انتہاپسند ذہنیت اب یونیورسٹی میں

377

قطع نظر اس کے کہ کس نے یہ تجویز دی تھی تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی اداروں کی  مداخلت ایک خوفناک خیال ہے. امید ہے کہ اس پزیرائی نہیں ہو گی کیونکہ یہ  تعلیم اور سیکورٹی اصلاحات میں ایک اور ناکامی ثابت ہوگی۔

انصار الشریعہ نامی گروپ سے وابسطہ کراچی کے چند یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ دہشتگردوں کی گرفتاری پر میڈیا نے یہ تاثر دیا ہے کہ  یونیورسٹیاں  پرتشدد  انتہاپسندی کے لیے زرخیز زمین بن چکی ہیں ،یہ ایک پیچیدہ رجحان کی سادہ تعبیر ہے۔

جامعات کو  سیکیورٹی اداروں کے ذریعے کنٹرول کرنے کی تجویز   جتنی بری ہے  اتنا ہی کچھ سرکاری اداروں  کی جانب سے اس تجویز کا خیرمقدم کرنا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے کہ پرتشدد انتہاپسندی(جوکہ ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے )سے نمٹنے والوں میں  نہ صرف تجرباتی حکمت بلکہ  تعلیمی اداروں  کی بابت ان میں فہم کی بھی کمی ہے ۔یونیورسٹیوں میں  ایک آزاد اور  بہتر فکری و تحقیقی  ماحول فراہم کرنے کی بجائے حکومت بظاہر  تعلیمی اداروں کو محض ڈگریاں دینے والی فیکٹیریاں سمجھتی ہے۔شاید اسی وجہ سے  حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ایک کنٹرول ماحول میں بھی یہ  مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔اس طرح کے اقدامات سے بہر حال  یونیورسٹیوں میں تعلیمی بحران  میں اضافہ ہو گا۔

انتہاپسندی کا چیلنج  اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جتنا کہ اسے پالیسی سازوں نے سمجھا ہے اور اس کی جڑیں کہیں گہری ہیں۔  انتہاپسند رجحانات   معاشرے کے تمام طبقات میں مشترک ہیں قطع نظر ان کی سماجی اقتصادیات اور تعلیمی پس منظر کے۔سندھ کے انسداد دہشتگردی  ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے  گزشتہ سال سامنے آنے والی تحقیق نے  زیرحراست ۵۰۰ مشتبہ عسکریت پسندوں  کے متنوع تعلیمی پس منظر کا انکشاف کیا ہے۔تحقیق کے مطابق ۲۰۲ افراد  نے بالکل تعلیم حاصل نہیں کی جبکہ تعلیم یافتہ افراد میں  ۱۳۴ کے پاس  بیچلر یا ماسٹرز کی ڈگریاں تھیں، ۶۳ کی تعلیم میٹرک جبکہ ۱۰۱ افراد نے نویں کلاس تک تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ان مشتبہ افراد کا ادارتی پس منظر بھی مختلف تھا کیونکہ ۱۶۹  نے مدارس کے تعلیم یافتہ تھے،۹۸ نے سرکاری جبکہ ۹۲ نے پرائیویٹ اداروں سے تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں میں تشدد آمیز یا غیرمتشدد  انتہاپسندی کے رجحانات  باعث تشویش ہیں کیونکہ وہ  تکنیکی طور پر ہنرمند  اور تعلیمی لحاظ سے مضبوط افراد کی نمائندگی کرتے ہیں،اور اس طرح کی انتہاپسندی قوم کے ٹیلنٹ کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس طرح کے  پڑھے لکھے افراد  نے دہشت گرد گروپوں کو نئی توانائی بخشی ہے جیسا کہ انصار الشریعہ کے معاملے میں ہوا  جس نے حالیہ دنوں میں کراچی میں تشدد کی اک نئی لہر کو ہوا دی ہے۔

جس حد تک  تعلیمی اداروں کا نصاب  انتہاپسند ذہنوں کی تعمیر میں کردار ادا کرتا ہے اس پر بحث کی جاسکتی ہے تاہم ایک بات واضح ہے کہ کچھ ایسے مذہبی نظریات  اس ملک میں موجود ہیں جو تشدد آمیز یا غیر متشدد انتہاپسندی کے عامل کے  طور پر بڑی سطح پر  کام کر رہے ہیں۔یہ نظریات بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں  اور  نظریاتی بنیاد پرستی یا انتہاپسندی کسی بھی جگہ جنم لے سکتی ہے  بشمول تعلیمی اداروں،مساجد،گھروں اور محلوں کے، حتی کہ  سائبر سپیس  میں بھی۔

اس حقیقت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ مذہبی سیاسی جماعتوں،فرقہ وارانہ ،خیراتی ،بنیاد پرست اور کالعدم  تنظیموں کے طلبہ ونگ اب بھی جامعات میں فعال ہیں۔طلبہ میں مذہبی انتہاپسندی کے فروغ میں ان ونگز کا کلیدی کردار ہے اور اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے ان کے زیر تصرف پورا سسٹم ہے۔وہ مسلسل بنیاد پرست لٹریچر اور مطبوعات پر انحصار کرتے ہیں  اور نہ صرف  مطبوعہ شکل میں بلکہ سی ڈی ، ڈی وی ڈی اور سوشل میڈیا کے ذریعہ  بھی  اپنا پیغام عام کرتے ہیں،اس کا انحصار اس امر پر ہوتا ہے کہ ان کا ہدف کون سا  گروہ یا طبقہ ہے۔مثال کے طور پر داعش اور القاعدہ جیسی عسکریت پسند تنظیموں اور اور حزب التحریر جیسی بنیاد پرست تنظیموں  کے لیے پروپیگنڈے اور بھرتیوں کے لیے سوشل میڈیا ایک اہم ذریعہ ہے۔فرقہ وارانہ اور قبائلی عسکریت پسند اب بھی  مطبوعات کو ترجیح دیتے ہیں تاہم وہ بھی بڑی تیزی کے ساتھ کمیونیکیشن کی مختلف ایپلی کیشنز کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بنیاد پرستی ایک حالیہ رجحان نہیں ہے۔ سرکاری تعلیمی ادارے  ۱۹۸۰ سے ریاست کی زیرسرپرستی عسکریت پسندوں  کا بنیادی ہدف رہے ہیں تاکہ جہادی کلچر کو ملک میں فروغ دیا جا سکے۔شاید ہی کوئی  ایسی بستی ہو گی جہاں کشمیر یا افغانستان کے شہدا کے نام پرمنسوب گلی یا سٹرک نہ ہو ،اور ان میں سے اکثریت کسی سکول،کالج یا یونیورسٹی کی پڑھی ہوئی تھی۔

نائن الیون کے بعد  عسکریت پسندوں کے لیے مشکل ہو گیا کہ وہ اپنی بھرتیوں کے لیے عوامی مقامات پر مہم چلا سکیں۔متبادل کے طور پر انہوں نے مخفی ناموں کے ساتھ  اپنے طلبہ ونگ بنائے اور پھر انہوں نے اساتذہ کو  ہدف بنا کر  جامعات میں جہادی مطالعہ کے حلقے بنانے پر ان کی حوصلہ افزائی کی ۔۲۰۰۷ میں لال مسجد آپریشن کے بعد  انہوں نے اپنی حکمت عملی میں ترمیم کی اور مواصلات  کے ذرائع کو تبدیل کیا اور بھرتیوں کے عمل کو جدید  خطوط پر استوار کیا۔گزشتہ ایک  دہائی کے دوران ملک میں بین الاقوامی،علاقائی اور  مقامی عسکریت  پسند اور بنیاد پرست گروپوں کی متعدد اقسام  میں اضافہ ہوا ہے،وہ اپنے مطالبات کو زیادہ پرکشش بنانے کے لیے مقابلہ کرتے ہیں اور پھر  بہتر دماغوں کو مسخر کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

مذہبی محرکات کی بنیاد پر  بنیاد پرست اور  عسکریت پسند  اب بھی اعلانیہ یا مخفی طور پر جامعات میں سرگرم ہیں جبکہ   انتظامیہ بنیادپرستوں سے خائف ہے اور اسی وجہ سے ان کے خلاف  کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔ حکومت نہ تو انتظامیہ کو کوئی تحفظ دینے کے لیے تیار ہے نہ ہی خود کوئی ایکشن لیتی ہے۔حکومت اور انتظامیہ دونوں   جامعات میں متبادل اور اعتدال پسند آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

طلبہ یونین پر پابندی  جامعات کے تعلیمی اور جمہوری ماحول کو بری طرح متاثر کرتی ہے،اس بات کا خوف کہ  طلبہ گروپ  ماحول کو خراب کریں گے  کوتاہ نظری پر مبنی ہے۔اس موضوع  پر ہونے والی اکثر تحقیقات  یہ سفارش کرتی ہیں کہ  طلبہ یونین کی قلیل المیعاد  کشیدگی کے عذر کی بنیاد پر ان کے طویل المیعاد اثرات کی بیخ کنی نہیں کرنی چاہیے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ  مذہبی اور عسکری تنظیموں کے  طلبہ ونگز پر پابندی عائد کرے اور بنیاد   پرست گروپوں کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کو توڑنے پر  اپنی توجہ مرکوز کرے ۔

یہ اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب طلبہ کو  کھلی تعلیمی اور سیاسی فضا میں  رہنے کی اجازت دی جائے، سیکیورٹی کی تحویل میں جانے سے جامعات کی   فضا مزید تنگ ہو کر رہ جائے گی ۔ رہا مسلہ انتہاپسندوں کا تو وہ  اپنی بقا  اور آگے بڑھنےکے لیے نئے راستے تلاش کر لیں گے۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں کی انتظامیہ  اپنے اداروں کو انتہاپسندوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ازخود کچھ اقدامات کر سکتے ہیں۔وہ طلبہ اساتذہ کی نگران کمیٹیاں بنا سکتے ہیں جو  کہ اپنے احاطے میں بنیادپرست گروپوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور   اشتراک اور مکالمے کی ثقافت کو فروغ دیں ۔حکومت  اساتذہ کو خطرے سے چوکنا رہنے کے لیے حساس بنائے اور اس مقصد کے لیے وقتا فوقتا کورسز رکھے جاسکتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ طلبہ اور اساتذہ کے ذہنوں میں مزید تخلیقی اور عملی حل موجود ہوگا،انتظامیہ اور حکومت ان کو سنے  اور ملک کی جامعات کو محفوظ و مامون بنانے کے لیے اجتماعی فیصلے میں انہیں بھی شریک کرے۔

(بشکریہ : ڈان ، ترجمہ : عاطف ہاشمی)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...