ایم ایم اے کی بحالی

کیا مذہبی سیاسی جماعتیں مذہب کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے میں کامیاب ہوسکیں گیں؟

279

الیکشن جوں جوں قریب آتا جارہا ہے سیاسی جماعتیں بھی متحرک ہوتی جارہی ہیں، جلسے جلوسوں کے ساتھ ساتھ آئے روز سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد کی خبریں بھی منظرعام پرآرہی ہیں، دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح آئندہ انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعتیں بھی متحد ہوکر میدان میں اُترنے پر غور کررہی ہیں، اس سلسلے میں ملک کی بڑی مذہبی سیاسی جماعتوں نے خود کو آئندہ الیکشن میں بدترین شکست سے بچانے اور خیبر پختونخواہ سمیت بلوچستان میں دوبارہ حکومت بنانے کے خواب لیے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں ایم ایم اے  کی بحالی کا اصولی فیصلہ کیاہے۔ متحدہ مجلس عمل چھ جماعتوں کا اتحاد تھا جو 2002 میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن گروپ ، جمعیت علماء اسلام پاکستان، تحریک جعفریہ پاکستان، جمعیت اہل حدیث، جمعیت علما اسلام( س) اور جماعت اسلامی نے امریکہ کے افعانستان پر حملے اور سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے اسکی حمایت کرنے کی ضد میں بنائی تھی، جس نے امریکہ اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف اور افغان طالبان کے حق میں پورے پاکستان میں جلسے، جلوس اور ہرٹالیں  بھی کی تھیں۔ ایم ایم اے نے 2002 کے الیکشن میں خیبر پختونخواہ سے حیران کن نتائج حاصل کیے ۔ 2002کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی کل 99 نشستوں میں سے 52 پر کامیابی حاصل کرکے صوبے میں حکومت بنائی تھی جبکہ قومی اسمبلی میں صوبے سے کل 35 نشستوں میں سے 28 پر کامیابی حاصل کی تھی۔اسی طرح بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ ق سے ملکر اتحادی حکومت بنائی اور بلوچستان سے قومی اسمبلی کی کل چودہ میں سے چھ سیٹوں پر کامیابی حا صل کی تھی۔ یوں مرکز میں 45 نشستوں کے ساتھ ملک کی تیسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ۔نتائج کو دیکھتے ہوئے اگر یہ کہا جائے کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کے اس اتحاد نے پختون بیلٹ سے ہی کامیابی حاصل کی تھی تو غلط نہیں ہوگا۔ ایم ایم اے اتحاد میں اس وقت دراڑ پڑی جب جے یو آئی(س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے بیٹے مولانا حامد الحق حقانی نے مولانا  اعظم طارق  سے مل کر قومی اسمبلی میں شریعت بل پیش کیا تھا جس پر مولانا فضل الرحمن اورقاضی حْسین احمد (مرحوم ) نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ مولانا سمیع الحق نے ایم ایم اے بنانے میں کلیدی کردار ادا کیاتھا اور وہ اس کے چیئرمین بھی تھے ، اس کے بعد جب مولانا فضل الرحمٰن نے لیگل فریم آرڈر پر مشرف کا ساتھ دیاتو  سمیع الحق گروپ نے ایم ایم اے سے راستے جدا کرلیے۔

 

جماعت اسلامی اور مولانا سمیع الحق کی مخالفت کی وجہ سے 2008 کے الیکشن میں جمعیت علماء اسلام (ف) پورے پاکستان سے صرف آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ 2013 ء میں جب ایک طرف دشت گردی انتہا پر تھی، صوبے میں برسر اقتدار جماعت عوامی نیشنل پارٹی اور پی پی پی کی قیادت کو نشانہ بنایہ جا رہا تھا، دوسری طرف عمرا ن خان کی مقبولیت صوبے میں دن بہ دن بڑھ رہی تھی ۔ایسے میں مولانا فضل الرحمن نے ہرایسے ارب پتی ، کروڑپتی ، سمگلرز اورسیاسی ورکرز کو پارٹی میں شامل کیا جو شدت پسند عناصر سے پناہ لینا چاہتے تھے یا خود کو محفوظ بنانے کیلئے اسمبلی تک پہنچنا  چاہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ 2013 میں  مولانا فضل الرحمن نے جماعت اسلامی اور سمیع الحق کی ایم ایم اے بحالی کی خواہش کو یکسر مسترد کیا تھا اور الیکشن میں سولو فلائٹ کو ترجیح دی تھی ۔ مولانا کی توقعات کے برعکس جمعیت علماء اسلام (ف ) نے صوبے میں 99 میں سے صرف 13 پر کامیابی حاصل کی اور جماعت نے سات سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ انتخابات کے نتائج سے اگر صوبے میں مذہبی ووٹ بینک کی مقبولیت کا جائزہ لیا جائے تو چار اعشارہ پانچ فیصدبنتا ہے۔

 

2002ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اگر 2008 اور 2013 ء میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مذہبی پارٹیوں کے ووٹ بینک میں مسلسل کمی آرہی ہے اور لبیک یا رسول اور ملی مسلم لیگ کے قیام کے بعد مذکورہ مذہبی سیاسی جماعتوں کی کامیابی کے محدود امکانات بھی ختم ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ جماعتیں اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کیلئے ایک مرتبہ پھر اتحاد کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔ حال ہی میں این اے 20 1لاہور اور این اے فور پشاور میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں لبیک یارسول  اور ملی مسلم لیگ نے جماعت اسلامی سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جبکہ مولانا فضل الرحمن ان دونوں انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا ۔ دوسری طرف اگر چہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی خیبرپختونخوا میں کارکردگی اس طرح مثالی نہیں رہی جیسے انکی قیادت کی جانب سے دعوے  کیے جاتے رہے تھے، تاہم اس کے باوجود صوبے کی مقبول ترین سیاسی جماعت تصور کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) کے موجودہ ایم این ایز اور ایم پی ایز سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ہیوی  ویٹ اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے تحریک انصاف میں شمولیت کیلئے پَر تول رہے ہیں۔ حال ہی میں جماعت اسلامی کے بونیر سے موجودہ ایم این اے شیر اکبر خان اور جے یو آئی (ف) کوہستان سے ایم پی اے مولانا عصمت اللہ کے بعد چارسدہ سے ایم پی اے فضل شکور سمیت کئی رہنما پی ٹی آئی میں شامل ہونے جارہے ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کے مضبوط گڑھ بونیر ، دیر اور چترال میں جلسے کر کے ان کے لئے خطرے کے گھنٹی بجادی ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایم ایم اے بحال ہونے سے مذہبی سیاسی جماعتیں پاکستان بالخصوص خیبر پختونخواہ میں اپنی توقعات پر پورے اترنے میں کامیاب ہوسکیں گی ؟ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ 2002 میں ایم ایم اے کی تشکیل میں مقتدر قوتوں  کا ہا تھ تھا  جنہیں  نائن الیون کے واقعے نے موقع مہیا کیا ۔ان مقتدر قوتوں نے ایم ایم اے کو امریکہ کے مشرف پر دباؤ کم کرنے کے لئے استعمال کیا۔لیکن اس دفعہ 2018 میں ممکنہ انتخابات میں سیاسی منظر نامہ اس طرح نہیں ہے اور نہ ہی ان مقتدر قوتوں  کو اب ان کی کوئی ضرورت ہے۔بلکہ اب امریکہ اور پاکستان کی اینٹی جہاد پالیسی کے باعث مذہبی قوتوں کے لئے پہلے سے محدود امکانات بھی معدوم ہو چکے ہیں۔  شاید  یہی وجہ ہے کہ جہادی گروپ بھی سیاست کے طرف آرہے ہیں۔ لبیک یارسولؐ  اور  ملی مسلم لیگ جیسی تنظیمیں  اس اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ عوام میں بھی اب یہ شعور اگیا ہے کہ ایم ایم اے کے آنے سے معاشرہ مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر فرقہ واریت اور معاشرتی کشیدگی کی لپیٹ میں رہا۔ قبائلی علاقے اور خیبر پختونخوا انتہاپسندوں کے ہاتھ میں چلے گئے۔ لو گ یہ جانتے ہیں  کہ یہ اتحاد ان کی اپنی بقاء کیلئے ہے  نہ کہ اسلام کے حذمت کے لیے۔  جماعت اسلامی صوبے میں پی ٹی آئی کی اتحادی ہے اور صرف چھ سیٹوں پر چار اہم وزارتوں پر براجمان ہے۔یہ  پی ٹی آئی ہی تھی جس نے سراج الحق کو سینیٹر بنایا۔ کیا پی ٹی آئی کے ساتھ ساڑھے چار سال گزارنے کے بعد جماعت اسلامی کی پی ٹی آئی پر تنقید میں وزن ہوگااور ووٹرز کویہ  قائل کر پائیں گی؟۔ کیا مولانا فضل الرحمن  مسلم لیگ کے اتحاد سے نکل پائیں گے ؟ اگر نکل آئے تو تنقید کس پر کریں گے اور سیاسی نعرے کیا لگائیں گے۔؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...