دہشت گردی کی نئی لہر

181

کوئٹہ اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے پے درپے حملوں نے جہاں دہشت گردی کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے وہیں ان واقعات کا تسلسل کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کا اظہار بھی کررہا ہے۔

میڈیائی اطلاعات کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی "را” اور افغان انٹیلی جنس ” این ڈی ایس” نے بارہ سو دہشت گردوں کو افغان پاسپورٹوں کے ساتھ پاکستان میں داخل کروایا ہے جن کا کام سیکورٹی فورسز اور حساس مقامات کو نشانہ بنانا ہے۔ باہر سے آئے ہوئے دہشت گرد اپنے طورپر یہاں کسی قسم کی کارروائی نہیں کرسکتے جب تک انہیں کسی مقامی تنظیم یا سہولت کار کی معاونت حاصل نہ ہو۔آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد کے باوجود  پاکستان میں ایسی تنظیموں اور سہولت کاروں کی ایک بڑی تعداد  کاموجود ہونا تشویشناک ہے۔

دوسری طرف امریکہ نے اپنی نئی پالیسی کے تحت افغانستان میں ڈرون حملوں کی تعداد بڑھادی ہے۔افغانستان میں ڈرون حملوں کے اضافے  اورخالدعمر خراسانی جیسے دہشت گردوں کو نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ بھارت اور افغان ایجنسیوں کی طرف سے پاکستان کے خلاف جاری شرانگیزی کے خلاف ریاست کیا کررہی ہے اور مستقبل میں مذکورہ ایجنسیوں کی مذموم کارروائیوں کا راستہ روکنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اندرون ملک دہشت گردی کے خلاف موجود اتفاق رائے کو نہ صرف قائم رکھا جائے بلکہ سول اداروں کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ وہ سیکورٹی کا ایسا نظام ترتیب دے سکیں جسے کسی صورت بھی ناکام نہ بنایا جاسکے۔

تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...