جناح ایونیو سے براہ ِراست

148

 ابھی چند منٹ پہلے میاں نواز شریف کا قافلہ بلیو ایریا کے جناح ایونیو سے گزر کر اسلام آباد ہائی وے پر داخل  ہو گیا ہے ان کی منزل تو لاہور ہے لیکن فی الحال ان کی تمام تر توجہ راولپنڈی پر ہے ۔وہ مری روڈ سے ہوتے ہوئے کچہری چوک پہنچے گے جس رفتار سے ان کا قافلہ رواں دواں ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ شاید شام  کو ہی راولپنڈی پہنچ پائیں گے ۔جناح ایونیو پر ان کے قافلے کو بڑا تو ہرگز نہیں کہا جا سکتا لیکن شدید حبس اور گرمی میں لوگوں کی قابل ذکر تعداد بہر حال موجود ہے ۔

نوازشریف کو اس ریلی سے روکنے کے لئے سیکورٹی حکام رات دیر تک ان سے رابطے میں رہے ۔کچھ اعلی ٰ سطح کی بریفنگز انہیں اور ان کی جماعت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو دی گئیں ۔ جن میں سیکورٹی اداروں کا مؤقف تھا کہ انہیں بالکل ویسے ہی خطرات لاحق ہیں جیسے بینظیر بھٹو کو وطن واپسی پر تھے ۔بینظیر بھٹو کو لیاقت باغ کے جلسے کے بارے میں تمام ممکنہ خطروں سے آگاہ کیا گیا تھا۔اب وہی صورتحال میاں نواز شریف کو بھی درپیش  ہے۔میاں نواز شریف نے بھی بینظیر بھٹو کی طرح تمام تر خطرات کو بالائے طاق رکھ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہر قیمت پر جی ٹی روڈ سے ہی لاہور جائیں گے ۔

 

جب میاں نوازشریف  سیکورٹی اداروں کی وارننگ کو خاطر میں نہیں لائے تو ا س کے بعد اسلام آباد کے ایک با ثر اینکر اور صحافی کے ذریعے انہیں یہ پیغام بھی دیا گیا کہ چونکہ وہ نیب کو مطلوب ہیں اس لئے نیب انہیں گرفتار بھی کر سکتی ہے ۔

 

لیکن میاں نواز شریف نے اس پیغام کو بھی در خور ِ اعتنا نہیں گردانا ۔ میاں صاحب ان حالات میں رواں دواں ہیں۔وہ عوام کا جوش و خروش دیکھ رہے ہیں اور ا س کو دیکھتے ہوئے وہ راولپنڈی میں اپنے ممکنہ خطاب کے مندرجات کو بھی فائنل کر رہے ہیں ۔جیسا کہ توقع کی جا رہی ہے کہ راولپنڈی میں کچہری چوک جو ان کے خطاب کی ممکنہ جگہ ہے وہاں پر لاکھوں کا مجمع اکھٹا ہوگا ۔ان کا پنڈال راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹر سے چند سو گز کے فاصلے پر ہے اور شاید یہاں خطاب کا فیصلہ بھی  سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے ۔

واقفان ِ حال کا کہنا ہے کہ باثر حلقوں کے پاس بھی کوئی حتمی منصوبہ موجود نہیں ہے ۔اس لئے اگر میاں نواز شریف چند لاکھ لوگ اکھٹے کرنے میں کامیاب ہو گئے تو حالات کے موجودہ بہاؤ  کا رخ پلٹ سکتا ہے ۔میاں نواز شریف کو بھی ا س بات کا اندازہ ہے اس لئے  تمام تر خدشات کے با وجود انہوں نے اس پُر خطر راستے کا انتخاب کیا ہے ۔

نوازشریف کی سیکورٹی مکمل طور پر سولین اداروں کے کنٹرول میں ہے ۔فوجی ادروں  نے ا س میں کسی قسم کی مداخلت سے معذوری ظاہر کر دی ہوئی ہے ۔سولین سیکورٹی نظر تو بہت آرہی ہے مگر اس کو مؤثر کسی صورت قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ بہرحال یہ عوامی ریلی ہے جس میں ہر کسی کو چیک نہیں کیا جا سکتا۔خدا نہ کرے یہاں کوئی نا خوشگوار واقعہ رونما ہو ۔کیونکہ ان حالات میں کسی اور لیاقت باغ سانحہ کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...