عائشہ گلالئی کے ساتھ ایک نشست

234

س :آپ نے عمران خان پر جو الزامات لگائے تھے ان پر بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کا انجام کیاہوا؟
ج: پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ الزامات نہیں حقیقت ہیں جنہیں چھپانے کیلئے عمران نیازی صاحب نے اپنی ٹیم کے ذریعے باقی سارے الزامات لگائے، پھر اس پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کمیٹی بنوائی جوکہ ہمارا ہراسمنٹ کلاز ہے،اس میں ڈیپارٹمنٹل کمیٹی بنتی ہے، ہم دونوں کا ڈیپارٹمنٹ پارلیمنٹ ہے اور وہاں کمیٹی وزیراعظم نے بنائی کیونکہ جب ایک ایسی خاتون جو دیگر خواتین کے تحفظ کی بات کرتی ہو، اگر وہی شکایت کریں اور ان کےلئے شکایتی فورم نہ ہوتو یہ بڑی افسوس ناک بات ہے۔عمران خان نے اس کمیٹی کوپہلے تسلیم کیا لیکن بعد وہ اس سے بھی ہٹ گئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ان کےاتحادی جماعت اسلامی نے بھی کمیٹی کیلئے اپنی جماعت کی جانب سے نام نہیں دیے،سپیکر نے سب جماعتوں کو نام دینے کا کہا تھا تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے بھی نام نہیں دیے۔
س: کچھ لوگوں نے آپ پر الزامات لگائے کہ آپ نے پیسے لئے۔ اس میں کتنی سچائی ہے؟
ج:میں نے ابھی سپیکرکو یاد دہانی کروائی ہے کہ وہ سب جماعتوں کو یادکروائیں کہ وہ اس کمیٹی میں اپنے اراکین کے نام شامل کریں۔میں نے جماعت اسلامی سے کہاکہ آپ کا اپنے اراکین کے نام نہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ سچ کو سامنے آنے سے روک رہے ہیں۔اس وقت ایک نئی بحث چل رہی ہے کہ میں نے کسی سے پیسے لئے ہیں یا میں غلط الزامات لگا رہی ہوں۔ میں نے کہا اگر عزت کی بات ہو تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے، پیسے آپ اور بھی کئی طرح سے لے سکتے ہیں یا اپنے سیاسی کیریئرکو کئی اور طریقوں سے فروغ دے سکتے ہیں۔ میں نے تو پریس کانفرنس میں یہ کہاکہ پاکستان کی خواتین محتاط رہیں،میں نے ٹیکسٹ مسیجزکی کوئی بات نہیں کی تھی، یہ تو میڈیا نے جب اسکو اٹھایا تو انہوں نے میرے پر الزامات لگائے تب جا کر میں نے اور انکشافات کیے۔
س: جن لوگو ں نے آپ پر الزامات لگائے کہ آپ نے پیسے لئے ہیں، کسی نے پانچ کروڑکے،کسی نے دوکروڑکے، ان کے خلاف ابھی تک آپ نے کیا کارروائی کی ہے؟
ج: میں نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، میں نے پارلیمانی کمیٹی کو یاددہانی کروائی ہے، اس پر اگر امیر مقام کا فون بھی رکھنا چاہتے ہیں وہ بھی رکھ لیا جائے گا، ان کو خواہ مخواہ اس معاملے میں گھسیٹا گیا ہے۔ اس میں مرکزی پارٹی سے دو افراد ہیں، وہ اپنے موبائل فونز لائیں، ان کے فون میں سے صرف میرے نہیں بلکہ اور بھی بہت سی خواتین کے میسجز ملیں گے جنہوں نے خاموش رہنا مناسب سمجھا ہوگا۔ ان کو پھر خود جواب مل جائے گا اور پھر ان کی اس ملک میں سیاسی موجودگی کیا ہوگی ،اس آدمی کا سیاست میں رہنے کا اخلاقی جواز باقی نہیں رہے گا۔
س: جن خواتین کی آپ نے بات کی،کیا انہوں نے آپ سے رابطہ کیاکہ ہمیں بھی عمران خان نے میسجزکیے ہیں؟
ج: آف دی ریکارڈ تو مجھے بہت ساری چیزیں پتہ ہیں، پہلے مجھے نہیں پتہ تھا لیکن شکایتیں مجھے پہنچتی رہتی تھیں کہ نیازی اور ان کے ٹولے کی طرف سے خواتین کو تنگ کیا جاتا ہے۔ بعض خواتین نے خود نام لینا مناسب نہیں سمجھا،جب وہ نام نہیں لینا چاہتیں تو میں ان کی خاندانی زندگی کیوں خراب کروں۔کراچی، اسلام آباد میں ایسی بہت سی خواتین ہیں جن کو شکایات ہیں۔ ہماری ذہنیت ہے کہ کوئی خاتون اس قسم کی بات کرے، الٹا اس پر الزام تراشی شروع ہوجاتی ہے۔ تم نے بہت غلط کیاکہ ایک آدمی کے بارے میں ایسی بات کی، میری مثال آپ کے سامنے ہے۔ جب ایک ایم این اے کے ساتھ ایسا ہو تو ایک عام عورت جس کو گلی محلے والے تنگ کرتے ہیں،جب وہ کوئی بات کرے گی تو اس پرکیا ردعمل آئے گا۔ اس کو گھر سے باہر جانے اور تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا جاتا ہے، خواتین پرگھریلو تشدد ہوتا ہے۔ مجھے کچھ چینلز پر حیرت ہوئی، اس میں اے آر وائی، بول وغیرہ شامل ہیں، آپ نے نیازی صاحب کا ریکارڈ سب کے سامنے رکھ دیا اور پورے پاکستان کی خواتین کو پیغام دیدیاکہ ایک آدمی پر آپ بات مت کریں،وہ دفتر میں جو مرضی کرتا رہے، گھریلو ملازموں کے ساتھ، بچوں کے ساتھ جوچاہے کرتا رہے، آپ کوئی بات مت کریں۔
س: آپ نے جو قدم اٹھایا اس پر پوری قوم نے آپ کو سراہا لیکن سوال یہ اٹھ رہے تھے کہ آپ میڈیا اور عوام کو ثبوت دکھا دیں ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ آپ سیاست کےلئے یہ سب کر رہی ہیں۔
ج: سیاست میں تو ماشااللہ پہلے ہی مجھے پورے پاکستان میں جانا جاتا تھا، میں تحریکیں بھی چلاتی رہی ہوں، دھرنے بھی کرتی رہی ہوں، یہ سب میں بچپن سے کرتی رہی ہوں، یہ سیاسی لحاظ سے اچھا قدم تو نہیں،یہ بالکل غلط بات ہے اور نیازی صاحب کے ہتھکنڈوں کو میں اچھے طریقے سے جانتی ہوں، انہوں نے احتساب کمیشن میں بھی میرے خاندان پر کیس بنایا، جب میرے خلاف کچھ نہیں ملا تو میری بہن پر حملہ کیا، اس کے یونیفارم پر تنقیدکی گئی، آپ بین الاقوامی فورم پر برقع پہن کر نہیں کھیل سکتے کیونکہ آپ نمبر ون کھلاڑی ہیں۔
س: یہ پروپیگنڈا تحریک انصاف کے تمام لوگوں نے مستردکر دیا تھا
ج: لیکن عمران خان نے تو یہ ذہن نشین کروانے کی کوشش کی، جب کچھ نہیں ملا تو میری بہن پر حملہ کروا دیا جو کہ غیر سیاسی عورت ہے اور اس کے ہسپتال پر بھی حملہ کروا دیا۔یہ تو ذہنیت ہے کہ خود شوکت خانم ہسپتال بناﺅ اور اس پرکوئی کچھ کہے تو کہتے ہو کہ ن لیگ والو تم خیراتی ہسپتال کو بھی نہیں چھوڑتے، اگر میری بہن خیراتی ہسپتال بناتی ہے کیونکہ کے پی کے میں ہسپتالوں کی صورتحال بہت بری ہے،اس نے خیرات کے پیسوں سے نہیں، انعامات کے پیسوں سے ہسپتال بنایا۔
س: کیا تحریک انصاف یا عمران خان شوکت خانم کے چندے میں سے حصہ لیتے ہیں؟
ج: دیکھیں یہاں جو ہمارے سینیٹرز ہیں، ان سب نے کروڑوں روپے شوکت خانم کو عطیہ کیے اور اسکے بعد سینیٹر بن گئے۔ تاثر یہی ہے کہ انہوں نے خیرات کی اور سینیٹر بن گئے۔
س: آپ کسی کو جانتی ہیں جنہوں نے پیسے دیے؟
ج: پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس چل رہا ہے، اوور سیز پاکستانیوں کا پیسہ کن کن لوگوں نے کھایا، کچھ اور لوگوں نے الیکشن کمیشن میں کیس دائر کیا ہوا ہے اور عمران نیازی اس سے راہ فرار اختیارکررہے ہیں۔ جس طریقے سے آپ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی حمایت کر رہے ہیں، اس کی وجہ سے حامد خان نے استعفیٰ دیا۔ حامد خان نے اس پرکیس کیاکہ اس نے اپنے خاندان والوں کو اربوںکاٹھیکہ دیا، اس کو انکے دباﺅ میں استعفیٰ دینا پڑا۔جب آدمی اس قسم کی چیزوں میں ملوث ہوگا تو وہ کرپشن سے پاک پاکستان کیسے بنائے گا۔ نذرگوندل جس نے معذور افرادکے پیسے کھائے اور فردوس عاشق اعوان اب ان کے ساتھ ہیں اور بھی سیاستدان ہیں جیسے علیم خان جوکہ مافیاکے طور پر مشہور ہیں۔ جب اس قسم کے کرپٹ لوگوں کو آپ لے کر چلیں گے تو آپ کرپشن سے پاک پاکستان کیسے بنائیں گے۔
س: عمران خان پر بہت سے لوگ الزامات لگاتے ہیں کہ وہ نشہ آور ادویات استعمال کرتے ہیں، کیا آپ کو بنی گالا میں یا فون پر بات کرتے ہوئے کبھی محسوس ہواکہ وہ نشے کی حالت میں ہیں؟
ج: میری ان سے کبھی فون پر بات نہیں ہوئی، یہ غلط تاثر ہے، ان کی کبھی جرات نہیں ہوئی کہ مجھ سے فون پر بات کریں۔شروع میں ایک دفعہ میری ان سے فون پر بات ہوئی تھی اور نعیم الحق نے مجھے ان سے ایک دفعہ ملوایا تھاکہ چیئرمین آپ سے بات کرنا چاہ رہے ہیں اور انہوں نے میری ایک بات کو سراہا بھی تھا۔ اس کے بعد وہ میسجز تک محدود رہے۔ مجھے ان کے گھرکا نہیں پتہ، وہ لوگ بتا سکتے ہیں جو ان کو جانتے ہیں۔ مجھے انہوں نے میسجز بھیجے تھے مجھے صرف ان کا پتہ ہے۔
سوال: تحریک انصاف میں میرٹ کا کیا نظام ہے؟
ج: عمران خان نے ایک بات کی تھی کہ تحریک انصاف میرٹ پر بھرتیاں چاہتی ہے لیکن پارٹی میں میرٹ کا یہ حال ہے کہ پرویز خٹک کی رشتہ دار خواتین کو ممبر پارلیمنٹ بنایاگیا،کوئی ان کی بھانجی ہے، کوئی بھابھی ہے اور بھی پی ٹی آئی میں بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رشتہ داروں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سیٹیں دلوائیں۔خیبرپختونخوا میں ضمنی الیکشن میں بہت سے تحریک انصاف کے لوگوں کے بھائی، بہن اور رشتہ دار آئے۔یہ کون سا میرٹ کا نظام ہے جو عمران خان رائج کرنا چاہتے ہیں؟
س: کیا 2018ءمیں تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں حکومت بنا سکے گی؟
ج: میں نہیں سمجھتی کہ ایسا ہوگا، پرویز خٹک وہاں جوکام کر رہے ہیں اور انکی ساری حرکات کے تانے بانے بنی گالا سے ملتے ہیں۔ راشد خان جس کا فارن فنڈنگ کی منی ٹریل میں نام آیا ہے، وہ بینک آف خیبرکی ساری میٹنگز میں جاتا ہے، وہ یہ کس حیثیت میں کرتا ہے؟ اورپھر ان میٹنگز کی بریفنگ بنی گالا میں دیتا ہے۔ صوبائی ہائیڈرو انرجی کے سی ای اوکا میرٹ یہ ہے کہ وہ کسی بینک میں اسد عمرکا کولیگ تھا، اسکا انرجی کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں تھا۔اس کے خلاف بہت سے لوگ ہائی کورٹ میں گئے، پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس بندے کو ہٹانے کاکہا لیکن وہ ناتجربہ کار شخص صوبائی حکومت سے لاکھوں روپے تنخواہ وصول کر رہا ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ صوبائی حکومت سی ای اوکی تقرری کا طریقہ کار ہی تبدیل کر رہی ہے تاکہ اسی بندے کو سی ای او رہنے دیا جائے۔ پشاور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میں پرویز خٹک کا اپنا بندہ لگا ہوا ہے۔ وہ لوگوں کے شناختی کارڈ لے لیتے ہیں اورسیلاب زدگان سے شناختی کارڈ لےکر انکے پیسے خودکھا جاتے ہیں۔
س: 2018ءمیں عمران خان کے مدمقابل الیکشن لڑنے کا ارادہ ہے؟
ج: عمران خان میرے لئے کبھی بھی اہم شخصیت نہیں رہے، لوگ اس کو پوجتے ہیں لیکن میں نے کبھی اسکو اہمیت نہیں دی، عمران خان میری پیدائش سے پہلے کرکٹر تھے اور مجھے نہیں پتہ تھاکہ پی ٹی آئی نیازی کی پارٹی ہے۔جب انہوں نے ڈرون حملوں کے خلاف وزیرستان مارچ کیا، پھر مجھے لگاکہ عمران خان کی ڈرون حملوں کے بارے میں پالیسی بالکل عوام کی امنگو ں کے مطابق ہے۔ میرا مشن عوام کی خدمت کرنا ہے، جہاں عوام کو مسئلہ ہوگا، خواہ چائلڈ لیبرکا ہو، خواتین کا ہو، جو بھی پاکستانی عوام کے مسائل ہوں گے، میں انکے ساتھ کھڑی ہوں گی۔ عمران نیازی کے خلاف کھڑے ہونا میرا مقصد نہیں ہے لیکن انکی سیاست اب ایکسپوز ہو چکی ہے۔
س: 2018ءکا الیکشن آزاد امیدوارکی حیثیت سے لڑیں گی یاکسی اور پارٹی کے ٹکٹ پر؟
ج: تحریک انصاف میری اپنی پارٹی ہے، عمران خان کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔ پارٹی بہت سے لوگ مل کر بناتے ہیں۔ تحریک انصاف بنانے میں بہت سے لوگوںکاکردار تھا مگر عمران خان معروف تھے اس لیے انکو آگے کیاگیاکہ آپ جماعت کی قیادت کریں۔ پارٹی بنانے میں حمیدگل، غامدی صاحب سمیت اور بھی بانی اراکین شامل تھے جن میں سے کچھ پارٹی چھوڑ چکے ہیں،جسٹس(ر) وجیہہ الدین ان سے ناراض ہیں۔ پارٹی کا وژن اور منشور عمران خان نیازی نے نہیں بنایا، پارٹی کو اس مقام تک پہنچانے میں اور بھی بہت سے لوگوں کا کردار ہے۔ نوجوانوں نے ڈنڈے کھائے ہیں۔ نوجوانوں کی قربانیاں ہیں، غریب اور متوسط طبقے کی خواتین کی وجہ سے پارٹی کا یہ مقام ہے۔ پارٹی میں آنے کے بعد جو میں نے محنت کی اس کے صلے میں پارٹی ورکرز نے مجھے پارٹی کا مرکزی نائب صدر مقررکیا تھا اور اسکا نیازی صاحب کو پتا بھی نہیں تھا۔ میرےجوتے ٹوٹ گئے، خواتین کومتحرک کیا، راتوں کو تین تین بجے تک پولنگ سٹیشنز پر لسٹیں بنائیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو، میڈیااور پولیس کو ان ان جگہوں پر ل گئی جہاں جہاںدھاندلی ہو رہی تھی۔ انکو تو الیکشن کی سائنس کا پتہ بھی نہیں ہے اور میں ذاتی خرچے پر ان تمام لوگوں کو لےکر جاتی رہی ہوں اور عمران خان کہتے ہیں یہ ان کی پارٹی ہے، یہ پارٹی انکی نہیں ہے، یہ پارٹی میری ہے۔ جب میں پارٹی چھوڑنے والی تھی تو مجھے پارٹی ورکروں اور نوجوانوں نے روکاکہ پارٹی نہ چھوڑیں۔
س: عمران خان کی قیادت کے بارے میں پارٹی میں عام تاثرکیا ہے؟
ج:نیازی صاحب سے پارٹی کے بہت سے ارکان اور ورکر ناراض ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان پارٹی کی سربراہی کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں اور وہ مالی خرد برد میں بھی ملوث ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس کا وہ جواب نہیں دے رہے، سارے کرپٹ سیاست دانوں کو وہ جمع کر رہے ہیں اور نظریاتی کارکنان کو پیچھے کر رہے ہیں۔ ان بیچاروں کو صرف جلسوں میں بلا کر دھکے کھلواتے ہیں اور اسٹیج پر آپ کے ساتھ صرف کرپٹ سیاست دان بیٹھے ہوتے ہیں، پارٹی میں نوجوانوں اور خواتین کی کوئی قدر ہے نہ قانون سازی میں انہیں کوئی کردار دیا گیا ہے۔ سب مرد اور خواتین ورکرزکو صرف جلسوں کی حد تک استعمال کیا جاتا ہے۔ پڑھے لکھے نوجوان سمجھتے ہیں کہ پارٹی میں گالم گلوچ کا کلچر بہت زیادہ ہے،اس کلچرکو عمران خان نے فروغ دیا، مجھے گالم گلوچ کے کلچر پر بہت اعتراض تھا۔ عمران خان نے کبھی اپنے بیٹوں کو بلا کر دھرنوں میں بٹھایا؟کبھی انہوں نے اپنے بیٹوں کو نہیں کہا کہ آپ دھرنوں میں آکرگالیاں دیں۔ متوسط طبقے کے نوجوانوں کو تعلیم چھڑواکر دھرنوں پر آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی گالیوں سے کسی کی ماں بہن محفوظ نہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ اتنی شرمناک گالیاں دی جاتی ہیں۔ ناراض کارکنان نے مجھے کہاکہ آپ پارٹی میں ہماری سربراہی کریں۔ عمران خان صرف ان کرپٹ سیاست دانوں اور جاگیر داروں کے ساتھ رہ جائے گا جن کے پاس حرام کا پیسہ ہے۔ مجھ سے بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی میں دو دھڑے ہیں، ایک دھڑا میرے ساتھ ہے۔ میں پریڈگراﺅنڈ میں جلسہ کروں گی اور نیازی صاحب بھی دیکھیں گے۔ میں پورے پاکستان کا دورہ کروں گی اور پارٹی میں تنظیم سازی کروں گی۔ غریب اور مڈل کلاس خواتین کو پارٹی میں احترام دیا جائے گااور پڑھے لکھے ہونے کی بنیاد پر پارٹی میں عہدے دیئے جائیں گے۔کوئی بھی ارب پتی پارٹی میں شامل نہیں ہوگا۔
س: آپ اخلاقیات کی بات کرتی ہیں لیکن تحریک انصاف کی مخصوص نشست کیوں نہیں چھوڑ رہیں؟
ج: یہ پارٹی عمران خان کی نہیں ہے، میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں۔ میں نے این اے ون میں بہت قربانیاں دیں ہیں۔ میں میرٹ پر آئی ہوں۔ میرے خلاف نہیں، پرویز خٹک کے رشتہ داروں کے خلاف ریفرنس بھیجیں، انکو سیاست کا پتہ بھی نہ تھا اور راتوں رات ایم این اے بن گئیں۔ یہ اس طرح کی خواتین کا استحصال کرتے ہیں جن کو سیاست کا پتہ ہے اور دن رات محنت کرتی ہیں۔یہ سیٹ میری ہے، میں اس سیٹ کو نہیں چھوڑوں گی اور اسے عوام کی فلاح وبہبودکےلئے استعمال کروں گی۔
س: اگر آپ کے پاس عمران خان کی جانب سے کیے گئے ایس ایم ایس موجود ہیں تو میڈیاکوکیوں نہیں دکھا رہیں؟
ج:میڈیا ایس ایم ایس دکھانے کےلئے مناسب فورم نہیں۔ میں ہر قانونی فورم پر یہ ایس ایم ایس دکھانے کےلئے تیار ہوں۔ میڈیا میں ایسے ادارے ہیں جو اپنے مطابق ان کا مطلب نکالیں گے۔ میڈیاکی ذمہ داری ہے کہ وہ عمران خان پر دباﺅ ڈالیں کہ وہ پارلیمانی کمیٹی میں پیش ہوں۔ وہ پارلیمانی کمیٹی میں کیوں نہیں پیش ہوتے؟
س: ابھی تک جو آپ نے الزامات لگائے وہ الزامات ہی ہیں، کیا اگر عمران خان پیش نہیں ہوتے تو آپ کے پاس اورکیا لائحہ عمل ہے؟
ج: اس مسئلہ کا حل عمران خان نے نکالنا ہے۔ میں تو پیش ہونے کو تیار ہوں۔ میں اپنا موبائل فون بھی پیش کرنے کو تیار ہوں۔ کمیٹی میں تمام جماعتوں کے ایم این ایز بیٹھے ہوں گے۔ جب عمران خان پیش ہوں گے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ عمران خان اسمبلی میں میرے ڈرکی وجہ سے نہیں آتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے اہم اجلاس تھا اس میں بھی میرے خوف کی وجہ سے نہیں آئے۔ مردان اور صوابی کے جلسے بھی میرے ڈر سے منسوخ کردیے۔ خیبر پختونخوا بھی میرے ڈر سے نہیں جاسکتے۔حتیٰ کہ میرے خوف سے ڈینگی کے مریضوں کی بھی عیادت نہیں کی۔
سوال:کیا آپ عمران خان کی صرف کردارکشی کررہی ہیں، آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے؟
ج: عمران خان کی کردارکشی کی مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ اسکا ریکارڈ نکلوائیں کہ وہ کس قسم کا انسان ہے۔ اس کے اپنے خاندان والوں نے اسے عاق کیا ہوا ہے۔ میں نے بہادری کا مظاہرہ کیا جو اورکسی نے نہیں کیا۔ نیازی صاحب آئیں، اپنے آپ کو پیش کریں۔ ان کیمرہ سیشن ہے، ایک دو دفعہ پیش ہوجائیں۔ سچ اور جھوٹ عوام کے سامنے آجائے گا، اگر میں غلط ہوئی تو قوم مجھے سنائے اور مجھے غلط کہے اور مجھے تا حیات نا اہل کر دیا جائے۔
س: عمران خان سے اختلافات کی بنیادی وجہ این اے ون کا ٹکٹ نہ ملنا تھا؟
ج: این اے ون کا وفد لےکر میں عمران خان کے پاس گئی تھی۔ ٹکٹ کاکوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ پارلیمانی بورڈ ابھی تک نہیں بنا ۔کیا عمران خان کے ہاتھ میں این اے ون کا ٹکٹ تھا جو میں ان سے لینے گئی تھی۔ عمران خان سے اختلافات کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کورکمیٹی میں تمام پارلیمانی ممبران کے نام موجود تھے،میرا نہیں تھا۔ تحریک انصاف کا مرکزی میڈیا سیل بنا تھا جس کی قیادت شیریں مزاری کر رہی تھیں۔ وہ بھی جان بوجھ کر مجھے ٹی وی چینلز پر نہیں جانے دیتی تھیں۔
س: جب آپ عمران خان سے ملنے گئی تھیں جس کے بعد یہ سب منظر عام پر آیا، اس دن کیا ہوا تھا؟
ج:میں غریب لوگوں کا وفد لے کر بنی گالاگئی تھی، اسکی وجہ یہ تھی کہ پرویز خٹک ان لوگوں کی بات نہیں سنتے، عمران خان نے مجھ سے کہاکہ یہ غنڈے ہیں آپ انکوکیوں لے کر آئی ہیں۔ عمران خان کو انکی تذلیل زیب نہیں دیتی تھی۔ ان میں غریب لوگ تھے ،مزدور تھے اور رکشہ ڈرائیور تھے۔
س: بلین ٹری پراجیکٹ سے آپ کوکیا تحفظات ہیں؟
ج:بلین ٹری سونامی منصوبے کے ٹھیکیدار نے عمران خان سے ملاقات کی اور بتایاکہ5 لاکھ درخت لگائے گئے ہیں اور10لاکھ درخت ظاہر کئے گئے ہیں۔ اسکے علاوہ 17 لوگوں کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ 99 کروڑ درختوں کا دعویٰ آپ بھول جائیں، یہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ اس ساری صورتحال میں، میں سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ نیا پاکستان کیسے بنے گا؟
س:کیا آپ نے عمران خان کو شادی کی آفر دی تھی؟
ج: میں ایک ایم این اے ہوں اور جس طرح کی میری شخصیت ہے، کیا مجھے لوگوں کی کمی ہے؟ میرا دماغ خراب ہے کہ میں ایک ستر سالہ آدمی کے پیچھے جاﺅں گی۔ اصل میں یہ خیال اس کے دماغ میں ہے کہ ساری دنیا اسکے پیچھے ہے۔ عمران خان کو یونیورسٹی کا زمانہ یاد ہے جب لڑکیاں انکے پیچھے رہتی تھیں اور وہ اب تک اسی خیال میں رہ رہے ہیں۔وہ جس قسم کے آدمی ہیں، ان میں سیاسی دانش زیرو ہے اور وہ دوسروں سے پوچھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ عمران خان ورلڈکپ جیتنے کا غلط دعویٰ کرتے ہیں کیونکہ ورلڈکپ پوری ٹیم نے جیتا تھا اور اسکا کریڈٹ عمران خان اکیلے لیتے ہیں۔
سوال: کیا نعیم الحق نے آپ کو میسجزکئے تھے؟
ج: جب پارٹی میٹنگز میں خواتین بیٹھی ہوتی تھیں اور اگر نعیم الحق بھی وہاں ہوتے تو خواتین خود کو اچھے ماحول میں محسوس نہیں کرتی تھیں۔
س:عمران خان نے ریحام خان کو طلاق کیوں دی؟
ج: عمران خان آج بھی جمائماکی تعریفیں کرتے ہیں کیونکہ وہ ارب پتی باپ کی بیٹی ہے، ریحام خان چونکہ ایک عام پاکستانی تھی اسلیے اسکا سامان باہر پھینک کر اسے گھر سے نکلوادیا۔کیا ایک عام پاکستانی عورت کی یہی حیثیت ہے؟
س: آپ پارٹی کے اندرکیا تبدیلی لے کر آئیں گی؟
ج: یہ خواتین کےلئے محفوظ ترین پارٹی ہوگی۔ ہم تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے جس میںTransgender کا مسئلہ ہے، خواتین کے اور بہت سے مسائل ہیں۔ انشااللہ میں ان مسائل کو حل کرواوں گی۔ تحریک انصاف کا منشورکتابی شکل میں ہے، اسکو عملی شکل میں لائیں گے۔ عمران خان جلسوں اور ناچنے گانے والا کلچر لے کر آگئے ہیں اور صرف انکے اپنے ناچنے کی دیر رہ گئی ہے۔ انکے اپنے ناچنے سے لوگوں کی تعداد بہت بڑھ جائے گی۔ گانوں پر ہی لوگ آتے ہیں۔ ہمارے جلسوں میں نوجوانوں کوگالیوں سے روکا جائے گا۔
س:اپنی ذاتی زندگی اور تعلیم و تربیت کے بارے میں بتائیں۔
ج:میرا تعلق جنوبی وزیرستان، تحصیل شکئی سے ہے۔ احمدزئی اور وزیر قبیلہ ہے۔ میرے دادا اور میرے پرداداجناب امان اللہ خان صاحب کے ساتھ مشیر تھے۔
میں نے انٹرنیشنل ریلیشن میں گریجویشن کی اور ماسٹر ڈگری اسلامک سٹڈیز میں ہے۔ ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی تقابلی مذاہب میں کر رہی ہوں۔ میں صحافی بھی رہی ہوں اور خودکو ابھی بھی صحافی سمجھتی ہوں۔ دی نیوز میں بطور رپورٹر رہی اور رحیم اللہ یوسفزئی کے ساتھ کام کیا۔میں نے 2006 ءمیں پیپلز پارٹی جوائن کی، 3 نومبر 2007 ءمیں ایمرجنسی لگی تو میں نے خیبرایجنسی میں بہت بڑا جلوس نکالا اور مجھے پولیٹیکل ایڈمنسٹریٹر نے گرفتارکروادیا۔
س:اگر سیاست دان نہ ہوتی تو کیا ہوتیں؟
ج: مذہبی سکالر ہوتی۔ ڈاکٹر ذاکر نائک، مولانا طارق جمیل اور جاوید احمد غامدی سے بہت متاثر ہوں۔
س: کھیل کون سا پسند ہے؟
ج: ٹینس کھیلتی ہوں۔سکواش بھی کھیل لیتی ہوں۔
سوال: کھانے میں کیا پسند ہے؟
ج: کھانے میں پاکستانی کھانے پسند ہیں زیادہ تر۔
سوال: فلمیں دیکھتی ہیں؟
ج:کبھی کبھی دیکھ لیتی ہوں۔ ڈاکومینٹریز پسند ہیں۔
س:پاکستانی سیاستدان کون سا پسند ہے؟
ج:مجھے جنرل مشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ پسند ہیں۔
س:نوجوان نسل کے لیے کوئی پیغام ؟
ج:نوجوان نسل ہمارا اثاثہ ہیں ،یہ تمام تر توجہ اپنی تعلیم پر دیں اور خود کو ذہنی غلامی میں مبتلا نہ کریں۔

انٹر ویو : عمران علی  فوٹو گرافی: افراہیم پرویز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...