لبرل کی شامت

5,082

پاکستان کے لبرلز کے بارے میں عامر رانا صاحب کا رنجیدہ رنجیدہ مقالہ پڑھا۔ کہتے ہیں پاکستان میں جب بھی بحران آئے لبرل کی شامت آتی ہے۔آخر میں انہوں نے ایک معصومانہ سوال بھی کیا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ وہ اپنے سوال کے جواب میں جس نتیجے پر پہنچے ہیں اس سے ان کی لبرل معصومیت کن اکھیوں سے جھانکتی نظر آرہی ہے۔  

ہمیں توان کا مقالہ پڑھ کر کوکلا چھپاکی کا کھیل  یاد آگیا۔  سب بچے ایک گول دائرے میں بیٹھ جاتےہیں۔ ان میں سے ایک  کو کوڑا پکڑا دیا جاتا ہے  جو عام طورپر کسے کپڑے یا دوپٹے  کو بَل دے کر بنایا جاتا ہے اسے کوکلا یا کوٹلا کہتے ہیں۔ بچوں کو کھیل میں دلچسپی ہوتی ہے اس لئے کوئی نہیں پوچھتا  کہ کوکلا اور کوٹلا میں کیا فرق ہے یا ان کا کیا مطلب ہے۔ مطلب کھیل میں شامل ہونے سے خود بخود سمجھ میں آ جاتا ہے۔ دائرے میں بیٹھے بچوں کو ادھر ادھر آگے پیچھے  دیکھنے سے منع کیا جاتا ہے۔ کیوں؟ یہ بھی جلد ہی معلوم ہو جاتا ہے۔ جس کے ہاتھ  میں کوکلا ہوتا ہے وہ اسے کوڑے کی طرح گھماتے ہوئے خوفناک  بھاری آواز میں  زمین پر زور زور سے پاؤں مارتے ہوے یہ بول دہراتا ہوا دائرے کے چکر لگاتا ہے

کوکلا چھپاکی جمعرات آئی جے

جیہڑا اگے پچھے ویکھے اوہدی شامت آئی جے

ان پنجابی الفاظ کا مطلب ہم تھوڑی دیر میں بتاتے ہیں۔ کھیل یہ ہے کہ کوکلا چپکے سے کسی کے پیچھے رکھ کے وہ بچہ یہی الفاظ دہراتا چکر لگاتا رہتا ہے۔ کوکلا اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتا لیکن کوکلے کی دہشت اور شامت کا خوف بچوں کو دہلائے رکھتا ہے۔ محترمہ آمنہ مفتی نے اپنے بچپن کی یادوں میں اس کھیل کی دہشت کا  جو نقشہ کھینچا ہے وہ بے مثال ہے۔ لگتا ہے کسی پُر اسرار آہٹ پر وہ اس دہشت یاد کرکے آج بھی چونک جاتی ہوں گی ۔ کھیل جاری رہتا ہے۔ جس بچے کو احساس ہو جائے کہ کوکلا اس کے حصے میں آیا ہے وہ کوکلا اٹھا کے  خالی ہاتھ  بچے کے پیچھے وہی بول دہراتے بھاگتا ہے۔ خالی ہاتھ پکڑا جائے تو کوکلے کی مار کھانی پڑتی ہے۔ وہ  خالی جگہ ڈھونڈتا ہے  تاکہ وہاں بیٹھ کر دائرے میں محفوظ ہو جائے۔  مشکل یہ ہے کہ صرف ایک جگہ خالی ہوتی ہے۔   

یہ کھیل کوکلے کی اہمیت کا  درس دیتا ہے اور اس بات کی تربیت دیتا ہے کہ  دائرہ حفاظت کی ضمانت ہے، لیکن اسی وقت تک جب ادھر ادھر آگے پیچھے نہ دیکھیں۔  کیونکہ اس سے پتا چل سکتا ہے کہ کوکلا کہاں جا رہا ہے اور کس کو ملنے والا ہے۔ چلنے پھرنے اور بولنے کی آزادی صرف کوکلے والے کو ہے۔ باقی بچے سرجھکائے آنکھیں نیچی کئے بیٹھے رہیں تو محفوظ رہتے ہیں۔ کوکلا  ہمیشہ کسی ایک کے پاس نہیں رہتا۔ لیکن یہ فیصلہ کوکلے والا کرتا ہے کہ کوکلا کس کو دینا ہے۔ جس کے پاس کوکلا نہ ہو اسے  اپنی حفاظت کے لئے فوراً دائرے میں واپس آجانا چاہئے ورنہ کوکلے کی مار پڑتی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے  کہ یہ دائرے کا کھیل ہے جو اسی وقت ختم ہوتا ہے جب دائرے کے باہر سے آواز آئے۔ بچو روٹی کھالو۔  

اس کھیل کے بارے میں بھارت میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ یہ سکھ بچوں کا کھیل ہے کیونکہ اس کے بول پنجابی ہیں۔ کچھ اسے مسلمان کھیل کہتے ہیں کہ اس میں جمعرات کا ذکر ہے۔ زیادہ مین میخ نکالنے والے جمعرات کی وجہ سے اسے سُنّی کھیل  بتاتے ہیں۔اب یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ یہ لبرل کھیل ہے کیونکہ اس میں بچے بچیاں مل کر کھیلتے ہیں۔ پاکستان میں بڑی عمر کی لڑکیوں کو یہ کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں کیونکہ دو پٹے  کو  کوکلا بنانے سے دوپٹے کی بے حرمتی ہوتی ہے اور جس کا دوپٹہ کوکلا بنایا جائے اسے ننگے سر کھیلنا پڑتا ہے۔ بھارت میں اسے انارکسٹ کھیل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں  کوکلے کو کھیل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بھارت فلم انڈسٹری نے کوکلے کے سارے گانوں کو بالی وڈ کی فلاسفی میں ڈھال کر تمام خدشات دور کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے۔

پاکستان میں معاملہ بین بین ہے۔ شامت کے بار بار تذکرے کی وجہ سے اس کھیل کو لبرل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس میں نہ کوکلے والے نامعلوم ہیں نہ اٹھنے والے اٹھائے جاتے ہیں، وہ خود ہی اٹھتے ہیں۔ لیکن یہ بات کَھلتی ہے کہ کوکلے والا  اسی وقت تک محفوظ ہے جب تک کوکلا اس کے ہاتھ میں ہے۔ کھیل اس لئے مقبول ہے کہ کسی  نہ کسی صورت میں ہمارا عمرانی معاہدہ کوکلا چھپاکی کا کھیل ہے۔ کوکلے کے بغیر گذارا بھی نہیں اور کوکلا دائرے کے اندر بھی نہیں۔

کوکلا چھپاکی کے اصل بول پنجابی ہیں اورصرف اتنے ہی ہیں جو ہم نے نقل کئے۔  یوٹیوب پر جو ویڈیو دستیاب ہے اس نے سیاق و سباق دے کر انہیں اور بھی بامعنی بنا دیا ہے۔ اس میں بہت سارے اضافے ہیں۔ یہ تو معلوم نہیں یہ اضافے کس کے ہیں لیکن محترمہ فریحہ نے انہیں جس پیار سے گایا ہے وہ اسی کا حصہ لگتے ہیں۔ اصل لطف تو پنجابی میں ہی ہے لیکن ہم نے عامر صاحب کے مقالے کی رعایت سے اس کا اردو میں لبرل ترجمہ  کیا ہے۔ بہت آگے پیچھے دیکھ  کرکوکلے کی حرمت،  ترجمے  سے وفا اور شعر میں وزن قائم رکھنے کی کوشش بھی کی ہے۔  لیکن کیا کریں ترجمہ لبرل ہو تو شامت آ بھی سکتی ہے۔


کوکلا چھپا کے جمعرات آئی ہے

جو آگے پیچھے دیکھے اس کی شامت آئی ہے

کوئی بھولے سے بھی مڑکے

مجھے ایک بار دیکھے

اس  کی تو باری اسی رات آئی ہے


کوکلا چھپا کے جمعرات آئی ہے

جو آگے پیچھے دیکھے اس کی شامت آئی ہے


ہاتھ میں میرے بٹا دوپٹّا

گھوم چکی میں چار چوپٹّا

کن اکھیوں سے

ماہی مجھ کو  دیکھے   

کیسے،  کیسے،  کیسے

میں بھی ڈھونڈوں، وہ بھی ڈھونڈے

دید کے سارے حیلے بھونڈے

دید بنا  یہ کیسی  ملاقات  آئی ہے


کوکلا چھپا کے جمعرات آئی ہے

جو آگے پیچھے  دیکھے اس کی شامت آئی ہے


ماہی کے پیچھے

کوکلا چھپا کے    

چپکے سے بیٹھوں

بیچ میں جا کے

ٹک ٹک تکتا رہ جائے گا

ہکاّ بکاّ ہو جائے گا

آج میرے ہاتھوں اس کی موت آئی ہے

کوکلا چھپا کے جمعرات آئی ہے

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...