امریکہ کی تو سیع پسندانہ خارجہ پالیسی اور دنیا بھر کے مہاجرین

127

کچھ  عرصہ  پہلے  ا پنے  ایک  مضمون  میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ کس  طرح  بیرونی  طاقتوں کے  مفاد کی  خاطر  میانمار  میں خون  ریزی کی  جا رہی  ہے اور لوگ  اپنا  گھر بار چھوڑ کو مختلف ممالک میں مہاجرین کی حثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔  حالیہ دنوں میں ایک رپورٹ منظرعام پر آئی ہے جس کے مطابق پچھلے کچھ عرصہ  سے  دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی  لوگوں  کو اپنا گھر بار چھوڑ کر  اپنے  ہی ملک کے  اندر یا کسی  دوسرے ملک میں اگرہجرت کرنا پڑی ہے تو اس کے پیچھے  کہیں نہ کہیں  امریکہ کی  توسیع پسندانہ خارجہ پالیسی  کا ہاتھ ہے۔دنیا بھر کے انسانی حقوق  کے ادارے اور انجمنیں  خصوصا امریکہ میں موجود انسانی حقوق کی تنظیمیں تارکین  وطن  کو درپیش مسائل  اور ان کے حقوق کی پامالی کے حوالے سے تو   آواز  اٹھا رہی ہیں لیکن   جن وجوہات کی بنا  پر  یہ لوگ دربدر  ہونے پر مجبور ہوئے یا ابھی بھی در بدر ہو رہے ہیں ،اس پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت  دنیا  بھر  میں  ساڑھے  چھ کروڑ سے  زائدلوگ  پناہ گزینوں کی حثیت سے مختلف  ممالک  میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور اوسطاً ہر ایک منٹ میں چوبیس  لوگ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہیں۔اس وقت مہاجرین کی  سب سے بڑی تعداد کا تعلق شمالی افریقہ سے ہے یا پھر ملک شام سے۔ ایک اندازے کے مطابق شام میں خانہ جنگی کے بعد سے تقریبا ۶۰ لاکھ لوگوں کواندرون ملک اور اڑتالیس لاکھ لوگوں کو بیرون ملک ہجرت کرنا پڑی جو کہ خانہ جنگی سے پہلے شام کی ملکی آبادی کا تقریباً نصف ہے۔عراق میں خانہ جنگی کے بعد  تقریبا  چوالیس لاکھ  لوگوں کو اندرون ملک اور  ڈھائی لاکھ سے زائد لوگوں  کو بیرون ملک  پناہ  ڈھونڈنا  پڑی ہے۔یمن  جنگ تقریبا پچیس لاکھ  لوگوں  اور لیبیا کی خانہ جنگی تقریبا پانچ لاکھ  لوگوں کی ہجرت کا سبب بنی۔

ایک  اور رپورٹ کے مطابق اگست2016 تک امریکہ عراق، افغانستان اورپاکستان میں لڑی جانے والی جنگوں پر  تقریبا ساڑھے تین کھرب ڈالرز پھونک  چکا ہے۔ اگر اس میں  2017  کے متوقع اخراجات کو بھی شامل  کر لیا  جائے تو  یہ اخراجات چار  کھرب  ڈالرز سے بھی  زیادہ ہو جائیں گے۔ایک  مضحکہ خیز بات ان سب جنگوں کے  حوالے سے یہ  تھی کہ ان سب  جنگوں کو شروع کرنے سے پہلے  امریکہ کا یہ دعوی تھا کہ  وہ یہ جنگیں”انسانوں  اور انسانیت ” کو بچانے کے نام پر شروع  کرنے پر مجبور ہے۔ذرا  یاد کریں امریکہ کے صدر جارج بش کی وہ تقریر  جو انہوں نے افغانستان میں جنگ چھیڑنے سے پہلے کی تھی۔ انہوں نے  افغانی عوام   کو یہ بتایا تھا کہ امریکہ کی اس جنگ کا مقصد ان کو  طالبان کے  ظالمانہ   تسلط سے نجات دلوانا ہے اور وہ یہ سب کچھ ان کی حفاظت کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا  کہ وہ  طالبان کے   فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے اور افغانی عوام کو خوراک اور ادویات مہیا کریں گے تاکہ  افغانی  عوام  خوراک کی کمیابی اور ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ  سے موت کا شکار نہ بنیں لیکن ہو ا اس کے برعکس۔ افغانستان  میں یہ جنگ آج بھی جاری ہے  اور جن کے ساتھ  روٹی اور دوائی کا وعدہ تھا  وہ  آج بھی اپنی زندگی بچانے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ کی یہ جنگ ایک لاکھ سے زائدعام افغانیوں کی جان لے چکی ہے۔چودہ لاکھ لوگوں کو اندرون ملک اور پچیس  لاکھ  لوگوں کو بیرون ملک پنا ہ  ڈھونڈنا پڑی ہے۔طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد بجائے اس کے کہ امریکہ افغانی عوام کی حفاظت کو  یقینی بناتا، اس نے عراق میں جنگ چھیڑ دی   ۔ نتیجتاً  نئی افغانی حکومت کمزور ہوئی ،  داعش اور حقانی نیٹ ورک  جیسےمختلف شدت پسندگروہ مضبوط ہوئے  جنہوں نے ملک کے بڑے حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور افغانی عوام کو دوبارہ پناہ گزیں بننا پڑا۔2003میں امریکہ نے”تباہی پھیلانے والے اسلحے” کی تلاش کے نام پر عراق پر حملہ کیا ۔نتیجہ  خانہ جنگی کی صورت میں نکلا۔بڑے پیمانے پر لوگ ہجرت پر مجبور ہوئے ۔تقریبا دو لاکھ  لوگ  اس”امریکن ایڈوینچر” کا شکار بنے۔لیبیا کے مسئلے کو لیکر امریکی صدر اوبامہ نے لیبیائی عوام کو یہ یقین دلایا کہ  امریکہ اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کران کو صدر قذافی کے جبر سے نجات دلائے گا  لیکن ہو اکیا؟ جیسے ہی قذافی حکومت کا خاتمہ ہو ا ،ملک انتشار کا شکار ہوگیا اور مختلف  تشدد پسندمسلح گروہ طاقت کےحصول کے لئے ایک دوسرے کے دست و گریبان ہوئے اور لوگوں کو اپنے ہی ملک میں دربدر ہونا پڑا۔

امریکہ  کی ایک تنظیم”کونسل آن فارن ریلیشنز” کے مطابق امریکہ نے افغانستان،عراق،یمن وغیرہ  میں جاری ان جنگوں  میں کم ازکم چھبیس ہزاربم گرائے۔یعنی تقریبا بہتربم روزانہ۔ یہ تعداد ابھی کم ازکم ہے  کیونکہ ابھی ان  اعدادوشمار  میں وہ معلومات شامل نہیں جس سے یہ پتا چل سکے کہ ان جنگوں میں امریکی حلیفوں نے کتنے بم استعمال کئے۔امریکی صدر ٹرمپ نے  اپنی  صدارتی  مہم  کے دوران امریکی عوام کے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ  وہ ان کی حفاظت پر زیادہ خرچ کریں گے  اور  تارکین وطن کی امریکہ آمد کو مشکل بنا دیں گے۔اقتدار   سنبھالتے ہی انہوں نے پناہ گزینوں کی امریکہ آمد کو مشکل بنادیا اور کئی ممالک  کے  لوگوں کے لیے امریکہ کےسفرکوناممکن بنا دیا۔ امریکی عوام کی حفاظت کے نام پرعسکری بجٹ میں  تیس ارب  ڈالرز کا اضافہ کر دیا ۔

مشرق وسطیٰ کے مسئلے کو لے کر بھی صدر ٹرمپ کا رویہ  خاصا جارحانہ اور آمرانہ ہے  ۔ وہ اپنے  قریبی حلقوں میں یہ کہتے بھی  سنے گئے کہ  امریکہ "عراق” اور "لیبیا” میں تیل پر  اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی خاطر "کچھ” بھی  قربان کرنے کو تیار ہے۔ امریکی عسکری بجٹ میں حالیہ اضافہ اور ۲۰۱۸ کے  بجٹ میں متوقع اضافہ صدر ٹرمپ  کی اس بات کی تائید  کرتا ہے  اور ایسا لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ  میں  لگی آگ  دنیا کے کئی اور ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے گی اور کئی  نئےممالک کے عوام   مہاجرین کی نئی فہرست کا حصہ بننے پر مجبور ہوں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...