عرب دنیا میں سیاسی تبدیلیاں

299

اس وقت عرب دنیا میں  چار سو جو ہلچل مچی ہوئی ہے   وہ2011 میں شروع ہونے والی عرب بہار  کا تسلسل ہی ہے۔ اس تحریک کی ابتدا عوام کی طرف سے ہوئی تھی جس کے نتیجہ میں کئی حکومتوں کے تخت الٹے اور   بپھری ہوئی عوام نے  دہائیوں سے  برسراقتدار  آمروں کو عبرت کا نشان  بنا دیا دیا تھا جبکہ   موجودہ بھونچال(جسے ہم عرب بہار کا دوسرا دور بھی کہہ سکتے ہیں)   کی وجہ حکمرانوں کی بوکھلاہٹ ہے۔ عرب حکمرانوں  کی طرف سے بدحواسی میں کیے جانے والے حالیہ اقدامات کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح وہ اپنے تخت کو  بچا سکیں خواہ اس  کے لیے انہیں  اپنی عوام کا خون ہی بہانا پڑے یا   شاہی خاندان  کو ہی پابند سلاسل کرنا پڑے۔ اس طرح    وہ تاریخ   جو کبھی ہم کتابوں میں پڑھتے تھے وہی تاریخ  آج ایک مرتبہ پھر  ہماری آنکھوں کے سامنے اپنے آپ کو دہرا نے جا رہی ہے اور وقت   ثابت کر رہا ہے کہ طاقت اندھی  ہوتی ہے۔اس کی تازہ مثال سعودی حکومت کی جانب سے  ہفتہ کے روز   شہزادہ ولید بن طلال سمیت تیرہ شہزادوں اور ۳۵ سابق وزراء   کی گرفتاری ہے۔اسی طرح قطر ی حکومت بھی  شہزادوں کے خلاف کریک ڈاون جاری رکھے ہوئے ہے اور گزشتہ ماہ بیس شہزادوں کو گرفتار کر چکی ہے۔ قطر کی جانب  سے شہزادوں کی گرفتاری  عمل میں آنے پر سعودی عرب نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ   خلیجی ممالک کی طرف سے پابندیاں قطر کے لیے ناقابل برداشت ہیں  اسی لیے قطر بدحواسی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔درحقیقت دونوں  حکومتیں خائف ہیں  کہ  کہیں اندر سے ہی انہیں بغاوت کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔

ادھر    کویتی   حکومت نے رواں ہفتے   جبکہ لبنانی  وزیراعظم  سعد الحریری نے  بھی ہفتے کے روز استعفی  دے دیا ہے۔الحریری کا کہنا تھا کہ  اپنے والد رفیق الحریری کی طرح ان کے قتل کی سازش بھی تیار ہو چکی ہے اور  ایران نواز حزب اللہ پوری طرح ملک میں حاوی ہو چکی ہے۔  حزب اللہ کی خواہش تھی کہ   یہ حکومت  مئی2018 تک   چلتی رہے تو نئے انتخابات میں     وہ   عددی برتری  کے بل بوتے پر لبنان کی کلی حاکم بن جائے گی جسے دنیا بھر میں چیلنج بھی نہیں کیا جا سکے گا لیکن  سعد الحریری  کے  اچانک   استعفی سے   حزب اللہ بھی چونک کر رہ گئی ہے۔الحریری کے  سعودی عرب میں جا کر استعفی کا اعلان کرنے سے  مزید گھتیاں بھی سلجھتی  نظر آ رہی ہیں۔

سنی  دہشت گرد تنظیم  داعش کے خاتمہ کے بعد  اب ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی شیعہ دہشت گرد تنظیم  کا خاتمہ ہے  ،اس باب  میں  ریاض میں ہونے والی کانفرنس  میں سعودی عرب نے   ایران اور حزب اللہ  کے  خطے میں اثرو رسوخ کے خاتمہ کے لیے امریکہ کا بھرپور تعاون کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے کیونکہ سعودی عرب یہ سمجھتا ہے کہ    خطے میں  حزب اللہ کا نفوذ ایران  سے بھی زیادہ ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ آئندہ برس ہونے والے انتخابات میں حزب اللہ برسراقتدار آ جائے ۔

سعد الحریری  کے استعفی  کے پیچھے  ایک پوری منصوبہ بندی ہے جس پر عملدرآمد بھی شروع   ہو چکا ہے اور امریکہ کے بعد  فرانس اور بحرین نے بھی   لبنان سے اپنے سفارتی عملے کو فوری طور پر واپس بلا لیا ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ اب لبنان کی باری آ چکی ہے اور آنے والے دنوں میں امریکہ  اپنے اتحادیوں کے ساتھ پوری قوت سے  حزب اللہ پر حملہ کرے گا۔لبنان جنگ کے تمام اخراجات سعودی عرب برداشت کرے گا۔سعودی عرب   نے یمنی حوثی باغیوں کو بھی  حزب اللہ قرار دیاہے اور ہفتہ  کے روز ہی  حوثی باغیوں نے سعوی عرب کے دارالحکومت ریاض  پر  میزائل  حملہ  کیاجسے  سیکورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔سعودی حکام نے حوثیوں کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی اور پوری امت مسلمہ سے  مطالبہ کیا ہے کہ وہ  بلاد حرمین پر چڑھائی کرنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔دنیا بھر کے مسلمانوں نے بھی  حوثیوں  کے اس عمل کی مذمت کی ہے  اور  کہا ہے کہ  بلاد حرمین  میں  خواہ حکومت  کسی کی بھی ہو  لیکن   وہاں  پر بدامنی  پیدا کرنے کی کوشش کسی صورت بھی قبول نہیں کی جائے گی۔

عرب دنیا میں سیاسی بھونچال  پیدا کرنے والا ایک فیکٹر  عراقی کردستان  کی علیحدگی کی تحریک بھی ہے۔اکتوبر میں  ہونے والے ریفرینڈم میں90 فیصدکرد عوام نے علیحدگی کی حمایت کی تھی جسے عراقی حکومت سمیت     تمام متعلقہ ممالک نے مسترد کر دیا  ہے۔کرد رہنما مسعود بارزانی  جن کی مدت صدارت  یکم نومبر کو پوری ہو رہی تھی نے 29 اکتوبر کو استعفی کا  اعلان  کرتے ہوئے  کہا تھا کہ میں نے پوری کوشش کی کہ کردوں کو الگ شناخت اور رہنے کے لیے الگ وطن دوں لیکن   ان پہاڑوں کے سوا کسی نے بھی میرا ساتھ نہیں دیا۔ایسا نہیں ہے کہ بارزانی کے استعفی کے ساتھ  ہی علیحدگی کی کرد تحریک  اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے۔ کرد عوام  مزاحمت کے لیے بھی تیار ہیں اور  یہی تیاری  عراق کو ایک اور خانہ جنگی کی طرف  لے جاسکتی ہے۔

ایک ہی ماہ کے دوران سعودی عرب  اور قطر  میں شہزادوں کی گرفتاریاں،کویت اور لبنان میں حکومت کا استعفی اور حزب اللہ کے خلاف امریکی جنگی تیاریاں اور کردستان  میں علیحدگی کی تحریک سے ترکی،ایران،شام اور  عراق پر مرتب ہو نے والے اثرات  بہت بڑی ہلچل کا پتا دیتے ہیں۔عالمی طاقتوں کے زیر سایہ خطے میں   بالادستی قائم کرنے کے لیے اپنی ہی عوام کو جنگ کا ایندھن  بنانے  والے  مشرق وسطی  کے حکمرانوں کو  جلد یا   بہ دیر  اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ  جو راہ  انہوں نے اختیار کی ہے  اس کا انجام تباہی اور محکومیت ہے نہ کہ غلبہ و بالادستی۔کاش  اس بات کا ادراک  انہیں مزید تباہی سے قبل  ہی ہو جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...