بلوچستان تنازعہ : ذرائع ابلاغ ہدف کیوں؟

132

بلوچستان میں ریاستی اداروں نے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو ایڈوائزری جاری کرکے بلوچ علیحدگی پسندوں کی خبروں کی اشاعت رکوادی ہے،جس کے ردعمل میں کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے پمفلٹ شائع کر کے اخبارات اور الیکٹرانکس میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو بلیک آوٹ ختم نہ کرنے کی صورت میں  سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔دوطرفہ دباؤ کے بعد کوئٹہ شہر کے سوا بلوچستان کے طول و عرض میں اخبارات کی سرکویشن بند اور گوادر سمیت دالبندین،پنج گور اور تربت میں اخبار فروشوں کی دکانیں اور پریس کلب مقفل ہوگئ ہیں۔بی ایل اے کے ترجمان گہرام خان نے کہا کہ بلوچستان میں اگر میڈیا نے صرف ریاستی بیانیہ کی اشاعت کے ذریعے بلوچوں کی آواز دبانے کی پالیسی  جاری رکھی تو اشاعتی اداروں کو بے رحم حملوں کا سامناکرنا پڑے گا۔مہران مری کی یونائیٹڈ بلوچ اتحاد اور دیگر قوم پرست جماعتوں نے بھی بی ایل اے کے الٹی میٹم کی حمایت کر کے میڈیا کے خلاف تشدد کے رجحان کو بڑھاوا دیا۔ترجمان نے کہا کہ ہم نے میڈیا ہاوسز مالکان کو اپنے روّیوں میں تبدیلی کی درخواست کی لیکن اخباری اداروں نے ہماری معروضات کو سنجیدہ  لینے کی بجائے اشتہارات اور مراعات کے حصول کی خاطر ابلاغ کے پیشہ وارانہ اصولوں اور غیرجانبداری کو پس پشت ڈال دیا۔دریں اثناء اے پی این ایس کے وفد نے کور کمانڈر کوئٹہ سے ملاقات کر کے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ دنیا بھر میں میڈیا  علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے دہشتگردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے جیسی خبروں کو جاری کرتا ہے۔مگر بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کہتے ہیں کہ میڈیا کو ریاست اور دہشتگرد تنظیموں میں فرق کرنا ہو گا۔ اگر  میڈیا ریاستی اداروں پر حملے اور ملک کی سلامتی کے خلاف کام کرنے والے لشکروں کو ہیرو بنا کے پیش کرے گا تو کنفیوژن بڑھے گی ،جس سے سوسائٹی حق و باطل میں تفریق نہیں کر پائے گی۔

بدقسمتی سے شورش زدہ بلوچستان کے صحافیوں کی مجبوریوں کو سمجھے بغیر ریاستی اتھارٹی اور علیحدگی پسندوں کا طرز عمل ایک جیسا ہے۔دونوں گروہ اپنی پالیسیز اور عملی کارروائیوں کوجائز ثابت کرنے کی خاطر میڈیا کو کنٹرول کرنے کی پالیسی پہ عمل پیرا ہیں۔آزادی اظہار پہ محمول حیات اجتماعی کے اعصابی نظام کو مفلوج رکھنے کی بجائے ریاستی ادارے اور شورش پسند دونوں اگر اپنی پالیسیز میں لچک پیدا کرتے تو انہیں اطلاعات کے فطری بہاؤکو تہہ و بالا کرنے کی ضرورت نہ پڑتی ۔لیکن افسوس کہ دونوں متحارب قوتیں میڈیا کو ہدف بنا کر معاشرے کو تاریکی کی جانب دھکیلنے میں سرگرداں ہیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فطری نظم و ضبط میں جو تغیرات روز افزوں ہیں وہ قانونی تشدد کی مدد سے کم نہیں ہو سکتے۔البتہ  ابلاغی نظام کو پراگندہ کرنے کا سب سے زیادہ نقصان خود ریاست اور معاشرے کو پہنچے گا۔ریاستی اتھارٹی میڈیا کی زبان بندی کی بجائے علیحدگی پسندوں کوکنٹرول کرتی تو ہمیں یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔بلاشبہ ملکی سلامتی کے دشمن کسی رعایت کے مستحق نہیں۔برطانیہ نے بھی آئرش باغیوں کو کچلنے کی خاطر دیکھتے ہی گولی مارنے کی پالیسی  اپنا کر پوری قوت سے علیحدگی کی تحریک کوکچل ڈالہ لیکن بلوچ علیحدگی پسندوں بارے ریاستی اتھارٹی کی نیم دلانہ کارروائیاں اور ادہوری کوششیں تباہ کن نتائج کی حامل ثابت ہو رہی ہے ۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ جنگ زدہ بلوچستان میں دن بدن صحافیوں کیلئے ذمہ داریاں نبھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مقتدرہ کی نئی حکمت عملی نے بلوچستان میں آزادی صحافت کے امکانات کو محدود اور کارکن صحافیوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا۔خدشہ ہے کہ حسب روایت بلوچ علیحدگی پسند پنجابی آبادکاروں اور غیر بلوچ صحافیوں کو نشانہ بنا کے المیے تخلیق کرنے کی کوشش کریں گے۔

گزشتہ پچیس سالوں میں دنیا بھر میں جو 1610 صحافی قتل ہوئے۔ ان میں شام کی خانہ جنگی میں 235 ،عراق وار کے دوران 211 اور پاکستان میں پیشہ وارنہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد 127 سے زیادہ ہے۔ روزنامہ ڈان کی رپوٹ کے مطابق گزشتہ بیس سالوں کے دوران بلوچستان کی شورش میں  57کارکن صحافی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔جن کی اکثریت غیر بلوچوں پہ مشتمل تھی ۔کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) نے بلوچستان میں آزادی صحافت کی صورت حال کو  انتہائی مخدوش اور بنیادی آزادیوں کے منافی قرار دیا۔کوئٹہ میں ضیا شاہد کی صدرات میں سی پی این ای کی  اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں میڈیا کی مخدوش صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد منظوری کی گئی قراردادوں میں بلوچستان میں آزادی صحافت کو لاحق خطرات پر گہری تشویش کا اظہار اور متحارب قوتوں کی میڈیا کے خلاف بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو سماج کی بقاء کے لئے مہلک قرار دیا گیا۔حکومت اگر قانونی تشدد کی بجائے بلوچستان میں اپنی توجہ معاشرے کو منظم کرنے پہ مرتکز رکھتی تو اسے زیادہ بہتر نتائج ملتے کیونکہ وقت کی صرف ایک ہی کروٹ بلوچستان میں علیحدگی پسندی کے رجحانات کو دفن کرنے والی ہے۔گوادر پورٹ کی بحالی اور سی پیک کی تعمیر بلوچستان میں ایک نئے صنعتی معاشرے کے قیام کا سبب بنے گی۔جتنی تیزی کے ساتھ ترقیاتی عمل آگے بڑھے گا ،اتنی ہی سرعت سے یہاں سماج کی سوچ اور طرز عمل میں تبدیلی آئے گی کیونکہ صنعتی معاشروں میں لوگوں کو جانچنے کیلئے حسب و نسب کو نہیں بلکہ تخلیقی قوت کو معیار بنایا جاتا ہے۔چنانچہ اگلے پانچ سالوں میں سردار اور انکا سرداری نظام از خود متروک ہو جائے گا۔اکیسویں صدی میں آزادی کی تحریکیں رومانوی کشش کھو  رہی ہیں اور انسانی شعور علاقائی،لسانی اور نسلی مفادات کے تنگ دائروں سے ماوراء ہو کر  کائناتی وسعتوں کی طرف بڑھ رہا  ہے۔ہم جان چکے ہیں کہ آزادی کی پکار صرف اس دل سے اُٹھتی ہے جو خفہ طور پہ طاقت کا بھوکا ہو۔وہ وقت دور نہیں جب  مادی خوشحالی  یہاں ہزاروں برسرپیکار گروہوں کو باہم ملکر زندگی گزارے کا ڈھنگ سیکھا دے گی۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض وظائف مثلاً مالیات،نقل و حمل اور اظہار رائے کے وسائل اتنے قوی ہو گئے ہیں کہ آئینی پابندیوں کے بغیر وہ معاشرے کو تباہ کر سکتے ہیں۔اگرچہ ہمارے عہد میں ریاست کو نااہل،جانبدار اور بداخلاق سمجھا جاتا ہے لیکن سچ پوچھیے تو یہ بات غنیمت ہو گی کہ یہ وظائف ریاستی اختیار میں  آ جائیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...