امیدواروں کی اہلیت: ایک آئینی معمّہ

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ

110

پاکستان کی معاصر سیاسی صورت حال میں اسمبلی کی رکنیت کی اہلیت اور نااہلیت کا سوال ایک بار پھر بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس تنازعے کی نوعیت محض سیاسی نہیں بلکہ اس میں آئینی پیچیدگیاں بھی موجود ہیں۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کا تقریباً بیس برس پہلے کا تحریر کردہ یہ مضمون اس ضمن میں نہایت اہم نکات کی طرف توجہ دلاتا ہے جسے ایک معاصر اخبار نے دوبارہ شائع کیا ہے۔ قارئینِ تجزیات کے علمی استفادے کے لیے یہ تحریر طبع ثانی پر ایڈیٹر کے نوٹ سمیت پیش ہے۔ (مدیر)

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کے ۱۹۸۸ء میں پہلی بار شائع ہونے والے اس مضمون کی طبع ثانی روزنامہ ’’ڈان‘‘ کی ۳؍ستمبر ۲۰۱۷ء کی اشاعت میں درج ذیل تبصرے کے ساتھ کی گئی ہے:
عدالتِ عظمیٰ کے فاضل جج آصف سعید کھوسہ نے درج ذیل مضمون ۱۹۸۸ء میں پاکستانی آئینی یادداشت میں دفعہ ۶۲، ۶۳ میں موجود ابہام پر تنقید کے عنوان سے تحریر کیا تھا، جب وہ ایک وکیل کی حیثیت سے کام کررہے تھے اور بطور جج ان کی تعیناتی نہیں ہوئی تھی۔اسحق خان خاکوانی و دیگر بنام میاں محمد نواز شریف ودیگر ( ۲۰۱۴ء میں دائر آئینی درخواست نمبری ۷۸، ۷۹ اور ۸۵) اور پانامہ پیپرز مقدمہ( ۲۰۱۶ء میں دائر آئینی درخواست نمبری ۲۹، ۳۰ اور ۲۰۱۷ء میں دائر درخواست نمبری ۰۳) کی سماعت کے دوران انھوں نے اپنے اس مضمون کاصراحتاََ حوالہ دیا ۔
موجودہ وزیرِ اعظم کی نااہلی کے لیے دائر درخواست ، جو سماعت کے لیے خارج کردی گئی تھی،ہو یا پھر ان کی نااہلی کا موجب بننے والی درخواست کی سماعت ہو، ہر دو سماعتوں میں جسٹس کھوسہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ۱۹۸۸ء میں اپنے تحریر شدہ مضمون کے بنیادی دلائل پر اب بھی کاربند ہیں ۔ تاہم پاناما پیپرز مقدمہ کی سماعت کے دوران انھوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ:’’جب تک اوپر بیان کی گئی دفعات آئین کا حصہ ہیں تو ملکی عدالتوں پر اِن کے اطلاق کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘‘
چونکہ یہ مضمون پاکستانی آئین کے متنازعہ حصے سے متعلق ایک جامع اور مفصل قانونی نقطۂِ نظر پر مبنی ہے اسی لیے ادارہ اس مضمون کو اصل صورت میں شائع کر رہا ہے۔

کسی بھی ملک کے لیے تحریری آئین کی موجودگی کا بنیادی مقصد ان تمام معاملات سے متعلق شفافیت اور تیقّن کو ممکن بنانا ہوتا ہے جن پر آئین کو کوئی رائے مقرر کرنا ہوتی ہے۔اگر آئین کی دفعات شفافیت اور تیقّن جیسے بنیادی مقاصدکو پورا نہ کریں اور اس پر مستزاد یہ کہ خود آئینی دفعات میں ابہام اور غیریقینی صورت پائی جائے تو آئین کی موجودگی کا بنیادی مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ ایسی ہی آئینی غیریقینیت اور ابہام کی مثال اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ۱۹۷۳ء کے آئین میں کی گئی حالیہ ترمیم کی دفعات ۶۲، ۳۶ میں دیکھی جا سکتی ہے۔یہ دونوں دفعات مجلسِ شوریٰ کی رکنیت اور رکنیت کے لیے نامزدگی کی اہلیت یا نا اہلیت سے متعلق ہیں اور دفعہ ۱۱۳ کے تحت یہی معیار صوبائی اسمبلیوں کے امیدواران او ر اراکین کے لیے اپنایا گیا ہے۔ ذیل میں ان دفعات کے سبب آئین میں پیدا شدہ سقم اور الجھاؤپر بات کی جاتی ہے۔
ابتداًََ بات کریں تورکنیت کی اہلیت اور نا اہلیت کے لیے بنائے گئے الگ الگ معیارات کی منطق ہی سمجھ سے بالا تر ہے۔ اگر ایک فرداہلیت کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا تو یقیناََ وہ نا اہل ہو جاتا ہے اوراس کے برعکس اگر کوئی فردمتعین نا اہلیتوں میں مبتلا ہے تو وہ بھی یقیناََ نا اہل کہلائے گا۔ سو اہلیت اور نااہلیت کے معیارات میں فرق ایک ابہام کے سوا کچھ نہیں۔
یہ فرق پیپل ایکٹ۱۹۷۶ء کی نمائندہ جزو ۶۸ (۱) (ب)کی دفعات کے سبب مزید غیر واضح ہو جاتا ہے جس کے تحت الیکشن ٹربیونل منتخب امیدوار کے انتخابات کویہ کہتے ہوئے کالعدم قراد ے سکتی ہے کہ ’’منتخب امیدوار نامزدگی کے دن الیکشن میں حصہ لینے کے لیے نا اہل تھا یا اہلیت کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔‘‘ اسی لیے اگر اہلیت یا نا اہلیت کو اکٹھے نتھی ہی کرناتھا تو دونوں کے لیے الگ الگ فہرست بنانے کی ضرورت کیا تھی۔
اس کے باوجوداضافتِ محض ہی ایک ایسا اعتراض ہے جو کہ اس سلسلے میں علیٰحدہ علیٰحدہ فہرستوں کی موجودگی پر کیا جا سکتا ہے ۔مگر یہ اعترا ض اور سنگین ہو جاتا ہے کہ اس اضافت کے سبب ان دونوں دفعات میں ایک واضح تضاد اور تصادم سرایت کرجاتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں اگر اس تضاد کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے توہر دو میں سے کسی ایک دفعہ کی اصل روح برقرار نہیں رہ سکتی اور موجودہ تناظر میں یہ بھی ممکن ہے کہ بظاہر متضاد دفعات کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش آئینی دفعات کی عبارات کی گستاخی کی مرتکب نہ ٹھہر جائے۔ ان دو دفعات کی ایک دوسرے سے بظاہر متضاد شقوں کی ایک مثال شق ۶۲ (جی) اور شق ۶۳ (۱) (ایچ) کی زبان اور شرائط میں موجود تضاد ہے۔ مگر اس سے متعلق ہم بعد میں بات کرتے ہیں۔
ترمیم شدہ آئینی دفعہ۶۲ زبان و بیان کے حوالے سے اس قدر پیچیدہ ہے کہ عوام کے لیے الجھاؤ کا سبب اور ماہرینِ قانون اور عدالتوں کے لیے ڈراؤناخواب بن سکتی ہے۔ اوپربیان کردہ دفعہ کی شق (ڈی) کی مثال لیجیے جو بیان کرتی ہے کہ کوئی فرد مجلسِ شوریٰ کا رکن منتخب نہیں ہو سکتا یا چنا نہیں جا سکتا جب تک کہ وہ:
(ڈی) : اچھے کردار کا مالک ہو اور عموماََ اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کے طور پر شہرت نہ رکھتا ہو۔
اب آئین اس بارے میں ہماری کوئی راہنمائی نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے متعلق ہمارے ذہن میں کوئی تصویر بن پاتی ہے کہ ’’اچھے کردار‘‘ سے کیا مراد ہے۔
کسی فرد کا کردار اور اس سے متعلق کوئی بھی فیصلہ معروضی حالات کے مرہونِ منت ہوتا ہے اور بنیادی طور پریہ شخصی تشخیص پر مبنی ہوتا ہے ۔ ایک کردار کسی ایک فرد کی نظر میں صحیح مگر باقی لوگوں کے نزدیک غلط ہو سکتا ہے۔ اور پھر بنیادی سوال یہ ہے کہ ریٹرننگ افسر کے سامنے کاغذات نامزدگی کی چھان بین کے وقت یا پھر الیکشن ٹربیونل میں دائر انتخابی درخواست میں کس طرح کی شہادت قابلِ قبول ہو سکتی ہے اور کس طرح کی نہیں؟
جیسا کہ پہلے مشاہدہ میں آیا ہے کہ کسی بھی ملک کے آئین کا بنیادی مقصد قوانین کے اطلاق میں تیقّنپیدا کرنا اوراس عمل کو کسی بھی قسم کے ابہام یا الجھاؤ سے بچانا ہوتا ہے۔ اسی طرح اوپر بیان کردہ دفعہ ۶۲ کی ترمیم شدہ شق (ڈی) میں’’ عمومی پہچان‘‘ کے لیے مطلوب شہادت کا معیارقانونِ شہادت کے اطلاق میں عدالت، الیکشن ٹربیونل یا پھر ریٹرننگ افسران کو انتہائی مشکل میں ڈال دیتا ہے ۔ کیا کسی منتخب رکن کا کامیاب انتخاب بجائے خود اس بات کی غمازی نہیں کرتا کہ وہ اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کے حوالے سے شہرت نہیں رکھتا ؟ اور اگر سماجی اخلاقیات ہی اس قدر دیوالیہ ہو چکی ہیں کہ لوگ ایک ایسے شخص کو اپنا نمائندہ چنتے ہیں جو اسلامی احکامات کی حکم عدولی کرتا ہو تو پھراسی سماج سے تعلق رکھنے والے فرد کے بارے میں الیکشن ٹربیونل کے سامنے شہادت کے طور پر پیش کردہ عمومی رائے پر انحصارکرنا ٹھیک نہیں ہے۔ حتیٰ کہ دوسری طرف آئین ’’اسلامی احکامات‘‘ کی کوئی تعریف کیے بغیر یہ لفظ استعمال کرتا ہے۔ اسلام کا کوئی بھی فرقہ اسلامی احکامات کی جامع فہرست پیش نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات مقامی سماجی اقدار کو بھی اسلامی احکامات کے ہم پلہ مان لیا جاتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مختلف علماء یا مسالک کے درمیان اس بات پر اختلاف ہو کہ کونسا حکم شریعتِ اسلامی میں شامل ہے، کونسا نہیں اور وہ کس طرح معمولی اختلاف کے سبب ایک دوسرے سے متضاد ہے۔ آئین ساز (یا وہ لوگ جو اس میں یہ ترامیم لائے ہیں) وہاں جا کھڑے ہیں جہاں فرشتوں کو پر جلنے کا خوف دامن گیر ہو جائے ۔ آئین کی اس شق میں استعمال شدہ مبہم اور غیر واضح زبان نے قوانین کے ا طلاق کو مشکل بنا نے اور انتخابی قوانین میں الجھاؤ پیدا کرنے کے علاوہ آئین کو کچھ نہیں دیا ۔
دفعہ ۶۲ کی شق (ای) بھی اسی طرح ہے جس کے تحت کوئی بھی فرد مجلسِ شوری کا رکن منتخب نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ:
(ای): اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو،اسلام کی طرف سے عائد کردہ فرائضِ دینی ادا کرتا اور گناہِ کبیرہ سے پرہیز کرتا ہو۔
یہ ایک جامع دفعہ ہے مگر اتنی ہی مبہم ۔ایک متقی مسلمان کے انتخاب کو یقینی بنانے کا خیال ، مگر اس شق کا قانوناََ اطلاق ایک بھیانک خواب کے سوا کچھ نہیں۔اسلامی تعلیمات کے خاطر خواہ علم کو جانچنے کا معیار مقرر کیے بغیر اس شرط کا اطلاق کیسے ممکن ہے۔ملازمت کے لیے لیے گئے انٹرویو کے دوران دعائے قنوت زبانی یاد ہوناکیا اسلام کا خاطرخواہ علم رکھنے کا معیار ہے جبکہ جامعہ الازہر قاہرہ سے ایک عالم اس بات کا اقرار کرے کہ وہ اس بارے میں زیادہ نہیں جانتا؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ علمی قابلیت کی جانچ یہ ہے کہ کون یہ جانتا ہے کہ وہ زیادہ نہیں جانتا۔ پھر یہ بحث ہو سکتی ہے کہ ’اسلامی تعلیمات‘ میں کیا کیا شامل ہے۔کیا اس کا مطلب قرآنِ مجید اور سنتِ نبویﷺ ہے یا پھر مختلف مسالک کی تشریحات و تعلیمات بھی اس میں شامل ہیں؟ اور جہاں تک اسلام کی طرف سے عائد کردہ دینی فرائض کی ادائیگی کی شرط ہے تو آئین ان فرائض سے متعلق کوئی راہنمائی نہیں کرتا۔اگر ان سے مراد’ فرائضِ شرعیہ ‘جیسا کہ’ نماز‘ ، ’روزہ‘، ’زکوٰۃ‘ ، اور’ حج‘ ہیں تو آئینی دفعات میں اس بارے میں وضاحت موجود ہونی چاہیے جبکہ علمائے کرام معاشرتی اور مذہبی ہر دو حوالوں سے بہت سے دیگر احکامات کو احکاماتِ شرعی میں شامل کرتے ہیں۔
اسی طرح’ کبیرہ گناہوں‘ کے ارتکاب سے پرہیز کی شرط بھی بغیر کسی وضاحت کے اس شق میں شامل ہے۔ علمائے دین کبیرہ گناہوں کی کسی جامع فہرست پر متفق نہیں ہیں۔کچھ علما کا کہنا ہے کہ بڑے گناہوں سے مراد ’گناہِ کبیرہ‘ ہیں مگر وہ ان گناہوں کے بارے میں بھی اختلاف رکھتے ہیں اوراسی سبب ان گناہوں کی کوئی حتمی فہرست موجود نہیں ہے۔ بعض علما کے نزدیک ایسے گناہ، گناہِ کبیرہ کہلاتے ہیں جن پر حد کا اطلاق ہوتا ہے مگر بعض ان کی وسیع تشریح کرتے ہیں۔بعض احادیثِ نبوی ﷺ کے مطابق والدین کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہ ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کچھ تعلیمات کی حکم عدولی یاکچھ گناہوں کاارتکاب سماجی طور پر بہت حد تک قابلِ مذمت ہو مگر وہ کبیرہ گناہوں میں شامل نہ ہوں۔اور یہ بھی کہ ’پرہیز‘ کے لفظ سے بہت سے مطالب و مفاہیم تراشے جا سکتے ہیں۔یہ بھی واضح نہیں ہے کہ وہ فرد انتخابات میں نامزدگی کے وقت ، یا اس وقت سے ، یا پھر اپنی پوری زندگی میں ان گناہوں سے پرہیز کر تارہا ہے۔ کیا ماضی بعید میں سرزد ہونے والی لغزشیں بھی اس دائرۂ کار میںآتی ہیں اورزمانۂحال کی نشاندہی کرتے ہوئے ’پرہیز کرتا ہے‘ کے الفاظ کا اطلاق اس فردکے صرف حالیہ کردار پر ہوگا یا ماضی پربھی؟
اسی طرح آئین کی دفعہ ۶۲ کی شق (ایف) بھی قانونی پیچیدگیوں کا مظہر ہے۔یہ کسی فرد کے انتخابات میں نامزدگی یا رکن منتخب ہونے کے لیے شرط عائد کرتی ہے کہ:
(ایف): وہ عاقل، صالح، صادق اور امین ہو اور بد کار نہ ہو۔
کسی شخص کے عاقل و بالغ ہونے کا علم اس کی دماغی کیفیت کے جامع معائنے یا مطالعے سے لگایا جا سکتا ہے جو کہ انتخابی حکام یاانتخابی تنازعات کے لیے قائم عدالتوں کے محدود ائرۂِ کار کے سبب ممکن نہیں۔کسی شخص کے عاقل و بالغ ہونے کو ماپنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہو سکتا۔ یہی بات ’صالح ‘اور ’ نیکو کار‘ ہونے پر بھی صادق آتی ہے۔ یہ خصوصیات کسی فرد کی ذہنی کیفیت سے تعلق رکھتی ہیں اور اس کی مکمل زندگی کے مفصل اور گہرے مطالعے کے بغیر ان کاصحیح طور پر احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ضرب المثل ہے کہ شیطان خود بھی انسان کی نیت سے واقف نہیں ہوتا۔ تو پھر قانون ، بلکہ ٓائین میں ایسے مطالبات کیوں شامل ہیں جن کی نہ تو تعریف ممکن ہے اور نہ ہی ان کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔
دیگر معیارات جیسا کہ ’صادق‘ اور’ امین‘ ہونا واضح طور پر نبئِ مکرّم ﷺ کی صفاتِ عالیہ ’ صادق و امین ‘ کی طرف اشارہ کر ر ہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دفعہ ۶۲ کے پیش کرد ہ سابقہ معیارات اگر سختی کے ساتھ نافذ العمل ہوں تو متقی اور پرہیز گار ( خدا تعالیٰ کے پیغمبر ﷺ کے معیارِ زندگی کو پہنچے ہوئے) مسلمانوں کے اسمبلی میں پہنچنے کو یقینی بنایاجا سکتا ہے اور جیسا کہ تمہید میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو ایک مقدس ادارے کی صورت ان کے ہاتھوں ممکن بنا یا جا سکتا ہے۔
مگرکسی بھی ملک کے آئین کاکاملیت پسندہونے کی بجائے حقیقت پسند ہو نا ضروری ہے۔ پیغمبری کا سلسلہ اپنے اختتام و کمال کو پہنچ چکا ہے اور اب ہم گناہگار باقی ہیں۔ہمارے ملک کا سیاسی اکھاڑا ایسے پہلوانوں سے بھرا پڑا ہے جن کی سیاسی و سماجی ساکھ ان کی اخلاقی ومذہبی ساکھ کو چھپا دیتی ہے۔ حتیٰ کہ ہمارے رائے دہندگان نے بار ہا مذہبی پاپائیت پرسماجی افادیت اور عملی دانائی کو فوقیت دینے کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی لیے بنیادی ملکی قانون میں ایسی غیر حقیقی اور غیر واضح شرائط کی موجودگی اسے نا قابلِ عمل بنا کر پیش کرتی ہے اوراس کی آئینی حرمت کو کم کردیتی ہے جو دراصل اس کا حق ہے۔
اب ہم اہلیت سے متعلق دفعہ ۶۲ اور نا اہلیت سے متعلق دفعہ ۶۳ کی شقوں میں ممکنہ تصادم کے سوال کی طرف واپس آتے ہیں جس کی مثال شق ۶۲ (جی) اور شق ۶۳ (۱) (ایچ) میں ظاہری تضاد کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔شق ۶۲ (جی) بیان کرتی ہے کہ کوئی بھی فرد مجلسِ شوریٰ کا رکن چنا یا منتخب نہیں کیاجا سکتا ہاں یہ کہ اگر۔۔۔
شق ۶۲ (جی) : اسے جھوٹی گواہی دینے یاکسی اخلاقی پستی پر مبنی جرم میں سزا نہ ہوئی ہو۔
دوسری طرف شق ۶۳ (۱)(ایچ) کے مطابق کوئی بھی ایسا شخص انتخابات میں حصہ لینے، مجلسِ شوریٰ کا رکن چنے جانے یا منتخب ہونے کا اہل نہیں ہے اگر:
شق ۶۳ (۱)(ایچ): وہ کسی ایسے جرم کی سزا جھیل چکا ہو جو چیف الیکشن کمشنر کی نظر میں اخلاقی پستی یا گراوٹ پر مبنی ہو، دو سال سے زیادہ عرصہ کے لے جیل میں قید کی سزا کاٹی ہو، ہاں اگر اس کی رہائی ہوئے پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزرگیا ہو۔
اب شق ۶۲ (جی) کے تحت ، جھوٹی گواہی دینے یا اخلاقی پستی پر مبنی جرم میں سزا یافتہ فردانتخاب کے لیے نااہل ہے ، اس سے قطع نظر کہ اس کی سزا کی میعاد کیا تھی یا اس کی رہائی ہوئے کتنا عرصہ بیت چکا ہے۔ لیکن ساتھ ہی شق ۶۳ (۱) (ایچ)بیان کرتی ہے کہ اس طرح کی سزا کسی فرد کی نااہلی کا موجب نہیں بن سکتی اگر اس کی میعاد دو سال سے کم ہو یا اگر ا س فرد کی رہائی کو پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہو چاہے اس کی سزا کا دورانیہ کتنے ہی سالوں کو محیط کیوں نہ ہو۔ سو بظاہر یہ لگتا ہے کہ اگر ایک فرد سزایافتہ ہے مگرسزا کی میعاد دو سال سے کم عرصہ ہے یا سزا کی مدت دو یا دو سے زیادہ سال ہے مگر اس کی رہائی کو پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزرگیا ہے تو وہ فرد شق ۶۳ (۱)(ایچ) کے مطابق تونا اہل نہیں رہتا مگر شق ۶۲ (جی) کے تحت وہ اب بھی نا اہل ہے۔ جیسا کہ یہ دونوں شقیں بتاتی ہیں کہ کوئی فردایک ہی وقت میں انتخابات کے لیے نااہل ہے بھی اور نہیں بھی ۔ شق ۶۳ (۱)(ایچ) کے تحت دی گئی رعایت شق ۶۲ (جی) سے کتر دی گئی اور اگر شق ۶۲ (جی) کا اطلاق ہوتا ہے تو شق ۶۳(۱) (ایچ) اضافتِ محض کے سوا کچھ نہیں۔
آئین کی تشریح کا یہ بنیادی اصول ہے کہ اس میں موجود کمی بیشی پر سرسری قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ ان دونوں دفعات کی بقاء کے لیے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کو ایک مناسب مقدمہ میں دونوں بظاہر متضاد دفعات میں موافقت اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔
درج بالا بحث آئینی و قانونی دستاویزات کے لیے درکار بنیادی قطعیت سے پہلو تہی اوربدترین مسوداتی کمزوری کے سبب آئین کی دفعات ۶۲، ۶۳ کی مختلف شقوں میں الجھاؤ، غیریقینیت، ابہام اور تضاد کی موجودگی کے بارے میں آگاہ کرے گی جوآنے والے دنوں میں بڑی تعداد میں رائے دہندگان کو الجھن میں ڈال دیں گی ، امیدواروں اور ان کے حمایتیوں کیلیے دردِ سر بنیں گی اورکاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران ریٹرننگ افسران کو پریشانی میں مبتلا کردیں گی۔ جو الیکشن ٹربیونل کے لیے انتشار اور وکلا اور عدالتوں کے لیے ایک بھیانک خواب بن جائیں گی۔
یہی وقت ہے کہ پہلی ہی فرصت میں متعلقہ ادارے اس صورتِِ حال کا حقیقی تدارک کریں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...