کٹاس راج مندر کے تاریخی تالاب کی خستہ حالی پر از خود نوٹس

52

 

بدھ کے روز منصفِ اعظم پاکستان  میاں ثاقب نثار نے قریبی صنعتی کارخانوں کی جانب سے زیرِزمین پانی کے غیر قانونی استعمال کے سبب ہندوؤں کے مقدس تاریخی کٹاس مندرمیں واقع تالاب کے پانی کے خشک ہوجانےکا  از خود نوٹس لیا ہے۔  نیلگوں پانی کا  تالاب ، جس میں پانی کی موجیں کناروں سے سر ٹکراتی تھیں    ، اگر حالت یہی رہی تو بوند بوند پانی کو ترس جائے گا۔   مقامی لوگ علاقے میں موجود سیمنٹ  کے کارخانوں کے ذمہ داران  کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں جو اپنی صنعتی پیداوارمیں اضافے  کیلئے  زیرِ زمین پانی کو بے رحمانہ طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔  اس  تباہ حالی کا نوٹس  لیتے ہوئے چیف جسٹس  نے متعلقہ وفاقی و صوبائی ذمہ دار اداروںمحکمہ آثارِ قدیمہ و عجائبات  اسلام آباد،  ادارہ برائے متروکہ وقف املاک لاہور، محکمہ آثارِ قدیمہ لاہور اور  ڈپٹی کمشنر چکوال کو تین دن کے اند ر تفصیلی جواب داخل کرانے کا حکم دیا ہے۔

ہندومت کے  بھگوان  شیو جی سے منسوب کٹاس راج مندر پنجاب کے ضلع چکوال کے علاقے چاہ سیداں شاہ میں واقع ہے۔ یہ جگہ دراصل  سات تاریخی  مندروں  ،   ایک بدھ اسٹوپا   اور ایک عظیم جنگجو ہری سنگھ نروا کی حویلی پر مشتمل ہے جو چھٹی سے تیرھویں صدی عیسوی میں  تعمیر کی گئی ۔ ہندو عقائد کے مطابق یہ تالاب شیو جی کےپوتر  آنسوؤں سے وجود میں آیا  تھا جو انہوں نے اپنی پتنی ستی  کی موت پر اس کی یاد میں بہائے تھے۔   دنیا بھر سے ہر سال مہاشیورتری تہوار پر ہندو یاتری  کٹاس راج مندر  آتے اور اپنے پاپ دھونے  کیلئے مقدس تالاب میں نہایا کرتے تھے۔  مگر پاکستان میں حالات کی خرابی کے باعث اب ہندو یاتری یہاں پوجا کرنے نہیں آتے۔  کچھ ہندو ؤں کا ماننا یہ بھی  ہے کہ اس پانی میں گناہوں کے ساتھ ساتھ زخموں کو مندمل کرنے کی شکتی بھی ہے۔

حالیہ خبروں کے مطابق یہ تالاب زیرِ زمین پانی سے بھرے رہنے کے قدرتی عمل کے رک جانے کے باعث  خشک ہوتا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں کارخانوں میں پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے سینکڑوں بور کئے گئے ہیں جس کے سبب زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہوتی جارہی ہے اور کٹاس مندر کے گردو نواح اور چاہ سیداں شاہ میں فراہمیِ آب کا نظام نہ ہونے کے  باعث یہاں رہائش پذیر افراد  آبی ضروریات کی تکمیل کیلئےگہرے نلوں کے ذریعے  زیرِ زمین پانی استعمال کرتے ہیں۔ یہ عمل  زیرِ زمین سطحِ آب کو مزید نیچے کی طرف گرا   لے جائے گا۔

(ترجمہ: حذیفہ مسعود)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...