وہ عسکریت پسند کیوں بنا؟

کراچی کے ایک بنیاد پرست نوجوان کی کہانی

416

محکمہ انسداد دہشت گردی کراچی پولیس کے اعلیٰ افسر عمر شاہد حامد کو یقین ہے کہ انصار الشریعہ ماضی کے کسی عسکریت پسند گروہ کی باقیات ہے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا” اس کے اراکین اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں” ان کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان ہیں، اردو بولنے والے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور کراچی کے گرد و نواح سے واقف ہیں۔

مومنہ منظورخان، امتیازعلی

عائشہ نذیر کا کہنا ہے کہ کم و بیش ایک سال میں انہوں نے اپنے بھائی میں عجیب سا بدلاﺅ دیکھا ۔2016 میں اس نے پہلی مرتبہ مجھے چہرے کا پردہ کرنے کا کہا اور2017میں ایسا کرنے کیلئے دباﺅ ڈالنا شروع کر دیا۔پولیس کو دیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا”جب بھی میں باہر جاتی تو اس کی خواہش ہوتی کہ میں پردہ کئے بغیر بالکل بھی باہر نہ نکلوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ اکثر غصے میں رہنے لگا تھا۔جب بھی وہ رات گئے گھر لوٹتا تھا تو  اس سے وجہ پوچھنے پر "وہ آپے سے باہر ہو جاتا تھا”۔ پھر انہوں نے بھائی کے احترام میں یہ سوال کرنا چھوڑ دیا۔

1990میں حسن بن نذیر ایک پڑھے لکھے گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کے والد ڈاکٹر نذیر عالم نے ڈاکٹریٹ کر رکھا ہے اوروہ2002 سے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نَسٹ)   میں بطور پروفیسرفرائضِ منصبی ادا کر رہے ہیں۔اس کی والدہ ڈاکٹر عارفہ سید ایک ڈاکٹر ہیں اور شہر کے مختلف ہسپتالوں میں طبی فرائض سر انجام دیتی رہی ہیں اور اس کی بہن شعبہ طب (میڈیسن) کی طالبہ ہیں۔ حسن بن نذیرنے سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلرکی ڈگری حاصل کرنے کے بعد این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے ماسٹرز کیا۔ عارفہ کے مطابق وہ داوود یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی میں لیب انجینئر اور استادکے طور پر کام کر رہا تھا اور ماہانہ40000روپے کما تا تھا۔انہوں نے پولیس کو بتایا کہ اگرچہ اس نے 2013 میں داڑھی رکھ لی تھی مگر اسکی  مذہب سے ابتدائی وابستگی صرف نمازیں پڑھنے تک محدود تھی ۔انہوں نے کہا کہ ظاہری طور پر اس کی شخصیت میں تبدیلی2017 کی شروعات میں واقع ہوئی۔انہوں نے بتایا”  مہینے میں کم از کم ایک یا دو باروہ دیر سے گھر آتا تھا اور وجہ پوچھے جانے پر وہ سخت غصے کا اظہار کرتا تھا ۔دراصل اسے ہر چیز سے چڑ ہونے لگی تھی۔”

پولیس کے سامنے دیے گئے ایک بیان میں نذیر عالم کا کہنا تھا کہ اس بدلاﺅ کی شروعات2015 میں ہوئیں جب حسن بن نذیر پہلی مرتبہ نیپاچورنگی پر واقع ایک مسجد میں گیا۔ یہ مسجدتنظیمِ اسلامی کے زیرِ انتظام ہے اور اس جماعت کے بانی لاہور سے تعلق رکھنے والے بنیاد پرست مبلغ ڈاکٹر اسرار احمد تھے، جنہوں نے جماعتِ اسلامی کے جمہوری سیاسی عمل میں شرکت کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے جماعت کو خیر باد کہا اور خلافت کے پرچارک بن گئے۔ حسن بن نذیرنمازِ تراویح بھی وہیں ادا کرتا تھا۔2015 میں حسن دودنوں کیلئے کراچی سے باہر بھی رہا۔اس کے والدین بیٹے کے اس طرح باہر جانے پر رضامند نہیں تھے مگر اس نے اپنے والدین کو قائل کیا اور کہا کہ وہ ایک تبلیغی سفر پرجارہا ہے۔بعد میں اس نے بتایا کہ وہ کوئٹہ کی کسی کچی آبادی میں تبلیغ کرتا رہا ہے مگر اس نے اس جگہ کا نام کبھی نہیں بتایا۔نذیر عالم نے بتایا کہ بعد ازاں اس نے مختلف شہروں میں تبلیغ کیلئے جانے کی بارہا اجازت چاہی مگر” ہم نے اسے نہیں جانے دیا۔”

ڈاکٹر عارفہ کے مطابق حالانکہ وہ نوکری کرتا تھا مگر اس نے کبھی گھر پیسے نہیں دیے تھے۔  وہ کہتا تھا کہ وہ اپنی ساری تنخواہ حیدرآباد میں ایک مسجد کی تعمیر کیلئے وقف کر رہا ہے۔اس نے ہمیں کبھی زیرِ تعمیر مسجد کی جگہ کے بارے میں نہیں بتایاکہ وہ کہاں واقع ہے۔پچھلے ڈیڑھ سال سے وہ اکثر و پیشتر ایک مفتی صاحب کا بے حدتذکرہ کرتا تھا جسے وہ اپنا مرشدو مربی مانتا تھا۔ مگر اس نے مفتی صاحب کے نام اور ان کی ذات کے بارے میں اپنے والدین کو کچھ بھی نہیں بتایا کہ وہ کہاں رہتے ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟اور وہ ان سے پہلی مرتبہ کب ملا تھا؟ مگر امسال اگست میں اس نے بتایا کہ مفتی صاحب حیدرآباد میں رہتے ہیں اور کراچی میں بھی اکثر ان کا آنا جانا رہتا ہے۔وہ مفتی صاحب سے اس قدر متاثر تھا کہ اس نے اپنے والدین کو عمرے پر جانے کی ترتیب بدلنے پر مجبور کردیا۔ ڈاکٹر عارفہ کا کہنا تھا”حسن نے مجھے بتایا کہ مفتی صاحب کہتے ہیں کہ آپ محرم تک انتظار کر لیں۔”

یہ2 ستمبر ، جس دن سندھ اسمبلی میں حزبِ مخالف کے رہنما اور متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رکن خواجہ اظہارالحسن پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ کراچی کے حساس علاقے کی ایک مسجدسے عید کی نمازپڑھ کر نکل رہے تھے ۔10 سے 15 دن پہلے کی بات ہے،پولیس جوانوں نے اسے جائے واردات پر پکڑنے کی کوشش کی جب وہ دو حملہ آوروں کے ہمراہ تھا۔ وہ تینوں پولیس کی وردی میں ملبوس اورتین  موٹرسائیکلوں پر سوار تھے ۔ پولیس اور حملہ آوروں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں بہت سے پولیس اہلکاراور عام شہری زخمی ہوئے۔حملے کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ (F.I.R) کے مطابق حملہ آوروں میں سے ایک موٹر سائیکل سوار پیدل راہداری سے ٹکرایا اور نیچے گر گیا۔ حملہ آور نے پولیس پر گولیاں چلاتے  ہوئے بھاگنے کی کوشش کی مگرایک پولیس اہلکارکی جوابی گولی سر میں لگنے کے باعث موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملہ آور سے بہت سی گولیاں اور دو پستول بر آمد ہوئے جن میں سے ایک اس کے ہاتھ میں اور دوسرا جیب میں تھا۔ جلد ہی یہ بات معلوم ہو گئی کہ قتل ہونے والا حملہ آور حسن بن نذیر تھا۔

اس کی لاش کے طبی معائنے سے حاصل شدہ ثبوتوں سے تفتیشی افسران کو بہت سی اہم معلومات ملیں۔سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی میں تعینات انسپکٹر فیاض قادری کے مطابق حملہ آور سے برآمد شدہ ایک پستول28  اگست کو فیڈرل بورڈ آف ریوینیو(FBR) کے کراچی میں واقع دفتر کے باہر فائرنگ میں استعمال ہوا تھا جس کے نتیجے میں دو محافظ قتل ہو گئے تھے۔حسن بن نذیر کوئٹہ تبلیغی سفر پر نہیں بلکہ قتل و غارت کی تربیت حاصل کرنے بلوچستان کے کسی مقام پر گیا تھا۔ فیاض قادری کے مطابق اس کے لشکرِ جھنگوی کے ساتھ تعلقات تھے جو کہ ایک شیعہ مخالف عسکریت پسند تنظیم ہے۔ اس کے علاوہ وہ انصارالشریعہ پاکستان کے بانی اراکین میں سے تھا اور عبدالکریم سروش صدیقی اور کچھ دیگر لوگوں کے ہمراہ کام کر رہا تھا۔ پولیس کا خیال ہے کہ جامعہ کراچی میں شعبہ اطلاقی طبیعات (Applied Physics) کا سابقہ طالبعلم سروش صدیقی خواجہ اظہار الحسن پر حملے کا منصوبہ ساز ہے۔تفتیشی افسران کا خیال ہے کہ پاکستان کے دوسرے دہشت گرد گروہ ،جوبالواسطہ یا بلا واسطہ برِ صغیر میں داعش اور القاعدہ کےلئے کام کر رہے ہیں، کی طرح انصا رالشریعہ کچھ حد تک تنظیمِ اسلامی سے منسلک ہے۔ان معلومات کے سبب قانون نافذ کرنے والے ادارے6 ستمبر کوتنظیمِ اسلامی سے منسلک کراچی کے ایک مدرسہ کے مہتمم مفتی حبیب اللہ کو بلوچستان کے ضلع پشین سے گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اسی دن پولیس نے جامعہ کراچی کے پروفیسر مشتاق کو کوئٹہ سے گرفتار کیا۔وہ بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی،انجینئرنگ اینڈ مینیجمنٹ سائینسز میں پڑھاتے تھے اور صدیقی سمیت بہت سے طلبا ءکو بنیاد پرستی کی طرف مائل کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔اسی دوران انصار الشریعہ کے ترجمان عبد اللہ ہاشمی کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی اور یہ تیسری گرفتاری تھی جو اس ضمن میں ہوئی۔حیدر آباد کو کراچی سے ملانے والی موٹروے M9 کے ساتھ واقع رہائشی علاقے میں چھاپہ مار کارروائی میں عبد اللہ ہاشمی کو گرفتار کیا گیا۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ2007میں سروش صدیقی بھی اسی علاقے میں رہائش پذیر رہا ۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کراچی پولیس کے اعلیٰ افسر عمر شاہد حامد کو یقین ہے کہ انصار الشریعہ ماضی کے کسی عسکریت پسند گروہ کی باقیات ہے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا” اس کے اراکین اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں” ان کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان ہیں، اردو بولنے والے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور کراچی کے گرد و نواح سے واقف ہیں۔عمر حامد اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ انصار الشریعہ داعش کا کوئی مقامی گروہ ہے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ دونوں تنظیمیں مسلمانوں کی بالادستی اور خلافت کی ضرورت جیسے مشترکہ ” عالمی بیانیے” پر کام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا”یہ عالمی بیانیہ فرانس اور برطانیہ میں بھی نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے” عمر حامد کہتے ہیں کہ خواجہ اظہارالحسن پر حملے کی وجہ تلاشنا ایک مشکل امر ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ یہ تنظیم "بدعنوان” نظامِ حکومت کو تحفظ دینے کی پاداش میں عموماََ پولیس اہلکاروں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔اس نکتہِ نظر سے دیکھا جائے تو ایک سیاست دان پر حملہ اسی نظام کو تحفظ فراہم کرنے والے ایک فرد پرحملہ ہو سکتا ہے اور یقینا خوف و دہشت پھیلانے اور عدمِ استحکام کے فروغ کیلئے کسی سیاست دان پر حملہ کرنا آسان ہے”

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ : ماہنامہ ہیرالڈ)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...