دہشت کا سرچشمہ (دولت اسلامیہ کی تاریخ )،فواذ اے جارج کی کتاب پر تبصرہ

64

(نام کتاب :دہشت  کا سرچشمہ (دولت اسلامیہ کی تاریخ )

مصنف :فواذ اے جارج

مطبوعہ پرنسٹن یونیورسٹی پریس امریکہ

تبصرہ نگار : محمد عامر رانا

قدامت پسند نظریات کا علمبردار عسکری گروہ دولت اسلامیہ جو خود وکودولتِ اسلامیہ عراق و شام کہتا ہے  دور ِحاضر میں غیر ریاستی عناصر کا سب سے منظم گروہ ہے ۔محققین اور شعبہ جاتی تحقیق نگاراس کی حرکیات پر ہمہ وقت نظریں جمائے ہوئے ہیں  ۔کئی سیکورٹی ، سماجی وسیاسی ماہرین اور مذہبی مفکروں نے کوشش کی ہے کہ وہ اس متشدد گروہ کا مطالعہ مختلف حوالوں سے کریں ۔اس گروہ پر سینکڑوں تحقیقاتی رپورٹیں اور کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ ان میں سے بعض کتابیں تھوڑے بہت ردو بدل کے ساتھ شائع ہورہی ہیں اور اس کی وجہ مارکیٹ میں ایسی کتابوں کی مانگ بھی  ہے جس کی وجہ سے ابھی تک ا س گروہ کے بارے میں مفصل  اور بامقصد  کتاب کم ہی دیکھنے میں آئی ہے ۔

فواز اے جارجFawaz A. Gerge  کی کتاب ISIS: A History ایک قدرے مختلف کتاب ہے ۔اس میں جائزہ لیا گیا ہے کہ کیسے اس عسکری گروہ نے  وہاں کے مخصوص سماجی و ثقافتی ڈھانچے ،سیاسی حالات اور نظریاتی ماحول میں جنم لے کر ایک پر تشدد تحریک کی بنیاد رکھی ۔انسداد دہشت گردی کے امریکی ماہر پیٹر برگن نے درست کہا ہے کہ دولت اسلامیہ پر  کتابوں کے حالیہ سیلاب میں جارج کی کتاب نے اپنے بھرپور تحقیقی مواد کی وجہ سے اپنی الگ شناخت بنا ئی ہے ۔جارج لندن سکول آف اکنامکس اور سیاسیات میں عالمی تعلقات کے پروفیسر ہیں ۔اور مشرق وسطیٰ کے امور کی چیئر کے سربراہ بھی ہیں ۔انہوں نے لکھاہے کہ دولت اسلامیہ کو  جہادکی نئی لہر  قرار دی جاسکتی ہے اورکسی حد تک عرب ممالک اس کے ذمہ دار ہیں ۔عراق  اور شام میں موجود انتشار  نے اس عسکری گروہ کو زرخیز زمین فراہم کی ہے جس میں یہ پھل پھول سکے۔دوسرا یہ کہ  قومی شناخت کی تشکیل ، سماجی ہم آہنگی اورشہریوں کےمفادات کا خیال رکھنے میں عرب ریاستیں ناکام ثابت ہوئی ہیں جس سے اس گروہ کو پنپنے کا موقع مل گیا ۔اس کے ساتھ ہی یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بہت بڑی فوجی ناکامی بھی تھی جنہوں نے عراقی فوج کی تربیت پر 25 ارب ڈالر صرف کر دیئے مگر اس کے باوجود امریکی قیادت اور اس کی تربیت یافتہ فوج اس گروہ کے ساتھ مقابلہ کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ۔

درحقیقت امریکہ اور مغربی سیکورٹی ادارے اس گروہ کے جانب سے درپیش عسکری خطرے کا ادراک کرنے میں ناکام رہے ۔حتیٰ کہ امریکی صدر باراک اوبامہ یہ کہتے رہے کہ تنظیم خطے میں امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے مفادات کے لئے خطرہ نہیں بن سکتی ۔مگر جیسا کہ دنیا نے دیکھا کہ کس طرح  یہ عسکری گروپ 2014 کے اختتام تک ابھر کر سامنے آیا اور اس نے عراق اور شام کےایک تہائی حصے پر قبضہ بھی کر لیا اور یہ اردنی اور سعودیوں شہریوں  کی مدد کے ساتھ عراق، سعودی عرب اور اردن کی سرحدوں تک پہنچ گیا ۔

تاہم جیسا کہ جارج خود کہتا ہے کہ یہ کتاب بنیادی طور پر چار اہم  عوامل  پر نظر ڈالتی ہے ۔پہلا یہ کہ دولت اسلامیہ عراق و شام ، القاعدہ عراق کی ہی نئی شکل ہے جو 2003 میں عراق میں امریکی مداخلت اور اس کے بعد کے حالات میں وجود میں آئی ۔دوسرا یہ کہ صدام حسین کے بعد  ملک سیاسی افراتفری کا شکار ہوا اورملک کی قومی شناخت سے پہلو تہی کرتے ہوئے ملک کو مسلکی اختلافات کی نظر کرتے ہوئے شیعہ سنی تقسیم کی نظر کر دیا  گیا۔تیسری وجہ یہ کہ شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے ریاستی ادارے تباہ ہو گئے جس کی وجہ سے دولت اسلامیہ کو اپنے قدم جمانے کا موقع مل گیا۔عرب بہار کی تحریکوں کی وجہ سے عرب ریاستوں میں جو بے چینی پھیلی ہوئی تھی اس کے بغیر دولت اسلامیہ شام کی جنگ میں کامیاب نہیں ہو سکتی تھی ۔

اس عسکری گروپ کے ابھرنے میں مندرجہ بالا ساختیاتی عوامل کا بنیادی کردار  تھا مگر اس کے ساتھ جارج کہتا ہے کہ دنیا کے بارے میں اس تنظیم کے خیالات اور نظریات کی جانکاری بہت ضروری ہے ۔اس نے تنظیم کے عالمی اہداف اور سلفی جہادی نظریات کے بارے میں ایک پورا باب مختص کیا ہے جو اس  کے پنپنے کی بنیادی وجہ ہیں ۔وہ دعویٰ کرتا ہے کہ ‘‘دولت ِ اسلامیہ  عالمی سطح پرسلفی جہادی تحریک کی سب سے اہم  اور نمایاں توسیع ہے ’’۔مگر اس گروپ میں کچھ دوسرے عناصر بھی شامل ہو گئے ہیں۔مثال کے طور پر  اس نے خود کش بمباروں کا استعمال کیا جو کہ ا س سے قبل سلفیوں میں رائج نہیں رہا یہ ایک نیا طریقہ ہے ۔جارج کہتا ہے کہ گروپ کے نظریات میں خلافت سے مراد سیاسی ڈھانچہ نہیں بلکہ یہ ایک مذہبی ضرورت ہے جس کو وہ نجات دہندہ کے طور پر دیکھتے ہیں ۔

جارج نے اس گروپ کے نظریات کے ڈانڈے ابوبکر ناجی اور ابو محمد المقدیسی کے خیالات سے ملائے ہیں ۔المقدیسی سلفی جہادیوں میں ایک نمایا ں مفکر ہیں ۔ناجی کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں تاہم اس کی کتاب The Management of Savagery  عسکری تنظیم کے عملی پہلوو ں کا احاطہ کرتی ہے ۔جس میں ناجی ایک خطرناک حکمت عملی کے طرف اشارہ کرتے ہوئے تین درجوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے جس میں تشدد کو وقتی طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کے طور پر اپنایا گیا ہے ۔اس نے پراپیگنڈہ اور میڈیا کو بھی اپنے نظریات کی ترویج میں اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر زور دیا ہے تاکہ مسلمانوں کو متحرک کیا جاسکے اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے بھرتی کیا جا سکے ۔

جارج یہاں دو کتابوں کے حوالے بھی دیتا ہے ابو عبداللہ المہاجر  اور سید امام الشریف(جو ڈاکٹر فدل کے نام سے بھی مشہور ہیں ) کی لکھی گئی یہ کتب  عسکری گروپ کے نظریات کی تشکیل کرتے ہیں ۔ان کتابوں کے نام یہ ہیں  Introduction to the Jurisprudence of Jihad by al-Muhajir and The Essentials of Making Ready [for Jihad] by Dr Fadl  ۔یہ کتابیں اس گروہ کی جہادی تربیت میں نصاب کے طور پر شامل ہیں ۔

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ڈاکٹر فدل ایمن الظواہری کے قریبی دوست رہے ہیں مگر گیارہ ستمبر2001 کے حملوں کے  بعد دونوں نے اپنے راستے جدا کر دیئے۔اس نے عوام میں نظریات سازی اور عالمی جہادی تحریک کے بارے میں کام کیا ۔جارج کہتا ہے کہ مصری جیل میں عمر قید کے دوران ڈاکٹر فدل مسلسل اپنے نظریات سے انکار کرتے رہے اور وہ سلفی جہادیوں کی عدم عسکریت اور عدم شدت پسندی پر زور دیتے رہے ۔

جارج  کے مطابق ‘‘المہاجر’’ کا کام بہت زیادہ خطرناک ہے جس میں وہ صدیوں کی جدوجہد کے بعد سامنے آنے والی فقہ کو رد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ‘‘کفار کو قتل کرنا اور ان کے ممالک میں ان کے ساتھ مقابلہ کرنا اس صورت میں بھی ناگزیر ہے جب کہ ان سے مسلمانوں کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہ ہو’’۔المہاجر غیر مسلم ممالک کے عام شہریوں اور فوجیوں میں کوئی فرق نہیں کرتا بلکہ وہ برملا طور پر یہ کہتا ہے کہ ان کو مارنے اور ان کی جائداد ہتھیانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ غیر مسلم ہیں ۔عسکری گروپ کی نظریاتی اسا س اور اس کے افکار کے مطابق انہیں دنیا سے جداگانہ اور یکسر مختلف عالمی نظریہ دیا جاتا ہے جس میں انہیں عالمی سطح پر خلافت کے احیا  پر اکسایا جاتا ہے چاہے اس کے لئے کتنا ہی خون بہے اور یہ انسانی ڈھانچوں اور انسانی باقیات پر استوار ہو ۔

اگرچہ اس گروپ کو عسکری حوالے سے حالیہ مہینوں میں پسپائی کا سامنا ہے تاہم جارج کا خیال ہے کہ ا س کی آپریشنل حکمت عملی میں کوئی واضح تبدیلی نہیں آئی ۔جس کی وجہ سے یہ مستقبل میں اپنے نیٹ ورکس کے ذریعے یورپ اور شمالی امریکہ میں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔وہ پیش گوئی کرتا ہے کہ واشنگٹن ، پیرس ،لندن یا روم نہیں بلکہ  ریاض ، بغداد اور دمشق اس گروپ کا پہلا نشانہ ہوں گے ۔وہ ا س مقبول عام نظریئے کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ پر تشدد فرقہ وارانہ حکمت عملی سے بھی گروپ کو فائدہ ہوا ہے کیونکہ زیادہ تر سلفی جہادی  شیعہ اور ایران مخالف ہیں  ۔

ایک اور پہلو جس کی جانب جارج نے بالکل ایک نئے انداز سے روشنی ڈالی ہے کہ اس عسکری گروپ کے سامنے آنے کی وجہ عرب بہار کی تحریکوں میں آنے والا خلل بھی ہے ۔وہ یقین رکھتا ہے کہ ا س نے ان لاکھوں شہریوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جو کہ  سماجی معاہدوں اور  شہری حقوق  پر نظر ثانی چاہتے تھے ۔اس نے مشرق وسطی ٰ میں  ملوکیت پسندوں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے بالخصوص سعودی عرب کے بارے میں جس نے خطے میں شہری آزادی کی تحریکوں کو سبوتاژ کیا ہے ۔اس کتاب میں موجود یہ فقرہ اس کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے ‘‘جیسے ہی عرب بہار  میں تیزی آئی سعودی عرب نے داخلی سطح پر استحکام کی خاطر اپنے شہریوں کو سو ارب  ڈالر کی مراعات دی ڈالیں ،سعودی بادشاہوں نے بحرین ، مصر ، عمان ، یمن ، مراکش اور اردن میں اربوں ڈالر لگائے تاکہ وہ انقلابی تبدیلیوں کا راستہ روکے اور اپنے عرب اتحادیوں کو محفوظ رکھے ۔

یہ صرف سعودی نہیں تھے جو کہ عرب بہار سے خوف ذدہ تھے بلکہ ایران نے بھی اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ،عراق،شام اور دیگر ممالک میں فرقہ وارانہ آگ لگائی ۔جارج سمجھتا ہے کہ شیعوں اور ایران کے خلاف فضا کی وجہ سے دولت اسلامیہ کو اپنا فرقہ وارانہ ایجنڈا پھیلانے میں مدد ملی ۔اور وہ سخت مؤقف اپناتے ہوئے ایسا بیانیہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوئی جس کی بنیادیں صدیوں پرانے  شیعہ سنی تنازعہ میں پیوست تھیں  ۔دولت اسلامیہ نے شیعہ آئیڈیالوجی کو جارحانہ اور توسیع پسندانہ  قراردیتے ہوئے اس انداز سے پیش کیا کہ یہ اسلامی دنیا پر  قابض ہوجاناچاہتی ہے ۔جارج اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ عرب بہار نے ایسے تمام امکانات کو سبوتاژ کر دیا  جوپرامن سیاسی تبدیلی کا خواب دیکھ رہے تھے ۔

کتاب کا آخری حصہ ان خیالات پر بحث کرتا ہے کہ  ظالمانہ  فکری تحریکوں کو کیسے شکست دی جاسکتی ہے  اور انہیں کیسے بے اثر کیا جا سکتا ہے ۔جارج سمجھتا ہے کہ عرب معاشروں کی بقا کا انحصارعلاقائی اور عالمی طاقتوں پر ہے کہ وہ کیسے دیرینہ تنازعات کو کو حل کرتے ہوئے ریاستی اداروں کوشفاف اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرتے ہیں ۔وہ ان تحریکوں کی فکری رہنمائی کی تجویز بھی دیتا ہے جو اتناہی ضروری ہے جتنا کہ فوجی رد عمل ،مجموعی طور پر کتاب دولت اسلامیہ کے پھیلاؤ کا مکمل احاطہ کرتی نظر آتی ہے اور ان عناصر پر بحث  کرتی ہے جو اس کے لئے ممد معاون ثابت ہوئے ۔اس کے ساتھ ہی وہ دولت اسلامیہ کے ممکنہ مسقبل کی جانب بھی پیشین گوئی کرتا ہے ۔اس لحاظ سے اس کتاب کو دولت اسلامیہ  کی بیاض قرار دیا جا سکتا ہے ۔

(بشکریہ ڈان :انگریزی سے ترجمہ سجاد اظہر )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...