مولوی عبدالکریم شعیب کی جنتری اور روہنگیا مسلمانوں کی حالتِ زار

مولوی عبدالکریم شعیب کی جنتری اور روہنگیا مسلمانوں کی حالتِ زار

845

زیرنظرمضمون میانمار میں جاری نسلی اور مذہبی کشمکش میں بیانیوں کے کردار کو زیرِبحث لاتا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے سیاسی،مذہبی اور معاشی محرکات ہیں لیکن جو چیز جذبات کو مسلمانوں کے خلاف مہمیز دیتی ہے وہ بدھ پجاریوں کے تخلیق کردہ بیانیے ہیں۔ ان بیانیوں کی تخلیق کے محرکات کی تلاش میں تاریخ کے ورق الٹے جائیں تو بعض حیرت انگیز حقائق سامنے آتے ہیں اور اندازہ ہوتا ہے کہ کسی متن یا علامت کی ایک دور میں بظاہر بے ضرر نظر آنے والی تشریح کسی اگلے دور میں کس طرح شدید تنازعات کی وجہ بنائی جا سکتی ہے۔ (مدیر)

نمبروں کا بیانیہ:
یہ بیانیوں کا دور ہے۔بیانیہ کیا ہے؟ ایک کہانی۔ ضروری نہیں کہ اس کا مطلق سچائی کے ساتھ بھی کوئی تعلق ہو۔ممکن ہے کہ کوئی بیانیہ کسی حقیقت پر مبنی ہو، یا چوتھائی یا پھر اس سے بھی کم لیکن یہ ایک اجتماعی سچ ہوتا ہے جس پر سب یقین کرتے ہیں اور ماورائے حقیقت کو بھی محسوسات اور جذبات کی سطح پر لے آتے ہیں۔سازشی تھیوریوں کا دور لدچکا،بیانیوں نے ایسا سحر کیا ہے کہ سازشی تھیوریوں کے حامی ہوں یا سخت ترین مخالف، اسی کے اسیر نظر آتے ہیں۔ بیانیے ہمارے نظری،سیاسی،سماجی اور ثقافتی رویوں کی تشکیل کرتے ہیں۔ ایک بڑا بیانیہ ہوتا ہے اور اس کے گرد چھوٹے چھوٹے بیانیے جال بُننا شروع کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ اون کا گولہ بن جاتے ہیں جس میں بڑا بیانیہ گم ہو جاتا ہے۔
اس کی بہترین مثال میانمار ہے جہاں نمبروں کے بیانیے کا راج ہے جس نے نہ صرف میانمار بلکہ مشرقی ایشیا کے بدھ ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ان نمبروں کے بیانیے نے بدھ انتہا پسندی کو بڑھاوا دینے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اور پجاریوں کی طاقت(Monk Power) کے بیانیے کو جنم دیا ہے۔اس بیانیے میں’’مولوی کی طاقت‘‘ کے بیانیے میں زیادہ قوت ہے اور برما میں مخصوص پجاریوں کے گروہ نے اسے اپنے مفادات کو محفوظ کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
یہ نمبر ہیں کیا؟ایک نمبر تو ۷۸۶ ہے،جسے برصغیر میں مسلمان بسم اللہ الرحمن الرحیم کے متبادل کے طور پر تحریر میں استعمال کرتے تھے تاکہ عربی عبارت کی بے ادبی نہ ہو۔اگر آپ میانمار جائیں اور کسی ریسٹورنٹ پر۷۸۶لکھا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ یہ حلال ریسٹورنٹ ہے اور دوسرا نمبر ہے۹۶۹۔ ان نمبروں کی بنیاد پر انتہا پسند بدھ پجاریوں نے ایک پوری تحریک کھڑی کردی ہے۔ ان پجاریوں کے مطابق یہ تین ہندسے نہیں بلکہ تین موتی ہیں۔اس میں پہلا نو کا ہندسہ بدھا سے منسوب ہے،چھے کا ہندسہ اس کی تعلیمات سے اور نو کے آخری ہندسے سے مراد ’’سنگھا‘‘ ہے،یعنی ’’بدھ کے پجاریوں کا راج‘‘۔ یہ نمبر اور ان کی مذکورہ توجیہہ کچھ مانوس سی لگتی ہے۔جنوبی ایشیا میں اس سے ملتے جلتے مذہبی راج کے خیالات عام ہیں لیکن میانمار میں اس بیانیے نے بدھ مذہب کے ایک بڑے طبقے کی قلبِ ماہیت کر دی ہے۔ اس ۹۶۹ تحریک کے بانی دو پجاری ہیں۔ایک تو پجاری ’وراتو‘ ہے جو دہشت کی علامت ہے اور جسے برما کا ’بن لادن‘ کہا جاتا ہے اور دوسرا اس کا ساتھی پجاری ’ورملا‘ ہے۔ ان دونوں کو فوجی اور سیاسی قوتوں کی پسِ پردہ یا برملا حمایت حاصل ہے۔۱۹۸۷ء اور۱۹۸۸ء کے سیاسی انتشار کے دنوں میں پجاری بھی جمہوریت کے حق میں طلبا اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ نکلے تھے اور مصیبتیں برداشت کی تھیں۔ پجاریوں کی شمولیت کے باعث جمہوریت کی اس تحریک کو ’زعفرانی انقلاب‘ کا نام دیا گیا۔
اس تحریک میں ہی آنگ سان سوچی مزاحمت کی ایک بڑی علامت بن کر ابھری تھی اور اس کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی اس احتجاجی تحریک کی روح رواں رہی۔ ظاہر ہے اب آنگ سان وزیراعظم ہے اور پجاری جو میانمار میں سیاسی قوت کا مرکز ہیں وہ ان کی مخالفت مول نہیں لے سکتی۔
جب پجاریوں کا سیاسی اثر و رسوخ بڑھا تو فوجی جنتا نے بھی ان کی قوت سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔پجاریوں کے چھوٹے موٹے گروہ تو پہلے سے ہی فوجی جنتا کے مفاد کے تحفظ کے لیے موجود تھے لیکن مونک وراتو اور مونک ورملا نے اسے ایک منظم تحریک میں تبدیل کردیا۔ فوجی جنتا نے سب سے پہلے ریاست راکھائن میں ان پجاریوں کو استعمال کیا اور پجاریوں نے اپنے بیانیے۹۶۹ کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اّولاً یہ روہنگیا مسلمانوں کی معاشی،سماجی ناکہ بندی اور بعدازاں ان کے قتل عام کا سبب بنا۔
کیا۹۶۹ اور۷۸۶ کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟ ذرا اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

بے چارہ مولوی عبدالکریمشعیب:
مولوی عبدالکریم کتابت کا پیشہ ہرگز اختیار نہ کرتا لیکن درس و تدریس سے گزر اوقات ویسے ہی مشکل تھی ، اوپر سے دو بیویاں اور ڈیڑھ درجن بچے۔
غازی آباد میں گزارا ٹھیک ہورہا تھا۔درس کی روٹی،عطیات اور مسجد کی متولّیت،لیکن جنگ اور بلووں نے غازی آباد کی راہ ہی دیکھ لی تھی۔انگریزوں کی رجمنٹیں اترتیں اور ان پر اِدھر اُدھر سے حملے شروع ہو جاتے۔قریب ہی دہلی کا ارادہ کیا لیکن وہاں کی خبریں بھی ٹھیک نہیں تھیں۔مسجد میں کوئی نہ کوئی چھپا رہتا اور مولوی کریم کو یہ دھڑکا کہ وہ ہی نہ دھر لیا جائے۔بس رنگون کی طرف بھاگنے والوں کے پیچھے ہو لیا۔جنگ سے جان چھوٹی تو بھوک نے آلیا۔امام مسجد نے بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری دی لیکن لوگ خود مسائل کا شکار تھے،مولوی کو دِلاسا ہی دے سکتے تھے،سو وہ دیا۔ایک دن بچوں کے قلم گھڑتے ہوئے خیال آیا کیوں نہ کتابت کا پیشہ اختیار کیا جائے۔پریس کا زمانہ آچکا تھا اور کتابت کرنے والوں کی برصغیر میں تو مانگ تھی ہی اب رنگون میں بھی ان کی ضرورت پیش آگئی تھی۔انڈیا سے آتے ہوئے تاجروں نے آہستہ آہستہ کاروبار میں اپنا سکہ جما لیا تھا اور خوشحالی کے ساتھ ہی وطن کی یاد اور پھر مقامی اطلاعات تک رسائی کی خواہش بڑھی۔
مولوی صاحب کا گزارا ہونے لگا۔مسلمان تاجروں کو کیلنڈر کے لیے دشواری کا سامنا تھا اور وہ ہجری،مقامی اور عیسوی کیلنڈر کے ہیر پھیر سے پریشان تھے۔مولوی صاحب کو خیال آیا کہ کیوں نہ ایک جنتری لکھی جائے جس میں یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے اور علم نجوم اور حکمت کا شوق بھی پورا ہو جائے۔ جنتری بہت چلی اور مولوی صاحب کے گھر خوشحالی آئی اور ان کی حکمت اور نجوم کی دکان بھی چل پڑی۔اب انھوں نے آگے کئی کاتب رکھ لیے تھے۔ان کی جنتری۷۸۶ کہلاتی تھی اور یہ نمبر اس کے صفحہ اول پر خوشخطی سے لکھا ہوتا تھا۔ ہر سال جنتری کو نئے اسلوب میں شائع کرتے،غالباً اپنی زندگی کے آخری برسوں میں۱۸۹۸ء کے لگ بھگ انہوں نے عدد۷۸۶ کی شرح لکھی۔ اگر لوگ اصرار نہ کرتے تو شاید انھیں اس کی شرح لکھنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی لیکن اب تو چیلنج درپیش تھا۔اس میں انھوں نے علم نجوم سے بھی مدد لی۔کچھ علم الا عداد کوبھی شامل کیا۔ پردیس کے لوگوں کا مذہب اور معاشرت بھی پرانی تھی،نئی نئی خوشی تھی اور انھیں اپنا اور اپنے خاندان کا مستقبل بھی شاندار نظر آ رہا تھا۔ اس شرح میں انھوں نے برما میں مسلمانوں کے نہ صرف عروج کی پیش گوئی کی بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ سو سال بعد اس سرزمین پر مسلمانوں کے عروج کا ستارہ چمکے گا۔
مولوی عبدالکریم شعیب کی جنتری اور پجاری وراتو کا بیانیہ:
مولوی صاحب کے علم کی بڑی واہ واہ ہوئی اور وہ انتہائی اطمینان سے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ان کی وفات کے سو سال بعد اس جنتری کا ایک نسخہ انڈیا کے ایک بدھ پجاری کے ہاتھ لگ گیا۔ہوتے ہوتے یہ نسخہ اور اس کا ترجمہ پجاری وراتو تک پہنچا۔ اس نے بات کا بتنگڑ بنا لیا اور ۷۸۶ کو ایک تحریک مان کر اس کے مقابلے میں۹۶۹ کی تحریک کھڑی کردی۔یہ ایک ایسی تحریک تھی جس کے مقابلے میں محض ایک صدی پرانی کہانی تھی جو تحریک تو کیا کبھی مقبول عام بیانیے میں بھی تبدیل نہیں ہوسکی تھی۔
مسلمانوں نے بہت یقین دلایا کہ۷۸۶ محض اللہ تعالیٰ سے رحمت مانگنے کی علامت ہے اور دکانوں پر جب یہ لکھا جاتا ہے تو یہ محض مسلمانوں اور حلال دکان کی علامت کے لیے ہے۔یہ کوئی ’کوڈ ورڈ‘ نہیں ہے اور نہ ہی غلبے کی تحریک کا نشان ۔لیکن پجاریوں کو اب اس وضاحت سے کوئی غرض نہیں ہے۔نمبروں کے یہ بیانیے ان کی سیاسی قوت کا ماخذ بن چکے ہیں۔فوجی جنتا نے۹۶۹ تحریک کو صرف مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف ہی استعمال نہیں کیا بلکہ عیسائی اور کچن شانا،کن نسلی گروہوں کی بغاوت کچلنے کے لیے بھی استعمال کیا۔ میانمار میں مسلم اقلیت،اکثریت کے ساتھ جڑ کر رہنا چاہتی ہے لیکن یہ اکثریت اسے دیوار کے ساتھ لگانے پر تلی ہوئی ہے۔ روہنگیا شہریت سے محروم ہیں اور میانمار کی فوجی جنتا نے نو آبادیاتی دور میں رائج شہریت سلب کرنے کی سزا کو باقاعدہ اداراتی شکل دے دی ہے کہ وہ جب چاہیں اور جس نسلی یا مذہبی گروہ سے چاہیں، اس کی شہریت کا حق سلب کر لیں۔
دہائیوں پر پھیلی آمریت نے میانمار میں ایک ایسے اکثریتی ذہن کی پرداخت کی ہے جس میں اقلیت کے لیے گنجائش بتدریج کم سے کم ہوتی گئی ہے۔یہ ذہن خود بھی نئے سے نئے بیانیے اختراع کرتا ہے۔ نمبروں کا بیانیہ اس اُون کے گولے کا محض ایک سِرا ہے۔ پجاری وراتو اور ورملا نے اس بیانیے کے گرد ایک پورا جال بُن دیا ہے کہ رکھائن میں روہنگیا الگ ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں اور مناڈے میں پُرامن کاروباری چینی مسلمانوں کے بارے میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ چین میں ہنان صوبے میں اپنی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں اور جو انڈین مسلمان ہیں وہ۷۸۶ کے خفیہ پروٹوکولز پر عمل کررہے ہیں اور اسلامی انقلاب کی راہ ہموار کررہے ہیں اور یہ کہ روہنگیا ان کے مددگار ہیں۔
بیانیوں کی آندھی چلی ہو تو دلیل اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...