ہماری باری آ چکی ہے

843

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی پالیسی کا اعلان کردیا ہے جس سے یہ واضح ہورہا ہے کہ آنے والے دن  پاکستان کے لیےکئی چیلنجز لے کر آ رہے ہیں ۔ امریکی صدر نے کہا کہ اس پالیسی کی تیاری میں انہوں نے کئی مہینے صرف کئے اور گزشتہ جمعہ کو  کابینہ کے اراکین ، فوجی ماہرین اور قومی سلامتی سے وابستہ افراد کے ساتھ اس پالیسی کے مندرجات کو حتمی شکل دی اور اعلان سے قبل نیٹو کے ممبران اور اتحادی ممالک کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں لیا گیا  ۔

امریکی صدر کے مطابق  افغان جنگ امریکی تاریخ کی طویل ترین  جنگ ہے جس کا ہنوز کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ،بلکہ وہاں دنیا کی 20دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں اور یہ دنیا کے کسی بھی خطے میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی سب سے بڑی تعداد ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان تنظیموں کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں ۔ہم نے پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دی ،ہماری فوج نے ان کے ساتھ مل کر کام کیا مگر ا س کے باوجود وہ پراکسی  کا شکار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کا تعلق پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات سے بھی ہے ۔دونوں ممالک جوہری طاقتیں ہیں ۔ہم جوہری ہتھیار کسی دہشت گرد کے ہاتھ نہیں لگنے دیں گے ۔

امریکی صدر کے الفاظ میں پاکستان کے لئے اقتصادی ، فوجی اور عالمی ہر طرح کی دھمکیاں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہیں اور درحقیقت یہ  الفاظ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد اس وقت کے پاکستانی صدر مشرف کو امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کی جانب سے کی جانب والی فون کال سے بھی زیادہ سخت کہے جا سکتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے ہمارا ساتھ نہ دیا تو ہم پاکستان کو پتھر کے دور میں پہنچا دیں گے۔ آ ج بھی امریکہ نے  اسی طرح کی زبان استعمال کی ہے ۔

ایک ردعمل تو یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر گرانا چاہتا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ ہمیں سوچنا ہو گا کہ کیا ہم سے اس سلسلے میں کوئی غلطیاں ہوئی ہیں ۔ امریکہ ایک عرصے سے حقانی نیٹ ورک ،افغان طالبان اور القاعدہ سمیت کئی دہشت گرد تنظیموں کی نہ صرف پاکستان میں موجودگی کی بات کرتا آیا ہے بلکہ یہاں تک کہتا ہے کہ پاکستان ان کی مدد کرتا ہے ۔ اسامہ بن لادن اور افغان طالبان سربراہ  ملا اختر منصور سمیت کئی سرکردہ رہنما پاکستان میں امریکی  آپریشنز میں  ہلاک کئے گئے مگر اس کے باوجود پاکستانی ادارے  بیدار نہیں ہوئے بلکہ پاکستان کی خاموشی نے امریکہ کو ایک ایسی دستاویز تیار کرنے میں مدد فراہم کی ہے جس میں ہمارے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ باقی نہیں بچا ۔

ہمیں سوچنا چاہئے کہ اگر ہم کشمیر یوں کی حمایت کرتے ہیں تو دنیا ہماری بات کو وزن کیوں نہیں دیتی ؟ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہم ایک ایسے افغانستان کا خواب کیوں دیکھتے ہیں جس کی حمایت  افغان عوام نہیں کرتے ؟ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لیناہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں  اپنے ہزاروں لوگ مروانے کے باوجود ہم دہشت گردوں میں "اچھے اور برے ” کی تقسیم کا کیوں شکار ہیں ؟

جماعت الدعوۃ،لشکر طیبہ ، جیش محمد ، جماعت الاحرار ،حرکت المجاہدین سمیت  کئی تنظیمیں جو پاکستان میں اپنا وسیع نیٹ ورک رکھتی ہیں  امریکہ نے ان پر پابندی لگائی مگر ان میں سے کئی  تنظیمیں نام بدل کر سامنے آ گئیں ۔جماعت الدعوۃ  کی کوکھ سے ایک سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ بھی حال میں رجسٹر ڈ ہونے کے مرحلے میں ہے جبکہ حرکت المجاہدین پاکستان میں انصار الامہ کے نام سے سرگرم ہے۔یہ ساری صورتحال دنیا کو ہمارا ایک ایسا چہرہ دکھاتی ہے جہاں ہم مسائل کو حل کرنے میں نہیں بلکہ انہیں بڑھاوا دینے میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں انڈیا کی جو تعریف و توصیف کی اس میں بھی ہمارے لئے  خیر کا  کوئی پیغام نہیں ہے ۔ ہم اب مشرق و مغرب سے گھیراؤ میں آنے والے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے  کسی ایسی صورتحال کے لئے تیار تھے ؟اور کیا وہ جانتے ہیں کہ ہماری سلامتی کن شدید  خطرات میں  گھر چکی ہے اور ان حالات میں ہمارے پاس کیا آپشن بچے ہیں ؟

یقیناً ہمارے پاس سوچنے کا وقت گزر چکا ہے ۔ہمارا داخلی و سیاسی بحران بھی قومی سلامتی کی نفی کر رہا ہے اور اگر  گہرائی سے دیکھا جائے تواس سیاسی بحران کی جڑیں بھی کہیں نہ کہیں ایسی ہی پالیسیوں میں پیوست نظر آتی ہیں ۔ہمیں سوچنا چاہئے کہ اگر ہم کشمیر یوں کی حمایت کرتے ہیں تو دنیا ہماری بات کو وزن کیوں نہیں دیتی ؟ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہم ایک ایسے افغانستان کا خواب کیوں دیکھتے ہیں جس کی حمایت  افغان عوام نہیں کرتے ؟ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لیناہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں  اپنے ہزاروں لوگ مروانے کے باوجود ہم دہشت گردوں میں "اچھے اور برے ” کی تقسیم کا کیوں شکار ہیں ؟

ہمیں سوچنا ہو گا ورنہ دنیا ہمیں عراق ، لیبیا اور شام بنا دے گی  کیونکہ ہماری باری آ چکی ہے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...