گلگت بلتستان میں احتجاج کا موسم

406

گلگت بلتستان میں اپوزیشن جماعتیں اور عوامی ایکشن کمیٹی پھر سے قریب آرہی ہیں اور عوامی ایشوز کو لے کر احتجاج کے عمل کو تیز کرنے بلکہ سڑکوں پر آنے کی تیاریاں ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ اگرچہ حکومت اپنی پوری کوشش کر رہی ہے کہ عوام کو شکایت کا موقعہ نہ دےبالخصوص بلتستان ریجن کے عوام جو بلتستان ریجن کے میگا پراجیکٹس پر کام نہ ہونے کے حوالے   سے شاکی تھے،ان کی  شکایت دور کرنے کے لئے    بلتستان سے متعلق بڑے منصوبوں پرکام بھی شروع کرادیا گیا ہے ۔  سب سے اہم منصوبے جگلوٹ سکردو روڈ کی تعمیر اور  سکردو شہر کے اندر کی تمام سڑکوں  کو پھر سے پختہ کرنا ہے۔ جگلوٹ سکردو روڈ کے منصوبے کا سنگ ِ بنیادسابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے 14 اپریل 2015 کو گلگت میں ایک تقریب میں رکھا تھا     لیکن اس منصوبے پر کام شروع ہونے میں دو سال سے بھی زیادہ کا عرصہ اس لئے لگا کیونکہ جب اس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا گیاتھا تب اس بڑے منصوبے کا پی سی ون منظور تھا  نہ یہ منصوبہ ایکنک  اور سی ڈی ڈبلیو پی جیسے فورمز میں پیش ہواتھا ۔ ان دوسالوں میں گلگت  بلتستان     کے عوام اس منصوبے پر کام شروع کرانے کےلئے سر ڈھڑ کی بازی لگاتے رہے اور پُر امن احتجاج کا ہر حربہ استعمال کرتے رہے بلکہ سوِل سوسائٹی کی کچھ تنظیموں نے   احتجاجی جلسوں میں سخت لب و لہجہ بھی استعمال کیا جن پر مقدمات بھی قائم ہوئے ۔یہ ایک  اہم ترین مسئلہ تھا جس کے لئے مسجدو محراب سے بھی زور دار طریقے سے آواز بلند ہوتی رہی بلکہ محراب سے اس منصوبے  پر کام شروع نہ ہونے کی صورت میں بلتستان ریجن کے  ارکان اسمبلی                کو اسمبلی رُکنیت سے مستعفی  ہونے پر دباو  ڈالا گیا ۔ یہ سڑک بلتستان ریجن کے چار                     اضلاع  کے لوگوں  کی لائف لائن ہونے کے ساتھ ساتھ اس خطے میں سیاحت کو فروغ دینے   میں مرکزی کردار کی حامل ہے۔ ان سب سے بڑھ کر یہ سڑک سیاچن اور کرگل سیکٹر کے اس حساس   خطےمیں ملک کے لئے  دفاعی نکتہ نگاہ سے بھی  اس کی بڑی اہمیت ہے  ۔ ان ہمہ جہت خصوصیات کے باعث  اس منصوبے پر غیر معمولی تاخیر پرعوام  کی جانب سے احتجاج کرنا  بنتا  تھا ۔عوام کو اپنے منتخب نمائندوں سے بھی شکایت رہی کہ اس منصوبے کے لئے اِن نمائندوں نے زیادہ لڑائی نہیں لڑی جبکہ حقایق  تو یہ ہیں کہ گلگت  بلتستان  کے آئینی مسئلہ اور گلگت سکردو    روڈ کے منصوبے کو لیکر  حکمران جماعت کے بلتستان  سے   تمام منتخب  نمائندوں نے ایکا کر لیا تھا  اور یہ مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں حکمران جماعت میں شامل ہونے کے باوجود    سخت ترین احتجاج  کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ ایک رُکن اسمبلی نے تو یہ کہہ کر حد کردی  تھی کہ جگلوٹ سکردو    روڈ نہ بننے کی صورت  میں   اِسی روڈ   پر خود کُشی کروں گا۔ وزیر اعلی  حافظ حفیظ الرحمن نے اس دھمکی کے جواب میں کہا تھا کہ رُکن ِاسمبلی جب خوُد کُشی کرے گا تو حکومت اُسی مقام پر یادگاری مقبرہ تعمیر  کرے گی۔ بہرحال اس روٹ کے منصوبے   کے تصّور کو  شرمندہِ تعبیر کرانے کے لئے  طویل جد و جہد کی تاریخ رقم کرنے کے بعد اب اس منصوبے پر کام شروع ہونے کا مرحلہ آگیا ۔کام شروع ہونے پر بلتستان کے عوام     اِسے  خوش آئند قرار دےرہے ہیں  لیکن ن لیگ کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان دونوں بڑے منصوبوں پر کام شروع ہونے کے باوجود عوامی سطح پر موجود تحفظات اور تشویش  میں کمی نہیں آرہی ہے۔ سکردو شہر کے اندر کی سڑکوں    کو پھر سے پُختہ کرنے کے منصوبے  کا افتتاحی جلسہ گلگت  بلتستان کے سینیر وزیر برقیات و خزانہ حاجی اکبر تابان، گلگت بلتستان کونسل میں قائمہ کمیٹی کے چیرمین اشرف صدا    اور رکن گلگت بلتستان کونسل وزیر اخلاق حسین نے کیا تھا جس کے ساتھ ہی سڑک  پر کام شروع کردیا گیا  لیکن ابھی اس     منصوبے پر کام کوپانچ  دن سے زیادہ      عرصہ نہیں گزرا تھا کہ خود حکومتی  وزرا   نے اس منصوبے کے لئے اختیار کئے گئے ٹینڈر  کے عمل کو خلاف ضابطہ قرار دیتے ہوئے کام رکوا    دیا  ،جس سے جہاں بلتستان میں بڑے منصوبوں سے متعلق عوامی حلقوں میں موجود تشویش اور تحفظات کو تقویت ملی وہیں محکمہ تعمیرات عامہ میں جاری ٹینڈر پراسس کی شفافیت  پر تسلسل سے  اُٹھنے والے سوالات کے لئے بھی جواز فراہم ہوا۔اب عوام اور سول سوسائٹی  ایک بار پھر  اس مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر آگئے ہیں  کہ سکردو شہر کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں کو پھر   سے پُختہ کرنے کے منصوبے پر روکے گئے کام کو پھر سے شروع کیا جائے۔جہاں تک جگلوٹ سکردو روڈ کے منصوبے کا تعلق ہے اس حوالے  سے بھی عوامی حلقوں میں کسی نہ کسی سطح پر تحفظات  موجود ہیں  ۔ اس منصوبے کے حوالے سے یہ  کہا   جا رہا ہے ماضی کی نسبت اب کی بار اس روڈ کی توسیع و تعمیر کے منصوبے کا ڈیزائن  تبدیل کرکے سڑک کی چوڑائی کو کم کردیا گیا ہے۔لہذا منصوبے پر کام شروع کرنے کے عمل کو سراہنے کے ساتھ ساتھ سڑک کے توسیعی منصوبے کے ڈیزاین میں تبدیلی نہ کرنے کےمطالبات ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔

دوسری جانب یہ اطلاعات میڈیا میں آرہی ہیں کہ حکومت نے گلگت بلتستان میں گندم کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی ہے اور گندم کی قیمت میں فی کلو دو روپے کا  اضافہ کیا جارہا ہے اور گندم کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ آنے والے مہینوں میں بھی جاری رہے گا۔ گندم کی قیمت میں اضافے کی اطلاعات پر عوامی حلقوں میں تشویش موجود ہے اور اس مسئلے پر عوام کو سڑکوں پر لانے کے لئے تیاریاں بھی ہو رہی ہیں ۔اس حوالے سے مختلف سیاسی و دینی جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل عوامی ایکشن کمیٹی کوپھر سے منظم ہو کر احتجاج کی جانب بڑھنے کے امکانات موجود ہیں کیونکہ گلگت  بلتستان کے لوگ گزشتہ 71 سالوں سے آئینی و جمہوری حقوق سے محروم  ہیں جو گلگت بلتستان کے تمام  بڑےمسائل کی جڑ ہے ۔اس اہم ترین مسئلے کے حل کے لئے آج تک کوئی قابل ذکر   احتجاج  نہیں کیا گیا ہے مگر گندم کی قیمت  کے مسئلے   پر ماضی میں تمام سیاسی و دینی جماعتیں آپس کے تمام تر اختلافات کو بُھلا کر دو ہفتے سے زیادہ عرصہ   سکردو یاد گار چوک پر دھرنا دیکر بیٹھی رہیں ڈٹی رہیں  اور سیاسی و مذہبی قائدین اس دھرنے   کے لئے گلگت  سے  سکردو آکر  شامل ہوتے رہے یہاں تک کہ مطالبات منوا کر ہی یہاں سے اُٹھے۔ اس پس منظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب پھر سے احتجاج کا موسم آگیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...