(احمد ندیم قاسمی سے پہلی ملاقات(آخری حصہ

51

ہم ایک دوسرے کی اٹوٹ رفاقت پر ہمیشہ نازاں رہے مگر وفات سے فقط چند ماہ پہلے فیض احمد فیض پر میرے ایک مضمون نے اُنہیں وقتی طور پر رنجش میں مبتلا کر دیا تھا۔

ہم ایک دوسرے کی اٹوٹ رفاقت پر ہمیشہ نازاں رہے مگر وفات سے فقط چند ماہ پہلے فیض احمد فیض پر میرے ایک مضمون نے اُنہیں وقتی طور پر رنجش میں مبتلا کر دیا تھا۔میں منصورہ احمد کا احسان مند ہوں کہ انھوں نے میری موجودگی میں اِس مضمون میں پیش کردہ نکات پر اپنے مخصوص انداز میں نکتہ چینی شروع کر دی ھی اور یوں مجھے اِس موضوع پر کُھل کر بات کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ ہرچندندیم بھائی نے اِس باب میں میرے استدلال کویہ کہہ کر رَد کر دیا تھاکہ میں اپنا نقطہ

نظر پیش کرنے میں سراسر ناکام ہوں۔یہ بات انھوں نے بڑے غُصّے میں کہی تھی مگر کہتے وقت کیک کا ایک ٹکڑا پلیٹ میں رکھ کر مجھے پیش کر دیا تھا۔ اِس مٹھاس نے تلخی کو اپنے اندر جذب کر لیا تھا اور میں نے کسی اور موضوع پر بات شروع کر دی تھی۔

احمد ندیم قاسمی نے فیض احمد فیض کی شخصیت پر اپنے مضمون میں طبقہ

امراءکے ساتھ فیض کے دوستانہ روابط سے لے کر برٹش انڈین آرمی میں کرنل کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے تک متعدد امور کو ہدفِ ملامت بنایا تھا۔ میں نے اپنے مضمون بعنوان ”فیض ، فاشزم اور مہاتما گاندھی “ میں فیض اور چند دوسرے ترقی پسندوں کا دفاع کرتے وقت جنوبی ایشیاءپر فاشزم کی ممکنہ یلغار کو اِس کا سبب بتایا تھا۔ ان لوگوں نے برٹش انڈین آرمی کے شعبہ

اطلاعات و نشریات میں اُس وقت کام کرنا شروع کیا تھاجب یورپ میں فاشزم کے عروج کے خلاف صف بندی میں اشتراکی روس بھی شامل ہو گیا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب مہاتما گاندھی یورپ اور ایشیاءکی فاشسٹ قوّتوں کے عروج سے برطانوی ہند کوآزادی دلانے کے خواب دیکھنے لگے تھے۔اِس کے برعکس برطانوی ہند کی ترقی پسند جماعتوں نے فاشزم کے عروج کو ہندوستان سمیت تمام عالمِ انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا تھا۔اسی زمانے میں فیض احمد فیض نے اپنی ایک نظم میں مہاتما گاندھی کویوں مخاطب کیاتھا :

سالہا سال ، یہ بے آسرا جکڑے ہُوئے ہاتھ

رات کے سخت و سیہ سینے میں پیوست رہے

جس طرح تنکا سمندر سے ہو سر گرمِ ستیز

جس طرح تیتری کہسار پہ یلغار کرے

اور اب رات کے سنگین و سیہ سینے میں

اتنے گھاﺅ ہیں کہ جس سَمت نظر جاتی ہے

جا بجا نُور نے اک جال سا بُن رکھا ہے

دُور سے صبح کی دھڑکن کی صدا آتی ہے

تیرا سرمایہ، تیری آس یہی ہاتھ تو ہیں

اور کچھ بھی تو نہیں پاس، یہی ہاتھ تو ہیں

تجھ کو منظور نہیں غلبہ

ظلمت لیکن

تجھ کو منظور ہے یہ ہاتھ قلم ہو جائیں

اور مشرق کی کمیںگہ میں دھڑکتا ہوا دن

رات کی آہنی مَیّت کے تلے دب جائے   (سیاسی لیڈر کے نام)

میں نے اپنے مضمون میں زمانہ

جنگ میں فیض کی برطانوی ہند کی فوج میں شمولیت کو ابن الوقتی کی بجائے نظریاتی استقامت کی دلیل ثابت کیاتھا۔ ندیم صاحب نے فیض پر اپنے متذکرہ مضمون میں پیش کردہ دلیل کی میری طرف سے تردید کا بہت بُرا منایا۔ندیم صاحب کا یہ ردِعمل میرے لیے انتہائی حیران کُن تھا۔بیس برس قبل جب میں نے فیض احمد فیض کے خلاف انیس ناگی کے مضمون بعنوان ”بوڑھے شاعر کا المیّہ“ میں پیش کیے گئے طنزیہ استدلال کی تردید میں فیض کی شاعرانہ عظمت کا بول بالا کیا تھا تو ندیم صاحب نے اِس پر بڑے والہانہ انداز میں مسرت کا اظہار کیا تھا۔ ۳۰جون۷۹ءکے خط میں اُنھو ں نے درج ذیل الفاظ میں میری ہمت افزائی فرمائی تھی:

فیض صاحب کے بارے میں آپ کا مضمون پڑھ کر سرشار ہو گیا۔ آپ نے ان کا کتنی خوبصورتی اور اعتماد کے ساتھ دفاع کیا ہے اور معترض کے خلاف ایسا فیصلہ کن لہجہ اختیار کیا ہے جو ایک بار تو اسے لرزا دے گا۔ یہ حسن گوئی اور بیباکی آپ کے ضمیر میں ہے۔ اسی لیے تو آپ اتنے پیارے ہیں۔ لطف آ گیا۔ اللھم زد فز

بیس برس بعد جب میں نے فیض صاحب پرسامراج نوازی کے الزام کی تردید میںاپنے مضمون بعنوان ”فیض، فاشزم اور مہاتماگاندھی“ میں بڑے اعتماد کے ساتھ فیض صاحب پرسامراج نوازی کے الزام کی مدلل تردید کی تو میری یہی”حُسن گوئی اور بیباکی“میرا سب سے بڑا عیب قرار پائی۔عطاءالحق قاسمی کے رسالہ ”معاصر“ میں میرا مضمون پڑھتے ہی ندیم صاحب نے ۲۲ستمبر۲۰۰۱ءکے خط میں لکھا کہ:

آپ نے مجھے چھوٹے چھوٹے معاملات میں الجھنے سے منع فرمایا ہے، مگر خود آپ ایک نہایت ہی حقیر معاملے میں اپنے آپ کو اُلجھا بیٹھے ہیں۔ آپ نے فیض صاحب کی کرنیلی اور ”ممبر آف برٹش ایمپائر“ کے خطاب کے حوالے سے ان کا غلط اور دورازکار دفاع کیا اور اگر آپ اب تک بضد ہیں کہ آپ نے سچ بولا تو اِس سچ کے پاﺅں کہاں ہیں؟

بات صرف اتنی سی تھی کہ فیض کے اِکا دُکا بوگس اور جاہل ساتھیوں نے میرے مضمون کے حوالے سے مجھ پر جو غلاظت اچھالی تھی ، اس کا جواب تو آپ کیا دیتے (ورنہ یہ آپ کا فرض تو بنتا ہی تھا) اُلٹا اِس نازک موقعے پر آپ اُن جاہلوں کی بالواسطہ حمایت پر اُتر آئے (اور بیشتر پڑھے لکھے لوگ آپ کی اس قلابازی پر جسے آپ سچ قرار دے رہے ہیں) دم بخود رہ گئے کہ کیا یوں بھی ہو سکتا ہے!!!

بہرحال، میرے بہت پیارے بھائی، منصور حلاج پر پتھر برس رہے تھے تو وہ چپ چاپ سہتا رہا، مگر جب اس کے دوست شبلی نے اس پر ایک پھول پھینکا تو منصور درد سے بلبلا اُٹھا….آ پ نے تو مجھے دوسروں کی طرح سچ مچ کا پتھر ہی دے مارا“۔

ندیم بھائی کے اِس ردِعمل پر مجھے شدید رنج ہوا۔ میں اُن سے عقیدت اور محبت کے جس رشتے سے منسلک ہوں اُس کا کسی بھی نظریاتی یا مفاداتی گروہ بندی سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ جب وہ قتیل شفائی اور موجد کے سے دوستوں کے حصار میں رہا کرتے تھے تب بھی میں نے اُس حلقہ

ندیم سے پسندیدگی کا اظہار کبھی نہیں کیا اور برملا اِن لوگوں کے فکروعمل کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا۔قدرتی طور پر ندیم کے یہ دوست مجھے اپنا غیر سمجھتے تھے۔ندیم کے اِرد گرد منڈلانے والے ادیبوں اور شاعروں کے حلقے بنتے اور بکھرتے رہے مگر میں اپنی ذاتی حیثیت میں اُن سے عقیدت و احترام کے رشتے پر قائم رہا۔فیض ہوں یا وزیرآغا میں نے کبھی اُن کے فکر و فن کی تحسین و تردید کے عمل میں ندیم صاحب کی پسند و ناپسند کو سامنے نہیں رکھا۔میں ہر فنکار کی عظمت کی بنیادیں خود اُس فنکار کی ذات اور فن میں تلاش کرنے کا عادی رہا ہوں۔ اِس بات کا ندیم صاحب کو بخوبی علم تھا اور اُنھوں نے کبھی مجھے یا میری کسی تحریر کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا تھا۔چنانچہ درج بالا طویل مکتوب میں پیش کیے گئے استدلال پر میں نے نہ تو کبھی قلم اُٹھایا اور نہ ہی کبھی اُن کی محفل میں لب کشائی کی۔بعد ازاںاُن کی مختصر ترین مہلتِ حیات کے دوران فقط دو مرتبہ لاہور جانا ہوا۔ہر دو مرتبہ اُن کی خدمت میں حاضر ہوا، اُن کی دُعائیں سمیٹیں اور اُن کی زندگی کی دُعائیں مانگتا ہوا واپس لوٹا۔عجیب بات ہے کہ اُن کے اللہ کو پیارے ہو جانے کے بعد جب بھی میرا لاہور جانے کا پروگرام بنتا ہے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ندیم صاحب زندہ ہیں اور لاہور کا سفر اُس وقت تک تکمیل کو نہیں پہنچے گا جب تک میںاُن کی دُعائیں سمیٹتا ہوا واپس نہیں لوٹوں گا۔لاہور پہنچتا ہوں ، کام سے فارغ ہوتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ندیم صاحب تو اب یہاں نہیں ہیں ۔ندیم صاحب نہیں ہیں تو پھر میں یہاں کیوں ہوں؟اِس سوال کا جواب نہ پا کرمیں فوراً کے فوراً واپسی کے سفر پر روانہ ہو جاتا ہوں!

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...