شناخت اور عالمی سماج

امین مالوف (ترجمہ: شوذب عسکری)

88

اپنے ناول ’’سمرقند‘‘ سے عالمی شہرت پانے والے امین مالوف ایک سماجی دانشور کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی زیرنظر کتاب شناخت کے بنیادی حوالوں اور ان میں ترجیحات کے تعین کے سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی محرکات کا تجزیہ کرتی ہے۔ مصنف نے متعدد تاریخی حوالوں سے شناخت کے مسائل کا جائزہ لیا ہے اور عالمی سطح پر روزافزوں شدت پسندی کے محرکات میں کچھ نئے اور قابل توجہ نکات اجاگر کیے ہیں۔ (مدیر )

امین مالوف کی تصنیف ’’شناخت کے تناظر میں(۱۹۹۸ء)‘‘ معروف غلط فہمیوں کا محققانہ جائزہ ہے۔ مصنف نے نہایت مہارت سے ان تمام تصورات کا پردہ چاک کیا ہے جو نہایت سادہ اور یک رُخے شناختی تصور سے لے کر ماضی اور حال کے متشدد ثقافتی اور سیاسی و سماجی اختلافات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ شناخت اور عالمی انسانی سماج ایک دوسرے کے لیے ہم آہنگ اور لازم ہیں۔ امین مالوف، مصنف، لبنانی نژاد فرانسیسی شہری ہیں جنھوں نے سات کتابیں لکھ رکھی ہیں۔ ان کی کتابوں میں ’’دی گارڈنز آف لائٹ‘‘، ’’لیو افریقنز‘‘ اور ’’دی راک آف ٹینیو س‘‘ شامل ہیں جسے گونکورٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ وہ معروف لبنانی اخبار ’’النہر‘‘ کے ڈائریکٹر ہیں جو بیروت سے شائع ہوتا ہے۔ تاہم ان کا ناول’’سمر قند‘‘ ان کی عالمی شہرت کا سبب بنا۔
زیرنظر کتاب میں آپ کے لیے کیا ہے ؟ اس میں آپ اپنی اور دوسروں کی شناختوں کے متعلق سیکھ سکتے ہیں۔ ا گر کوئی آپ سے سوال کرے کہ آپ کون ہیں ؟ تو کیا آپ اس کے جواب میں اپنے نام کے علاوہ بھی کچھ کہہ سکتے ہیں؟اپنی شناخت کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا مشکل کام ہے۔ آپ کیا بتائیں گے ؟ اپنی مذہبی یا سیاسی وابستگی ؟ اپنی جنس ؟ اپنی تعلیمی قابلیت ؟ان جھلکیوں سے آپ کو وہ ذرائع سمجھ آئیں گے جس کے ذریعے آپ شناخت کے تصور کو سمجھ سکتے ہیں۔ان کے ذریعے آپ دنیا کا ایک چکر لگائیں گے تاکہ آپ باقی ثقافتوں اور مذاہب کا ایک جائزہ لے سکیں۔ اس سے ہمیں یہ سمجھ آئے گی کہ کیوں اور کیسے ہماری ذات کی جہتیں اس چیز سے متاثر ہوتی ہیں جسے ہم صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھار غلط بھی محسوس کرتے ہیں۔
ان جھلکیوں کے ذریعے آپ سیکھیں گے:
کیوں کوئی مذہب وراثتی طور پر بے رحم نہیں ہوتا۔
ہم اتنے مختلف کیوں ہیں۔
بنیاد پرستی کیسے بڑھتی ہے۔
شناخت ایک بھاری بھرکم فریبی لفظ ہے جسے باریکی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
آپ اپنی شناخت کو کیسے بیان کریں گے ؟ کیا اپنی جنس بتاتے ہوئے ؟ اپنی قومیت کے ذریعے ؟ یا اپنے جنسی رجحان کے ذریعے یا یہ سب کچھ بتاکر ؟
حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کوئی آسان سوال نہیں ہے جس کا جواب دیا جائے۔ شناخت ایک پیچیدہ خیال ہے جو مذہب ، پیشہ ، نسل ، قومیت ، آئیڈیلز ، مشاغل اور جنسی رجحان جیسے مختلف عوامل سے جنم لیتا ہے اور یہی وابستگیاں ہمیں دوسروں سے الگ کرتی ہیں۔ اگر ہم خود ان کے متعلق نہ سوچیں تو یہ وابستگیاں مستقل بھی نہیں ہوتیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم کچھ شناختوں سے زیادہ اور کچھ سے کم وابستہ رہ جاتے ہیں۔ یہ مرحلہ برسوں کو محیط بھی ہو سکتا ہے اور ایک لمحے پر بھی ، ایسا لمحہ جب ہماری کوئی ایک شناخت کسی موقع پر کھل کر سامنے آجائے۔ مثال کے طور پر کسی ایسی تقریب میں جہاں وراثتی طور پر متمول افراد موجود ہوں اور وہاں ایک ورکنگ کلاس امیر آدمی ان سے میل ملاقات کرے اور وہ اپنے آپ پر فخر محسوس کرنے لگے۔
جہاں بہت سے لوگوں کی شناختیں بدلتی رہتی ہیں، وہیں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ایک مستقل شناخت کے حامل ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی ایک وابستگی سے شناخت کرواتے ہوں، وہ قوم بھی ہوسکتی ہے ، مذہب بھی ہوسکتا ہے ، طبقہ بھی ہوسکتا ہے ، ان کے لیے دیگر وابستگیاں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اگر ہم خود کو کسی ایک ہی شناختی درجہ بندی سے وابستہ رکھیں تو مشکل پیش آجائے۔ ایک اندیشہ اسمطالبے کا بھی ہے کہ دوسرے بھی خود کو درجہ بندیوں میں شناخت کروانا چاہتے ہوں، حالانکہ یہ امر اتنا سادہ بھی نہیں ہے۔
مصنف نے اس تمام صورت کو خود تجربہ کیا ہے۔ وہ لبنانی تارک الوطن ناول نگار ہیں جو ستائیس برس کی عمر میں فرانس نقل مکانی کر آئے تھے۔ ان کی مادری زبان عربی ہے مگر وہ فرانسیسی میں بھی لکھتے ہیں۔ پچھلے بائیس برسوں سے فرانس ہی ان کا وطن ہے۔ ا ن کی ذاتی جڑیں مسلم معاشرے میں ہیں مگر وہ مذہبی لحاظ سے مسیحی ہیں۔
اکثر پوچھنے والے جب مصنف سے پوچھتے ہیں کہ آیا وہ فرانسیسی ہیں یا لبنانی ؟ تو مصنف ایسے سوال کو غیر معقولسمجھتے ہیں۔ کیونکہ ایک انسان کی شناخت کو دو واضح دائروں میں یا کسی ایک چوتھائی میں منقسم نہیں کیا جا سکتا۔
ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی ایک شخص کو کسی ایک وقت میں ایک ہی شناخت سے پکارا جائے اور یہ کہا جائے کہ دوسری ہے ہی نہیں اور نہ ہی اس کے برعکس ممکن ہے ، بلکہ شناخت تو ہمارے تمام اوصاف کے مجموعے کا نام ہے۔ ہماری شناختی پہچان دوسروں کی نگاہ سے متاثر ہوتی ہے کہ وہ ہمیں کس طرح دیکھتے ہیں۔
کیا آپ کو علم تھا کہ شناخت کے تصور کو سیکھا جا سکتا ہے؟
یہ کوئی خداداد وصف نہیں ہے بلکہ یہ خاصیت سماجی اختلاط سے وجود پاتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو کیسے دیکھتے ہیں۔ ہم سب کے پاس یہ اختیار ہے کہ دوسروں کو سطحی درجوں میں رکھتے ہوئے ان کی شناخت کو متاثر کرسکیں۔
ایک مثال ملاحظہ کیجیے۔ آپ کو یہ ظاہری سا ہی لگے گا کہ آسٹرین، جرمنوں سے مختلف ہوتے ہیں اور یہ بھی کہ ہر آسٹرین دوسرے سے مختلف ہے،پھر بھی ہم لوگوں کو ایک ہی گروہ میں جوڑ دیتے ہیں اور انھیں ایک جیسے شناختی عنوان سے رویّے اور رائے کا حامل سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہم انھیں ایک ہی جیسے جرائم کرنے والے بھی سمجھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم کہتے ہیں،امریکیوں نے قبضہ کرلیا ، عربوں نے ڈرا دیا، میکسیکنوں نے چرا لیا ، وغیرہ۔ یوں تو یہ عمومی رویّے بے ضرر لگتے ہیں مگر یہ لوگوں کی شناخت پر گہرے اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب ہم لوگوں کو منفی انداز میں ایک گروہ میں جوڑتے ہیں تو ہم انھیں ان کی شناخت کے سب سے کمزور پہلو کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
یہ ایسی صورت میں بالکل حقیقت ہوجاتا ہے جب سیاسی و سماجی حالات کسی کی شناخت کو اپنی زد پہ رکھ لیں۔ ایک ہم جنس پرست اطالوی کو فاشسٹ اٹلی کے پس منظر میں دیکھیے۔ ممکن ہے کہ وہ فاشسٹوں کا اختیار آنے تک قوم پرست اور فخریہ محب وطن ہو لیکن جب حکومت نے اس جیسے جنسی رویّے کے حامل افراد پر زندگی تنگ کی تو اسے مجبوری میں اپنی شناخت کے اس تنگ دائرے میں مقید ہونا پڑا۔ اس کی زندگی کی وہ پہچان متاثر ہوگئی جسے وہ اپنی شناخت سمجھتا تھا۔ اپنی جنسی ترجیحات کا تحفظ کرتے ہوئے اس کی قوم پرستی ماند پڑگئی اور ہم جنس پرست ہونا ہی اس کی شناخت بن کے رہ گیا۔
کچھ ایسا ہی اس وقت بھی ہوتا ہے جب لوگوں کو یہ لگے کہ ان کے عقائد خطرے میں ہیں۔ ان کی مذہبی وابستگی ان کی تمام شناخت پر حاوی ہوجاتی ہے۔ ممکن ہے کہ وقت بدل جائے اور ان کی جنس یا نسل خطرے میں ہو تو وہ اپنے ہی عقیدے کے لوگوں کے خلاف لڑنے لگیں۔
کوئی بھی مذہب ، وابستگی یا ثقافت وراثتی طور پر کسی دوسرے سے زیادہ متشدد نہیں ہے۔
اس حد تک سادہ تصور سے دوسروں کوبیان کرنا خطرناک دقیانوسی تصورات کو جنم دیتا ہے جس سے ہم سب متاثر ہوتے ہیں۔
اسلام ہی کی مثال لے لیجیے۔ آج یہ ڈراؤنا شناختی گروہ ہے جس پر طویل بربریت کا الزام عائد ہے۔ تاہم ماضی کی ایک مختصر جھلک سے ہی یہ تصور غلط ثابت ہوجاتا ہے بلکہ اسلام تو وسعت اور برداشت کی عظیم تاریخ کا حامل ہے۔مثال کے طور پر انیسویں صدی کے آخر تک استنبول اسلامی دنیا کا دارلحکومت تھا۔ یہ ایک ایسا شہر تھا جہاں کی زیادہ آبادی غیرمسلموں جیسے یونانیوں ، آرمینیائیوں اور یہودیوں پہ مشتمل تھی۔ حتیٰ کہ اس سے بھی بہت پہلے تک مسلمانوں کی دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ امن سے مل کر رہنے کی روشن تاریخ موجود رہی ہے ۔ اس کے برعکس مسیحیت میں برداشت کی روایت بہت بعد میں آئی۔ یہ اٹھارہویں صدی تک تو تھی ہی نہیں۔ یہ تو بعد میں ہوا جب روشن خیالی کی تحریک نے زور پکڑا اور مسیحیوں نے دوسرے مذہبی گروہوں کو اپنے ہاں قبول کرنا شروع کیا۔
اور جب جمہوریت نے مغرب میں جنم لیا تو حق رائے دہی بہت صدیوں تک چند امراء اور بااثر افراد تک محدود تھا۔ جیسے مسیحیت وراثتی طور پر بردبار اور جمہوریت پسند نہیں ہے ویسے ہی اسلام بھی وراثتی طور پر متشدد ، بنیاد پرست یا حقوق انسانی سے متصادم نہیں ہے۔ اسلام ، مسیحیت اور یہودیت کے بنیادی تصورات زمانوں تک ایک جیسے ہی رہے۔ لیکن یہ ہمارا آج کا زمانہ اس امر کا باعث ہے کہ ہم اسے مختلف دیکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر موجودہ زمانے کا ایران مغرب کے ساتھ اپنے تحفظات کے اظہار کے لیے اسلامی احکامات کا سہارا لیتا ہے۔ اس کے رہنما آیت اللہ خمینی مذہبی زبان استعمال کرتے ہوئے مغرب کو شیطان بزرگ کہہ کر بلاتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ کے نام پر اس کی تباہی چاہتے ہیں۔ مگر یہ انداز اسلامی دنیا کی اس طویل روایت سے متصادم ہے جو کسی بھی انتہا پسند اسلامی انقلاب کی حمایت نہیں کرتی۔ ایسے متشدد خیالات اور بیانات بہت ہی حالیہ ہیں۔ یہ کوئی وراثتی طور پر رجعت پسند، جدیدیت مخالف ، اور جمہوریت مخالف اسلامی روایات کے عکاس نہیں ہیں۔ بلکہ یہ ثقافتی جھگڑے کا نتیجہ ہیں جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔
خمینی تاریخ کے کسی بھی بڑے مسلم رہنما کی بجائے ماؤزے تنگ کے زیادہ مماثل ہیں جنہوں نے اپنے دور کی ثقافتی انقلاب کی تحریک کے دوران سرمایہ داری کی تمام نشانیوں کو کچل دینے کا حکم دیا تھا۔ اس کے برعکس تنازعات اور تشدد جو حالیہ دور کے مسلم ممالک میں نظرآتا ہے، وہ وسیع تر معاشرتی حالات کے پیش نظر ہے، اس کا اسلام سے کو ئی خصوصی تعلق نہیں ہے۔
مغرب کی ثقافتی بالادستی نے دوسری ثقافتوں کو ایک کونے سے لگادیا ہے، جس کے سبب تہذیبی تصادم جنم لے رہا ہے اور یو ں شناختی بحران کو طاقت مل رہی ہے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ کچھ گروہ مغرب پرغصہ ہیں۔ کیونکہ مغربی اقدار سے ان کے مذہب اور تصورات کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جب مغرب کی بالادستی کا آغاز ہوا، اس کی دولت ، ٹیکنالوجی ، اور طاقت نے دیگر ثقافتوں اور تہذیبوں کو کمزور کردیا۔ جدید ثقافت جیسے مغربی ثقافت کی ہم معنی ہوگئی۔ حقیقت یہی ہے کہ وہ تمام مؤثر تصورات جو موجودہ تاریخ میں اہم مقام رکھتے ہیں ان کی یادداشت مغرب سے جڑی ہوئی ہے۔ سرمایہ داری، فسطائیت ، اشتراکیت ، ہوا بازی ، بجلی ، کمپیوٹرز، حقوق انسانی ، حتیٰ کہ ایٹم بم بھی، یہ سب کچھ مغربی ہے۔
لہٰذا آج جب کوئی بنیاد پرست مسلمان مغرب پر حملہ آور ہوتا ہے تو وہ بنیادی طور پر اپنے آپ کو بے بس ، استحصال زدہ ، معاشی طور پر کمزور اور ثقافتی سطح پر شکست خوردہ سمجھتا ہے۔ اس ثقافتی تجربے کی جڑیں اٹھارہویں صدی کے اواخر میں پیوست ہیں۔ اسی زمانے میں بحیرۂ روم کے اطراف کے مسلم ممالک نے اپنی ثقافت کو مغرب کی جانب سے خطرے کا سامنا کرتے ہوئے پایا تھا۔
اس کے جواب میں مصر کے حکمران محمد علی نے انیسویں صدی میں پر امن طور پر مغرب کی ثقافت کے ہم پلہ ہونا چاہا۔ مغربی تصورات ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اس نے مصر کو ایک مضبوط اور جدید ریاست بنانا چاہا۔ لیکن اس وقت کی مغربی طاقتوں نے محسوس کیا کہ مصر خطرناک حد تک طاقتور اور آزاد ہو رہا ہے۔ لہٰذا انھوں نے مل جل کر اس کی ترقی کا راستہ روک دیا۔ سلطنت برطانیہ نے مصر اور اس کی جد سلطنت عثمانیہ کو کمزور کرنا چاہا تاکہ طاقت کا توازن پھر سے اس کے حق میں ہوجائے۔ بیسویں صدی کے آخر تک سلطنت عثمانیہ عالمی دباؤ کے سبب ٹوٹ گئی۔ مصر نے اپنے آپ کو شکست زدہ اور فریب خوردہ سمجھا۔ اسے یقین ہوگیا کہ مغرب باقی دنیا پر صرف اپنی من مانی چاہتا ہے۔ اسی طرح کے فوجی اور معاشی جھٹکوں نے دیگر غیر ترقی یافتہ عرب ممالک اور ان کے سربراہان کو یہ یقین دلا دیا کہ ترقی اب ناممکن ہے۔ جب وہ اس نتیجے پر پہنچے تو بہت سے لوگ مایوسی کا شکار ہوگئے۔ ۱۹۷۰ کی دہائی میں یہ لوگ مذہبی انتہا پسندی اور قدامت پرستی کے عقیدے پر لوٹ گئے۔ بنیاد پرستی کوئی یکلخت جواب نہیں تھا بلکہ یہ آخری حربہ تھا۔
ہمیں ایک عالمی قبیلہ قائم کرنے کی ضرورت ہے جو عمومیت کو مضبوط کرے نہ کہ یکسانیت کو۔ ایک طریقہ جس کے ذریعے شناخت کے بحران سے نمٹا جا سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ ہر ایک کو آواز بلند کرنے کا ایک جیسا حق حاصل ہو۔ ایسا کرتے ہوئے ہمیں یکسانیت کو قائم ہونے سے روکنا ہوگا۔ یکسانیت تکثیریت کی عدم موجودگی ہے جس کا مطلب مغرب بلکہ خاص طور پر امریکی ثقافت کا دیگر تمام ثقافتوں پہ غلبہ ہے۔جس کے نتیجے میں بہت سی ثقافتوں کا ، ان کے فن کا ، ان کی لسانیات کا اور ان کی دانش کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ لوگ عالمگیریت کے سبب پریشان ہیں، انھیں یہ خوف ہے کہ طاقتور کے عقائد باقی تمام سوچوں اور تصورات کو بنجر کردیں گے۔
حتیٰ کہ مغرب میں بھی یہ خوف موجود ہے کہ عالمگیریت کا مطلب امریکیت ہے۔ مثال کے طور پر فرانس کے اندر امریکی فاسٹ فوڈ میکڈونلڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان سے ، ہالی ووڈ کی طاقت سے ، ایپل اور ڈزنی کی مصنوعات سے یہاں اور باقی جگہوں پر عام لوگ فکر مند ہیں کہ ان کی اپنی ثقافتی اقدار کا مستقبل کیا ہوگا۔ عمومیت بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہے جس سے کوئی بھی ذی شعور کسی بھی دلیل کے ساتھ انکار نہیں کرسکتا۔ یہ ان حقوق کا مجموعہ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہر کسی کو آزادی سے رہنے کا حق ہے۔ کسی کے ساتھ کوئی تفریق یا نفرت نہیں ، جہاں ہر شخص اپنی پسند اور اختیار سے بغیر کسی کی رکاوٹ کے جی رہا ہو۔ اگر ہم اس کی طرف بڑھیں، آپس کے اتفاقات کو ایک دوسرے سے مل کر منائیں، اپنے امتیازات کو اپنے تک محدود رکھیں تو ہم حقوق انسانی کو مضبوط تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔
اس کے لیے ہم سوشل میڈیا ، ٹیکنالوجی اور اپنے بیانیے کا استعمال کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمیں چاہیے کہ کم ازکم تین زبانیں بولنا سیکھیں۔ ایک ہماری مادری زبان ، ایک انگریزی اور ایک کوئی ایک اپنی پسند کی تیسری زبان۔ اس سے آپ کو تعلقات بنانے میں مدد ملے گی۔ ہماری غلط فہمیوں کا ازالہ ہو گا اور ہمیں عالمی سطح پر ابلاغ کرتے ہوئے سمجھوتے میں آسانی رہے گی۔ تمام انسانیت ایک ہے کے نعرے سے وابستہ ہوتے ہوئے مختلف ثقافتی اور لسانی حوالوں کو پھیلا کر اور سیکھ کر ہم تنگ نظر شناختوں کے زہریلے اثرات کو کم کرسکتے ہیں۔

اس کتاب کا بنیادی سبق
شناخت ایک کثیر جہت غیر مستقل تصور ہے جو خارجی سطح پر موجود سیاسی اور سماجی اثرات سے وجود پاتا ہے۔ یہ خارجی طاقتیں انفرادی اور ثقافتی ہر دو شناختوں کو تنزلی کا شکار کرسکتی ہیں۔ نتیجے میں انفرادی اور سماجی سطح پر غصے اور خطرے کے زہریلے اثرات پیدا ہوسکتے ہیں۔
پر امن اور کثیر رنگ دنیا کے قیام کے لیے ہمیں سیاسی ، ثقافتی اور معاشی درجہ بندیوں سے لڑنا ہوگا تاکہ ایک عالمی سماج قائم کیا جاسکے جہاں تمام شناختوں کو خیرمقدم کہا جائے۔

کرنے لائق نصیحت
یاد رکھیے کوئی ایک مذہب بھی وراثتی طور پر بے رحم نہیں ہے۔ اب آپ جب سنیں کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اسلام وراثتی طور پر جمہوریت اور ترقی پسند سیاست کے موافق نہیں ہے تو اس سے یہ پوچھیے گا کہ مسیحیت کی تاریخ کیا ہے ؟ ممکن ہے کہ وہ یہ جان کر حیران رہ جائے یا یہ یاد کرلے کہ تمام مذاہب بنیاد پرستی اور تشدد کی تاریخ کے حامل ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...