکشن لیتے ۔ راولپنڈی سے اسلام آباد روزانہ اڑھائی سے تین لاکھ لوگ آتے جاتے ہیں ۔ ان کے کاروبار ، دفاتر ، تعلیم سمیت مختلف کام کاج اسلام آباد میں ہیں ۔ میٹرو بند پڑی ہے کیونکہ گذشتہ سال مارچ میں تحریک لبیک کے کارکنوں نے میٹرو بس کے شیشے توڑے اور اسٹیشنز پر بری طرح توڑ پھوڑ کی ۔ میٹرو بند ہونے کی وجہ سے غریب لوگوں کو ٹیکسیوں کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ دس ہزار روہے تنخواہ لینے والا جب مجبورا تین سو روپے کی ٹیکسی بک کرواتا ہے تو اس کے پورے مہینے کا بجٹ اپنی جگہ سے متاثر ہو جاتا ہے لیکن اس کی کون سنتا ہے ۔ جمعے کی سہہ پہر میں نے دیکھا کہ ایک خاتون دو بچوں کے بیگ کندھے پر لٹکائے فیض آباد کا پل کراس کر رہی تھی ۔ بچوں اور خاتون کے چہرے سے تھکاوٹ عیاں تھی ۔ پوچھنے پر تقریبا رو پڑی ، کہنے لگی کہ وہ تین کلومیٹر سے زیادہ راستہ پیدل چلی ہے اور ابھی اسے سکستھ روڈ تک جانا ہے ۔ میں کیا کر سکتا تھا ۔ خاموشی سے فضا میں گھورنے لگ گیا ۔ دھرنے میں ساری رات لاؤڈ اسپیکر چل رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے آئی ایٹ ، جی ایٹ اور فیض آباد کے لوگ سو نہیں سکتے ۔ بچے اسکولوں کو نہیں جا سکتے ۔ جن لوگوں نے صبح آٹھ بجے پہنچنا ہوتا ہے وہ آدھے گھنٹے کا سفر تین سے ساڑھے تین گھنٹوں میں طے کر کے اسلام آباد پہنچتے ہیں ۔ اسلام آباد ورکنگ کلاس کا شہر ہے اور ان دھرنوں کی وجہ سے لوگ اعصابی تناؤ کا شکار ہو رہے ہیں ۔

میں سوچ رہا تھا کہ یہ لوگ خود کو نبی کریم ص کے عاشق کہتے ہیں لیکن رسول رحمت نے تو فرمایا تھا کہ راستوں میں نہ بیٹھو ، اس بیٹھنے کو ہی تو دھرنا کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح رسول اللہ ص نے فرمایا کہ ایمان کے 72 درجے اور آخری درجہ راستے میں سے رکاوٹ کو ہٹانا ہے ، اہل مذہب کی دستار سلامت رہے ، اللہ آپ کے جبوں کی رونقیں سلامت رکھے ، خطابت کی شعلہ بیانیاں قائم رہیں ۔ کیا مجھے بتانا پسند فرمائیں گے کہ اگر میں اس روایت کو مفہوم مخالف میں بدل کر پڑھوں تو کفر کے بھی 72 درجے ہوئے تو زرا سوچیے کہ کفر کا پہلا درجہ کون سا بنتا ہے ؟؟ کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ دنیا کا کون سا مذہب یا نظام راستے بند کرنے کو درست سمجھتا ہے ؟ یہاں کبھی مذہبی جلوسوں کے نام پر سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں اور کبھی سیاسی لوگ یہ کام کرتے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں میاں نواز شریف کی عوامی رابطہ مہم ، عمران خان کے دھرنے اور مذہبی جلوسوں کی وجہ سے جہاں تاجروں کا اربوں روہوں کا معاشی نقصان ہوا وہیں لوگوں کے لیے بے پناہ مسائل پیدا ہوئے ۔ ایمبولینسسز میں لوگ تڑپتے تڑپتے مر گئے ۔ حاملہ عورتوں نے رکشوں اور سڑکوں پر بچے جنے ۔ لیکن ان کی سیاست سلامت رہے ، عوام تو ہوتی ہی مرنے کے لیے ہے ۔ لیکن ایک بات سن لیجئے اے اہل جبہ و دستار ، آپ کے یہ اعمال اس قوم کو مذہب ، مذہبی حلیے ، عبادت گاہوں اور خدا سے دور لے جا رہے ہیں ۔ اتنے دور کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔

جن لوگوں نے شہری زندگی کو جام کر کے رکھا ہوا ہے ۔ ان کا تعلق بریلوی مکتب فکر سے ہے ۔ انہوں نے دوبرس پہلے لبیک یارسول اللہ کے نام سے تنظیم قائم کی ۔ اس پارٹی کی قیادت مسلکی حوالے سے معروف تھی ، سیاسی میدان کا انتخاب انہوں نے سلمان تاثیر کے قاتل گارڈ مرحوم ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد کیا ۔پہلے اس پارٹی میں مولانا آصف اشرف جلالی ، پیر افضل حق قادری اور مفتی خادم حسین رضوی شامل تھے تاہم بعد میں اختلافات کی بنیاد پر پیر آصف اشرف جلالی الگ ہو گئے ۔ تحریک لبیک کے قائد علامہ خادم حسین رضوی سرکاری ملازم رہ چکے ہیں وہ لاہورمیں پیرمکی مسجد میں اوقاف کے ملازم تھے جوبعد میں برطرف کردیئے گئے تھے ۔ ایک حادثے کی وجہ سے علامہ خادم حسین رضو ی دونوں پاؤں سے معذورہیں اورزیادہ ترویل چیئرپرہی بیٹھے رہتے ہیں۔ لاہورکے ایک مدرسے میں شیخ الحدیث ہیں ۔ ان کا بیان بہت سادہ اور دلنشین ہوتا ہے ۔ اکثر اوقات وہ گالم گلوچ بھی کرتے ہیں ۔ ان کے انداز تکلم اور بے باک انداز کی وجہ سے مکتب دیوبند سے وابستہ سخت گیر نوجوان بھی ان کی طرف متوجہ ہورہے ہیں ۔ گجرات سے تعلق رکھنے والے پیرافضل قادری کانام فورتھ شیڈول میں شامل ہے اورپنچاب حکومت نے ان کی نقل وحرکت پرپابندی لگارکھی ہے ۔ پیر افضل قادری نے اپنی قمیص اتار کر جہاد کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ وہ ڈنمارک میں قتل ہونے والے عامر چیمہ کے مزار پر قبضے کے حوالے سے متازع رہے ہیں ۔

ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد بریلوی مسلک میں اس بات پرپھڈاشروع ہواکہ ممتازقادری کیس میں کوتاہی کس نے کی ؟ دھرنا قائدین کاخیال تھا کہ راول پنڈی سے تعلق رکھنے والے مفتی حنیف قریشی (جن کی تقریر سن کر ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو قتل کیا تھا ) نے اپنی جان بچانے کے لیےممتازقادری کیس میں سب سے زیادہ کمزوری دکھائی ۔ مفتی حنیف قریشی کا تھانہ کوہسار میں جمع کرایا گیا حلف نامہ موجود ہے جس میں انہوں نے ممتازقادری کوپہنچاننے سے ہی انکارکردیاتھا۔ دھرناپارٹی کاخیال تھا کہ مفتی حنیف قریشی اس حلف نامے کے بجائے یہ تسلیم کرلیتے کہ میری تقریرکی وجہ سے ممتازقادری اشتعال میں آیاتھا توشاید قادری پھانسی سے بچ جاتا اور مفتی حنیف قریشی جیل چلے جاتے جنہیں بعد میں تحریک چلا کر رہا کروا دیا جاتا ۔یکم مارچ 2015 کو ممتازقادری کے جنازے کے موقع پربھی دھرنا پارٹی جنازہ پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے لے جانا چاہتی تھی لیکن سٹیج مفتی حنیف قریشی گروپ کے پاس ہونے کی وجہ سے معاملہ لیاقت باغ میں ہی ختم ہوگیا۔ سینئر صحافی عمر فاروق کے مطابق ان کی جب دھرناپارٹی کے قائدین سے ملاقات ہوئی تو انہیں یہ بتایا گیا کہ مفتی حنیف قریشی نے ممتازقادری کے نام پرکروڑوں روپے کمالیے ہیں مگرقادری کے اہل خانہ کوایک روپیہ بھی نہیں دیا ۔ مفتی حنیف قریشی برطانیہ سمیت مختلف ممالک کے دورے کرآیامگرکہیں بھی قادری کے اہلخانہ کے ساتھ انصاف کامعاملہ نہیں کیا، جس کی وجہ سے قادری کے اہل خانہ مالی طورپرکچھ مشکلات کاشکارہیں اگرچہ قادری کے اہل خانہ نے کبھی بھی اس کاتذکرہ نہیں کیا مگروہ مفتی حنیف قریشی سے مطمئن نہیں تھے یہی وجہ ہے کہ قادری کے اہل خانہ نے دھرناپارٹی کاساتھ دینے کااعلان کیا ۔دھرناپارٹی کو مفتی حنیف قریشی کے رویے پر شدید غم اور غصہ تھا ۔ انہوں نے ممتاز قادری کے والد اور بھائی کو ساتھ ملایا اور27مارچ کولیاقت باغ میں چہلم کی تاریخ دے دی ۔ عمر فاروق کے مطابق ممتازقادری کی پھانسی کے بعد پاکستان اور بیرون ملک مقیم لوگوں کی طرف سے بڑی تعدادمیں رقم بھیجنے کابھی سلسلہ شروع ہوا، اس رقم کوکس طرح خرچ کیاجائے ؟ مستقبل میں کون سے منصوبے بنائے جائیں اس حوالے سے دھرناپارٹی نے ساراکام اپنے کنٹرول میں لے لیا اورمفتی حنیف قریشی اوران کے ساتھیوں کومکھن کی طرح باہرنکال دیا۔

ممتاز قادری کے جنازے کے بعد بریلوی مسلک کی سیاسی اور مسلکی تنظیمات کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا جس میں ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر، علامہ شاہ اویس نورانی ، علامہ عرفان شاہ مشہدی، سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجازقادری، تحریک فدایان ختم نبوت کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی ،ڈاکٹراشرف آصف جلالی ، علامہ نویدالحسن شاہ مشہدی ، پیرافضل قادری ،پیرعابد سیفی ،ڈاکٹرظفراقبال جلالی ، پیرعنایت الحق شاہ شریک ہوئے ۔ اسی موقع پربزرگ عالم دین پیرحسین الدین شاہ ،علامہ ریاض حسین شاہ ،علامہ حامد سعید کاظمی ،مفتی منیب الرحمن ،علامہ راغب نعیمی ،حامدرضا ودیگرجواگرچہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تاہم ان سے فون پر مشاورت کی گئی ۔ دھرناپارٹی کاپہلا مطالبہ تھا کہ بریلوی مسلک سے تعلق رکھنی والی تمام جماعتیں اپنی اپنی جماعتیں ختم کرکے نئی جماعت قائم کریں جس کانام ،،تحریک لبیک یارسول اللہ ہوگا ۔ جمعیت علماء پاکستان کے دونوں گروپوں ڈاکٹرابوالخیرمحمدزبیر،علامہ شاہ اویس نورانی نے نئی جماعت بنانے ،اوراسلام آبادکی طرف مارچ کرنے کی مخالفت کی ۔ پیرحسین الدین شاہ ،علامہ ریاض حسین شاہ ،علامہ حامد سعید کاظمی ،مفتی منیب الرحمن ،علامہ راغب نعیمی ،حامدرضا نے جمعیت علماء پاکستان کے مؤ قف کی حمایت کرتے ہوئے نئی جماعت بنانے اور پرتشدد تحریک چلانے سے گریز کا مشورہ دیا ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے مسلک نے کبھی بھی پرتشددتحریک نہیں چلائی اس لیے تحریک کوپرامن رکھاجائے البتہ بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والی مختلف جماعتوں پرمشتمل ایک اتحادبنایاجائے جس پرنامورعلماء پرمشتمل ایک سپریم کونسل بنائی جائے جوان کی نگرانی کرے ۔ دھرنا پارٹی نے ان جماعتوں کو مصلحت کوش قرار دیتے ہوئے علامہ عرفان شاہ مشہدی، سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجازقادری، تحریک فدایان ختم نبوت کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی ،ڈاکٹراشرف آصف جلالی ، علامہ نویدالحسن شاہ مشہدی ، پیرافضل قادری ،پیرعابد سیفی ،ڈاکٹرظفراقبال جلالی اور دیگر نے مل کر تحریک لبیک یارسول اللہ کے نام سے نئی جماعت قائم کردی ۔ اس جماعت نے لاہور اور پشاور کے حالیہ ضمنی انتخابات میں بھرپور حصہ لیا اور دونوں جگہوں پر حیران کن ووٹ حاصل کیے .

میڈیا سمیت پاکستان میں انسانی حقوق کے موضوع پر کام کرنے والے اداروں کے مطابق پاکستان میں احمدی کیمونٹی کو کئی مسائل کا سامنا ہے اور انہیں بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے . احمدیوں کو اپنی شناخت چھپا کر رکھنی پڑتی ہے . حالت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے ساتھ اس سلوک کے خلاف دو لفظ بھی کہہ دے تو اسے اچھوت بنا دیا جا تا ہے ۔احمدیوں کے خلاف مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر دیوبندی ، بریلوی ، اہل حدیث ، شیعہ اور جماعت اسلامی نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے تقریبا 72 سال سے زائد عرصہ تحریک چلائی جس کے نتیجے میں پاکستان کی پارلیمان نے 7 ستمبر 1973 میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتے ہوئے ان پر مسلمانوں کے شعائر (شناختیں )استعمال کرنے پر پابندی لگا دی تھی ۔مسلمانوں کے نزدیک احمدی حضرت محمد ص کو آخری نبی نہیں مانتے بلکہ انڈیا کے علاقے قادیان سے تعلق رکھنے والے مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں . احمدیوں کو مرزائی یا قادیانی ، مرزا غلام احمد قادیانی کی نبست سے ہی کہا جاتا ہے تاہم وہ خود کو مرزا غلام احمد قادیانی کی قوم مرزا ، یا علاقے قادیان کی نسبت کے بجائے ان کے نام غلام احمد کی وجہ سے احمدی کہلوانا ہی پسند کرتے ہیں ۔پارلیمان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے بعد بھی احمدیوں کے خلاف تحریک ختم نہیں ہوئی . عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے پورے ملک میں وال چاکنگ کی جاتی ہے جس میں لکھا جاتا ہے کہ قادیانی کافر ، مرتد اور زندیق ہیں . عام طور پر مسلمانوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ مرتد واجب القتل ہوتا ہے . مرتد اس فرد کو کہا جاتا ہے جو اسلام ترک کر کے کوئی دوسرا مذہب قبول کر لیتا ہے .مرتد کی سزا کے بارے میں مسلم مفکرین میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں تاہم موجودہ وقت میں اکثریت مرتد کی سزا قتل پر اتفاق رکھتی ہے ۔اسی طرح ختم نبوت ص کے موضوع پر کام کرنے والی تنظیمات کی جانب سےجو بینرز اور اسٹیکرز شائع کیے جاتے ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے کہ تین چیزوں سے بچیں ، شیطان ، شیزان اور قادیان . اس سے ظاہر ہوتا ہے ملک میں احمدیوں کے لیے معاشی سر گرمیوں کے مواقع یکساں نہیں اور انہیں یہاں بھی نفرت کا سامنا ہے ۔شیزان ایک مشروب ساز کمپنی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی ملکیت ایک احمدی کے پاس ہے تاہم احمدی جماعت کے اکثر لوگ اس کا انکار کر تے ہیں . ختم نبوت کے رہ نما کہتے ہیں کہ قادیانی شیزان کا کاروبار محدود ہونےکے خوف کی وجہ سے اس کی ملکیت کو تسلیم نہیں کرتے . ختم نبوت کے رہ نماوں کا کہنا ہے کہ احمدی اپنے کاروبار کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں اور وہ اس وجہ سے احمدیوں کے کاروباری اداروں کے خلاف ہیں ۔

اس ساری صورتحال کے پیش نظر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے اور اس میں احمدی کیمونٹی بطور خاص ٹارگٹ ہو رہی ہے . پاکستان کی جانب سے جب بھی کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے تو ان فورمز پر پاکستانی نمائندوں کو احمدی کیمونٹی کے ساتھ میں پاکستان میں روا رکھے جانے والے سلوک پر رپورٹس پیش کر دی جاتی ہیں . پاکستان عالمی فورمز پر اس سلسلے میں دباؤ محسوس کرتا ہے ۔اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہری گذشتہ ایک ہفتے سے پریشان ہیں . وہ کہتے ہیں کہ حکومت دھرنے والوں سے فوری معاملہ حل کرے تاہم وہ یہ بھی مطالبہ کر رہے ہیں ملک میں شاہراہوں پر ہمیشہ کے لئے ہر قسم کے جلسے جلوسوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہری گذشتہ ایک ہفتے سے پریشان ہیں . وہ کہتے ہیں کہ حکومت دھرنے والوں سے فوری معاملہ حل کرے تاہم وہ یہ بھی مطالبہ کر رہے ہیں ملک میں شاہراہوں پر ہمیشہ کے لئے ہر قسم کے جلسے جلوسوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے . حکومت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ ہر دو مہینے بعد اس طرح کے گروپوں کو شہری زندگی میں انتشار پیدا کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دے گی یا اس مسئلے پر پارلیمان میں کوئی بات کی جائے گی کہ شاہراہوں پر دھرنے اور جلوسوں کا سلسلہ کیسے روکا جا سکتا ہے ۔ اگر حکومت اسی طرح اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر کے لڑکھڑاتی رہی تو پھر بتائیے کہ بنانا ریپبلک اور کسے کہتے ہیں ؟؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...