پاکستان کی معیشت کے ستر سال

157

 

1947۔ قائد اعظم نے 26 ستمبرکوپاکستان کی پہلی ٹیکسٹائل مل "والیکہ” کا سنگ بنیاد رکھا۔

1948۔ وزیرخزانہ ملک غلام محمد نے 28 فروری کو پہلا بجٹ پیش کیا۔

1948۔  یکم جولائی کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح ہوا۔

1948۔ پہلے کرنسی نوٹ 1 اکتوبرکو جاری ہوئے۔

1948۔ معیشت کو بڑھانے کے لئے حکومت نے 5 سالہ اقتصادی  منصوبہ  تیار کیا

1949۔ نیشنل بینک آف پاکستان شروع ہوا۔

1950۔  11 جولائی کو پاکستان بین الاقوامی مانیٹری فنڈ یا عالمی بینک کا رکن بن گیا۔

1953۔ پاکستان نے امریکہ کے متنازعہ پی ایل ۔ 480، خوراک کے امدادی پروگرام کے تحت 10500 ٹن گندم درآمد کی۔ شکریہ امریکہ ۔ امریکہ کے ساحل سے گندم سے بھری بوریاں اونٹوں پرلدی ہوئی آرہی تھیں۔

1955۔ پہلا 5 سالہ منصوبہ شروع ہوا۔

1955۔ 10 جولائی کو پاکسان انٹرنیشنل ایئرلائینزکا قیام عمل میں آیا جب حکومت نے اورینٹ ائیرویزکو قومی بنایا۔

1955۔  کراچی کو سوئی گیس اپریل میں پہنچی۔

1956۔ روس کے ساتھ پہلےتجارتی معاہدہ پر 27 جون کو دستخط ہوے۔

1959۔ برآمدی بونس واوچرز سکیم اورٹیکس مراعات متعارف ہوئے۔

1959۔ یونائیٹڈ بینک 24 جولائی کو قائم ہوا۔

1959 ۔ صدر ایوب نے جنوری میں پہلی زرعی اصلاحات متعارف کروائیں ۔

1960۔ پاکستان اور انڈیا نے 19 ستمبرکو انڈس پانی کے معاہدہ پر دستخط کیے۔

1960۔  اکتوبرمیں انعامی بانڈزمتعارف ہوئے۔

1961۔ جنوری میں وارسک ڈیم کا افتتاح ہوا۔

1961۔ اعشاری سکہ یکم جنوری کو متعارف ہوا۔

1963۔ گندھارا صنعت کا قیام اپریل میں آیا۔

1963۔ یکم جنوری کو قومی سرمایہ کاری ٹرسٹ قائم ہوا۔

1963۔ چین کے ساتھ پہلے تجارتی معاہدہ پر 5 جنوری کو دستخط ہوے۔

1966۔ حبیب بینک پلازے کا سنگ بنیاد 12 نومبرکو رکھا گیا۔

1967۔ پاکستان کی پہلی سٹیل مل کا افتتاح 24 اگست کو چٹاگانگ میں ہوا۔

1971۔ ڈھاکہ کے الگ ہونے کے بعد صنعتی بیس سکڑگیا۔

1971 ۔ قراقرم ہائی وے 16 فروری کو کھولا گیا۔

1972۔ وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹونے2 جنوری کو نیشنلائزیشن کا پروگرام شروع کیا۔

1972۔ پاکستان نے دولت مشترکہ کے ساتھ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے پر30 جنوری کو تعلقات ختم کردیے۔

1972۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کا قیام نومبرمیں عمل میں آیا۔

1972۔  یکم مئی کو پہلی مرتبہ یوم مزدورمنایا گیا۔

1973۔ پاکستان سٹیل ملز کا سنگ بنیاد 30 دسمبرکو رکھاگیا۔

1973۔ دسمبرمیں افراط زرکی شرح سب سے زیادہ 37.8 فیصد تک پہنچ گئی۔

1974۔ اپریل میں پہلی ​ڈرائی پورٹ​ کا افتتاح ہوا۔

1975۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے 27 جولائی کو ربا ختم  کرنے  زکوٰۃ وصول کرنے کی تجویز دی۔

1976۔ تربیلا ڈیم مکمل ہوا۔

1977۔ 5 جنوری کو تیسری ​زرعی اصلاحات​ متعارف ہوئیں۔

1979۔ زکوٰۃ وعشر آرڈیننس فروری میں منظورہوا۔

1980۔ پہلا بحری جہاز 30ستمبرکو پورٹ قاسم بندرگاہ میں اتاراگیا۔

1981۔ اسلامی بینکاری یکم جنوری کو متعارف ہوئی۔

1984۔ حکومت نے رقم صاف کرنے کی سکیم شروع کی۔

1985۔ پاکستان سٹیل ملزکا افتتاح 15 جنوری کوہوا۔

1987۔ 1000 روپے والے کرنسی نوٹس 18 جولائی کو جاری ہوئے۔

1988۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف) کے ساتھ پہلا ایڈجسٹمنٹ ساخت کا معاہدہ ہوا۔

1989۔ وزیراعظم بےنظیربھٹو نے خواتین کی خصوصی ضروریات کوپورا کرنے کے لیے یکم دسمبرکو خواتین کا پہلا بینک کھولا۔

1989۔ پاکستان دولت مشترکہ میں دوبارہ شامل ہوا۔

1991۔  جنوری میں پاکستان میں موبائل فونزآئے۔

1991۔ وزیراعظم نوازشریف نے آزاد اقتصادی پرگرام شروع کیا۔

1991۔  کراچی اسٹاک ایکسچینج 100 انڈکس  کا معیار1000 پوائنٹس بیس کے ساتھ شروع ہوا۔

1992۔ زرد کیب ٹیکسی سکیم شروع ہوئی۔ جس میں 15 فیصد رقم دینے پرگاڑٰی کی ملکیت حاصل ہوجاتی  تھی۔

1992۔ کراچی ائیرپورٹ کے جناح ٹرمینل کا افتتاح 26 اگست کوہوا۔ اوراس کی تعمیرپر55 ارب روپے خرچ ہوئے۔

1993۔  فائبرآپٹیک ٹیکنالوجی پاکستان میں آئی۔

1994۔ مہران بینک سکینڈل منظرعام پرآیا۔

1996۔ پاکستان میں ا​انٹرنیٹ سروسز​ ستمبرمیں شروع ہوئیں۔

1997۔ وزیراعظم نوازشریف نے قرض اتاروکی مہم شروع کی۔

1997۔ ملک کی پہلی موٹروے کا افتتاح 26 نومبرکوہوا۔

1998۔ حکومت نے مئی میں جوہری دھماکوں کے بعد بیرونی کرنسی کے اکاونٹ منجمد کردیے ۔ امریکہ، جاپان اوردوسرے ملکوں نے پاکستان پرمعاشی پابندیاں لگائیں۔

2000۔  میلنیم ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیےاقوام متحدہ کے 6 سے 8 ستمبر کے میلنیم سربراہی اجلاس کا آغاز ہوا۔

2001۔ چشمہ جوہری توانائی پلانٹ کا افتتاح 29 مارچ کو ہوا۔

2001۔  9/11 کے بعد امریکہ نے پاکستان کو اربوں ڈالردینا شروع کیے۔

2006۔ مشرف انتظامیہ نے مارچ میں پاکستان سٹیل مل کو فروخت کیا  جبکہ جون میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسکی فروخت روک دی۔

2006۔ 5000 ہزارروپے کے نوٹ 26 مئی کو جاری ہوئے۔

2008۔ حکومت ادائیگی کے توازان کا  بحران کم کرنے کے لئے انٹرنیشنل مانیٹیری فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے استحکام پروگرام میں شامل ہورہی ہے۔

2008۔ سٹاک مارکیٹ نے 20 اپریل کو 15760 پوائنٹس کا ریکارڈ بنایا لیکن اگلے چارمہینوں میں کراچی اسٹاک ایکسچینج 100 انڈیکس میں 55 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اور36.9  ارب ڈالرکو مارکیٹ کی مروجہ قیمت سے دورکیا۔

2008۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج نے اسٹاک کی قیمتوں کے لئے9144 پوائنٹس پرایک منزل مقررکی ہے جس کے نیچے انڈکس کے گرنے کی اجازت نہیں ہے۔ باہرنکلنے والے سرمایہ کارپھنس گئے ہیں۔

2010۔ ملک کے بدترین سیلاب 28 جولائی کو شروع ہوئے جس کے نتیجے میں 40 ارب ڈالرز سے زائد مالیت کا نقصان ہوا۔

2013۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو مئی میں چینی وزیراعظم کے دورہ پاکستان کے موقع پررسمی طورپرآگے بڑھایا گیا۔

2013۔ انٹرنیشنل مانیٹیری فنڈ ( آئی ایم ایف) نے پاکستان کو خراب معیشت کی بحالی کے لئے 6۔7 ارب ڈالرامداد دی۔

2014۔ 23 اپریل کو 3جی اور 4 جی سروس کا آغازہوا۔.1 1ارب ڈالرکی نیلامی ہوئی۔

2016۔ نئے سال کے آغاز کے ساتھ پائیدارترقی اہداف کے مقاصد شروع کیے گئے۔

(بشکریہ ڈان ، ترجمہ ظہور اسلام )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...