کراچی آپریشن اورشہرمیں فعال طالبان گروہ

91

شہرمیں طالبان شدت پسندوں کی آمد 2010ء کے اوائل سے شروع ہوئی جب شہرمیں لسانی بنیادوں پر تشدد اورہلاکتیں روزانہ کامعمول تھی اورطالبان گروہوں نے امن وامان کی ابترصورت حال کافائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تنظیمی ڈھانچے کومنظم کیا اور2011ء کے وسط تک کراچی کی بیشترپختون آبادیاں میں طالبان گروہوں کا اثرونفوس بڑھ گیا۔

ستمبر 2013 سے کراچی میں جاری آپریشن سے جہاں شہرمیں لسانی، سیاسی اورفرقہ واران بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ میں کافی حدتک کمی رونما ہوئی ہے، وہی شہرکی پختون آبادیوں میں فعال تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑوں کے خلاف کریک ڈاؤن نے بھی شدت پسندوں کے نیٹ ورک کوکافی حد تک کمزورکردیاہے۔ خیبرپختونخواہ اورقبائلی علاقہ جات میں طالبان گروہوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد ہی شدت پسند کاروائیوں سے بچنے کے لئے فرارہوکر پاکستان کے مالیاتی مرکز کراچی آگئے تھے۔

کراچی میں طالبان دھڑوں کی فعالیت

اندازا دو کروڑبیس لاکھ کے لگ بھگ والے شہر کراچی آنے کی ایک اہم وجہ یہاں پر پختون بڑی تعداد میں آباد تھے جن کی آبادی مختلف آزادانہ اندازوں کے مطابق پچاس لاکھ کے لگ بھگ ہیں جوشہرکی گنجان اورکچی آبادیوں میں رہائش پذیرہے۔ کراچی کے طالبان کے معاملات سے باخبرپختون عمائدین کاکہنا ہے کہ شہرمیں طالبان شدت پسندوں کی آمد 2010ء کے اوائل سے شروع ہوئی جب شہرمیں لسانی بنیادوں پر تشدد اورہلاکتیں روزانہ کامعمول تھی اورطالبان گروہوں نے امن وامان کی ابترصورت حال کافائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تنظیمی ڈھانچے کومنظم کیا اور2011ء کے وسط تک کراچی کی بیشترپختون آبادیاں میں طالبان گروہوں کا اثرونفوس بڑھ گیا۔
تحریک طالبان پاکستان دراصل خیبرپختونخواہ اورقبائلی علاقہ جات میں فعال مختلف طالبان گروہوں کا ایک اتحاد ہے جو دسمبر 2007 ء میں تشکیل پایا۔ البتہ ٹی ٹی پی میں موجود ہرگروہ کی شناخت اس کاعلاقہ ہے جہاں ان کا گروہ فعال رہاہو۔ کراچی میں طالبان شدت پسند ایک مشترکہ گروہ یعنی ٹی ٹی پی کے طورپرفعال نہیں ہوئے بلکہ اپنے جداگانہ علاقائی شناخت کے ساتھ کراچی میں اپنے ہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پختونوں کی آبادیوں میں فعال ہوئے۔
کراچی میں سوات، جنوبی وزیرستان کے علاقہ محسود اورمہمندایجنسی کے طالبان گروہ فعال تھے جن کی مرکزی قیادت نے کراچی کے لئے اپنی جداگانہ قیادت منتخب کی۔ بظاہر یہ گروہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہتے تھے مگربھتہ، ٹارگٹ کلنگ اوردیگرمعاملات میں آزادانہ کام کرتے تھے۔

ٹی ٹی پی سوات

کراچی میں سوات شدت پسندوں کانیٹ ورک سب سے زیادہ فعال تھا جو2009 ء سے اپنے مخالفین کوکراچی میں اس وقت جاری بدامنی کافائدہ اٹھاتے ہوئے نشانہ بنارہا تھا۔مولانافضل اللہ عرف ریڈیوملا سے وابستہ سوات کے یہ شدت پسند کراچی میں شروع شروع میں محمدشیرعرف خوگ اورابن عقیل کی سربراہی میں کام کررہے تھے جبکہ ان کا کراچی نیٹ ورک سوات کے اہم ترین شدت پسندرہنما ابن امین کی جانب سے تشکیل دیاگیاتھاجس کے بارے  میں کہاجاتاہے کہ دسمبر2010میں وہ خیبرایجنسی میں ڈرون حملے کے دوران ہلاک ہوگئے ہیں۔
ٹی ٹی پی سوات کا یہ گروپ کراچی کے ان علاقوں میں فعال تھا جہاں سوات اورمالاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پختون بڑی تعداد میں آباد تھے۔ ان علاقوں میں فرنٹیئرکالونی، میٹروویل، پٹھان کالونی، بنارس، قصبہ کالونی، سوات کالونی، اتحاد ٹاؤن، شیرپاؤکالونی، مظفرآباد کالونی، فیوچرکالونی اوررشیدآباد شامل تھے۔
ٹی ٹی پی سوات کے ترجمان سراج الدین نے 2011 ء میں ’تجزیات‘ سے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں کراچی میں سوات میں امن کمیٹیوں اورکراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کے قتل کی ذمہ داریاں قبول کرتے ہوئے کہاکہ اے این پی کونشانہ بنانے کی وجہ یہ ہے کہ 2009 میں مالاکنڈڈویژن خصوصا سوات میں ہونے والے فوجی آپریشن کی نہ صرف کھلے دل سے حمایت کی تھی بلکہ فوج کو طالبان کے ٹھکانوں کا پتہ بتانے میں بھی یہ لوگ پیش پیش تھے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں رشتہ داروں سے ملنے یا کاروباری حوالے سے دورہ کرنے والے سوات کے امن کمیٹیوں کے اراکین کوبھی نشانہ بنایاجارہاہے۔
سوات سے عوامی نیشنل پارٹی کے ایک سابق ایم پی اے نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ کراچی میں سوات سے تعلق رکھنے والے 65 افراد طالبان شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں جن میں زیادہ ترکاتعلق تحصیل کبل سے تھاجوسوات میں شدت پسندی کاگڑھ سمجھاجاتاتھا۔ان کاکہناہے کہ سوات میں فوجی آپریشن کے سبب شدت پسندوں کی اکثریت کراچی بھاگ گئی ہے۔

ٹی ٹی پی محسود

جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے سے سے تعلق رکھنے والے طالبان شدت پسندوں کے بارے میں کہاجاتاہے کہ 2008ء ہی سے کراچی میں فعال تھے مگریہ دہشت گردی کی کاروائیوں کے بجائے کراچی شہرکوفنڈزجمع کرنے اورزخمی یابیمارشدت پسندوں کے علاج وآرام کے لئے استعمال کرتے تھے مگر2012ء کے وسط میں اس گروپ نے تخریبی کاروائیاں شروع کیں۔ کراچی میں محسودعلاقے سے تعلق رکھنے والے شدت پسند دو گروہوں میں تقسیم تھے۔ ایک گروہ ٹی ٹی پی حلقہ محسود کے سربراہ ولی الرحمٰن محسود سے وابستہ تھا جس کی ہلاکت کے بعد خان سعید عرف سجنا نے گروہ کی سربراہی سنبھالی۔ کراچی میں اس گروہ کے سربراہ مفتی نورولی محسود جبکہ آپریشنل کمانڈر خان زمان کررہے تھے۔ اسی طرح دوسرا گروہ ٹی ٹی پی کے سربراہ حکیم اللہ محسود سے وابستہ تھا جن کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد گروپ کی سربراہی اب شہریارمحسود کررہے تھے۔ کراچی میں اس گروہ کی سربراہی کراچی میں تعینات ایک سابق پولیس کانسٹیبل داؤدمحسود اورآپریشنل کمانڈر شیرخان محسود کیاکرتے تھے۔ یہ دونوں گروہ کراچی کی ان پختون اکثریتی آبادیوں میں فعال تھے جہاں محسود قبائل اکثریت میں آباد تھے۔ ان علاقوں میں سہراب گوٹھ، اتحادٹاؤن، منگھوپیر، کنواری کالونی، نیوسطان آباد اورلانڈھی کے علاقے گلشن بونیر اورشاہ لطیف ٹاؤن شامل تھے۔
ٹی ٹی پی محسود کے دونوں گروہوں کے مابین خونریز لڑائیاں اگست 2013 ء میں شروع ہوئی جب سجنا گروپ کے طالبان شدت پسندوں نے حکیم اللہ محسود گروہ کے اہم کمانڈر شیرخان کومنگھوپیرمیں ایک جھڑپ میں ہلاک کیا۔ شیرخان کی ہلاکت کے بعد دونوں گروپوں کے مابین لڑائیوں سے 30 طالبان شدت پسند ہلاک ہوئے جن میں اکثریت کاتعلق حکیم اللہ محسود گروہ سے تھا۔ یوں حکیم اللہ محسود گروہ کراچی میں کمزورہوا اورخان سعید عرف سنجا گروپ مضبوط ہوا۔

ٹی ٹی پی مہمند

تحریک طالبان پاکستان مہمندایجنسی کے امیرعمرخالد خراسانی اورنائب قاری شکیل نے کراچی میں شدت پسندوں کاایک خصوصی سیل تشکیل دیا تھا جوکراچی میں مہمندایجنسی سے تعلق رکھنے والے کاروباری لوگوں سے بھاری رقوم بھتہ وصول کرتا تھا۔ یہ گروپ بعد میں ٹی ٹی پی سے علیحدہ ہوکرجماعت الاحرار کے نام سے فعال ہوا۔ کراچی میں مقیم مہمندقبائل کے لوگ لکڑی اورتعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے میٹریل کے کاروبارکے حوالے سے کافی مشہورہے۔مہمندقبائلیوں کے مطابق قاری شکیل مہمندایجنسی سے پیسوں کے لئے فون کرتا تھا اوریہاں کراچی میں ان کے کارکنان پیسے وصول کرتے ہیں جن کی حدپانچ لاکھ سے پچیس لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔

بھتہ اوراغواء برائے تاوان

شروع میں کراچی بھاگ کرآنے والے شدت پسند اپنے لمبے بال کاٹ کر اورداڑھیاں چھوٹی کرکے محنت مزدوری کرنے لگے اورطالبان گروہ جب کراچی میں فعال ہوئے توبڑی تعداد میں وہ ان گروہوں سے دوبارہ وابستہ ہوگئے۔ کراچی میں طالبان گروہ شروع میں پختون تاجروں سے بھتہ کی صورت میں رقوم وصول کرکے قبائلی علاقوں اورافغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجود طالبان رہنماؤں کو بھجواتے تھے جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہوتے تھے۔ کراچی میں مقیم ایک طالبان رہنما نے ’تجزیات‘ کو 2011 ء میں ایک انٹرویو میں بتایاتھاکہ ’کراچی سونے کی چڑیاہے جہاں ایک دھمکی آمیز فون کال سے لاکھوں روپے آسانی سے مل جاتے ہیں۔ طالبان نے کراچی کے سیاسی اورمذہبی جماعتوں سے ہی بھتہ مانگنے کا فن سیکھاہے‘‘۔
طالبان کے معاملات سے باخبرذرائع سے بات چیت سے یہ معلوم ہواکہ طالبان شدت پسندگروہوں نے پہلے مرحلے میں پختون آبادیوں میں موجود جرائم پیشہ افراد کوڈرا دھمکا یالالچ دے کراپنے ساتھ ملایا جو ان آبادیوں میں موجود پختون تاجروں کے کوائف اورکاروبارکے بارے میں معلومات اکٹھی کرکے طالبان کے مقامی کمانڈر کودیاکرتے تھے۔ طالبان رہنما یہ معلومات قبائلی علاقہ جات اورافغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجود طالبان شدت پسندوں کو فراہم کرتے تھے جوافغانستان کے سم نمبروں یا شمالی وزیرستان کے کوڈ کے ساتھ لینڈلائن سے تاجروں کو بھتہ کی ادائیگی کے لئے فون کیاکرتے تھے۔ یہ رقم تاجروں کی مالی حیثیت کے مطابق ہوتی تھی اوربھتہ کی عدم ادائیگی پر تاجروں کوڈرانے کے لئے اکثرگھر یا دکان کے باہرکریکربم سے دھماکہ کرتے تھے۔ میٹروویل کے ایک تاجر، جنہوں نے 2013 ء کے دوران مختلف اداورمیں ایک کروڑروپے سے زائد رقم طالبان شدت پسندوں کو دی، نے ’’تجزیات‘‘ کوبتایاکہ قانون نافذکرنے والے ادارے خصوصا پولیس کے پاس جب اس حوالے سے شکایت کرانے جاتے تھے کہ وہ کوئی ایکشن لینے کے بجائے الٹا تاجروں کومشورہ دیتے تھے کہ پیسے دے کراپنے اوراپنے بچوں کی جانیں بچاؤ۔ بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے سبب کراچی سے ایک بڑی تعداد میں پختون تاجر اورٹرانسپورٹراپنے آبائی علاقوں یا اسلام آباد کی جانب ہجرت کرکے چلے گئے۔
مہندطالبان نے کراچی میں فعال مہمندقبائلیوں کی ایک تنظیم سے کراچی میں آباد تمام تاجروں کے کوائف اکھٹا کرکے انہیں مجبور کیاکہ وہ اپنی ماہانہ کمائی سے دس فیصد طالبان شدت پسندوں کوجبری چندہ دیں گے بصورت دیگرانہیں یا ان کے رشتہ داروں کو، چاہے وہ کراچی میں ہوں یا مہمند مہمندایجنسی میں، نشانہ بنائیں گے۔
فوجی آپریشن میں ہلاک یا گرفتار اورخودکش حملوں میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی خاندانوں کی مالی معاونت بھی کی جاتی ہے۔ان کایہ بھی کہناہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے خاص طور پر خلیجی ریاستوں سے عسکریت پسندوں کا بنیادی ذریعہ آمدنی ختم کرنے کے بعد عسکریت پسند گروپوں کو شدید مالی بحران اور رقم کی کمی کا سامنا ہے

عوامی نیشنل پارٹی

تحریک طالبان پاکستان نے جہاں خیبرپختونخواہ میں ان کے لبرل نظریات اورسوات میں آپریشن شروع کرنے کی وجہ سے عوامی نیشنل پارٹی کونشانہ بنایا، وہیں کراچی میں بھی پختون قوم پرست سیاسی جماعت کے کارکنان بچ نہ سکے۔
کراچی میں اے این پی پرباقاعدہ حملے 2011 ء کے اوائل سے شروع ہوئے ۔ اے این پی رہنما خود تسلیم کرتے ہیں کہ کراچی میں جاری لسانی تشدد کی وجہ سے انہیں پختون آبادیوں میں طالبان شدت پسندوں کی فعالیت کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔
ٹی ٹی پی محسود کے دونوں دھڑے کراچی میں اے این پی پرحملوں کے حق میں نہیں تھے جبکہ ٹی ٹی پی سوات اے این پی کے کارکنوں پرمسلسل حملے کررہی تھی۔
ایک انٹرویو میں ٹی ٹی پی حکیم اللہ محسود کے سہراب گوٹھ کے ایک کمانڈرکاکہناتھاکہ ’خیبرپختونخواہ کی اے این پی سے کراچی کی اے این پی کافی مختلف ہے جو کراچی کے معروضی حالات میں کراچی کے پختونوں اوران کے کاروباروں کو متحدہ قومی موومنٹ کی زیادتیوں سے تحفظ دے رہی ہے‘‘۔
البتہ ٹی ٹی پی سوات کے سربراہ مولانا فضل اللہ کی اے این پی کے بارے میں پالیسی پرتمام گروہوں کومجبورکیاگیاکہ وہ اے این پی پرحملے کریں۔ یوں ٹی ٹی پی محسود کی کراچی قیادت نے بھی اگست 2013 ء کومحسود قبائلیوں کوتنبیہ دی کہ وہ اے این پی چھوڑ کراپنے علاقوں میں پارٹی دفاتربند اورپارٹی جھنڈے اتاردیں۔ اے این پی کے ایک محسود رہنما کے مطابق ٹی ٹی پی قیادت کی تنبیہ کے 24 گھنٹے کے اندرہی کراچی کے محسود اکثریتی علاقوں ، جو اے این پی کے گڑھ سمجھے جاتے تھے، میں اے این پی کے30 دفاتربند ہوگئے۔
عوامی نیشنل پارٹی کراچی کے رہنماؤں پرحملے 2011ء کے بعد اب تک کراچی خصوصا ضلع غربی میں 100 کے لگ بھگ رہنما اورکارکن طالبان حملوں میں مارے جاچکے ہیں جن میں ضلع غربی کے چارصدرور سعید احمدخان، ڈاکٹرضیاء الدین، امیرسردار اورسیف اللہ آفریدی اورایک جنرل سیکریٹری ڈاکٹرحنیف بھی شامل ہے۔

پولیس ہلاکتیں

پولیس ذرائع کے مطابق کراچی میں چھپے ہوئے یہ شدت پسنداپنے مخالفین کے ساتھ ساتھ پولیس اورقانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاروں کوبھی نشانہ بنارہے تھے اور دوسالوں کے دوران پولیس، سی آئی ڈی اورقانون نافذکرنے والے اداروں سے وابستہ اہلکاربھی بڑی تعدادمیں مارے گئے ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر کاکہنا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ کے بیشتر واقعات پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں اور کراچی آنے والے عسکریت پسند مخصوص ہدایات اور منصوبوں پر عمل پییرا ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کراچی میں ایک نیا رجحان بھی بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ عسکریت پسند وں نے اپنی دہشت بڑھانے کے لئے پولیس اہلکاروں کو مارنا شروع کردیا ہے۔
پولیس ہلاکتوں کے حوالے سے ضلع غربی کے تھانے مومن آباد، پیرآباد اور منگھوپیر کافی حساس تھے اوران تھانوں پربم حملے بھی کئے گئے۔

کراچی آپریشن

ستمبر2013 ء میں شروع ہونے والے آپریشن میں تحریک طالبان پاکستان کے گروہ خاص ہدف رہے مگران گروہوں کے خلاف حقیقی معنوں میں تیزی دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک اسکول پشاورمیں ہونے والے حملے کے بعد دیکھنے میں آئی۔
آپریشن میں رینجرز نے اینٹیلیجنس اداروں اورپولیس کے کاؤنٹرٹیرروزم ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کرطالبان کے تینوں دھڑوں کے اہم کمانڈروں کوہلاک یاگرفتارکرکے طالبان نیٹ ورک کوکافی کمزورکردیاہے۔
تجزیات‘ کی جانب سے حال ہی کئے گئے تحقیق کے مطابق ٹی ٹی پی محسود کے اہم کمانڈرز عابدمحسود عرف مچھڑ، عابدچھوٹا، زکریا محسود، مفتی جاوید، خزن گل، زاہداللہ اورعامرزادہ رینجرزکے ساتھ مقابلوں میں ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ گروپ کے آپریشنل کمانڈرخان زمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ اسی طرح ٹی ٹی پی سوات کے اہم رہنماؤں کوہلاک یاگرفتارکیاجاچکاہے البتہ قانون نافذکرنے والے ادارے گروہ کے اہم کمانڈر قاری شاکراللہ کوتلاش کررہی ہے جسے قانون نافذکرنے والے اداروں کی جانب سے گرفتاری بعد عدالت سے رہائی مل گئی تھی۔ مہمند طالبان کا گروہ کافی کمزورہوچکاہے جن کے متعدد رہنما آپریشن میں مارے جاچکے ہیں۔
قانون نافذکرنے والے اداروں کے افسران نے حال ہی کئے گئے انٹرویوزمیں ’تجزیات‘ کوبتایاکہ شمالی وزیرستان میں جون 2014 ء میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب سے کراچی آپریشن کوکافی مددملی کیونکہ طالبان گروہوں کے زیادہ ترہیڈکوارٹرزشمالی وزیرستان کے میران شاہ اوردیگرعلاقوں میں قائم تھے جہاں سے وہ کراچی نیٹ ورک چلاتے تھے۔ البتہ آپریشن ضرب عضب کے سبب ان کے ہیڈکوارٹر اوررابطے کٹ جانے سے کراچی میں فعال گروہ بھی کمزورہوگئے ہیں۔

(ضیاء الرحمٰن  ایک صحافی اورمحقق ہے اورکراچی بدامنی پرایک کتاب کے مصنف بھی ہے)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...