فیمینزم اور پاکستان میں تحریکِ نسواں

ڈاکٹر روبینہ سہگل(ترجمہ: شوذب عسکری)

108

فیمینزم ایک فکر اور ایک تحریک کے طور پر دنیا بھر میں سماجی علوم اور ادبیاتکا حصہ ہے اور اس کے مختلف مکاتب فکر موجود ہیں۔ پاکستان کے مخصوص سیاسی، ثقافتی اور تاریخی پس منظر میں اس تحریک کا سفر کئی طرح کے فکری اور عملی نشیب و فراز سے گزرا ہے۔ اس موضوع پر زیرنظر تحریر ’’فیمینزم اینڈ دی وومن موومنٹ ان پاکستان‘‘ کے زیرعنوان تحقیقی مقالے کا خلاصہ ہے جسے ڈاکٹر روبینہ سہگل نے تحریر اور ایف ای ایس اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ موضوع کو مزید تفصیل سے پڑھنے کے لیے مقالے کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ (مدیر)

بدلتی ہوئی تاریخ اور پاکستان میں تحریک نسواں :
یہ تحریر پاکستان میں تحریک نسواں کے اس مدار کا جائزہ ہے جو تقسیم ہند سے قبل قومی اور مذہبی شناخت سے اٹھنے والی تحریک سے شروع ہوتا ہے اور اگرچہ یہ اپنی بنیاد میں عورتوں کے حقوق کی تحریک نہیں تھی لیکن مذہبی اور قومی بنیاد پہ اٹھنے والی اس تحریک میں عورتوں کی شمولیت سے انھیں اپنی انفرادی اور جنسی شناخت کی بنیاد پر سماجی حقوق حاصل کرنے کا جذبہ بیدار ہوا ہے۔
پاکستان میں فیمینزم یا تحریکِ نسواں کے موضوع پر لکھنے سے پہلے ضروری ہے کہ فیمینزم اور تحریک کے مطالب سمجھ لیے جائیں کیونکہ اصطلاح میں ان تراکیب کی وضاحت میں بہت سی آرا موجود ہیں۔ اگرچہ اس بحث میں اٹھنے والی مختلف آرا میں سے چند کا تذکرہ یہاں کیا جا رہا ہے تاہم اس کی مکمل وضاحت یہاں ممکن نہیں ہے۔ فیمینزم کی عمومی تشریحات سیاسی نوعیت کی ہیں کیونکہ یہ بطور فکر طاقت کی مادی اور اور نظریاتی ساخت کو چیلنج کرتا ہے۔ سماج کو دیکھنے پرکھنے اور سمجھنے کی مختلف توجیحات کی بنا پر اس میں مختلف تشریحات موجود ہیں۔ لبرل فیمینزم جو کہ سب سے مشہور تشریح ہے قومی ریاست کے جدید تصور میں مساوی حقوق پہ یقین رکھتی ہے۔ ہرچند کہ اس مکتب فکر میں بھی مختلف آرا موجود ہیں لیکن اس کا بنیادی مقصد خواتین اور مردوں کے درمیان قانونی اور سیاسی حقوق کی یکساں تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ مشہور مکاتب فکر میں مارکسسٹ فیمینزم (جوکہ فرییڈرک اینگلز سے ماخوذ ہے) ، ریڈیکل فیمینزم سکول جوکہ مارکسسٹ اور لبرل سکول کے برعکس جو اپنی تشریح میں عوامی ہیں، یہ سکول اپنی فکر میں ذاتی یا نجی نوعیت کی فیمینسٹ اپروچ کا داعی کا ہے۔ یہ سکول بنیادی طور پر پدر سری نظام کے مخالف ہے۔ اس کے علاوہ ایک سوشلسٹ سکول ہے جو کہ ریڈیکل اور مارکسسٹ فکر کا مجموعہ ہے اور یہ اپنی اصل میں سماجی و معاشی نظام میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت پہ یقین رکھتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک پدرسری نظام کی ناانصافی ریاست کی جانب سے قائم کیے گئے اداروں کے ذریعے مضبوط ہوتی ہے۔ مغرب میں ممکن ہے چونکہ ان تمام مکاتب فکر کی نظریاتی بنیادیں موجود ہوں لیکن برصغیر کے تناظر میں یہاں کی تشریحات کی ایک اپنی تاریخ اور ثقافت ہے۔
پاکستان میں فیمینزم کے مختلف مکاتب فکر موجود ہیں جہاں سے وابستگی کی وجوہات شعوری بھی ہیں اور غیر شعوری بھی ، یہاں پر کوئی کسی ایک مکتب فکر سے نظریاتی وابستگی کا حامل ہو مشکل ہے۔ یہاں فیمینزم کی فکر سے وابستہ افراد حالات اور ضرورت کے تحت مختلف افکار سے متاثر ہوئے ہیں۔
تحریک سے کیا مراد ہوسکتا ہے ؟ موجودہ حالات میں یہ بھی ایک حل طلب معاملہ ہے عمومی طور پر اس سے مراد قابل مشاہدہ ، اجتماعی اور مسلسل مزاحمت ہے جو کسی بھی ناانصافی ، غیر مساوی رویے اور تعصب کے خلاف ہو۔ بعض صورتوں میں یہ کسی اچانک مزاحمت کی صورت نظر آتی ہے جو کسی انسانیت سوز واقعے کے خلاف احتجاج سے پھوٹتی ہے۔ بہت کم صورتوں میں یہ کسی ایک فرد کی فکری فنی یا ادبی مزاحمت سے بھی تعبیر کی جاتی ہے۔ اس لیے آرٹ ، ادب، موسیقی اور رقص جو کہ مزاحتمی ہو اسے بھی فیمینسٹ موومنٹ کہا جا سکتا ہے۔
تاہم کسی بھی تحریک کے لیے ایک واضح نظریے ، طریقہ کار اور سماجی تنظیم کو تبدیل کرنے کا مقصد سمجھنا لازم ہے۔ پاکستان میں خواتین تحریکیں کسی تاریخی موڑ پہ تو یہ سب عوامل اپنے اندر موجود رکھتی تھیں اور کہیں ایسے مواقع بھی تھے جہاں یہ سارے عناصر ایک ساتھ موجود نہیں تھے۔کیا پاکستان میں اب کوئی فیمینسٹ تحریک موجود ہے یا نہیں ؟ اس بحث کا دارومدار اس نکتے پر ہے کہ کسی تحریک کے عناصر ترکیبی کیا ہوتے ہیں ؟
پاکستان میں فیمینزم کو بیان کرتی اس تحریر کے لیے ہم ایک عارضی اور قابل عمل تعریف بناتے ہیں۔
ایک فیمینسٹ تحریک منصفانہ دنیا کے قیام پر یقین رکھتی ہے۔ اس کے لیے وہ انفراد ی اور اجتماعی کوششوں سے دنیا میں متعصبانہ اور تفریقانہ سوچ پر تشکیل پانے والی سماجی ، معاشی اور سیاسی ساخت اور مکالمے کو اس طرح بدل دینا چاہتی ہے کہ وہ تبدیلی نظر آئے۔
یہ تعریف ایک مقصد کو واضح کرتی ہے ، ایک لائحہ عمل بناتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انفرادی اور اجتماعی کرداروں کی بھی وضاحت کرتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ وضاحت مکمل نہ ہو تاہم پاکستان میں فیمینسٹ تحریک کے عنوان کو احاطہ کرتی ہوئی اس تحریر کے لیے یہ کافی ہوگی۔
پاکستان کے معاملے میں جہاں عالمی سطح پر طاقت کے بدلتے توازن نے ریاست کو شدید متاثر کیا ہے وہیں یہ ریاست بھی اپنی ساخت میں مختلف تبدیلیوں سے گزری ہے۔ ان عالمی اور علاقائی تبدیلیوں نے تحریکوں اور ان کے چلانے والوں کی سرگرمیوں اور مکالمے کو متاثر کیا ہے۔ لہٰذا پاکستان میں خواتین کی تحریکوں کے تسلسل کو سمجھنا ہوگا کہ جہاں سے انھوں نے جنم لیا اور پھلی پھولیں اور موجودہ حالات تک پہنچیں۔ خواتین کی سیاسی بیداری اور ان کے حقوق کے لیے ایک مکمل تحریک تک پہنچنے کے عمل کو سیاسی بنیادوں پر چھ ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ نوآبادیاتی دور اور تعلیمی اصلاحات کی تحریک
۲۔ ہند وستان میں نوآبادیاتی تسلط کے خلاف قومی تحریک کا احیا
۳۔ آزادی کے بعد ریاست اور سماج کی نئی تشکیل
۴۔ سرد جنگ اور استعماریت کا تنازعہ ، اسلامائزیشن کا نیا دور
۵۔ جمہوریت اور نیولبرل ازم کا دور
۶۔ دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ اور شناخت کی ازسرِنوتشکیل
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ کن واقعات کسی یکساں تسلسل کے حامل نہیں ہیں بلکہ ان کی مزاحمت میں نظریہ اور عمل دونوں ہی کارفرما رہے ہیں۔ اور یہ مزاحمتیں بھی اصل میں متصادم نوعیت کی تھیں ایک جیسی نہیں تھیں۔ بدلتی ہوئی مادی دنیا اور کثیر جہت نظریاتی ردعمل کے بعد جدلیاتی تعلق میں ان مزاحمتوں کے اندر پیچیدگیاں اور وسعتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

۱۔ نوآبادیاتی دور اور تعلیمی اصلاحات کی تحریک
یہ تحریر بظاہر نوآبادیاتی نظام کے تناظر میں مسلم خواتین کی تحریک کے احوال سے آغاز ہورہی ہے کہ جس نے برصغیر میں جدیدیت کی بنیاد رکھی لیکن جہاں جہاں برطانوی راج کا مفاد تھا اس نے رجعت پسندی کو بھی مضبوط کیا۔ برطانوی نوآبادیات کا برصغیر پر کوئی یکساں اثر نہیں ہوا۔ جہاں اسے لگا کہ انھیں تعلیم یافتہ جدید اذہان کی ضرورت ہے وہاں اس نے جدیدیت پر مبنی جدید تعلیمی ادارے قائم کیے جو آزاد فکری کی پرورش کرتے تھے۔ جہاں اسے مذہب میں اپنا مفاد نظر آیا وہاں مذہبی اداروں اور ملائیت کو فروغ دیا گیا۔
برطانوی استعمار کی اس دورُخی چال کہ اس نے جدیدیت اور رجعت پسندی دونوں ہی کو اپنے مفاد کے تحت پالا، یہ آئین کے میدان میں واضح نظر آتی ہے ، سال۱۷۹۰ء میں ہندوستان میں انگریزی قوانین متعارف کروائے گئے، تاہم نجی اور خاندانی معاملات سے متعلقہ شقوں میں عورتوں اور مردوں میں جنسی بنیادوں پر موجود تفریق کو برقرار رکھا۔ رسمی اور مذہبی قوانین جو خواتین کو زیردست رکھتے تھے انھیں تبدیل نہیں کیا گیا۔ وہ قوانین جو خواتین کو وراثت سے محروم رکھتے تھے انھیں برطانوی راج میں بھی برقرار رکھا گیا۔ ۱۹۳۷ء کے آئین میں مسلم خواتین کو وراثتی حق دیا گیا تاہم زرعی زمین کو اس میں استثنا دیا گیا کیونکہ اس کے لیے برطانوی انتظامیہ اور پنجاب کے جاگیردار میں سمجھوتا طے پاگیا تھا۔پرائیویٹ اور پبلک تفریق کو نہ صرف برقرار رکھا گیا بلکہ اس کو مضبوط کیا گیا۔

تعلیمی اصلاحی تحریک
برطانوی نوآبادیاتی نظام نے ہندوستان میں نیا تعلیمی نظام متعارف کروایا مگر اس کا مقصد روایتی اور جاگیرداری نظام کا توڑ کرنا اور آزادیاں فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد تعلیمی نظام کے ذریعے برطانوی نوآبادیات کے وفادار پیدا کرنا تھا جو برطانوی استعمار کو جائز سمجھتے ہوں۔ غیر حیران کن حد تک معاشرے کے کچھ طبقے اس انگریزی نظام کے حق میں تھے اور بعض حلقوں نے اسے اجنبی ثقافت اور دشمن روایت سمجھ کر اس کی مخالفت کی۔
ہندی مسلمان اس مخمصے کا شکار رہے کہ وہ روایت پرستی اور ماضی کی رسومات کے پابند رہیں یا جدید تعلیم کے ذریعے معاشی اور سیاسی میدان میں اپنی بقا کرسکیں۔ ایسی صورت میں عورتوں کو رجعت پرستی کی حدود میں قید کیا گیا اور مردوں نے بدلتے ہوئے حالات کے تحت سیاست اور تجار ت میں قدم بڑھائے جہاں نوآبادیاتی ریاست اور مقابل مذہبی طاقتوں میں ساختی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ تعلیمی میدان میں یہ تقسیم بہت واضح نظر آتی ہے۔ مسلم اشرافیہ میں تعلیم کے حق کی بڑی آواز سرسید احمد خان کی تھی وہ مردوں کی تعلیم کے حق میں تو ضرور تھے تاہم وہ مغربی طرز کی سیکولر تعلیم کو عورتوں کے لیے زہرقاتل سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک عورتوں میں سماجی سوجھ بوجھ اور اخلاقی تربیت ہی کافی تھی۔ اسی طرح نذیر احمد نے عورتوں کے لیے تعلیم کو اسی حد تک بہتر سمجھا کہ وہ پڑھ لکھ کر اچھی مائیں بن جائیں اور بہتر گھرداری کر سکیں۔ وہ بھی مغربی تعلیم کو عورتوں کے لیے برا سمجھتے تھے۔ تنازع یہی تھا کہ پدرسری نظام اور روایتی تصور خاندان کو کس طرح باقی رکھا جا سکتا ہے اور اسے ’خارجی‘ عناصر سے کیسے بچایا جا سکتا ہے جو مسلم عورت کے لیے نامناسب ہیں۔
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز پہ رجعت پسند اور ترقی پسند مسلمانوں کے درمیان پردے کے معاملے پہ تنازع جم گیا تھا۔ اکبر الٰہ آبادی جیسے شاعر نے عورتوں کے پردے اتارنے کو مردوں کی غیرت اترنے سے تعبیر کیا۔ اس عنوان پر کئی نظمیں لکھیں۔ انھیں یہ یقین تھا کہ مغربی تصور مردانگی مسلمانوں کے تصور مردانگی کو زک پہنچا رہا ہے۔ علامہ اقبال بھی مسلم مرد کو غیرت دلارہے تھے اور اسے ماضی کے مسلمان کی مثال دے کر جگانا چاہ رہے تھے جو اپنی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کا محافظ تھا۔ اس صورت میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اس زمانے کا ہندی مسلمان عورت کے آزاد ہوجانے اور جدیدیت سے آگاہ ہونے پر کس قدر خوفزدہ تھا۔ مسلمان عورت کی تعلیم کا پہلا سوال محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاس سال ۱۸۸۶ء میں سامنے آیا جب شیخ عبداللہ آف علی گڑھ نے مسلم عورتوں کی تعلیم کی ضرورت پہ زور دیا مگر انھیں اپنے ہی بظاہر ترقی پسند دوستوں سے تنقید سننی پڑی۔ تاہم ۱۸۹۹ء میں پہلا تربیتی مرکز برائے اساتذہ کلکتہ میں کھول دیا گیا کیونکہ مسلم عورتوں کی تعلیم میں بڑی رکاوٹ یہ بھی تھی کہ کوئی تربیت یافتہ استاد موجود نہیں تھا۔ بیگم آف بھوپال نے عورتوں کی تعلیم کے لیے خصوصی توجہ دی۔ شیخ عبداللہ کے محمڈن گرلز سکول کی بہت معاونت کی۔ سکول کی انتظامیہ کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ لڑکیوں کے تعلیمی نصاب کی تشکیل کا معاملہ تھا جس کے لیے ان کے پاس رقم نہیں تھی۔ بیگم صاحبہ نے کمال مہربانی سے مسئلہ حل کردیا۔ انہو ں نے ۱۹۱۱ء کے محمڈن ایجوکیشنل کے سالانہ اجلاس کے موقع پر یہ نصاب مشاہدے کے لیے پیش کردیا۔ انھوں نے اس نصاب میں ہوم سائنسسز کے نام سے ایک مضمون گھرداری کے لیے بھی شامل نصاب کیا تاکہ قدامت پسند مسلمانوں کو اس پر زیادہ اعتراض نہ ہو۔ ۱۹۱۵ء میں انھوں نے علی گڑھ میں لڑکیوں کے سکول کے ساتھ ہاسٹل کی تعمیر بھی شروع کروائی۔
روایتی طور پر مسلم تعلیم مکتب اور مدرسے سے جڑی ہوئی ہے جہاں عورتوں کی شمولیت نہیں ہوتی۔ عورتوں کی تعلیم کا مطلب مردوں کی بالادستی کو چیلنج تھا۔ یہی معاملہ بعد میں ہندوستانی عورت کے حقوق کی بنیاد بنا۔ نو آبادیاتی ریاست کی جانب سے جہالت کی پرورش نے مسلمانوں کو مجبور کیا کہ وہ بھی عورتوں کو تعلیم کا موقع دیں اور عورتیں چونکہ اقدارمیں بنیاد پہ آتی ہیں لہٰذا ان کی تعلیم کے لیے لازم تھا کہ وہ اسلامی اصولوں میں پابند ہو۔ ۱۸۸۵ء میں انجمن حمایت اسلام نے لاہور میں عورتوں کے لیے ۱۵؍ ایلیمنٹری سکولز کھولے جن کا مقصد عورتوں میں اسلامی اقدار کی ترویج تھا۔ بیگم آف بھوپال چونکہ عورتوں کی تعلیم کی حامی ہونے کے ساتھ ساتھ روایتی مذہبی خاتون تھیں تو انھوں نے بھی لڑکیوں کے لیے پردہ لازمی قرار دیا۔
۱۹۱۳ء تک آتے آتے عورتوں کے لیے عمومی سکولز کا قیام ممکن ہوچکا تھا۔ اس سلسلے میں چاند بیگم نے بہت محنت کی۔ اسی اثنا میں خواتین کا پہلا شمارہ بنام ’’خاتون‘‘ بھی شائع ہو چکا تھا۔ تعلیم نسواں کی اہمیت کے لیے مولانا الطاف حسین حالی کی آواز سے بہت تقویت ملی۔
۱۹۲۲ء تک پہلی مسلم خاتون کے شعبۂ قانون میں ایم اے کرنے تک خواتین کے لیے تین رسالے اور متعدد سکول قائم کیے جا چکے تھے۔ ۱۹۲۵ء میں عطیہ فیضی نے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاس سے خطاب کرکے تمام سابقہ بت توڑ دیے تھے اور یوں جدید تعلیم کے حصول کے لیے مسلم خواتین کا رستہ ہموار ہوگیا۔

خواتین کے حقوق
۱۸۸۶ء سے ۱۹۱۷ء کے درمیان سماج میں خواتین کے کردار اور حقوق سے متعلق مسلم معاشرے میں تبدیلی آئی۔ تعلیمی قابلیت میں اضافے سے مسلم اشرافیہ کی خواتین پر روایتی سماج کی قید ٹوٹنے لگی۔اس سلسلے میں سر محمد شفیع نے بہت اہم کردار ادا کیا جو لاہور سے مسلم لیگی تھے اور مسلم خواتین کی تعلیم کے بڑے حامی تھے۔ ۱۹۰۸ء میں انجمن خواتین اسلام قائم ہوئی جس کا مقصد مسلم خواتین کے حقوق کا تحفظ تھا۔ یہ تمام دور ہندوستان میں عورتوں میں سیاسی شعور کی بیداری کا زمانہ ہے۔ ۱۹۱۸ء میں مسلم لیگ اور کانگرس دونوں ہی نے خواتین کے ووٹ کے حق کو تسلیم کیا لیکن ۱۹۱۹ء کی مونٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات میں برطانوی حکومت نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس کے متعلق فیصلے کو صوبوں کو منتقل کردیا۔ ۱۹۲۵ء تک اڑیسہ اور بہار کے علاوہ تمام صوبوں نے خواتین کے حق رائے دہی کو قبول کرلیا تھا۔ ۱۹۳۰ء میں ہونے والی گول میز کانفرنسوں میں بھی خواتین کے سیاسی حقوق کو تمام سیاسی جماعتوں نے تسلیم کیا۔

اسلامی احیاء کی تحریک
جنگ عظیم کے بعد کی ترکی کی ممکنہ شکست اور اسلامی خلافت کے خاتمے کے خدشے نے ہند کے مسلم حلقوں میں تشویش پیدا کردی۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے کانگرس کی حمایت سے ترکی کی خلافت عثمانیہ کے تحفظ کی تحریک شروع کردی۔ اس تحریک کو چلانے والے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی اور ان کی ان کی والدہ اماں بی تھیں۔ ۱۹۲۱ء میں جب علی برادران قید میں تھے تو بی اماں نے مسلمانوں کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا اور اس دوران اپنا برقع اتار دیا۔ یہ ہندوستان میں پہلی مرتبہ تھا کہ کسی عام جلسے سے خطاب میں کسی خاتون نے پردہ نہ کیا ہوا ہو۔ مردوں نے اعتراض کیا تو بی اماں نے یہ کہہ کر مطمئن کردیا کہ سب لوگ میرے بیٹوں جیسے ہیں۔ اگرچہ یہ تحریک پدرسری نظام اور سیاست میں مردوں کی حاکمیت سے متعلق تھی لیکن ہندوستان میں عورتوں کی سیاسی شرکت نے انھیں مزید سرگرم کردیا۔ خلافت تحریک ایک قومی تحریک تھی جس کے ذریعے عورتیں عملی سیاسی میدان میں شامل ہوگئیں۔

۲۔ ہندوستان میں نوآبادیاتی نظام کے خلاف قومی تحریکوں کا احیا
پاکستان کے قیام کی تحریک میں خواتین نے بھرپور کردار ادا کیا۔ مارچ ۱۹۴۰ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں جو لاہورمیں ہوا تھا، خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے سبب مسلم لیگ نے خواتین کا علیحدہ شعبہ قائم کیا۔ ۱۹۴۲ء میں لاہور میں مختلف اوقات میں مسلم خواتین نے مزاحمتی جلوس نکالے۔
۱۹۴۳ء میں بنگال کے قحط کے دوران خواتین نے متاثرہ لوگوں کی امداد کے لیے چندہ مہم چلائی۔ ۱۹۴۳ء میں ہی کراچی میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اسی دوران وومن نیشنل گارڈ کی تنظیم کا قیام عمل لایا گیا جو بعد میں پاکستان گرلز گائیڈ میں تبدیل ہوگئی۔
۱۹۴۶ء کے انتخابات میں بیگم سلمیٰ تصدق حسین اور بیگم جہاں آرا شاہنواز مسلم لیگ کے الیکشن میں شریک ہوئیں۔ اسی دوران شمال مغربی سرحدی صوبے میں پہلی بار خواتین نے مسلم لیگ کے حق میں ریلی نکالی۔ ۱۹۴۷ء تک خواتین بھی جیل جانے لگ گئی تھیں۔ لاہور میں سیکرٹریٹ کی عمارت پہ عورتوں کے احتجاجی جلوس کے دوران ایک لڑکی نے یونین جیک کو اتار کر وہاں مسلم لیگ کا پرچم لہرا دیا تھا۔ ادھر شمال مغربی صوبے میں خدائی خدمتگار اور سرخ پوش تحریک سے وابستہ سینکڑوں خواتین پشاور کے بازا ر میں احتجاج کے لیے نکل رہی تھیں۔
آزادی ملنے تک خواتین سیاسی شمولیت کے سبب اپنی آواز کی اہمیت سے آگاہ ہوچکی تھیں۔ تاہم آزادی کے بعد انھی قوتوں نے پاکستان میں سر اٹھا لیا تھا جن کے خلاف عورتو ں نے اپنی آواز بلند کیے رکھی تھی۔

۳۔ آزادی کے بعد ریاست اور سماج کی نئی تشکیل
آزادی کے بعد دائیں بازو کی مذہبی قوتوں کو نئی ریاست میں سر اٹھانے کا موقع مل گیا۔ جناح صاحب کی شخصیت اور مسلم لیگ کی سیکولر پہچان سے پہلے جس مذہبی حلقے کو پاکستا ن کے قیام ہی سے اختلاف تھا وہی بعد میں ریاست کی نئی تشکیل میں جناح صاحب کی وفات کے بعد ذمہ دار بن گیا اور قرارداد مقاصد نے جناح صاحب کی تشکیل شدہ ریاست کا عملی نمونہ بدل دیا۔ اقلیتوں کے نمائندوں نے قرارداد مقاصد کی حمایت نہیں کی تاہم ان کے تحفظات کو ملحوظ نہ رکھا گیا۔
پاکستان کے ابتدائی دنوں میں عورتوں کی سیاسی شرکت کو مذہبی حلقوں کی جانب سے پسندیدگی نہیں ملی۔ ان کے نزدیک عورتوں کی بڑھتی ہوئی سماجی اور سیاسی شرکت غیر اخلاقی اور غیر اسلامی روایات کا فروغ ہوگی۔ تاہم عورتوں کی تحریک اپنے ابتدائی ارتقائی دور میں آگے بڑھتی رہی۔ پہلی قانون ساز اسمبلی میں بیگم جہاں آرا شاہنواز اور بیگم شائستہ اکرام اللہ موجود تھیں۔ شروع ہی سے خواتین نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا شروع کردیا تھا اور سب سے پہلے خواتین کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے بجٹ میں یہ گفتگو آغاز کروائی گئی۔ بیگم جہاں آرا شاہنواز اس سلسلے کی مضبوط آواز تھیں۔ انھی کی کوششوں سے مسلم پرسنل لا آف شریعت میں عورتوں کا حقِ وراثت قانون کا حصہ بنا۔ اگرچہ یہ پورے سماج کی عورت کے لیے نمائندہ نہیں تھا تاہم مردوں کے سامنے عورتوں کی اپنے حقوق کے لیے لڑی جانے والی یہ بعد از قیامِ پاکستان پہلی لڑائی تھی۔
پہلی قانون ساز اسمبلی نے مختلف عنوانات سے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔ ان سب کمیٹیوں میں جہاں آرا شاہنواز اور بیگم شائستہ اکرام اللہ نے مردوں اور مذہبی حلقوں کے سامنے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کیے رکھی۔ جب زکوٰۃ کمیٹی کی نشستیں منعقد ہو رہی تھیں تو علمائے کرام نے یہ کہہ کر خواتین سے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے انکا ر کردیا کہ یہ جب تک برقع نہیں پہنتیں اور پچاس سال سے زائد عمر کی نہیں ہوں گی، ان سے گفتگو نہیں ہوگی۔ اس طرح کا معاملہ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں ہوا تھا جب بے نظیر حکومت بننے جا رہی تھی۔
۱۹۵۱ء میں مسلم پرسنل لا آف شریعت نافذ ہوگیا۔ یہاں تک پہنچتے ہوئے بھی خواتین نمائندگان نے برابری کے سیاسی و قانونی حقوق کے لیے اپنی آواز ہر فورم پر اٹھائی ۔ ۱۹۵۵ء میں اپواء کی خواتین اور یونائٹڈ فرنٹ نے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کی دوسری شادی کے معاملے پر خواتین کی برابری اور عائلی زندگی کے تحفظ کے لیے احتجاج کیا۔ حکومت کے کہنے پر چیف جسٹس نے اس معاملے پر کمیشن تشکیل دیا۔ جسٹس رشید نے عائلی معاملات پر قانون کی مکمل تحقیقات کیں۔ اور ۱۹۵۶ء میں اپنی رپورٹ پیش کی اس پر مولانا احتشام الحق تھانوی نے تنقیدی نوٹ درج کیا اور یوں یہ معاملہ الماری کی نذر ہوگیا تاہم پدرسری نظام اور مردوں کے استحصالی معاشرے میں خواتین کی جدوجہد درج ہوگئی۔
۱۹۵۶ء کے آئین میں خواتین کو خصوصی اور جنر ل نشستوں پر انتخابات میں شمولیت کی اجازت دی گئی۔ یہ بہت بڑی کامیابی تھی مگر ۱۹۵۸ء میں ایوب خان کے مارشل لا کے ساتھ ہی اس آئین کو معطل کردیا گیا۔ اگرچہ ابھی تک بھی خواتین کی کوئی موثر تحریک وجود میں نہیں آئی تھی تاہم وہ خواتین جو تحریک آزادی میں سرگرم تھیں، اب اہم قومی مسائل کے حل میں بھی آگے آگے موجود تھیں اور ان کو مذہبی حلقوں سے مسلسل مقابلہ کرنا پڑرہا تھا جو خواتین کی سماجی شمولیت میں برابری کے حق میں نہیں تھے۔ اسی دوران بیگم رعنا لیاقت علی خان نے خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے قیادت کا بیڑہ اٹھا لیا اور انھوں نے خواتین رضا کار مہم شروع کی۔ چونکہ یہ کام روایتی طور پر خواتین کے ہی ذمہ تھا لہٰذا اس کی مخالفت نہ ہو ئی تاہم مزید دو تنظیمیں جو انھوں نے قائم کیں، ان پر مذہبی حلقوں سے سخت تنقید ہوئی، ان تنظیموں میں وومن نیشنل گارڈ اور وومن نیول ریزرو شامل ہیں۔ یہ دونوں تنظیمیں ہندوستان سے جنگ کے بعد عورتوں کو محاذ جنگ اور دفاع کی تربیت دینے کی ذمہ داری ادا کررہی تھیں۔ یہ سرگرمی مردانہ پدر سری نظام اور اس کی اخلاقیات سے ٹکرا رہی تھی کہ عورتیں میدان جنگ اور فن حرب سے واقفیت حاصل کریں۔ بہت سی تنقید کے بعد ان تنظیموں کے یونیفارم میں دوپٹہ شامل کیاگیا تاہم جب بیگم رعنا لیاقت علی سفیر بن کر بیرون ملک چلی گئیں تو ادارے بھی سرد پڑ گئے ۔ خواتین رضاکار مہم کی کامیابی کے بعد بیگم رعنا لیاقت نے آل پاکستان وومن ایسوسی ایشن (اپوا) قائم کی۔ یہ رضاکارانہ تنظیم سولہ سال سے زائد عمر کی تمام پاکستانی خواتین کو شمولیت کی دعوت دیتی تھی اور اس کا مقصد تعلیم، صحت، سماج اور دیگر معاشی شعبوں میں خواتین کی شمولیت کو ترقی دینا ہے۔ اس ادارے نے کئی سماجی ، رفاحی اور تعلیمی ادارے قائم کیے۔ جب اس ادارے نے قانونی اصلاحات کے لیے خواتین کے حق میں مہم چلائی تو مذہبی حلقوں کی جانب سے اس ادارے کی سرگرم خواتین کو طوائف تک کہا گیا۔ جماعت اسلامی اور مجلس احرار نے ان خواتین کے متعلق بہت سے رکیک جملے کہے۔
۱۹۴۸ء میں مارکسسٹ فکر کی حامل خواتین نے طاہرہ مظہر علی کی قیادت میں ڈیموکریٹک وومن ایسوسی ایشن قائم کی۔ اس تنظیم نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی مساوی شمولیت ممکن بنانے کے لیے تنظیمی کام کیا۔ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کے سانحے کے دوران خواتین پر ہونے والے جنسی حملوں کے خلاف سب سے مؤثر آواز اسی تنظیم کی تھی۔

ایوب خان کا دور ۱۹۵۸ء تا ۱۹۶۸ء
اپوا کی کوششوں سے مسلم فیملی لا آرڈیننس پاس ہوا جس میں عائلی زندگی کے دوران خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا گیا جس کے تحت مرد کو دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت کا پابند کیا گیا۔ اگرچہ یہ ایک کمزور قانون تھا اور اسے با آسانی توڑا جا سکتا تھا تاہم خواتین کے حقوق میں یہ ایک اہم سنگ میل شمار ہوتا ہے۔ مذہبی حلقوں نے اس کی بھی مخالفت کی تھی ۔ پہلی دفعہ لاہور میں خواتین نے علما کے خلاف ایک بڑا جلوس نکالا جس کی قیادت بیگم نسیم جہاں نے کی۔
خواتین کی کوئی ایک مؤثر سیاسی جماعت نہ ہونے کی وجہ سے محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب آمریت کی طرف سے با آسانی ہدف تنقید بنایا گیا۔ ایوب خان نے علما کے ذریعے فتوے دلائے کہ عورت ریاستی حکمران نہیں بن سکتی۔ یہی فتوے دہائیوں بعد بے نظیر کے خلاف بھی استعمال ہوئے۔ ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء کی دہائی خواتین تنظیموں کی تشکیل کے حوالے سے یاد رکھی جا سکتی ہے۔ اس دوران بہت سی تنظیمیں قائم ہوئیں۔ ان کا مقصد سیاسی فلاحی اور سماجی بہبود تھا۔ ۱۹۶۶ء میں بہبود فاؤنڈیشن قائم کی گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو کا دور
سانحہ مشرقی پاکستان کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کو پاکستان کی قیادت ملی،چونکہ اس نے مغربی پاکستان میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جمہوریت کی بحالی کے لیے پیپلز پارٹی کے احتجاج اور بعد ازاں انتخابات میں شمولیت نے پاکستان بھر کی خواتین کو سیاسی طور پر متحرک کیا تھا۔ بیگم نسیم ولی پہلی خاتون تھیں جو جنرل الیکشن جیت کر آئی تھیں، تاہم انھوں نے حلف نہیں لیا کیونکہ ان کی سیاسی جماعت پر حکومت کی طرف سے دہشتگردی کا الزام تھا اور بلوچستان میں ان کی پارٹی کی حکومت کو ختم کردیا گیا تھا ۔ ان تمام تر اقدامات کے باوجود پیپلز پارٹی کا دور خواتین کے لیے مددگار تصور ہوتا ہے۔۱۹۷۳ء کے متفقہ جمہوری آئین میں بھی خواتین کو مناسب نمائندگی دی گئی۔ آئین کی شقیں ، آرٹیکل ۲۵ ، آرٹیکل۲۷ اور آرٹیکل ۳۲ خواتین کے سیاسی ، سماجی، معاشی اور قانونی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ ۱۹۷۳ء کے بعد سول سروسز کے تمام شعبے خواتین کے لیے کھول دیے گئے اور تمام حکومتی اور سرکاری اداروں میں خواتین کے لیے تمام قانونی رکاوٹیں ختم کردی گئیں۔ تمام گورنر شپس اور چانسلر شپس خواتین کے لیے کھول دی گئیں۔ ۱۹۷۵ء میں انٹرنیشنل وومن ایئر پر بیگم نصرت بھٹو نے میکسیکو میں پاکستان کی نمائندگی کی اور میکسیکو اعلامیے پر دستخط کیے۔ اسی تناظر میں لاہور میں ایک وومن انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا۔ ۱۹۷۳ء میں خواتین کے حقوق کے لیے ایک تیرہ رکنی کمیٹی بھی یحییٰ بختیار کی قیادت میں قائم کی گئی۔ جولائی ۱۹۷۶ء میں خواتین معاشی ، سماجی اور سیاسی حقوق کے تحفظ اور ریاستی بندوبست میں شراکت داری میں اضافے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا گیا۔ تاہم یہ کبھی نافذ نہیں ہو سکا۔
پیپلز پارٹی حکومت نے بیگم نصرت بھٹو کی قیادت میں متوسط طبقے کی خواتین کو ریاستی بندوبست میں شراکت داری بڑھانے کے لیے باشعور بنانے کا کام شروع کیا۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی میں شرکت گاہ ، عورت فاؤنڈیشن اور وومن فرنٹ قائم ہوئے، یہ ترقی پسند خواتین کے حلقے تھے جنہوں نے پنجاب بھر میں تعلیم یافتہ خواتین کو متحرک کرنا شروع کیا۔
تقسیم کے بعد سے لے کر اب تک خواتین کی سماجی و سیاسی اور معاشی بہبو د کے لیے جمہوری اور آمریت دونوں طرز کی حکومتوں سے قابل قدر تعاون ہوتا رہا تاہم سیاسی شرکت کی کوئی باقاعدہ شکل وجود میں نہ آسکی۔ خواتین کی تحریک نے بھی فاطمہ جناح کے حق میں فوجی آمریت کا مقابلہ نہیں کیا نہ ہی خواتین محاذ نے ۱۹۷۳ء کے آئین میں اسلامی دفعات کے موضوع پر اور نہ ہی اقلیتوں کے تحفظ کے معاملے پر کوئی مؤثر آواز بلند کی۔ ۱۹۷۴ء میں احمدی کمیونٹی کو غیر مسلم قرار دینے پر بھی خواتین کا کوئی سیاسی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ انھی فیصلوں کا تسلسل ، جمعے کی چھٹی ، جوئے اور شراب پر پابندی بھی تھا جو اپنی دانست میں پاکستان نیشنل الائنس کی تحریک کا رستہ ہموار کر رہا تھا۔ اس تاریخی تناظر میں آج یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذہبی حلقوں کو راضی کرنے کے یہ اقدامات آنے والے مارشل لا کی طویل عمر کی راہ صاف کررہے تھے۔ یہی لگتا ہے کہ خواتین محاذ نے جمہوریت اور آمریت جیسے اہم قومی مسئلے سے صرفِ نظر کرتے ہوئے خواتین کے ہی مسائل پر توجہ مرکوز رکھی۔ بعدازاں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا نے انھی مذہبی قوتوں کو ریاست کی فیصلہ سازی میں شریک کیا جو اس سے پہلے قانون ساز اسمبلی کا حصہ نہیں تھے بلکہ صرف ایک پریشر گروپ تھے۔

۴۔ سرد جنگ اور استعماریت کا تنازعہ،اسلامائزیشن کا دور
۱۹۷۹ء کا سال عالمی سطح پر اور پاکستان میں انقلاب آفریں تھا۔ ہمسایہ ایران میں رجعت پسند مذہبی انقلاب اور افغانستان میں روسی فوج کی آمد ، سرد جنگ کا عروج ، کیپیٹلزم اور کیمونزم کی گرم ہوتی جنگ کا میدان پاکستان کا ہمسایہ تھا۔ یہ ماحول پاکستان کے فوجی آمر ضیاء الحق کے لیے بہت معاون تھا۔ انھوں نے جولائی ۱۹۷۷ء میں ایک غیر آئینی اقدام کے تحت آئین اور جمہوریت کو معطل کردیا تھا اب وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ امریکا اور سعودی عرب کی حمایت سے وہ اپنی حکومت کو مضبوط بنا رہے تھے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے اسلامی احکامات کے تحفظ اور ترویج کا نعرہ لگایا۔ دیوبند اور وہابی نظریات کا نفاذ اہم ریاستی پالیسی بن گیا۔ دُرّوں اور سنگساری کی سزائیں سعودی عرب سے مستعار لے کر عدالتی نظام کا حصہ بنیں اور معاشرے کی تطہیر کے نام پر تمام سیاسی سرگرمیاں بزورِ بازو روک دی گئیں۔ سیاسی و سماجی تنظیموں پر عرصۂحیات تنگ کردیا گیا۔ بھٹو صاحب کا اسلامی سوشلزم دفن ہوگیا اور اس کے اوپر ضیاء الحق کی اسلامائزیشن تعمیر ہونے لگی۔ قومی و ریاستی بیانیے کو بدل دیا گیا۔ نصاب ، ذرائع ابلاغ اور قومی دانش کو ایک مخصوص مذہبی تشریح کا پابند کردیا گیا جس کے سربراہ جنرل ضیاء الحق تھے۔ اسلام سے محبت اور اسلامی نظام ریاست کا قیام ان کی آمریت کا واحد جواز تھا۔ ان کی تخلیق شدہ ریاست کا جبر عوام کی نجی زندگی تک جا پہنچا جب صلوٰۃ کمیٹیوں کے ذریعے لوگوں کے نجی مذہبی معاملات میں ریاستی عمل دخل شامل ہوا۔ چادر اور چار دیواری کے نام پر خواتین کو پابند کیا گیا۔ تمام ریاستی ڈھانچا خواتین اور اقلیتوں کے خلاف تعصب روا رکھنے کے لیے بدل دیا گیا۔ غیرت کے نام پر قتل کے مجرم کو تحفظ دینے کے لیے حدود آرڈیننس ، قصاص اور دیت جیسے رستے تلاش کیے گئے جس کے نتیجے میں عورتوں کے خلاف غیرت یا ناموسی قتل کے واقعات میں بہت اضافہ ہوا۔ ۱۹۸۵ء کے شریعت کے بل کے ذریعے مسلم فیملی لا آرڈیننس کو دھمکایا گیا۔
ضیاء آمریت کے ابتدائی برسوں میں خواتین کی تنظیمیں زیادہ مزاحمتی انداز میں سامنے نہیں تھیں۔ اسلامی اقدامات کے نام پر ملازمت پیشہ خواتین کو ایک خاص طرح کے لباس میں پابند کیا گیا۔ ٹی وی پر آنے کے لیے ایک خاص لباس مقرر ہوا۔ مخلوط محافل کو روکا جانے لگا۔ عورتوں اور مردوں کے باہمی میل جول پر رکاوٹ ڈالی گئی اور جب ٹی وی پر ڈاکٹر اسرار کے لیکچرز میں خواتین کی معاشی سرگرمیوں پر تنقید ہونے لگی تو خواتین تنظیمیں اس کے جواب میں سرگرم ہوئیں۔ فہمیدہ اللہ بخش کیس نے پورے ملک میں عورتوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ گذشتہ دہائیوں میں عورتوں کو حاصل ہونے والی معاشی اور سماجی آزادیاں خطرے میں تھیں۔ اس واقعے نے ریاست اور عورت کے باہمی رضامندی کے تعلق کو مزاحمت اور تنازع میں بدل دیا۔ زنا آرڈیننس نے زنا بالرضا اور زنا بالجبر کی تفریق ختم کردی۔ ریپ کو ثابت کرنا ناممکن کردیا گیا۔ ایسی قانونی اٹکل پیچیاں رکھی گئیں کہ متاثرہ خواتین مجرم بن گئیں اور مجرم آزاد ہوگیا۔
۱۹۸۰ء میں خواتین کا ایک گروپ کراچی میں اکٹھا ہوا اور وومن ایکشن فورم کا قیام عمل میں لایا گیا جس کو مزید ترقی دیتے ہوئے اس کے مختلف دفاتر لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں کھولے گئے۔ وومن ایکشن فورم نے اپنے پیغام کو اقتدار کے حلقوں تک پہنچانے کے لیے مختلف طریقہ کار اختیار کیے جس میں احتجاجی جلوس اور ریلیاں، دستخطی مہم، عوامی شعور میں اضافے پر سیمینار، مختلف تحریری اور تقریری طریقوں کو استعمال میں لایا گیا۔ وومن ایکشن کا ہر دفتر اپنی مقامی صورت حال کے تناظر میں مختلف طریقہ کار کو استعمال کرتا تاہم ان کے مقاصد ایک جیسے تھے۔ وومن ایکشن کمیٹی نے مختلف موضوعات پر بات کی جس میں قانون میں مرد و عرت کی تفریق، کھیلوں میں عورتوں کا کم حصہ، دفاتر میں عورتوں کی تنخواہوں اور کام کے اوقات کے حوالے سے تفریق، عورتوں کے حوالے سے مخصوص لباس کی زبردستی نفاذ ، تعلیمی شعبے میں عورتوں کو نظر انداز کیا جانا اور دیگر صنفی امتیازات کے خلاف زبردست مہم چلائی گئی۔ ۱۹۸۳ء میں پاکستان وومن لائر کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے سامنے قانون شہادت کے مجوزہ قانون کے خلاف ایک مظاہرہ کیا گیا جس میں وومن ایکشن کمیٹی کی خواتین نے بڑے پیمانے پر شرکت کی۔ اس مظاہرے پر حکومتی اہلکاروں کی طرف سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ اس خبر کو ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے بہت زیادہ کوریج دی۔ وومن ایکشن کمیٹی کی میٹنگز میں طے کیا گیا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کے بحالی کے لیے اب روائتی طریقہ کار سے ہٹ کر آرٹ اور کلچر کی مدد سے مؤثر مہم چلانی ہو گی۔ ایسے میں کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور حبیب جالب کی نظموں نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ آرٹ کے دیگر شعبوں میں سلیمہ ہاشمی کی پینٹنگز، مدیحہ گوہر تھیٹر میں، شیما کرمانی ڈانس، صبیحہ ثمر فلم نگاری، شیری رحمان صحافت، عطیہ داؤد اور عذرا عباس شاعری اور زاہد حنا اور خالدہ حسین ادب کے شعبے میں پیغام کو پہنچانے میں آگے آئیں۔ لیکن وومن ایکشن کمیٹی کا ادارہ بعد میں باہمی اختلافات کا شکار ہو گیا۔ ان کے اختلافات میں کچھ تو نظریاتی اختلافات تھے جیسے تنظیم کو مذہبی ہونا چاہیے یا سیکولر، صرف عورتوں کے حقوق پر کام ہو یا دیگر موضوعات پر ، ایک بڑے پیمانے پر عورتوں کے حقوق کی بات کی جائے یا اپنا فوکس صرف عورتوں کے چند مخصوص مسائل پر رکھا جائے۔ اس کے علاوہ کچھ تنظیمی اختلافات بھی ابھر کر سامنے آئے۔

سیکولر بمقابلہ مذہبی دائرہ کار
آغاز میں اگرچہ کسی قسم کے مذہبی یا غیر مذہبی تعصب ، نظریے اور فکر کا ابہام نہیں تھا۔ ویف پاکستان کی ایلیٹ کلاس اور متوسط طبقے کی سماجی طور پر باشعور خواتین کا ادارہ تھا۔ جس میں ہر طرح کے مذہبی خیالات اور ترقی پسند فکر کی حامل خواتین شامل تھیں۔ جب ادارے کے دائرہ کار کو طے کرنے کا وقت آیا تو یہ مشکل سامنے آ پڑی کہ اسلام کے بنیادی عقائد تو متاثر نہیں ہوں گے۔ کہیں یہ تو نہیں ہو گا کہ خواتین کے تحفظات الہامی عقائد کے مقابل آ جائیں۔
۱۹۸۳ء سے لے کر ۱۹۹۰ء تک ویف کے لاہور چیپٹر اور دیگر میں ہونے والی تمام تر ابحاث جن کا موضوع یہ تھا کہ ویف بطور تنظیم کیا مقاصد لے کر سرگرم رہے گی۔ کیا یہ مذہبی بنیادوں پر خواتین کے حقوق کا تحفظ کرے گی، کیا یہ پدرسری نظام سے ٹکرائے گی، کیا یہ ایک سیاسی تنظیم بنے گی،یا محض خواتین کے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کا تحفظ کرنے والی ایک فلاحی جماعت رہے گی۔ بالآخر فیصلہ یہ ہوا کہ ویف ایک جمہوری اور سیکولر ریاست پر یقین رکھتی ہے۔

خواتین کے مسائل یا تمام مسائل
ایک اور بحث جس نے ویف کے ذمہ داران کو پابند رکھا،یہ تھی کہ کیا ویف کے مقاصد صرف خواتین سے متعلقہ مسائل تک محدود ہیں کیونکہ بعض اداروں میں خواتین کو ان کی جنس کی بنیاد پر تعصب سہنا پڑ رہا تھا۔ جبکہ ویف کا کراچی چیپٹر نہ صرف خواتین کے مسائل پر احتجاج کے لیے سرگرم تھا بلکہ وہ جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لیے بھی ایم آر ڈی کی سیاسی تحریک میں شریک تھے۔ لاہور چیپٹر یہ سوچتا تھا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ بڑے سیاسی مسائل کو طے کرتے ہوئے ویف خواتین کے مسائل سے ہٹ جائے گی۔ تاہم آخر میں فیصلہ یہ ہوا ویف ملک بھر میں بلا تعصب رنگ، نسل ، مذہب اور عقیدے کے ہر طرح کے سماجی مسئلے کواپنی جد جہد کا حصہ بنائے گی۔ اس کے علاوہ ویف کا یہ بھی سوچنا تھا کہ ہمیں سیاسی تحریک کا حصہ بننا چاہیے اس ذریعے سے ہم مختلف سیاسی جماعتوں کے منشور میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے شقوں کو شامل کروا سکتے ہیں۔ ویف وہ پہلی تنظیم تھی جس نے بنگلہ دیشی خواتین سے ۱۹۷۱ء کے دوران ہونے والے جنسی زیادتی کے واقعات پر معافی مانگی۔

فیمنزم اور خواتین کے حقوق
ویف کی کچھ خواتین جن کا تعلق شعبہ تعلیم سے تھا، جنہوں نے فیمنزم پڑھا تھا اور ان کا یقین تھا کہ فیمنزم کیذریعے پدرسری نظام کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ متوسط طبقے کی بعض روایتی خواتین یہ سوچتی تھی کہ موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے ہی خواتین کے حقوق کے لیے جدجہد کی جائے اور اپنی تنظیم کو مغربی طرز کے فیمنزم کی طرح نہ چلایا جائے۔ مارکسسٹ اور سوشلسٹ افکار کی مالک خواتین طبقاتی جدوجہد پر یقین رکھتی تھیں اور وہ ریاست اور سماج کے بنیادی ڈھانچے کو بدلنے کے حق میں تھیں۔ اسی طرح خواتین کا لاہور میں موجود لائر فورم صرف عورتوں کے برابری کے قانونی حقوق پر جد وجہد کا خواہاں تھا۔
اس کے علاوہ تنظیمی دھانچے اور تنظیم کو چلانے کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی اختلافات پائے جاتے تھے۔ بعض خواتین سوچتی تھی کے ادارے کو بغیر کسی ہرارکی کے چلایا جائے۔ لیکن جیسے جیسے ادارے کے کام میں اضافہ ہوتا گیا اسے غیر روایتی طریقے سے چلانا ممکن نہ رہا۔ ادارے کو غیر سیاسی رکھنا بھی مشکل ہوتا جا رہا تھا کیونکہ ادارہ بہت سی سیاسی اورآئینی تبدیلیوں کی خواہش رکھتا تھا جو کہ غیر سیاسی رہتے ہوئے حاصل کرنا بظاہر بہت مشکل تھا۔ اگرچہ ادراہ کسی بھی سیاسی تنظیم کے ساتھ وابستہ نہیں تھا۔ تاہم ادارے کی بعض سرکردہ خواتین سوشلسٹ اور ترقی پسند خیالات کی حامل تھیں اور ان کی جدوجہد سیاسی تناظر میں ہی تھی۔ تنظیم اگرچہ اپنے لیے غیر سیاسی کی اصطلاح استعمال کرتی تھی مگر سیاسی معاملات میں خود کو الگ تھلگ نہ رکھ سکتی تھی۔
اسی طرح خواتین کی ممبر شپ کے حوالے سے بھی ابحاث چلتی رہیں۔ کچھ سرکردہ خواتین کے یہ ماننا تھا کہ اگر ممبرسازی کو اوپن کر دیا جائے تو یہ خدشہ ہے کہ عورتوں کی ایک ایسی اکثریت تنظیم میں شامل ہو کر پریشر گروپ بنا سکتی ہیں جو کہ تنظیم کے بنیادی اصولوں سے اختلاف رکھتی ہوں۔ اس کے علاوہ کچھ اکیڈمک اور آرٹ سے وابستہ خواتین نے تنظیم کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ اگر تنظیم خود ایک مخصوص مذہبی فکر سے ہم آہنگ کر لیتی ہیں تو اس کا دائراہ کار نہایت مختصر رہ جائے گا۔

سندھیانی تحریک
ضیاء کی آمریت کے دور میں ویف خواتین موومنٹ کی پہچان تھی مگر ٹھیک اسی عرصے میں سندھ میں غیر معروف مگر متوسط اور نچلے طبقے کی سندھیانی تحریک بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھی۔ اس تنظیم کی ابتدا بدین اور ٹھٹھہ کے اضلاع میں ہوئی تھی مگر جلد ہی یہ تنظیم سندھ کے دیگر اضلاع تک پھیل گئی۔اس تنظیم کی بنیاد عوامی تحریک کے خواتین ونگ نے رکھی۔ اس تنظیم نے پدرسری نظام اور آمریت کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔ سندھیانی تحریک نے سندھ کی محنت کش خواتین کو متحرک کیا۔ اس تنظیم کے مقاصد میں سندھی نیشنلزم کا فروغ، صوبائی خودمختاری، طبقاتی تفریق، صنفی امتیاز، پدرسری نظام میں عورت کی محکومیت اور جمہوریت کے لیے جدوجہد شامل تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ ہر معاملہ عورت کا معاملہ ہے اس لیے یہ تنظیم جمہوری جدوجہد سے خود کو الگ نہیں کر سکتی۔ اس تنظیم نے اپنی اس جدوجہد کے دوران عورت کے خلاف رسموں مثلاً کاروکاری اور قران سے شادی اور جائیداد میں عورتوں کو حق سے محرومی جیسے مسائل کے خلاف بھی مؤثر آواز بلند کی۔ یہ تنظیم اپنے بھرپور احتجاج کے حوالے سے بھی مشہور ہوئی جس میں تھانے کا گھیراؤ وغیرہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ جاگیردارنہ اور سرمایہ درانہ سماج کے مقابل اس تنظیم نے خواتین میں شعور سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ مذہبی اور چند سیاسی حلقوں نے اس تنظیم کے حوالے سے بہت منفی تحریک چلائی اور ان کو کافر اور راجہ داہر کی بیٹیاں تک کہا گیا مگر اس نے اپنا کام جاری رکھا۔ سندھیانی تحریک کی خواتین ویف کی نسبت نہ صرف زیادہ ایکٹو تھیں بلکہ وہ اپنے سماج اور کلچر سے زیادہ جڑی ہوئی تھیں۔ انھوں نے اپنی تحریک میں سلوگن، گانوں اور دیگر کلچرل چیزوں کا بھرپور استعمال کیا۔
سندھیانی تحریک کو دو معاملات ان کی کامیابیوں کو ملکی سطح پر پھیلانے کی راہ میں روکاٹ بنے۔ ایک تو سندھی نیشنلزم کا پرچار اور دوسرا اپنے کام کو مذہبی دائرہ کار میں محدود کرنا۔
۵ ۔ جمہوریت اور نیو لبرلزم کا عروج
۱۹۹۰ء کی دہائی ملکی اور بین الاقومی سطح پر ایک گیم چینجر ثابت ہوئی۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی کے آخر کے ساتھ ہی سرد جنگ کا خاتمہ،دیوار برلن کا انہدام جیسے واقعات نے امریکہ کے نیو ورلڈ آرڈر کی راہ ہموار کر دی جس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں نیو لبرلزم کی فکر کا پھیلاؤ شروع ہو گیا۔ نیو لبرل گلوبلائزیشن اور بریٹن ووڈ انسٹی ٹیوٹ کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کے نتیجے میں دنیا بھر میں این جی اوز کے کام میں اضافہ شروع ہو گیا۔ ان این جی اوز کو مغربی ممالک مالی معاونت فراہم کرتے تھے جس کا ایک مقصد تو ڈویلپمنٹ تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ مغربی جمہوری فلاحی سوچ کو پروان چڑھانا بھی تھا۔ مگر ساتھ ہی سرمایہ درانہ نظام ان ممالک میں اپنی تجارت کے فروغ کا بھی خواہاں تھا،اس مقصد کے لیے یہ این جی اوز نہایت معاون ثابت ہو سکتی تھیں جو بارڈر کی پابندیوں سے ہٹ کر ان ممالک میں مغربی فکر اور تجارت کو فروغ دے رہی تھیں۔ نیو لبرلزم کی فکر اور طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ان کے کام اور نظریہ کو سمجھیں جو بنیادی طور پر تین ستونوں پر کھڑا تھا جو کہ پرائیوٹائزیشن، ٹریڈ لبرلائزیشن اور ڈی ریگولیشن کے اصول تھے۔

نیو لبرلائزیشن ، ریاست اور سول سوسائٹی
نیو لبرلائزیشن اور مختلف ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں سول سوسائٹی کی تشکیل ساتھ ساتھ وقوع پذیر ہوئے۔ سول سوسائٹی کے قیام کا ایک مقصد یہ بھی نظر آتا ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے اختیارات کو محدود کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریاست پر نظر رکھے کہ نیو لبرل فکر کے تشریح کردہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں تو ملوث نہیں۔ یہ ایک طرح سے ’’گلوبل گورنس‘‘کو فروغ دیتے ہوئے گلوبل سول سوسائٹی کے قیام کو عمل میں لانے کا ادارہ تھا۔ اس گلوبل گورننس کے خدوخال ایک طرح سے عالمی مالیاتی بینک طے کرتا تھا جو آہستہ آہستہ تجارتی گلوبلائزیشن کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ریاست کی عملداری کو کم کرتے ہوئے سول سوسائٹی ان اصولوں پر بات کر رہی تھی جو عالمی اداروں کے طے کردہ تھے جیسا کہ شفافیت، مساوات، کرپشن کا خاتمہ ، احتساب ، قانون کی حکمرانی وغیرہ۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان نعروں کو جو ادارے فروغ دے کر عالمی تجارت کی راہ ہموار کرنا چاہ رہے تھے ان کے اپنے اندر جمہوریت اور شفافیت کی کمی تھی۔
سول سروس کے ملازمین کو نئے طرز پر تربیت دی جانے لگی اور ان کو انھی اصولوں پر تیار کیا جانے لگا جو کہ عالمی طور پر منظور شدہ تھے۔ خود پاکستان میں بچت اور کام کی رفتار میں تیزی لانے کے لیے پلاننگ کمیشن کے ادارے میں کئی اصلاحات کی گئیں اور پرائیوئٹ سیکٹر کو آگے بڑھایا گیا۔ کئی جگہوں پر ان کے ساتھ پارٹنر شپ قائم کی گئی۔ نیو لبرلزم کے مخالف نقاد یہ کہتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت کام کرنے والے امپریلزم کا ایک ہاتھ فوجی اور آمر حکومتیں ہوتی ہیں اور دوسرا ہاتھ سول سوسائٹی اور بعض جگہوں پر تو یہ دونوں ہاتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ سول سوسائٹی کے زیر اہتمام چلنے والے این جی اوز کے مالک زیادہ تر غیر سیاسی سرمایہ درانہ ایلیٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان تنقید نگاروں کا مزید کہنا ہے کہ سول سوسائٹی ریاستی اداروں کے خلا کر پر کرنے کی کوشش میں آہستہ آہستہ اپنی قوت بڑھاتے ہوئے ریاستی معاملات میں ایک مکمل پریشر گروپ بن جاتی ہے جو نیو لبرلزم اور گلوبل اکانومی کے ایجنڈے کو فروغ دیتی ہے۔

نیو لبرلزم کے دور میں پاکستانی ریاست
جنرل ضیاء کی طیارے میں ہلاکت کے ساتھ ہی ملک میں جمہوری دور کا آغاز ہو رہا تھا اور یہی وہ وقت تھا جب نیو لبرلزم پاکستان میں پھیل رہا تھا۔ ملک بھر میں غیر ملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا اور یورپی ممالک ان این جی اوز کو بڑے بڑے فنڈز فراہم کر رہے تھے۔ اگرچہ کچھ این جی اوز ستر اور اسّی کی دہائی میں بھی کام کررہی تھیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ نوے کی دہائی میں بننے والی ان این جی اوز کے کام کا دائراہ کار وسیع ہو چکا تھا جو کہ خواتین کے حقوق، مزدورں کے حقوں سے لے کر ماحولیاتی معاملات تک ہر موضوع پر کام کر رہی تھیں۔
۹۰ء کی دہائی میں پاکستان میں نواز شریف اور بے نظیر کی حکومتوں کو کرپشن کے الزامات پر دو دو بار غیر قانونی طریقے سے ختم کیا گیا۔ بینظیر کی جمہوری طور پر آنے والی دو حکومتوں کے دوران خواتین کی بہتری کے لیے کچھ اقدامات کیے گئے۔ مثال کے طور پر کچھ یونیورسٹوں میں خواتین کے لیے کچھ تعلیمی شعبے مختص کیے گئے۔ خواتین کے لیے ایک بینک کا قیام عمل میں لایا گیا۔ وومن پولیس اسٹیشن قائم کیے گئے۔ ظاہر ہے ان اقدامات کے نتیجے میں خواتین کو سماجی فوائدحاصل ہوئے۔ تاہم قانونی اصلاحات ممکن نہ ہو سکیں۔ اس کی وجہ جنرل ضیا کی طرف سے آئین میں متعارف کرائی گئی آٹھویں ترمیم تھی لیکن یہ ضیاء دور کی آمریت کے مقابل میں بہت اچھا تھا۔اب کسی ڈریس کوڈ کی پابندی نہیں تھی اور خواتین کے لیے کھیلوں کے میدان میں شرکت نسبتاً آسان تھی۔ دوسرے جانب ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان کی حکومت کی حمائت اور ان کو اپنا اثاثہ قرار دینے کی پالیسی بھی جاری رہی۔ اگرچہ بینظیر اس پالیسی سے اپنا اختلاف بارہا ظاہر کر چکی تھیں۔ نواز شریف کے دو جمہوری ادوار میں پھر سے ضیا دور کی اسلامائزیشن کو بڑھاوا دیا گیا۔ اگرچہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے زبانی کلامی گفتگو ہوتی رہی تاہم کوئی بھی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ نواز شریف کی حکومت کی جانب سے جب پندرھویں آئینی ترمیم کی کوشش کی گئی تو خواتین کی طرف سے اس کی مخالفت سامنے آئی۔ نوے کی دہائی میں خواتین تنظیموں کا رویہ ریاست کی جانب یہ تھا کہ نواز شریف کی مخالفت کی جاتی اور بینظیر کی حمایت کی جاتی رہی۔ اسی دہائی کے دوران ہی این جی اوز کے لیے پاکستان کے دروازے کھلے اور دنیا بھر کی غیر ملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز نے مختلف ایجنڈے کے ساتھ پاکستان میں کام کرنا شروع کر دیا۔ تاہم یہ کام بزنس اور کارپوریٹ ماڈل کی طرز پر پیسہ کمانے کا ذریعہ تو بنا رہا لیکن اس کے نتیجے میں خواتین کی فلاح کے لیے کوئی عملی کام نہیں ہو سکا۔

۶۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور شناخت کی ازسرنو تشکیل
ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ پر دہشت گردی کا حملہ ہوا اور اس حملے نے دنیا کی تاریخ کو ایک نیا موڑ دیا۔ دنیا بھر کے انسانوں کے لیے غلط اور صحیح کی نئی تشریح رائج ہوئی۔ پاکستان پھر سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی بنا اور اس جنگ میں دنیا کا ہر مسلمان مشتبہ اور ممکنہ دہشت گرد گنا گیا۔ لاکھوں لوگ قتل ہوئے اور اس کا ذمہ دار ایک ایسا ملک تھا جو خود کو انسانی حقوق کا چمپئن سمجھتا تھا۔ پاکستان میں مشرف کی فوجی آمریت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ساتھ ساتھ شروع ہوئی۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں مشرف کی غیر مشروط شرکت کے نتیجے میں اربوں ڈالر پاکستان میں آئے کیونکہ دنیا نے مشرف کو آزادی اور روشن خیالی کا محافظ سمجھ لیا تھا۔ اکبر زیدی اس موقع پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کوئی شخص کس طرح روشن فکر ہو سکتا ہے جبکہ اس کا اقتدار پر قبضہ جدید سیاسی فلسفے سے متصادم ہو۔ زیدی صاحب کے بقول مشرف صرف لائف سٹائل لبرلز کا ہی پسندیدہ تھا۔ ان کے نزدیک جب تک چیف ایگزیکٹو تھے انھوں نے تعلیم یافتہ ماہرین کو اپنی کابینہ میں شامل کیا۔ زیدی صاحب کے الفاظ میں مشرف کی آمریت کی حمایت کرنے والے صرف مغرب زدہ لبرلز اور این جی اوز سے تعلق رکھنے والے وہ افراد تھے جنھوں نے ضیا کی آمریت کا مقابلہ کیا تھا۔ وہ مشرف کو پاکستان کا نجات دہندہ سمجھ رہے تھے۔ زیدی صاحب پاکستان کی سول سوسائٹی کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ اس کی اکثریت ایسے افراد پرمشتمل ہے جو عطیہ لے کر کام کرنے والی این جی اوز میں ملازمت کرتے ہیں۔ یہ افراد اپنی ادارہ جاتی مجبوریوں کے سبب ان حکومتی محکموں کے پارٹنرز بنے ہوئے ہیں جو عوامی خدمت کی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے۔ جنرل مشرف کے دور میں ہی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے لیے عطیات آنا ممکن ہوئے۔ عورت فاؤنڈیشن نے انتخابات جیتنے والی سیاسی خواتین کی تربیت کے لیے منصوبے شروع کیے۔ صوبائی اور مرکزی اسمبلی میں عورتوں کو سترہ فیصد اور بلدیاتی انتخابات میں عورتوں کو تینتیس فیصد نشستیں دی گئیں۔ پہلی دفعہ پاکستان میں قومی اسمبلی میں عورتوں کے لیے ساٹھ نشستیں مختص تھیں۔ ششماد اختر اسٹیٹ بینک کی پہلی گورنر مقرر ہوئیں۔ ویف نے عورتوں کے لیے پچاس فیصد حق نمائندگی کو مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ پاکستانی عورتوں کو آمریت کے دور میں سیاسی ، سماجی اور معاشی حقوق نسبتاً زیادہ حاصل ہوئے اگرچہ ضیا کی آمریت نے عورتوں کو جبر کا نشانہ بنایا تاہم پیپلز پارٹی کے دور میں ملنے والی گوناگوں رعایتوں کے علاوہ کسی بھی جمہوری حکومت نے عورتوں کے حقوق کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔

حالیہ مباحث اور بیانیے
نائن الیون کے بعد کی دنیا میں مغربی معاشرے نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کا شکار ہیں۔ اس دور کی اپنی جہتیں ہیں۔ مغربی اکیڈیمیا اور مستشرقین کی بیان کردہ تاریخ میں مسلمانوں کو رجعت پسند لٹیرا بیان کیا گیا ہے۔ اس رویے کے جواب میں مسلمان طبقہ اپنی ماضی کی تاریخ اور پرانی تہذیب میں لوٹ جانے پر مجبور ہو چکا ہے۔ مغرب اور مشرق میں شناخت کے پیمانے بدل چکے ہیں۔ مسلمان عورت اب برقعے اور حجاب کو اپنی شناخت سمجھتی ہے۔ پاکستان میں مشرق وسطیٰ اور سعودی عرب سے درآمد ہونے والی ثقافتی شناختوں میں برقع اور عبایا شامل ہیں۔ اگرچہ یہاں پر بھی روایتی خاتون پردہ کرتی تھی مگر وہ چادر تک محدود تھا۔ عبایا اور حجاب مغربی فکر اور شناخت کے مقابل اپنائی گئی شناخت ہے۔ جس صورتِ حال کا ساٹھ اور ستر کی دہائی میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا وہ یہ ہے کہ اب پاکستانی مڈل کلاس اور ایلیٹ کلاس خواتین فرحت ہاشمی اور الہدیٰ ٹرسٹ جیسے اسلامی تصور پر مبنی اداروں میں بہت دلچسپی لیتی ہیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ سے جڑی ہوئی عورت حجاب اور برقع جیسی روایت کو اب اپنی شناخت سمجھتی ہیں۔ فیمنسٹ سکالرز یہ بتاتی ہیں کہ مذہبی شناخت سے جڑنے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ممتاز اور شاہد کے نزدیک پاکستانی عورت ہر طرح سے اسلام کے دائرے میں پابند ہے وہ اسے نظر انداز کر کے آگے نہیں بڑھ سکتی۔ عاصمہ برلاس نے مذہبی تشخص میں رہتے ہوئے قرآن کی تشریح کی کوشش کی ہے۔ یہ پدر سری تشریح سے ہٹ کر نقطۂ نظر دینے کی کوشش ہے۔ رفعت حسن نے قرآن کی روایتی تشریح کو نئے زمانے کی مطابقت سے آج کل کے زمانے میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ آمنہ جمال نے جماعت اسلامی کو سامنے رکھتے ہوئے اس فکر کا اظہار کیا ہے کہ سیکولر فیمنسٹ یہ سمجھنے سے ابھی تک قاصر ہیں کہ مذہبی عورتیں اپنی دانست پر مذہب کو درست سمجھتی ہیں۔ حمیرا اقتدار اورجماعت اسلامی اور جماعت الدعوہ کے فلسفے پر یقین رکھنے والی عورتوں کو بھی ایک سیاسی حقیقت سمجھتی ہیں۔ مگر نیلم حسین اس پر سوال اٹھاتی ہیں کہ ان جماعتوں میں عورت کو خودمختار بنانے اور سمجھنے کے رویے کے حوالے سے تضادات موجود ہیں۔ کیونکہ درس سے متاثر ہونے والی عورتوں میں کوئی دیرپا تبدیلی نظر نہیں آتی۔ ان محققین میں سے زیادہ تر مغربی معاشروں میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ نائن الیون کے بعد نئی تشکیل شدہ شناختیں زیادہ پْر اثر ہیں۔ مغرب میں رہنے والی مسلم عورت اب اپنی شناخت کو لباس سے بھی ظاہر کرتی ہے۔ یہاں کی مسلم عورت کی نظر میں پاکستانی فیمنسٹ مغرب زدہ ہیں اور نسل پرستانہ رویہ رکھتی ہیں۔ لہٰذا یہاں کی مسلمان عورت پاکستانی فیمنسٹ عورت کے مقابلے میں خود کو زیادہ روایتی مسلمان اور پاکستانی سمجھتی ہے۔ الہدیٰ اور النور جیسی تحریکیں سیاسی سوال اٹھانے کی بجائے ذاتی مسائل کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ اس پر عافیہ ضیا اپنی تشویش ظاہر کرتی ہیں کہ وہ نوجوان عورتیں جو سوشل میڈیا پر اظہار رائے کر رہی ہیں ان کی نظر میں سیکولزم اور جمہوریت کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس نقطۂ نظر میں وہ سیاسی مقاصد میں اسلام کے استعمال کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ کئی اسلامی کارکنان کھلے عام عورتوں کے مساوی حقوق کی نفی کرتی ہیں۔ بس یہ کہ وہ اسلام میں بیان کردہ حقوق کے تحفظ پر زور دیتی ہیں۔ حالانکہ اس سے تو وہ پدرسری نظام کو مضبوط بناتی ہیں کیونکہ اس رویے سے عورت کے جسم پر مرد کا اختیار مزید بڑھ جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اسلامسٹ کارکن عورتیں بھی مغربی طرز تعلیم سے ہی مستفید ہوئی ہیں۔ افسوس یہ بھی ہے کہ کچھ ڈونر اصرار کرتے ہیں کہ عورتوں کے حقوق روایتی فکر کے تحفظ کے ساتھ ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے عورتوں کی تنظیم ویف نے طالبان کے خلاف سختی سے احتجاج کیا تھا اور پاکستانی ریاست اور امریکا کے گٹھ جوڑ پر کڑی تنقید کی تھی جب کہ مذہبی حلقوں نے امریکی سامراج کی طرف داری کی تھی۔ عجیب صورت یہ ہے کہ اب پاکستان کے مذہبی حلقے سماجی طور پر متحرک خواتین کو امریکا سے متاثر ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔

اختتامیہ، رکاوٹیں اور خاموشیاں
عورتوں کی تحریکیں ایک طرح سے انقلابی تبدیلی سے گزری ہیں۔ ان کی توجہ تعلیم فلاح عامہ سے بدل کر قانونی اور سیاسی اصلاحات پر مرکوز ہے۔ عورتوں کے سیاسی اور معاشی حقوق کا حصول اب لازم سمجھا جاتا ہے۔
آج کل کے زمانے میں عورتوں کی تحریک کے سامنے کئی رکاوٹیں ہیں۔ ماضی میں عورتوں کی تحریک کو پدرسری نظام سے مقابلہ کرنا تھا جو کہ ریاستی ، جاگیرداری اور سرمایہ داری بندوبست میں موجود تھا۔ حالیہ زمانے میں پرتشدد مذہبی اور مسلکی انتہا پسندی بھی ایک عفریت کی صورت عورت کے راستے میں حائل ہے۔ مذہبی اقلیتوں کی عورتیں تو سب سے زیادہ تکلیف کا شکار ہیں۔
متوسط طبقے کی خواتین کی تحریک میں کچھ چیزیں اَن کہی بھی چھوڑ دی جاتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم خاندان اور جنس سے متعلق رویوں کے مسائل ہیں۔ یہی پدرسری نظام کی بنیادیں ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...