خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف تحریک عدم اتحاد میں اے این پی ، پی پی پی بڑی رکاوٹ

745

 

جب چند روز قبل خیبرپختونخوا حکومت کے وزیراطلاعات شاہ فرمان اور صوبائی وزیر ریونیو علی امین گنڈا پور نے خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران قومی وطن پارٹی سے راہیں جدا کرنے کا اعلان کیا،کہ پانامہ کیس کے معاملے میں قومی وطن پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے مؤقف میں واضح فرق تھا جس کی وجہ سے ہم قومی وطن پارٹی کو مزید اتحاد میں نہیں رکھ سکتے ، تب سے تحریک انصاف کے حکومت کی پوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ما ضی کی طرح اس بار بھی قومی وطن پارٹی کی حکومت سے علیحدگی کے بعد تحریک انصاف کے دوسرے اتحادی جماعت اسلامی نے صوبائی حکومت کو ٹف ٹائم دینا شروع کردیا ہے، ابتدائی طور پر خیبربینک اسکینڈل کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کی دھمکی دی گئی ہے جس میں حکومت سے نکلنابھی ہے، کرپشن کے الزامات کے بعد ماضی میں قومی وطن پارٹی کو دوبارہ حکومت میں شامل کرنے کی وجہ بھی اس وقت جماعت اسلامی کی جانب سے مطالبات تھے، ماضی کی نسبت اس مرتبہ صورتحال ذیادہ گھمبیر دیکھائی دے رہی ہے، اگر جماعت اسلامی حکومت سے نکلتی ہیں تو صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے پاس اکثریت خودبخود ختم ہوجائیگی۔ اس وقت کل124ممبران صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 61ہے۔
دوسری طرف پانامہ کا فیصلہ آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن نے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت گرانے کیلئے سیاسی جوڑ توڑکا عمل شروع کررکھا ہے اور صوبائی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب بنانے کیلئے مطلوبہ تعداد پوری کرنے میں مصروف عمل ہے، ن لیگ کی اس جدوجہد میں اس کی اتحادی جمعیت علماء اسلام بھی  ساتھ ہے۔عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کیلئے دونوں پارٹیاں اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی کوششیں کر رہی ہے ۔تحریک انصاف کے باغی گروپ بھی ان کے ساتھ دینے کیلئے تیار ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر امیر مقام نے کچھ دن پہلے واضح طور پر کہا تھا کہ قیادت کے طرف سے مجھے صرف ایک اشارہ چاہیے،میں دو دنوں میں صوبائی حکومت کوگر اکے دیکھادوںگا ۔ لیکن اس کو اپنی پارٹی قیادت سے اشارہ ملے یا نہ ملے لیکن وہ صوبائی حکومت کو گرانے کی مکمل کو ششیں کررہی ہے اور ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکمران جماعت کے ہم خیال گروپ کے اراکین ، پاکستان مسلم لیگ کی پارلیمانی لیڈر نے اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمن سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی ہے اور عدم اعتماد کی تحریک میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے،تحریک انصاف کے باغی گروپ کے اراکین جس کے قیادت قربان علی کررہے ہیں اور ان کا ساتھ کرپشن کے الزامات پر وزارت سے نکالے گئے ضیا ء اللہ آفریدی، جاوید نسیم، محمودجان اور دیگر کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق باغی گروپ کے اراکین کے تعداد بیس سے زیادہ ہے۔
تاہم اپوزیشن بینچوں پر براجمان عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اس اقدام میں مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے، دونوں جماعتوں کا یہ مؤقف ہے کہ اب آئندہ انتخابات میں صرف چند ماہ باقی ہیں ایسے میں پانچ سے چھ سیاسی جماعتوں کا ملکر حکومت بنانا مسائل میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے، اے این پی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ ان کی جماعت کسی بھی غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کرے گی، اے این پی اور پی پی پی کی جانب سے حکومت گرانے کے اقدام کی مخالفت کا فائدہ پرویز خٹک کو ہورہا ہے، ذرائع کے مطابق اے این پی اور پی پی پی کاکہنا ہے کہ ہم صرف آٹھ ماہ کیلئے حکومت بنانے کی غلطی کیوں کریں اور جس کا فائدہ بھی صرف اور صرف جمعیت علماء اسلام اور مسلم لیگ ن کورہے گا۔ اگر ن لیگ کی قیادت اے این پی اور پاکستان پیپلز پارٹی کو منانے میں ناکام رہی تو خیبر پختونخوا کی حکومت گرانے کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا۔ البتہ عدم اعتماد تحریک کے ایشو کو موجودہ صوبائی حکومت کو دباو میں رکھنے کیلئے اپوزیشن پارٹیاں استعمال کرتے رہیں گے۔
تاہم ایک بات ناگزیر ہے کہ اپوزیشن تحریک انصاف کی حکومت کو فارغ کرسکے گی یاوزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو سکے یا نہ ہوسکے لیکن جس طرح پارٹی کے اندر گروپ بندی، اندرونی اختلافات اورباغی گروپ کے سرگرمیاں پروان چڑ رہی ہے ، اس سے پارٹی کو آئندہ الیکشن میں کا فی مشکلات درپیش ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق قومی وطن پارٹی کے ساتھ اتحاد کے خاتمے کے معاملے پر وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا ، صوبائی وزراء کو بنی گالہ کی جانب سے پریس کانفرنس کرنے اور اتحاد کے خاتمے کا اعلان کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے جس کے باعث پرویز خٹک اور عمران خان بھی آپس میں اختلافات کا شکار ہیں عائشہ گلالئی کی جانب سے پارٹی چیئرمین عمران خان پر لگائے گئے الزامات میں پرویز خٹک پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں اور ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ پرویز خٹک کو ہٹا کر صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنایا جائے، عائشہ گلالئی کے اس مطالبے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ عائشہ گلالئی کے پیچھے عاطف خان گروپ کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے،واضح رہے کہ اس واقعہ سے دو روز قبل صوبائی وزراء عاطف خان اور شہرام ترکئی نے بھی عمران خان سے ملاقات کی تھی اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے حوالے سے اپنے تحفظات سے انہیں آگاہ کیا تھا، ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو صرف پچیس اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے جبکہ تحریک انصاف کے باقی تمام اراکین عاطف خان کی حمایت کررہے ہیں اور اگر وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تو اس میں عاطف خان گروپ کے اراکین بھی پرویز خٹک کے خلاف اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے ، شہرام ترکئی بھی آئند ہ الیکشن اپنی پارٹی کے فلیٹ فارم سے لڑنے کا سوچ رہے ہیں۔شہرام ترکئی کی پارٹی عوامی جمہوری اتحاد ابھی تک الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہے۔
اگر تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے اس حالت میں پارٹی رہنماؤں کے درمیان اختلافات کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا نہ کیا تو ان اختلافات کا نقصان انہیں آئندہ انتخابات میں ہوگا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...