اسبابِ عدم نفاذِ اُردو: تکنیکی پیچیدگیاں! یا پھر طبقاتی مفادات؟

219

پاکستان کی قومی زبان تو اردو ہے مگر اسے یہ درجہ عملی طور پر حاصل نہیں ہو سکا ۔عدالتِ عظمیٰ بھی اس کے لئے دوٹوک فیصلہ صادر کر چکی ہے مگر پھر بھی اشرافیہ اس کے نفاذ کے بارے میں پس و پیش سے کام لے رہی ہے ۔حسین رضا نے اس حوالے سے کئی پہلوؤں کو طشت از بام کیا ہے ۔ان کا یہ فیچر معلوماتی اور فکری ہے اور اس حوالے سے پیدا ہونے والے کئی سوالوں کے جوابات دیتا ہے ۔حسین رضا نوجوان محقق ، صحافی اور سماجی کارکن ہیں ۔(مدیر)

1973ء کا آئین پاکستان کا متفقہ آئین ہے۔ یہ آئین ملکی تاریخ کے شفاف ترین سمجھے جانے والے 1970 ء کے انتخابات میں ’حقِ بالغ رائے دہی‘ کے تحت منتخب ہونے والی پہلی قانون ساز اسمبلی کا منظور کردہ ہے۔ اس آئین کو مرتب کرنے والی 25رکنی آئین ساز کمیٹی کے اراکین میں اقلیتی مندوبین کے سوا چاروں صوبوں سمیت تقریباً تمام فریقین کی نمائندگی موجود تھی۔ اس کمیٹی میں وفاق پرست بھی تھے اور قوم پرست بھی تھے۔ دائیں بازو سے بھی تھے اور بائیں بازو سے بھی تھے۔ تھیوکریٹ بھی تھے اور لبرل بھی تھے۔ مرد بھی تھے اور خواتین بھی تھیں ۔ خاص طور پر قوم پرستوں کی بھرپور نمائندگی تھی۔ مثلاً بلوچ قوم پرست رہنما میر غوث بخش خان بزنجو، پشتون قوم پرست رہنما امیر زادہ خان، سندھی قوم پرست رہنما سید قائم علی شاہ جیلانی اور ممتاز علی بھٹو اور کشمیری رہنما سردار عبدالقیوم خان بھی آئین ساز کمیٹی کے اراکین میں سے تھے حتیٰ کہ آئین سازی کا عمل بھی سندھ سے تعلق رکھنے والے اُس وقت کے صدر اور حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کی سرپرستی میں طے پایا جبکہ آئین سازی کے عمل کی حمایت کرنے والوں میں بلوچستان اور صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) کے حکمران اتحادکے سربراہ خان عبدالولی خان سرفہرست تھے۔
متحدہ پاکستان میں ’ایک‘ مشترکہ قومی زبان کی عدم موجودگی کے مسائل کا تجربہ پوری قوم مشرقی بنگال کی کیس سٹڈی میں دیکھ چکی تھی لہٰذا تمام فریقین نے ماضی میں انگلش کو دفتری زبان بنائے رکھنے اور ایک قومی زبان پر اتفاقِ رائے نہ کرنے کی غلطی سے بھرپور عبرت لی۔ یوں تمام صوبوں نے اُردو کے مدِمقابل پاکستانی ماں بولی زبانوں بالخصوص صوبائی زبانوں یعنی پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی کو بنگالیوں کی نقالی میں قومی زبانیں بنانے کا مطالبہ کرنے سے احتراز کیا۔ اس طرح تمام فریقین کی باہمی رضامندی سے اُردو کو وفاقی سطح پر وطنِ پاکستان کی ’واحد‘ قومی زبان تسلیم کرلیا گیا۔ اِس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ماں بولی زبانوں کو تحفظ اور فروغ کا حق دینے پر بھی اتفاقِ رائے کیا گیاحتیٰ کہ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ)اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت نے بلوچستان اور صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) میں اُردو کو صوبائی سرکاری زبان کے طور پر آئین کی منظوری سے پہلے ہی اپنا لیا تھا۔ اُس وقت کے گورنر بلوچستان غوث بخش خان بزنجو نے صوبہ میں اُردو زبان کی خصوصی سرپرستی کی۔انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی میں خصوصیت کے ساتھ شعبہ اُردو قائم کیا۔اُردو کو رابطہ کی زبان کے طور پر اپنانے کے ساتھ ساتھ قومی زبان، دفتری زبان اور دیگر جیسے تدریسی زبان، رسمی زبان اور ذریعہ ابلاغ (medium of communication) بنائے جانے کے اتفاق رائے کی بدولت ہی پاکستان میں قومی زبان اور لسانی پالیسی سے متعلق آئین میں باہم مربوط آرٹیکل 28 اور آرٹیکل251 شامل کیئے گئے تھے جن کے مطابق:
* آرٹیکل 28 ۔
’’زبان، رسم الخط اور ثقافت کا تحفظ: آرٹیکل 251کے تابع، شہریوں کے کسی طبقہ کو، جس کی ایک الگ زبان، رسم الخط یا ثقافت ہو، اُسے برقرار رکھنے اور فروغ دینے اور قانون کے تابع، اس غرض کے لیے ادارے قائم کرنے کا حق ہوگا‘‘۔
* آرٹیکل 251 ۔ ’’قومی زبان:
(1) پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے اور یوم آغاز سے پندرہ برس کے اندر اندر اس کو سرکاری و دیگر اغراض کے لیئے استعمال کرنے کے انتظامات کیئے جائیں گے۔
(2) شق (1) کے تابع، انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کے لئے استعمال کی جاسکے گی، جب تک کہ اس کے اُردو سے تبدیل کرنے کے انتظامات نہ ہوجائیں۔
(3) قومی زبان کی حیثیت کو متاثر کئے بغیر، کوئی صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعہ قومی زبان کے علاوہ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، ترقی اور اس کے استعمال کے لیئے اقدامات تجویز کرسکے گی۔‘‘
حاصلِ مطلب یہ ہے کہ 1973ء کے آئین میں مقامی، صوبائی اور مرکزی سطح پر لسانی پالیسی اور قومی زبان کا مسئلہ متفقہ طور پر ہمیشہ کے لیے حل ہوچکا ہے۔ چونکہ اُردو پورے پاکستان میں سمجھی جاتی ہے اور یہی ایک وہ واحد زبان ہے جو پاکستان کے لسانی تنوع میں رابطے اور ابلاغ کا کردار ادا کرسکتی ہے۔لہٰذا اُردو کے اِن اوصاف کے اعتراف میں صوبوں نے اُردو کو قومی زبان اور وفاقی سطح پر دفتری زبان کے طور پر تسلیم کرلیا۔ اس طرح آئین میں دیا گیا صوبائی سطح پر زبان اختیار کرنے کا حق استعمال کرتے ہوئے پنجاب، بلوچستان اور صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) نے صوبائی سرکاری زبان کے طور پر بھی اُردو ہی کو اپنایا۔ البتہ سندھ نے اپنی صوابدید کے مطابق سندھی کو ’صوبائی دفتری زبان‘ کے طور پر اپنایا۔مختصر یہ کہ آئین میں پاکستان کی تمام زبانوں کو وہ مقام دیا گیا ہے جس کی وہ حق دار تھیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ آرٹیکل 251 کی شق 1 سے مربوط شق 2میں 15 سال کے اندر اندر اُردو کو انگلش کی جگہ دفتری اور دیگر امور جیسے تدریسی زبان، ذریعہِ ابلاغ اور رسمی زبان بنانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
اُردو کو پندرہ سال کے اندر اندر نافذ کرنے کی یہ مدت 12اپریل 1973ء کو آئینِ پاکستان کے نافذالعمل ہونے کی تاریخ سے شروع ہوتی ہے اور 12اپریل1988ء کو ختم ہوتی ہے۔ اگر نفاذِ اُردو کی یہ مدت 4 اکتوبر 1979ء کو مقتدرہ قومی زبان کے قیام سے شروع کی جائے تو تب یہ مدت 6سال کی اضافی مہلت کے ساتھ 4اکتوبر 1994 ء کو ختم ہوتی ہے مگر 1988ء بھی گزر گیا، 1994ء بھی گزر گیا اور 1994ء کو گزرے بھی 23برس ہوچکے ہیں لیکن تاحال نفاذِ اُردو کا تکمیلِ آئین کا فریضہ شرمندہِ تعبیر ہونے کی بجائے ’’لالی پاپ‘‘ بنا ہوا ہے۔1973ء سے 2017 ء تک کے اِن چوالیس سالوں میں برسرِاقتدار رہنے والی سول اور ملٹری حکومتوں نے نفاذِ اُردو کو تاخیری حربوں، تکنیکی پیچیدگیوں، طبقاتی تنگ نظری اور حیلے بہانوں کی نذر کیے رکھا۔نفاذ اُردو کے لیے ’’پندرہ سال‘‘ کی مدت کا تخمینہ پہلی بار 1959ء میں بننے والے شریف کمیشن میں لگایا گیاتھا۔ تب سے اب تک 15سال کی یہ مدت ’’لالی پاپ‘‘ کے طور پر ہی استعمال ہورہی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کا دورِ حکومت نفاذِ اُردو کے لیئے سازگارترین تھا۔ اگر وہ مستعدی سے کام لیتے تو یقیناًنفاذِ اُردو کا عمل 1973ء سے 1977ء کی چار سالہ مدت میں ہی مکمل کرواسکتے تھے۔ اگرچہ انہوں نے سندھی مہاجر کَشیدگی میں نفاذِ اُردو کے خلاف شکوک و شبہات کو دور کرکے اُردو کے حق میں قومی سطح پر ہم آہنگی کو تقویت دی لیکن حالات کے جبر نے انہیں نفاذِ اُردو کے مشن کی تکمیل کا موقع ہی نہ دیا۔ جنرل ضیاء الحق نے ’اُردونائزیشن‘ کے ساتھ ساتھ انگلش میڈیم سکولوں کو متوازی پنپنے کا موقع دے کر نفاذِ اُردو کو طبقاتی طور پر انتہائی پیچیدہ کردیا۔ بعدازاں 1987ء میں ضیاء کی باقیات نے نفاذِ اُردو کے لیئے اٹھائے گئے اپنے ہی بیشتر اقدامات کو بھی رول بیک کردیا۔ جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے دونوں ادوار سمیت جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں بھی نفاذِ اُردو کی بجائے انگلش ہی کی بھرمار کی گئی۔ یہاں تک کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت 2008ء تا 2013 ء میں18ویں ترمیم کے ذریعے تعلیم کو صوبائی فہرست کا حصہ بنادیا گیا۔ یوں نظامِ تعلیم سے انگلش کی بطورِ تدریسی زبان، ذریعہ ابلاغ اور رسمی زبان رخصتی کا ایک مرتبہ کیے جانے کا عمل صوبوں کی تعداد کے حساب سے دوہرا دیا گیا۔ اُسی اثنا میں وفاقی سطح پر نئی وزارتوں کی تشکیل کرکے نفاذِ اُردو کے ذرائع کو بھی تقسیم کردیاگیاحتیٰ کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اِسی حکومت میں دسمبر 2012ء کو ’مقتدرہ قومی زبان‘ کی بحیثیتِ ادارہ خود مختار حیثیت کو ختم کرکے اِسے ’ادارہ فروغ قومی زبان‘ نام کی تبدیلی کے ساتھ اس وقت کی وزارت اطلاعات و نشریات وقومی ورثہ کے ماتحت کردیا گیا۔
موجودہ حکمران جماعت نوازلیگ نفاذِ اُردو کے ساتھ اپنی انتخابی مہم ہی سے ڈبل گیم کررہی ہے۔ نواز لیگ نے 2013 ء کے اپنے انتخابی منشور میں نفاذِاُردو کے ’’ایشو‘‘ بارے واشگاف مؤقف اپنانے کی بجائے بقیہ زبانوں کو قومی زبان بنانے کے ’’نان ایشو‘‘ پر بات کی۔اگرچہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے نفاذِاُردو کے حق میں چند اقدامات اٹھائے ہیں لیکن ان کی حیثیت ملمع کاری کی سی ہے۔ جیسا کہ تاحال سپریم کورٹ، صدرمملکت، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی طرح وزارتِ عظمیٰ کی بھی آفیشیل ویب سائٹ کا اُردو ورژن جاری نہیں کیا گیا۔ بہرحال، ڈبل گیم کے حوالے سے ایک طرف تو موجودہ نواز لیگی دورِحکومت میں 2015ء ، 2016ء اور 2017ء میں پشاور ہائی کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی جانب سے نفاذِ اُردو کے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے میں انتظامی ٹال مٹول، تکنیکی عذرخواہیوں اور تاخیری حربوں کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ 14فروری 2017ء کو لاہور ہائی کورٹ کے 2018ء میں ’’سی ایس ایس‘‘ امتحانات کو اُردو میں کروائے جانے کے حکم کو اپیل کے ذریعے 29مارچ 2017ء کو معطل بھی کروالیا گیا ہے۔دوسری طرف اکیلے ایک اُردو کو نافذ کرنے کی لیاقت سے معذور نواز لیگ کے چھ اراکینِ قومی اسمبلی (ماری میمن، کیپٹن محمد صفدر، قیصر احمد شیخ، شہاب الدین خان، مخدوم سید علی شاہ گیلانی، خالد حسین مگسی) کا گروپ 2014ء سے ہی آرٹیکل 251 جیسے ’قوم ساز‘ میثاق کے درپئے جان ہے۔ اُردو کے متوازی بقیہ زبانوں کو قومی زبان بنوانے کا یہ ترمیمی بل پیش کرکے نفاذِ اُردو کے ساتھ ’’نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری‘‘ والا معاملہ کیا جارہا ہے۔
اِس بل کے مطابق آئین کے آرٹیکل 251 میں مجوزہ ترمیم کرکے اُردو کے ساتھ ساتھ بلوچی، بلتی، براہوی، پنجابی، پشتو، شینا، سندھی، سرائیکی، ہندکو سمیت تمام بڑی ماں بولیوں کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے اور انگلش کے ساتھ ساتھ عربی اور فارسی کو بھی نصابِ تعلیم میں لازماًشامل کیا جائے۔ اِس بل میں فکری بددیانتی یہ کی گئی ہے کہ اُردو کی بحیثیت قومی زبان مسلمہ حیثیت کو نظرانداز کرتے ہوئے اِسے صرف ایک کمیونل ماں بولی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ اِس بل میں ایسی کوئی سفارش پیش نہیں کی گئی کہ جس کے مطابق انگلش کی جگہ نفاذِ اُردوکے 15 سالہ فریم ورک پر بھی کوئی چیک اینڈ بیلنس قائم کیا جاسکے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے مسترد کیا گیا یہ ’’نان ایشو‘‘ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سے منظوری لے کر قابلِ اعتنا ہوچکا ہے اگرچہ فی الحال یہ بل سینیٹ سے منظوری کے بعد زیرالتوا ہے لیکن اِسے کسی بھی وقت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے دوبارہ منظوری دلوانے کے بعد نفاذِاُردو کا راستہ روکنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً بالفرض جب آئین میں وفاق کی سطح پر ماں بولیوں کو اُردو کے متوازی قومی زبان تسلیم کرلیا جائے گا تو پھر اگلے مرحلہ میں انہیں اُردو کی طرح وفاق ہی کی سطح پر دفتری زبان اور ذریعہِ تدریس بنائے جانے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔یوں 60 کے قریب زبانیں رکھنے والے پاکستان میں کم ازکم 6 بڑی زبانوں کے لئے احساسِ محرومی اور ضدی ردِعمل کی ملی جلی کیفیت میں قومی زبان، دفتری زبان، رسمی زبان اور ذریعہ تدریس بنائے جانے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ اس طرح لسانی مطالبات کا کڑی در کڑی سلسلہ شروع ہوگا جو تقسیم در تقسیم کے عمل کو ہوا دے گا۔ بالآخر جب ریاست بیک وقت ایک سے زائد زبانوں کو قومی زبان، دفتری زبان اور ذریعہ تدریس بنائے جانے میں معذوری ظاہر کرے گی تو تمام مفاداتی فریقین بدترین سے بد اچھا کے مصداق انگلش نواز سٹیٹس کو پر ہی مصلحت کرلیں گے۔ لسانی منافرت بازی کے اِس مظہر کی مثال برطانوی ہندوستان کی کیس سٹڈی سے دیکھی جاسکتی ہے۔ برطانیہ نے انگلش کو بطورِ دفتری زبان لانے کے لئے مرحلہ وار بنیادوں پر ماحول سازگار کیا۔ پہلے فارسی کو ہٹا کر اُردو اور ہندی کو نافذ کیا جس سے مذہبیت کے بہروپ میں ہندومسلم لسانی منافرت ابھری۔ بعدازاں مقامی زبانوں (vernacular) کو بھی نافذ کیا جس سے علاقائی تعصبات نے سراٹھایا۔ آخرکار برطانیہ نے انگلش کو سمجھوتے کی زبان کے طور پر مسلط کیا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ 2014 ء کے اس لینگوئج بل کا ہے جو بظاہر تو پاکستانی زبانوں کی ترقی کے روپ میں آیا ہے لیکن اس کا فائدہ انگلش نوا’’ز سٹیٹس کو‘‘ ہی کو جائے گا۔ پاکستان میں انگلش کو دوام بخشنے کے لیئے ’اُردو‘ کو رابطہ کی زبان کی بجائے شہری سندھ کی ’علاقائی زبان‘ اور قومی زبان کی بجائے مہاجروں کی ’ماں بولی زبان‘ کی شناخت دینے کی غیرمحسوس مہم جاری ہے۔ اِس کی ایک شکل پاکستانی ماں بولی زبانوں بالخصوص پنجابی کے وہ اہل قلم ہیں جو اُردو کو مقامی زبانوں کے ’جمود‘ کا الزام دیتے ہیں۔ ایسوں ہی میں پنجابی کے علمبردار ماں بولی زبانوں کے ایک معیاری جریدہ نکالنے کا کنٹریبیوشن بھی نہیں کرسکے۔ دوسری شکل مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والے وہ ’پبلک فگر‘ ہیں جو اُردو کو دہلی ولکھنو کی بیرونی زبان قرار دے کر پاکستانی ماں بولی زبانوں سے اظہارِہمدردی میں سات سمندرپار سے آئی برطانوی انگلش میں بات کرتے ہیں۔ ایسے سیمیناروں میں مقامی زبانوں پر اُردو کے جبر کی دلیل میں یہ انگریزی نواز دانشور قائداعظم کی ڈھاکہ میں بطورِ قومی زبان اُردو کے حق میں انگلش تقریر کا حوالہ دیتے ہیں لیکن قائداعظم کی تقریر کا وہ حصہ خذف کردیتے ہیں کہ جس میں انہوں نے مشرقی بنگال سمیت تمام صوبوں کو اندرونی صوبائی کاروبارِریاست کے لیے اپنی زبانیں اپنانے کے اختیار کی حمایت کی تھی۔ جس طرح کہ سندھ میں سندھی صوبائی دفتری زبان ہے۔
اگر بحث کے طور پر اِس بل کو مثبت لیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ دنیا کی کئی کثیر القومیتی اور متنوع ریاستوں میں ایک سے زائد قومی زبانیں اور دفتری زبانیں اختیار کئے جانے کا رجحان پھیل رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی آئین کے آرٹیکل 251 میں مجوزہ ترمیم کا یہ بل بے موقع محل، غیرمعقول اور بلاضرورت ہے۔ جس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ 1973ء کے آئین میں قومی زبان اور لسانی پالیسی اتفاقِ رائے سے طے پاچکی ہے۔ اگر اُردو کی جگہ کسی اور زبان کو بھی قومی زبان بنائے جانے کی ضرورت یا مطالبے کا امکان ہوتا تو یقیناًآئین ساز کمیٹی میں چاروں صوبوں کے نمائندے بالخصوص قوم پرست قائدین اپنی زبانوں کو قومی زبان بنانے کا مطالبہ ضرور کرتے۔ دوسرا نکتہ یہ کہ معروضی حالات میں ممکنات کی حقیقت پسندانہ ترجیحاتی ترتیب بندی میں لینگوئج بل کا یہ مطالبہ یوٹوپیائی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں کم ازکم بھی12سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اُردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، کشمیری اور براہوی وغیرہ بڑی زبانیں ہیں۔پاکستان میں ہندکو، شینا، بلتی، کھووار، کوہستانی، چترالی اور بروشکی وغیرہ جیسی ایسی کئی زبانیں ہیں جن کی شناخت بارے زبان اور بولی پر اختلاف کیا جاتا ہے۔ اگر انہیں بھی زبانوں کی قسم بندی میں شمار کیا جائے تو اِس حساب سے پاکستان میں 60کے قریب زبانیں پائی جاتی ہیں تاہم اِن میں بیسوں زبانیں تیزی سے معدوم بھی ہورہی ہیں۔اگرچہ آئیڈیل ازم کی رُو سے ریاست کو چاہیے کہ وہ ہر زبان کے بولنے والوں کو اُن کی اپنی ہی زبان میں حصولِ تعلیم اور دفتری کاروائیوں کی سہولت دے تاہم زمینی حقائق کی رُو سے ریاست ایسا تب ہی کرسکے گی جب ریاست کا بجٹ سرپلس نہیں تو کم از کم متوازن ضرور ہو۔ مثلاً امریکہ اور چین میں 12سے زائد زبانیں بولی جاتیں ہیں اور دونوں ممالک ٹاپ ٹوعالمی معیشتیں ہیں۔ دونوں ریاستیں اپنے لسانیاتی تنوع کے مطابق ہر زبان میں ذریعہِ تدریس اور دفتری زبان کا اہتمام کرپانے کی پوزیشن میں نہیں لہٰذا دونوں ممالک نے دیگر ممالک کی طرح اپنے مالی ذرائع اور انتظامی استعداد کے مطابق ایسی چند زبانوں کو ہی ذریعہ تدریس اور دفتری زبان کے طور اپنایا ہے جن کو سمجھنے والوں کی رقبے اور آبادی کے اعتبار سے گنجانیت ہوحتیٰ کہ امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں صرف اکیلے انگلش ہی کو دفتری زبان بنانے کا آغاز ہوگیا ہے۔
پاکستان میں پائی جانے والی تمام زبانوں میں اُردو ہی وہ واحد زبان ہے جو پاکستان کے لسانیاتی تنوع کے مابین رابطے کا آسان ترین ذریعہ ہے۔پاکستان میں دور دراز کے پسماندہ دیہی علاقوں کے وہ باسی بھی اُردو سمجھ سکتے ہیں کہ جن کی سکول میں تعلیم نہیں ہوئی ہوتی۔ حتیٰ کہ پاکستان میں خیبرپختونخوا، فاٹا اور بلوچستان کی پشتون بیلٹ سے باہر کے غیر پشتون علاقوں میں آباد افغانی بھی مقامیوں کے ساتھ مقامی زبانوں کی بجائے اُردو میں زیادہ باآسانی اظہار خیال کرتے ہیں۔ماضی میں علاقہِ غیر کہے جانے والے فاٹا کے باشندے ہوں، اندرونِ سندھ میں دیہی علاقوں کے باسی ہوں، پنجاب میں جی ٹی روڈ سے دائیں بائیں دور دراز علاقوں کے باشندے ہوں، بلوچستان میں کوسوں دور فاصلوں میں بکھری کم گنجان آبادیوں کے ساکنین ہوں، یاآزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی برف پوش پہاڑی وادیوں کے لوگ ہوں؛ جب کبھی بھی اِن تمام علاقوں کے لوگ دوسری زبان والوں سے انٹریکشن کرتے ہیں تو اُردو ہی کو اظہارِ خیال کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس کی ایک اور مثال ’’مِنی پاکستان‘‘ کہلانے والا شہر کراچی ہے۔ کراچی میں اندرونِ پاکستان سمیت بیرونی دنیا سے بھی لسانی، ثقافتی اور مذہبی تنوع آکر آباد ہوا ہے۔ کراچی میں آباد لسانی، ثقافتی، مذہبی تنوع کے مابین رابطے کا ذریعہ اُردو ہی ہے۔ اس لیے پاکستان میں رابطہ کی زبان، وفاق کی قومی زبان اور ذریعہِ تدریس کی زبان صرف اُردو ہی ہوسکتی ہے ۔
پاکستان کی 95 فیصد سے زائد آبادی مڈل کلاس کی نچلی پرتوں سمیت محنت کش طبقہ کی اکثریت پر مبنی ہے اور پاکستان کی بڑی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ عام عوام کی یہ غالب اکثریت انگلش سے نابلد ہے۔ پاکستان میں پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو وغیرہ کی طرح انگلش نہ تو کسی لسانی کمیونٹی کی ماں بولی زبان ہے اور نہ ہی اُردو کی طرح انگلش بھی پاکستان کی لنگوافرینکا ہے۔اس طرح پاکستان میں عام عوام کی رسائی میں آنے والے سرکاری تعلیمی اداروں اور سستے نجی تعلیمی اداروں میں عموماً اُردو میڈیم اور سندھی میڈیم میں ہی تعلیم دی جاتی ہے۔ اِس قسم کے بعض تعلیمی اداروں میں اُردو میڈیم اور سندھی میڈیم کے متوازی انگلش میڈیم میں بھی آپشن کے طور پر تعلیم دی جاتی تھی اور اب اصلاحات کے بعد اکیلے انگلش میڈیم ہی کی جانب بتدریج منتقلی کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ ایسے تعلیمی اداروں کا نصاب بھی مقامی ٹیکسٹ بک بورڈ کے نصاب کا انگلش ورژن ہی ہوتے ہیں جس کی ’’سمجھانے سلجھانے‘‘ کی بجائے ’’رٹے بازی‘‘ سے تدریس کی جاتی ہے اور تدریسی عملے کا اپنا انگلش لینگوئج سٹینڈرڈ بھی غیرمعیاری ہوتا ہے لہٰذا اِن تعلیمی اداروں میں نہ تو انگلش میڈیم کی معیاری تعلیم دیا جانا آسان ہے اور نہ ہی ملکی اقتصادی سسٹم میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ ایسے تعلیمی اداروں کو اضافی فنڈز جاری کرکے 5فیصد طبقہ خواص کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی سطح پر لاسکے۔ ویسے بھی پاکستان کا تعلیمی بجٹ انتہائی کم ہوتا ہے۔ ایسے میں تعلیمی اداروں کو جو فنڈز ملتے ہیں اُن میں بھی کمی اور تاخیر ہوتی رہتی ہے تو پھر یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ حکومت تعلیم کے شعبہ کو دفاع کی طرح ترجیح دے گی؟ معروضی حالات یہی ہیں کہ پاکستان میں انگلش میڈیم میں اعلیٰ معیار کی تعلیم صرف 5فیصد طبقہ خواص کی دسترس میں ہی ہے۔ اگرچہ انگلش میڈیم کی کشش میں مڈل کلاس کی بالائی پرتوں میں اپنی گزراوقات تنگ کرکے بچوں کو خواص کے تعلیمی اداروں اور اوسط اخراجات والے نجی تعلیمی اداروں میں بھیجنے کا رواج پھیل رہا ہے لیکن مجموعی طور پر غالب اکثریت اب بھی گورنمنٹ پبلک سرکاری اور سستے نجی سکولوں کا رخ کرتی ہے جہاں معقول تعلیم اُردو میڈیم میں ہی ہوتی ہے لہٰذا طبقاتی ناہمواری کے ایسے ماحول میں انگلش کا دفتری زبان اور تدریسی زبان ہونا بالخصوص مقابلہ کے امتحانات میں ایسا ہونا کسی بھی طرح منصفانہ مقابلہ (level playing field) نہیں ہے۔ تاہم اس طرح انگلش کو منصوبہ بازی (by design) کے تحت مراعات یافتہ طبقہ خواص کے لیے ’استحقاق‘ اور ’استثنا‘ کا مظہر بنایا گیا ہے لیکن 95فیصد محرومی قسمت عوام کے لیے یہی انگلش ’قدغن‘ اور ’بیریئر‘ بنی ہوئی ہے۔
انگلش کو دفتری زبان کے طور پر نافذ رکھتے ہوئے منصفانہ مقابلہ کی فضا قائم کرنے کے لیے دو ہی ممکنہ آپشنز ہیں۔ پہلا آپشن یہ کہ ریاست تعلیمی بجٹ میں اس حد تک اضافہ کرے کہ ’گورنمنٹ پبلک‘ سرکاری تعلیمی اداروں کو بھی اضافی فنڈز اور سبسڈیز کی بدولت مراعات یافتہ خواص کے تعلیمی اداروں کی سطح پر لایا جاسکے لیکن کم آمدنی والے ملک پاکستان میں ایسا فی الحال ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے؛ خاص کر ایسے حالات میں جب ریاست عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ اور آزادمنڈی کی مجبوریوں میں آکر پہلے سے ہی ’نج کاری‘ کی طرف جارہی ہے۔ بصورت دیگر اگر ریاست مراعات کی یکساں فراہمی نہیں کرسکتی تو محرومیوں کی مساوی تقسیم کرلے اور طبقہِ خواص کے تعلیمی اداروں اور سرکاری تعلیمی اداروں کو ’’اکثریت ہی اتھارٹی ہے‘‘ کے جمہوری اصول کے مطابق ’اُردو میڈیم‘ذریعہ تدریس اور ایک ہی طرز کے مقامی ٹیکسٹ بک بورڈ کے معیاری سرکاری نصاب تعلیم (curriculum) پر لے آئے لیکن آزاد منڈی کی معیشت میں یہ بھی کوئی آسان حل نہیں کیونکہ آزاد منڈی میں تعلیم کا شعبہ ایک کارخیر کی بجائے ’منافع بخش کاروبار‘بن چکا ہے اور تعلیمی شعبہ کے مفاداتی فریقین بھرپور مزاحمت کریں گے۔ لہٰذا مسئلہ کا ایک حل باقی رہتا ہے کہ حکومت انگلش کی جگہ اُردو کو سرکاری سطح پر ’دفتری زبان‘ بنادے اور سول سروسز کے امتحانات کو ’اُردومیڈیم‘ کردے۔ اس مقصد کے لیے سول سروسز کا ادارہ اپنے مضامین کی اُردو میں الگ معیاری کتب مرتب کرے اور کورسز آؤٹ لائنز میں تجویز کردہ کتب کا اُردو میں ترجمہ کروائے۔ اس طرح ’گورنمنٹ پبلک‘سرکاری تعلیمی اداروں کی رسائی میں بھی سول سروسز کی اعلیٰ ملازمتوں جیسے ترقی کے یکساں مواقع آجائیں گے اور ساتھ میں خواص کے تعلیمی ادارے بھی ’اُردوزبان‘ کو درخوراعتنا سمجھنے لگ جائیں گے۔ سماج و اقتصاد کے مجموعی سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو ریاستِ پاکستان میں ’حقِ نجی ملکیت‘ کو عالمی حقوق انسانی، مذہب اسلام اور آئینِ پاکستان میں تحفظ دیا گیا ہے لہٰذا ریاست یہاں سوشلزم نافذ کرکے محروم طبقات کی قسمت بدلنے کا انتظام نہیں کرسکتی۔ اس طرح پاکستان کے مالیاتِ عامہ کی آمدنی مصارف سے زیادہ بھی نہیں ہے کہ جس کی بدولت ریاست یہاں سوشل ڈیموکریسی نافذ کرکے محرومی طبقات کی فلاح و بہبود اور اعانت کا اہتمام کرسکے۔ اس صورت حال میں پاکستان جیسی انتہائی کم آمدنی والی ترقی پذیر ریاست کے اختیار میں ایک ہی آپشن رہتا ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے اور اس مقصد کے لیے انگلش کی جگہ اُردو کو دفتری اور تدریسی زبان بنائے جو کہ عام عوام کی رابطہ کی زبان بھی ہے، قومی زبان بھی ہے اور جمودپذیری کی بجائے رُوبَہ ترقی زبان بھی ہے۔
ایسا کیا جانا اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان کے حالات و واقعات میں عالمی ضابطہ انسانی حقوق اور 1973 ء کے آئینِ پاکستان کی رو سے تمام شہریوں کو بلاامتیاز وسائل کی منصفانہ تقسیم، ترقی کے یکساں مواقع کی فراہمی، استحصال سے نجات، حق معلومات، امورِ ریاست میں عوامی شراکت (public participation) دینے کے لیے اُردو کو انگلش کی جگہ دفتری زبان اور تدریسی زبان بنائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ بالخصوص آئینِ پاکستان کے شہریوں سے متعلق قوانین جیسے آرٹیکل 3 (استحصال کا خاتمہ)،آرٹیکل4،(افراد کا حق کہ ان سے قانون وغیرہ کے مطابق سلوک کیا جائے ) آرٹیکل 25(شہریوں سے مساوات)، آرٹیکل 27 (ملازمتوں میں امتیاز کے خلاف تحفظ)، آرٹیکل 33(علاقائی اور دیگر مماثل تعصبات کی حوصلہ شکنی کی جائے گی) ، آرٹیکل 37 (معاشرتی انصاف کا فروغ اور معاشی برائیوں کا خاتمہ) اور آرٹیکل 38 (عوام کی معاشی اور معاشرتی فلاح و بہبود کا فروغ) پر عملدرآمد کو ثمرآور بنانے کے لیے اُردو کا نفاذ ناگزیر ہے۔ یاد رہے کہ آرٹیکل 251کے مطابق اردو کو انگلش کی جگہ پندرہ سال کی مدت کے اندر اندر نافذ کرنے کا آئینی فریضہ پہلی مدت(1973سے1988)گزر جانے کے بعد منسوخ نہیں ہوا بلکہ آرٹیکل254کے مطابق اب بھی اسی طرح قائم و دائم ہے ۔اس ضمن میں آرٹیکل254(مطلوبہ وقت کے اندرنہ ہونے کے باعث کوئی فعل کالعدم نہ ہو گا )کی تفصیل درج ذیل ہے :
’’جب کوئی فعل یا امر دستورسے ایک خاص مدت میں کرنا مطلوب ہو اور اس مدت میں نہ کیا جائے تو اس فعل یا امر کا کرنا صرف اس وجہ سے کالعدم نہ ہوگایا بصورتِ دیگر غیر مؤثر نہ ہو گا کہ یہ مذکورہ مدت میں نہیں کیا گیا تھا۔‘‘
تکنیکی اعتبار سے انگلش سے نابلدعام عوام کا کاروبارِ ریاست سے متعلق حقِ معلومات،شفافیت، جوابدہی، رسائی، سہولت اور یکساں انصاف سے مستفید ہوناخواص کی زبان انگلش میں محض یوٹوپیائی خواب ہی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ انگلش دفتری زبان ہونے سے سرکاری اداروں میں تختیاں، مینٹس آف میٹنگ، دفتری ریکارڈ، فارم، معاہدہ نامے، سرکاری شرائط، بینک کے قوانین، دفاتری ضابطہ اخلاق، بریفینگ، عدالتوں کے فیصلے،خط و کتابت، حلف نامے، اپیلیں، کارکردگی رپورٹیں، پریس ریلیزیں، دستاویزنویسی، نیز کہ دفتری کاروائی سے متعلقہ لکھت پڑھت کا ہر کام ’انگلش تحریر‘ میں ہوتا ہے۔ اس طرح فوجداری، دیوانی اور تعزیرات سے متعلقہ قوانین کے مسودہ جات بھی انگلش ہی میں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انگلش دفتری زبان ہونے سے عام عوام کے لیے اداروں میں شفافیت کی بجائے انگلش کا پردہ ہے۔ اداروں سے معلومات لینے کے لیے بھی انگلش کی ضرورت ہے۔ اداروں سے جوابدہی لینے کے لیے بھی انگلش ہی کی ضرورت ہے۔ اداروں سے یکساں سہولیات اور یکساں انصاف لینے کے لیے بھی انگلش ہی شرط ہے لہٰذا سرکاری اداروں میں اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر تک کے تنظیمی ڈھانچوں کی اپنی کارکردگی میں نکھار کے لیے انگلش کی بجائے اُردو ہی کی ضرورت ہے تاکہ سرکاری دستاویزات، فائلیں اور سمریاں عام سائل اور عام کارکن سے لے کر اعلیٰ افسران اور منتخب عوامی نمائندگان تک کی جانچ پڑتال اور تحقیق و مطالعہ میں آسکیں۔ یوں مالیات عامہ اور خدمات واشیاء تک سب کا حساب کتاب رکھا جاسکے گا اور اعداد شمارکی ہیراپھیری سمیت وائٹ کالر کرائم کے امکان کو کم کیا جاسکے گا۔
طبقاتی اعتبار سے تمام شہریوں کو ترقی کے یکساں مواقع بالخصوص اعلیٰ سرکاری ملازمتوں تک رسائی دینے کے لیے انگلش پر انحصار ممکن نہیں کیونکہ امتحانات میں آبادی کا ایک بڑا حصہ محض اس لیے شریک نہیں ہوسکتا کہ انہیں انگلش نہیں آتی۔جو حصہ شریک ہوتا ہے اُس کی ایک غالب اکثریت امتحانات میں اس لیے فیل ہوجاتی ہے کہ انہیں انگلش ٹھیک طرح سے نہیں آتی۔ اس طرح جو امتحانات پاس کرلیتے ہیں وہ انٹرویوز سے اس لئے نکل جاتے ہیں کہ روانی سے انگلش نہ بول پانے کی وجہ سے وہ اپنا مافی الضمیر پوری طرح پیش نہیں کرپاتے۔ یوں جو کامیاب ہونے کو رہ جاتے ہیں اُن کی اکثریت وہ ہوتی ہے جو انگلش میں اپنا تحریری اور تقریری مافی الضمیر پیش کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ اس طرح جو امیدواران پاس ہوکر سامنے آتے ہیں اُن کی کامیابی کے محرکات میں اُن کے علم، فکر، ہنر اور صلاحیت کی بجائے انگلش کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اُن کے مدمقابل امیدواروں کو علم، فکر، ہنر اور صلاحیت کی کسوٹی پرپرکھنے کی بجائے انگلش نہ آنے پر مقابلے سے باہر نکال دیا جاتا ہے یعنی اُنہیں برابری کا منصفانہ میدان ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں ہم انگلش کے قریب ہورہے ہیں توں توں مقابلہ کے امتحانات پاس کرنے والوں کی شرح میں کمی آرہی ہے۔ مثلا 2016ء میں CSS کے امتحانات میں 92 فیصد سے زائد طلبہ صرف انگلش میں فیل ہوجانے کی وجہ سے امتحانات پاس نہ کرسکے اور صرف 2.09 فیصد طلبہ انگلش کی بدولت امتحانات پاس کرسکے۔ جبکہ پاس کرنے والوں کی یہ شرح بھی گرتی جارہی ہے ، 2014میں 3.33فیصد، 2015ء میں 3.11 فیصد اور2016 ء میں 2.09 فیصد ہے۔ باوجودیہ کہ ملک بھر میں انگلش سیکھانے والی اکیڈمیوں اور ٹیوٹروں کی بھرمار ہے۔ ا نگلش من حیث الکُل عربی، فارسی، اُردو، ہندی ہی کی طرح ایک زبان ہی ہے۔ انگلش کو زبان ہونے کے ناطے زبان کے طور پر ہی لیا جانا چاہیے جبکہ انگلش کو دفتری اور تدریسی زبان بنانے سے انگلش تنِ تنہا ہی علمیت، فنیت اور صلاحیت کی جگہ لیکر اہلیت کا معیار بن چکی ہے یوں اُردو بولنے لکھنے والے کو انگلش سے نابلدی کی وجہ سے اپنی علمیت، فنیت اور صلاحیت کے آزمائشی جوہر دکھانے کے مواقع سے محروم کردیا گیا ہے۔
پاکستان میں انگلش کو حاصل دفتری اور تدریسی زبان کا رُتبہ پیشہ وارانہ زندگی میں قومی زبان اُردو اور مقامی ماں بولی پاکستانی زبانوں کے لیے ’تحقیرآمیز‘ ہے۔ ذات پات کی اونچ ینچ پر مبنی امتیازی رویہ صرف قدیم زرعی عہد کا خاصا نہیں تھا یہ آج بھی جاری و ساری ہے البتہ اِس کے اظہار کے طریقوں میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ پاکستان میں ’انگلش پرستی‘ جاگیرداری اور سرمایہ داری کے پیداواری رشتوں کے بعد ذات پات کے امتیازی رویوں کی نئی شکل (neo-Casteism) ہے ۔ مثلاً پاکستان کی سول سرکاری ملازمتوں میں اُردو زبان کی پہچان ’ نچلی اسامیاں‘ ہیں اور انگلش زبان افسرانِ بالا’ کا تفاخر ہے۔ اس طرح مسلح افواج میں قوم کی زبان اُردو سپاہیوں کی زبان ہے لیکن انگلش کمشینڈ افسران کی زبان ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ریاست میں غیرتحریری طور پر یعنی کہ ’رواجی‘ اعتبار سے انگلش پہلے درجے کے شہریوں کی زبان ہے اور اُردو ثانوی حیثیت کے شہریوں کی زبان ہے؟ پاکستان میں اکثریت کی زبان اُردو ہے اور اقلیت کی زبان انگلش ہے تو پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستان میں بھی قدیم یونانی شہری ریاستوں کی طرح اکثریت کا مقدر ’غلام‘ باشندوں کی طرح ہے اور اقلیت کا حال ’شہری‘ باشندوں کی طرح ہے۔ قدیم کلیسائی یورپ میں جس طرح ’لاطینی زبان ‘ خداداد (divine) حقِ حکومت رکھنے والے شاہی خانوادوں (blue bloods) کی زبان تھی اور یورپیوں کی قومی زبانیں محکوموں کی زبانیں تھیں تو کیا پاکستان میں انگلش خدادادِ حق حکومت رکھنے والوں کی زبان ہے اور اُردو محکوموں کی زبان ہے؟ کہیں ایساتو نہیں کہ پاکستان میں انگلش زبان زرعی عہد کے ’منوسمرتی‘ کی صنعتی عہد کے مطابق ترمیم شدہ شکل ہے کہ جس میں ’برہمنیت‘ کی جگہ ’انگلش پرستی‘ نے لے لی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستان میں انگلش جنوبی افریقہ میں گوروں کے کالوں سے نسلی امتیاز کی غیرمتشدد شکل ہے جو ’نسل‘ کی جگہ ’پیشے‘ کے روپ میں آئی ہے اور اِس نے انگلش سپیکنگ کالے انگریزوں اور عام عوام میں دوریاں ڈال دی ہیں؟ یہ سوالات اٹھانا اس لیے بنتے ہیں کہ پاکستان میں طبقہ خواص کے انگلش تعلیمی اداروں نے پیشہ وارانہ ذات پات (Caste-Like) ہی کوتقویت دی ہے اور اس سماجی المیہ کو سابقہ ایجوکیشن پالیسی کمیشن کے سربراہ نور خان نے بھی 1969ء میں تسلیم کیا تھا حتیٰ کہ پاکستان پر تحقیقی کتب لکھنے والے غیرملکی محققین بھی انگلش اُردو تنازع کو طبقاتی کشمکش کے تناطر میں زیادہ دیکھتے ہیں۔ خواص طبقہ کی دسترس میں ارتکازِ دولت کے ساتھ ترقی کے یکساں مواقع پر اجارہ داری کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ ماسوائے بیرونی ممالک بسلسلہ روزگار جانے والے محنت کشوں کی ایک اوسط تعداد کے، مجموعی طور پر پاکستان میں غریب کے غریب تر اور امیر کے امیر تر ہونے کی آج بھی وہی صورتِ حال ہے جس کا 38 سال پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے اِن الفاظ میں ذکر کیا تھا:
’’پاکستان غریب ملک ہے۔ پاکستان کی غریب عوام کا شمار دنیا کی غریب ترین عوام میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے خواص اُمر ا کا شمار دنیا کے امیرترینوں میں ہوتا ہے۔ یہ خدا کا قانون نہیں ہے۔ یہ اسلام کا پیغام نہیں ہے۔ یہ پاکستان کا نظریہ نہیں ہے۔‘‘ اور ’’یہ خدا کا قانون نہیں ہے کہ غریب ہمیشہ غریب ہی رہے۔‘‘
کیا اُردو کو رابطہ اور قومی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ دفتری زبان بھی ہونا چاہیے یا نہیں؟ اس بارے اجتماعی طور پر سماج پر اثرانداز ہونے والے شعبہ ہائے زندگی سے متنوع آراء ذیلی عبارتوں میں پیش کی جارہی ہیں۔
* کیا اُردو پاکستان کی دفتری زبان بننے کی صلاحیت حاصل کرچکی ہے؟ یہ جاننے کے لیے مقتدرہ قومی زبان اُردو کے ڈائریکٹر جنرل افتخار عارف سے رجوع کیا گیا۔افتخار عارف معیارِ اُردو اور نفاذِ اُردو کو اِن الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’’ اُردو سرکاری زبان کی حیثیت لینے کے لیے بڑی حد تک تیار ہے۔اگر چین، جاپان، کوریا، ایران اور دنیا کے بیشتر ممالک اپنی قومی زبان میں ہی اپنا کاروبارِزندگی چلاسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں چلا سکتے؟ اُردو کے نفاذ میں ماہرین اپنے حصے کا کام بخوبی کررہے ہیں اور وہ کافی حد تک اُردو کو اس سطح پر لے آئے ہیں کہ جہاں وہ روزمرہ کے کاروبارحکومت اور معمول کے نظم و نسق میں استعمال کے قابل ہوجائے۔ اس طرح نفاذِ اُردو سے متعلق اب تک جو قوانین بن چکے ہیں اور جو فیصلے کیے جا چکے ہیں اگر انہی کو نافذ کردیا جائے تو اُردو کا نفاذ ٹرانزیشنل عمل میں ہوتا چلا جائے گا۔اُردو زبان کی قومی و سرکاری حیثیت کو آئینی تحفظ حاصل ہے لیکن اس کے رواج و نفاذ کے لیے مقتدر طبقوں کی خواہش ہمیشہ سے کمزور رہی ہے۔ جب بھی اس ضمن میں کوئی قابلِ ذکر پیش رفت ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی ایسا معاملہ کھڑا کر دیا جاتا ہے جس سے رواج و نفاذ کا عمل ملتوی کردیا جاتا ہے۔ مواد اور کاروائیوں کی انگلش سے اُردو میں منتقلی کا عمل ارادی سست روی کی نذر کیا جاتا ہے۔ کبھی تکنیکی پیچیدگیوں کا عذر پیش کیا جاتا ہے۔ کبھی پاکستانی زبانوں کے ساتھ اُردو کے تصادم کا ہوا کھڑا کیا جاتا ہے اور اب آئین کے اس آرٹیکل 251 میں ترمیم کی کوششیں کی جارہی ہیں جس پر کبھی پوری طرح عمل بھی نہیں کیا گیا۔ دراصل پاکستان میں اُردو انگلش تنازع ایک لسانی، تکنیکی اور انتظامی مسئلے سے زیادہ مراعات یافتہ اور محروم طبقہ کے مابین طبقاتی کشمکش کا مظہر بن گیا ہے۔ اُردو کو دفتری زبان اور تدریسی زبان بنادیئے جانے سے 95 فیصد سے زائد کا محروم طبقہ بھی جب منصفانہ مقابلہ کی فضا میں ترقی کے یکساں مواقع سے مستفید ہوسکے گا تو تب 5 فیصد سے بھی کم کے اشرافیہ طبقہ کی وہ اجاری داری قائم نہیں رہ سکے گی جو اُس نے انگلش کے بل پر قائم کی ہوئی ہے۔ اس بنا پر مراعات یافتہ طبقہ اُردو کے نفاذ پر عمل درآمد کے آئینی فریضے کی تکمیل کی بجائے انگلش کے سٹیٹس کو کی طرفداری کرتا ہے۔‘‘
* کیا اُردو دفتری زبان بننے کے ساتھ ساتھ ذریعہ تدریس اور جدید مضامین کا میڈیم بننے کے لیے مطلوبہ ترقی کرچکی ہے؟ پاکستان میں نچلے طبقات کا فکری نمائندہ خیال کیئے جانے والے سینئر مارکسی رہنما اور ماہرمعاشیات ڈاکٹر لال خان کچھ اس طرح رقم طراز ہیں:
’’دراصل کم آمدنی والے ترقی پزیر پاکستان میں عدم نفاذِ اُردو کی وجہ کا تعلق صرف بیوروکریسی کے طبقاتی مفادات ہی سے نہیں ہے بلکہ پاکستان کے بانجھ اقتصادی نظام سے بھی ہے کہ جس نظام میں بنیادی ضروریات کی بہم رسائی کی گنجائش نہیں اس میں اتنے وسائل کہاں سے لائے جائیں کہ جدید علوم و فنون کے مطابق اُردو کی ترقی کی جاسکے؟ یہی وجہ ہے کہ اُردو مختلف قومیتوں اور علاقوں کے درمیان عام سمجھ بوجھ اور ہمکلامی کی زبان تو کافی حد تک بن چکی ہے لیکن جب گفتگو اور موضوعات زیادہ پیچیدہ اور ایڈوانس ہوتے جاتے ہیں وہاں اس کے استعمال کی محدودیت رکاوٹ بن جاتی ہے۔ تب آکر اُردو کی بجائے انگلش سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اُردو میں جدید علوم وفنون پر مواد کا شدید قحط ہے۔ دراصل گلوبلائزیشن کے عہد میں انگلش زبان ضرورت سے زیادہ مجبوری بن گئی۔ عمومی طور پر جدید سائنس اور علوم کے لیے زبان کو ان معیاروں کے لیے ترقی دینا ناگزیر ہوتاہے کہ اس زبان میں یہ پیچیدہ امور طے کیے جاسکیں۔ عدلیہ کا ہی سلسلہ دیکھ لیں آج بھی بیشتر عدالتی فیصلے اور معمولات انگریزی میں ہی چلتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم شعبے مثلاً طب، جراحی وغیرہ اور دیگر ایڈوانس سائنس کے مضامین میں بھی انگلش ہی استعمال ہوتی ہے۔ اس طرح ڈاکٹری ادویات اور نسخے سبھی انگریزی میں لکھے جاتے ہیں۔ بہت سے جدید آلات ، نئی ایجادات اور معمول کی عام اشیاء اور علامتی رہنما محاورے وغیرہ اُردو کی بانسبت انگریزی میں سمجھنے زیادہ آسان ہوتے ہیں۔ اگر انگلش سے اُردو میں کسی ایک شعبہ کی ہی زبان تبدیل کرنی پڑجائے تو اس کے لیے بھی بے پناہ اخراجات،محنت اور وسیع کام درکار ہے۔یہی صورتحال دوسرے سائنسی اور جدید علوم کی ہے لیکن اس نظامِ زر اور حکمران طبقے کے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ عام انسانوں کو علاج ،غذا، تعلیم ، پانی ،بجلی اور دوسری بنیادی اوراجتماعی ضروریات فراہم کر سکے تو یہ زبان کی ترقی پر کیا خرچ کرسکتے ہیں اور اسے کیسے جدید بنا سکتے ہیں؟ اس کے لیے بہت سے ادارے بنتے رہے ہیں اور چل بھی رہے ہیں۔ ایسے قوانین اور فیصلے حکمرانوں کے ایوانوں میں ہوتے رہے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد70سال بعد بھی نہیں ہوسکا کیونکہ مطلوبہ وسائل نہیں ہیں۔ مثلاً جب 1948ء میں اسرائیل کی مصنوعی ریاست تشکیل دی گئی تو متروک اور قدیم ’’عبرانی‘‘ زبان کو زندہ کرنے اور اس کو جدیدیت دینے کے لیے اس وقت کے 80 ملین ڈالر صرف کیئے گئے تھے، جو آج کی قیمتوں میں اس سے 10گناہ زیادہ رقم بنتی ہے۔ جبکہ پاکستان میں اُردو کی ترقی پر صرف کیئے جانے والے وسائل ایک انتخابی حلقہ سے بھی کم ہیں اور مجموعی طور پر ہمارا تعلیم اور تحقیق پر بجٹ بھی انتہائی ناکافی ہے۔ لہٰذا ہم اُردو کو اتنی ترقی نہیں دے سکے کہ وہ ایک جدید قومی اور سائنسی زبان بن سکے؟ دراصل اُردو کی ترقی کا عمل پاکستان کی معاشی ترقی کے عمل کا تابع متغیر ہے اور پاکستان کی معاشی ترقی کے ساتھ بھی سابقہ نوآبادیاتی ریاستوں جیسا معاملہ ہے کہ جہاں کے معاشی ڈھانچے اس قدر مستعد نہیں کہ انہیں انگلش سے ہٹ کر اْن کی اپنی زبانوں میں ترقی کا روڈمیپ دے سکیں کیونکہ ان کی اپنی زبانوں کو علوم و فنون کی زبان بننے کے قابل ترقی کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا اور اب اگر وہ اپنی زبانوں پر آتے ہیں تو انہیں جدید دنیا سے مہارتی خلا کا سامنا پیش آئے گا جو انہیں اُن کی موجودہ پوزیشن سے پیچھے بھی دھکیل سکتا ہے۔‘‘
* انگلش زبان پاکستان کے لیے ’گلوبلائیزیشن‘ کی ضرورت ہے یا استعماریت کا تسلسل اور نئی استعماریت کا آلہ ہے؟ اس بارے پاکستان پیپلز پارٹی کے سبکدوش رہنما، سابق ممبر پنجاب اسمبلی، سابق وزیرمملکت اور ممتاز دانشور قیوم نظامی پاکستان میں انگلش کو گلوبلائیزیشن کی ضرورت سے زیادہ برطانوی استعماریت کے تسلسل کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
’’نوکرشاہی، جاگیرداری اور فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کی طرح انگلش کا دفتری، تدریسی اور رسمی زبان ہونا بھی برطانوی استعمار کی باقیات ہے۔ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی سابقہ نوآبادیات پر تاحال مسلط استعماری زبانوں کی طرح پاکستان میں بھی انگلش مراعات یافتہ ’ہیوز‘ اور محروم رکھے گئے ’ہیوزناٹ‘ کے طبقاتی ناہمواری کے پیداواری رشتوں کی ماں ہے۔ برصغیر میں فارسی اور مقامی زبانوں کی جگہ انگلش کو لانے کا مقصد انتظامی مستعدی کی بجائے برصغیر پر برطانوی استعمار کی شکنجہ بندی کو مضبوط کرنا تھا تاکہ لارڈ میکالے کی تجویز کے مطابق ’’برصغیر کے مقامی افراد پر مشتمل انگریزوں کا وفادار‘ ایسا طبقہ تیار کیا جائے کہ جو خون اور رنگت میں تو کالا ہندوستانی ہی ہو‘ لیکن مزاج، کردار، اخلاقیات اور افکار میں خالصتاً انگریزوں کی طرح ہو‘‘ اور اِس طبقے کے ذریعے برطانوی استعماریت کے دوران اور استعماریت سے آزادی کے بعد برطانوی مفادات کے تحفظ کا کام لیا جائے۔پاکستان اور ہندوستان جیسے کم آمدنی والے ترقی پذیر ممالک میں آبادی کی غالب اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے لیکن انہی ممالک میں کالے انگریزوں کا یہ طبقہِ خواص کثیر آمدنی، پرتعیش طرزِ زندگی اور سرکاری مراعات تلے ایک تو وسائل پر بھی قابض ہوا بیٹھا ہے اور ساتھ ساتھ انگلش کی بدولت اس طبقے نے اعلیٰ سرکاری ملازمتوں جیسے ترقی کے یکساں مواقع پر بھی اپنی اجارہ داری قائم کررکھی ہے۔ کالے انگریزوں کا یہ طبقہ صرف سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہی میں نہیں ہے بلکہ سیاستدانوں، دانشوروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور ٹیکنوکریٹس میں بھی ہے جو انگلش کی بدولت پاکستانیوں پر مسلط ہونے کے ساتھ اپنے نواستعماری آقاؤں سے متصل بھی ہے۔ اس مظہر کو سرکاری دفاتر میں عام عوام کے ساتھ ان کے تحکمانہ رویے میں اور سفارت خانوں میں ان کی خوشامدگیری میں دیکھا جاسکتا ہے۔عام عوام سے کٹا یہ طبقہ خواص سیاست میں ہو یا سول ملٹری بیوروکریسی میں اور دانشوروں میں ہو یا ٹیکنوکریٹس میں یہ اپنے آقاؤں کی وفاداری اور اپنے گروہی مفادات کے لیے قانون سازی، پالیسی سازی، ایڈمنسٹریشن اور رائے سازی سمیت تقریباً سب امور میں ملکی قومی مفادات پر سمجھوتا کرلیتا ہے۔عام عوام کے مسائل کا ادارک نہ رکھنے کے باعث اگر اس طبقہ کے لوگ عوام کی بھلائی میں سنجیدہ بھی ہوں تو تب بھی یہ کسی مسئلہ کا حل ہونے کی بجائے بذاتِ خود عوام کا مسئلہ ہوتے ہیں۔ یہ حکومت پاکستان پر کرتے ہیں لیکن ان کی منزل مغربی ممالک ہوتے ہیں۔ ان کے فیملی ممبرز کے پاس دوہری شہریت ہوتی ہے۔ اِن کے بیشتر اثاثے بیرونی ممالک میں ہوتے ہیں۔ ان کی پناہ گاہیں بیرونی ممالک ہوتے ہیں۔ اس طبقہ اشرافیہ کی قوت ’’انگلش‘‘ ہے جس کی بدولت انہوں نے عام آدمی کو کاروبارِ ریاست میں چیک اینڈ بیلنس، شفافیت، جوابدہی کے کارِخیر کے قابل چھوڑنے کی بجائے اُسے تھانے کچہری کے چکروں میں الجھا رکھا ہے۔جب ریاستی مشینری اہلِ ریاست کی زبان میں چلے گی تو تب ہی اہل ریاست کا ریاست سے تعلق مضبوط ہوگا اور ایک عام فرد کا مفاد ریاست کے اجتماعی مفاد کے تابع ہوسکے گا۔ جبکہ ریاستی مشینری انگلش میں ہونے کی وجہ سے اقلیتی اشرافیہ نے انگلش سے نابلد عام عوام کی اکثریت کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کرریاست کو اپنے گروہی مفادات کے تابع کردیا ہے۔ کالے انگریزوں کا یہ طبقہ اپنی ملکی رعایا کے دیئے گئے محصولات پر پلنے کے باوجود بھی ’’سفید آدمی کابار‘‘ جیسی استعماری سوچ کے ساتھ ان کی ماں بولی زبانوں، اُن کے مقامی طرزِ لباس و حلیے اور مشرقی رہن سہن کو بدتہذیبی سمجھتا ہے اور انہیں ’’انگریزی تہذیب‘‘ سکھانے کے لیے ذلیل و خوار کرتا ہے۔ اس ذہنیت سے قوم کو چھٹکارہ دلانے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں دفتری، تدریسی اور رسمی زبان اُردو ہو تاکہ یہاں کے تمام طبقات ایک دوسرے کے ساتھ بقائے باہمی اور تعاون باہمی کی فضا میں رہ سکیں۔ برصغیر میں مسلط کالے انگریزوں کا طبقہ اگر کسی بھی طرح مفادِ عامہ کے حق میں ہوتا تو یقیناًاستعماریت اٹھانے کے بعد سلطنت برطانیہ ان کالے انگریزوں کے مربی اپنے ہم شہری سرکاری افسران کو یہ کہہ کر معزول نہ کرتی کہ ’’تم لوگ غلاموں کے لیے تیار کئے گئے تھے اور تم آزاد قوم کے لائق نہیں ہو‘‘۔ اگر پاکستانیوں نے پاکستان میں جمہوری اور پرامن طریقے سے کاروبار ریاست اکثریت کے ہاتھ میں لانا ہے تو پھر اس کا واحد ممکنہ حل اُردو کو دفتری، تدریسی اور رسمی زبان بنانا ہے۔ تب جب عوام کی زبان ہی سرکار کی زبان ہوگی تو تب عام عوام کی اکثریت کاروبارِریاست میں شراکتی بھی ہوگی اور اِس کی محتسب بھی ہوگی۔ لیکن اس سے ہر گز یہ مراد نہیں کہ انگلش سے قطع تعلق کردیا جائے۔ انگلش کو ضرور پڑھا جائے لیکن ایک زبان کی حیثیت سے، مضمون کی حیثیت سے اور بیرونی دنیا سے متعلق معاملات میں ضرور ت کی حیثیت سے۔ انگلش کی جگہ اُردو کو لانے کی ضرورت تخیل پرستانہ قوم پرستی کی بجائے 20 کروڑ عام عوام کی عملی ضرورت ہے لہٰذا پاکستان میں عدالتی اور معاشی عدل و انصاف کو یقینی بنانے، ظلم و استحصال کا سدباب کرنے اور جمہوریت کو اُس کی اصل روح میں لانے کے لیے اُردو کو دفتری، تدریسی اور رسمی زبان بنانا ناگزیر ہے۔ دراصل پاکستان میں غیرملکی زبان انگلش میں کاروبارِ ریاست چلانا عوام کی اکثریت پر اُمَراشاہی کی چندسری (Oligarchy) حکومت کا مظہر ہے اور یہ کسی بھی طرح جمہوریت نہیں ہوسکتی۔‘‘
* کیا اُردونائیزیشن میں اصطلاحات کی گتھیوں کو بطریقِ احسن سلجھایا جارہا ہے یا نہیں؟ ممتاز ترقی پسند دانشور، جمیل خان نفاذِ اُردو کے طریقہ کار پر اِن الفاظ میں تنقید کرتے ہیں:
’’بلاشبہ اُردو پاکستان کے لسانی تنوع میں رابطے کی واحد زبان ہے اور اِسی ناطے اُردو کو کثیرالقومیتی ریاست پاکستان کی قومی زبان ہونے کا درجہ حاصل ہے۔ تاہم اُردو کو رابطے کی زبان کے ساتھ ساتھ استعداد کی حامل دفتری اور تدریسی زبان بنانے کے لیے ہمیں نفاذِ اُردو کے لائحہ عمل پر بھی نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں پہلا نکتہ یہ ہے کہ زبان سے مراد وہ بولی لی جانی چاہیے کہ جو متعلقہ زبان والوں کی تحریروتقریر میں رائج ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے لیکن ہم اُردونائیزیشن کے عمل سے مراد ابتدائی فرہنگوں اور قدیم ادب کی وہ کتابیں لیتے ہیں جن میں استعمال کی جانے والی لفاظی، اصطلاحات اور لفظیات کا استعمال مروجہ عملی زبان میں متروک ہوچکا ہے۔ اس تناظر میں نفاذِ اُردو کے سلسلہ میں غیراُردو زبانوں سمیت مغربی زبانوں بالخصوص انگلش کے وہ الفاظ جو اُردو میں سرایت کرچکے ہیں اور اہل زبان کے لیے عام فہم ہوچکے ہیں کو ہی اُردو کے طور پر جاری رکھنا چاہیے لیکن ہم اُردونائیزیشن بلکہ اُردو کی اسلامائیزیشن کے عمل میں مذکورہ ذخیرہ الفاظ کو عربی اور فارسی کے غیرمانوس اور مشکل الفاظ سے بدل رہے ہیں۔ مثلاً یونیورسٹی کا لفظ اُردو کا لفظ بن چکا ہے لیکن ہم اِسے عربی کے ’جامعہ‘ اور فارسی کے’دانشگاہ‘ سے بدل رہے ہیں۔ یہی معاملہ ہم سائنس، میڈیکل، حساب، کیمسٹری، فزکس، کمپیوٹر سائنس کی اصطلاحات اور مشینی آلات کے ساتھ کررہے ہیں۔ ’ایل سی ایم‘ کو ذواضعافِ اقل‘، مدربورڈ کو تختہ مادر، ’تھرمامیٹر‘ کو ’مقیاس الحرارت‘ جیسی دقت زبانی کی ملمع کاری سے ہم اُردونائیزشن کی بجائے دِقّت نائیزیشن کررہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اگرچہ جدید اُردو کی نشوونما ترقی پسند مصنفین نے کی ہے لیکن اِس کے باوجود بھی نفاذِ اُردو کا مطالبہ دائیں بازوں والے کررہے ہیں جو اُردو کو لسانی ضرورت کی بجائے مذہبی فریضہ اور مشرقی قدر کے تئیں پیش کرکے اُردو کا مقدمہ خراب کررہے ہیں۔ درحقیقت نفاذِاُردو کی ضرورت مذہبیت اور مشرقیت سے متاثر کسی نظریاتی مطالبہ کی تسکین سے متعلق نہیں ہے بلکہ لوگوں کی آسانی کے لیے ایک وجودیاتی مسئلہ کے حل سے متعلق ہے۔ اس طرح انگلش کو برطانوی استعمار کے ورثہ سے ملنے والی زبان قرار دینے کے پیچھے کوئی تصوراتی قدر نہیں بلکہ لوگوں کی تکنیکی و انتظامی آسانی کی ضرورت کا فقدان ہے لہٰذا اُردو کو لوگوں کے لیے آسان فہم ہی رہنے دیا جائے۔ اگر اُردو نائیزیشن سے مراد اُردو میں فارسی، عربی، ترکی اور متروک لکھنوی اُردو کی بھرمار ہوگی تو اِس قسم کی اُردو لوگوں کے لیے اس طرح مسئلہ بن جائے گی کہ جس طرح پاکستان کے دفتری امور میں رائج برطانوی انگلش بنی ہوئی ہے۔ رہا سوال اُردو میں ذخیرہ الفاظ کی کمی کو پورا کرنے کا تو اس مقصد کے لیے ہمیں چاہیے کہ انگلش سمیت عربی، فارسی اور ترکی کے غیرمانوس الفاظ اُردو میں شامل کرنے یا ان کا ترکیبی ترجمہ کرنے کی بجائے ہم پاکستان کی ماں بولی زبانوں میں رائج الفاظ سے اس کی کمی کو پورا کریں۔ اس سے ایک تو اُردو کی پاکستانی زبانوں سے قربت بڑھے گی اور دوسرا ہماری ماں بولی زبانوں کا ذخیرہ الفاظ بھی محفوظ رہ سکے گا۔ اگر ہم اصطلاحات کی نقل حرفی لیں، اور غیرلسانی مضامین میں رومن حروف تہجی کو سائنسی اور علامتی ضروریات کے لیے استعمال کرنے پر اتفاق کرلیں تو یقیناًاُردو کے نفاذ میں حائل پیچیدگیوں کا ازالہ ہوسکے گا۔‘‘
* لیفٹیننٹ کرنل غلام جیلانی خاں ’’پاک فوج میں نفاذِ اُردو‘‘ کے مصنف ہیں اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں اُردو سے متعلقہ کئی اسائنمنٹس پر کام کرچکے ہیں۔ وہ بیک وقت اُردو اور انگلش کو بطورِ دفتری اور تدریسی زبان بنائے رکھنے کے حق میں ہیں۔ موصوف نفاذاُردو کے ساتھ دو لسانی پالیسی کی ان الفاظ میں حمایت کرتے ہیں:
’’ اُردو پاکستان میں رابطہ کی زبان ہے یہ پاکستان کی قومی زبان ہے۔ یہ اکثریتی عام عوام کی زبان ہے اور کاروبارِ ریاست میں عام عوام کی شراکت کے لیے اُردو کو نافذ کیا جانا ناگزیر ہے۔ عوام اور خواص میں قربت کے لیے بھی اُردو کا نفاذ ضروری ہے۔ ’زبان‘ کی بنیاد پر پیشہ وارانہ اور سماجی رتبوں میں ناہمواری آنے کی بجائے یکساں مقابلہ کی منصفانہ فضا قائم کرنے کے لیے بھی اُردو ضروری ہے لہٰذا اُردو کو لازماً پاکستان کی دفتری زبان قرار دیا جائے لیکن اس کے عملی نفاذ میں جو دشواریاں پیش آ سکتی ہیں ان کا نفاذ سے پہلے سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اُردو میں شعرو شاعری، سیاست اور مذہب پر تو بہت کام ہوا ہے لیکن بقیہ ضروری مضامین جیسے میڈیکل، قانون، دفاع اور اقتصادیات کے مضامین و موضوعات پر کوئی کام نہیں ہو رہا حتیٰ کہ اصطلاحات کا ترجمہ کیا جائے یا ان کی نقل حرفی کی جائے؟ اس پر بھی کوئی سمت متعین نہیں کی گئی۔ انگلش کی پیچیدہ اور تکنیکی اصطلاحات کا اُردو میں ترجمہ کرنے میں موزونیت اور مانوسیت کی عدم مطابقت پیش آسکتی ہے لہٰذا انگریزی کی ان اصطلاحات کو خواہ مخواہ اُردو کا جامہ پہنانے کی کوشش نہ کی جائے جو بین الاقوامی میدان میں راہ پا چکی ہیں اور ہمارے ہاں بھی زبان زدعام ہیں۔ پاکستان میں اُردو کا نفاذ عوام الناس کی سہولت کے لیے ضروری ہے بالخصوص مقابلہ کے سول امتحانات اور آرمی میں کمیشن کے لیے لیکن انگلش جدید علوم و فنون تک رسائی اور ترقی یافتہ دنیا سے مہارتی خلا کو کم رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ پاکستان میں جب کبھی بھی نفاذِ اُردو کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت کی جائے تو اُردو اور انگریزی میں رقابتیں ڈال کر نہ کی جائے بلکہ اُردو اور انگلش میں رفاقتیں تلاش کی جانی چاہیں۔ اگر اُردو کو نافذ کیا جاتا ہے تو انگلش کو بھی سیکنڈری لینگوئیج کے طور پر باقی رکھا جانا چاہیے۔ ہمیں دولسانی معیارات کی طرف جانا چاہیے۔ یہی اس مسئلہ کا معقول ہے۔‘‘
* کیا اُردو کا نفاذ پاکستان میں ترقی کے عمل کو رول بیک کردے گا؟ پاکستان آرمی کے سابق کرنل اور نمل یونیورسٹی اسلام آباد میں گورننس اینڈ پبلک پالیسی کے لیکچرار پروفیسر حاکم خان پاکستان میں اُردو کے نفاذ کو مثبت اور تعمیری لیتے ہیں لیکن نفاذِاُردو کو اُردو کی مطلوبہ ترقی سے مشروط کرتے ہوئے یوں اظہارِ خیال کرتے ہیں:
’’اُردو کے نفاذ سے منصفانہ فضا قائم ہوگی اور خالص میرٹ سامنے آئے گا۔کاروبارِ ریاست میں عوام کی شمولیت بڑھے گی۔ اداروں کی کاروائیوں میں شفافیت اور ان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔اگرچہ دفتری اور تدریسی امور کی انگلش سے اُردو میں منتقلی کا عمل قلیل شارٹ ٹرم ٹرانزیشنل پیریڈ میں تو یقیناًدشواریاں لائے گا لیکن لانگ ٹرم بنیادوں پر اُردو کا نفاذ مثبت اور تعمیری ثابت ہوگالیکن اِس سے پہلے یہ بہت ضروری ہے کہ اُردو کو کم از کم اتنی ترقی دی جائے کہ وہ جس شعبہ میں نافذ کی جارہی ہے اُس کے پیچیدہ موضوعات کا احاطہ کرسکے۔ عدم نفاذِ اُردو پر تنِ تنہا بیوروکریسی کو الزام دینا انصاف نہیں کیونکہ عدم نفاذِ اُردو کی بنیادی وجہ وقت کی منتخب حکومت کا دلچسپی نہ لینا ہے اور مقننہ میں بیٹھی اپوزیشن کا اس سے لاتعلق رہنا ہے۔‘‘
* صحافی احمد قریشی عربی، انگلش اور اُردو میں روانی رکھتے ہیں اور تینوں زبانوں کی پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں کام کرچکے ہیں۔ اُن کا تعلیمی پسِ منظر انفارمشین ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سائنس کا ہے۔احمد قریشی پاکستان میں اُردو کا مستقبل روشن دیکھتے ہیں۔
’’پاکستان میں دن بدن غیرمحسوس طریقے سے اُردو کی ناگزیریت بڑھتی جارہی ہے۔دور جدید اشرافیہ کی پسندناپسند کی بجائے عوامی شراکت کا دور ہے اور پاکستان میں عوامی شراکت کے لیے اُردو ناگزیر ہے۔ آنے والے وقتوں میں سرکاری، نجی، حکومتی، غیرحکومتی، تعلیمی، تحقیقی، تخلیقی، رفاعی، تجارتی، کاروباری معاملات سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق کام کرنے والے مفاداتی فریقین کے لیے عوام میں اپنی ساکھ بنانے کے لیے انگلش کی بجائے اُردو ناگزیر ہوتی جائے گی لہٰذا آنے والے وقتوں میں اُردو کا نفاذ کسی مطالبے کے دباؤ کی بجائے اُردو کی افادیت کے سبب بتدریج اپنے تئیں ہوتا چلا جائے گا۔ پاکستان میں میڈیا اور این جی اوز کا کوئی منصوبہ تب تک عوام میں مقبول اور نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا کہ جب تک اُسے انگلش کی بجائے اُردو میں نہ پیش کیا جائے۔ ڈان، ایکسپریس اور جیو کے انگلش چینلوں کا فلاپ ہونا ہمارے سامنے ہے اور پی ٹی وی ورلڈ انگلش کی غیرمقبولیت بھی ہم سب کو معلوم ہے کہ پاکستان میں نیوز اور انٹرٹینمنٹ چینلوں کو چلانے کے لیے اُردو ناگزیر ہے۔ یہاں تک کہ انگلش میں پرانے لکھنے والے کالم نگار بھی عام عوام میں اپنی ساکھ بنانے کے لیے اُردو میں لکھ رہے ہیں یا پھر اپنی تحریروں کے اُردو میں متبادل ترجمے کروارہے ہیں۔ اس طرح رفاع عامہ پر ٹھوس اور سماجی آگہی پر شعوری کام کرنے والی مقامی اور غیرمقامی این جی اوز جو پہلے اپنا لٹریچر انگلش میں شائع کرتی تھیں اب وہ لوگوں میں اپنی جڑیں بنانے کے لیے اُردو خط وکتابت کا استعمال کررہی ہیں۔ حتیٰ کہ عالمی سطح پر کام کرنے والے قدآور صحافتی ادارے بھی پاکستان میں قارئین اور ناظرین کی بڑی تعداد تک اپنی رسائی بنانے کے لیے انگلش کی بجائے اُردو میں ہی نشرواشاعت کررہے ہیں۔ مثلاً برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن(برطانیہ)، وائس آف امریکہ (امریکہ)، ڈوئچے ویلے (جرمنی)، مہر نیوز ایجنسی (ایران)، سحر یونیورسل نیٹ ورک (ایران)، ترکش ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن (ترکی) ، نیپون ہوسو کیوکائی (جاپان)، العریبیہ (سعودی عرب) وغیرہ اپنی ویب سائٹوں کے اُردو ایڈیشن بھی پیش کررہے ہیں جن میں تحریری اور ویڈیو مواد اُردو میں پیش کیا جاتا ہے ۔ اس طرح موجودہ دور ’ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘ کے ساتھ ساتھ ’ایجاد ضرورت کی ماں ہے‘ کا بھی ہے۔ اب وہ وقت بھی نہیں رہا کہ اُردو کے نفاذ میں ٹیکنالوجی کی تکنیکی کمزوریوں کا بہانہ بنایا جائے یا یہ کہ اُردو کے نفاذ کو رومن رسم الخط سے مشروط کردیا جائے کیونکہ اب ٹیکنالوجی اپنے تئیں خود کواُردو میں ڈھالنے لگ پڑی ہے اور ہماری طرف سے ڈیمانڈ بھیجے بغیر ہمیں اُردو مصنوعات پیش کی جارہی ہیں۔ آج موبائل کی بورڈ سے لے کر گوگل سرچ انجن تک انگلش کے ساتھ ساتھ اُردو میں بھی صارفین کو پیش کئے جارہے ہیں۔ اس طرح آن لائن ٹرانسلیٹر ویب سائیٹس کی ترقی کے ساتھ ساتھ ایک زبان کے مواد کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا مسئلہ بھی کم سے کم ہوتا جارہا ہے۔ اس ضمن میں سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر رسمی خط و کتابت اور دستاویزسازی کے لیے لینگوئج گیپ کا مسئلہ نہیں رہے گا۔ مختصر کہ ’ان پیج‘ اُردو سے لیکر اُردو سرچ انجنز تک ٹیکنالوجی نے اُردو کی ترقی اور اُردو کے ذریعے ترقی کا اہتمام ہی کیا ہے اور پاکستان میں حکومتی سطح پر کی گئی کوششوں سے زیادہ ٹیکنالوجی نے اُردو کی پرورش کی ہے لہٰذا یہ دعویٰ کہ اُردو جدیدیت اور ترقی کی زبان نہیں ہے بہت جلدی جدیدیت اور ترقی کے ہاتھوں ہی اپنی موت مر جائے گا۔ اس ضمن میں کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آرٹیفشل انٹیلی جینس کی بدولت اُردو کی ترقی اور اطلاقیت میں وہ گراں قدر پیش رفت ہوگی جو کہ ہمارے اُردو زبان سے متعلقہ ادارے اور اُردو سے متعلقہ آئینی ضوابط پر عملدرآمد کروانے کی ذمہ دار بیوروکریٹک مشینری بھی نہیں کرسکی۔اگرچہ بیورکریسی اور مراعات یافتہ طبقات نفاذِ اُردو کے مطالبے کورجعت پسندی قرار دے رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اُردو کا نفاذ رجعت پسندی کا مظہر نہیں بلکہ رجائیت پسندی کی ضرورت ہوگی۔‘‘
اکثر ماہرین کی جانب سے پاکستان کی صورت حال کے لیے ’سہ لسانی‘ فارمولا پیش کیا جارہا ہے۔ انگلش ’عالمی دفتری زبان‘ کی ضرورت کے لیے فارن سروسز اور مسلح افواج کے بیرونی ممالک سے متعلقہ تعاون اور معاملات کے لیے۔ لیکن انگلش کا دائرہ کار پہلے متعین کردیا جائے تاکہ یہ قومی داخلی معاملات میں سرایت نہ کرے۔ اُردو ’قومی دفتری زبان‘ کی ضرورت کے لیے وفاقی سول سروسز اور مسلح افواج کے اندرونی معاملات کے لیے اور ساتھ میں صوبوں اور وفاق کی مشترکہ فہرست سے متعلقہ معاملات کے لیے۔ اس طرح صوبے اگر چاہیں تو اپنی ضرورت کے مطابق اپنی زبانوں کو ’صوبائی دفتری زبان‘ کی ضرورت کے لیے صوبائی اور بلدیاتی سطح کے سرکاری معاملات کی انجام دہی میں اپنا لیں۔سہ لسانی فارمولا کو اپنانے کے لیے آئین میں ’قومی دفتری زبان‘ اور ’صوبائی دفتری زبان‘ کے دولسانی فارمولا کی پہلے ہی گنجائش دی گئی ہے جس کے مطابق سندھ نے صوبائی دفتری زبان ’سندھی‘ کو بنایا تھا۔ البتہ انگلش کو ’عالمی دفتری زبان‘ بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت پڑے گی لیکن اس سہ لسانی فارمولا کو نافذ کرنے اور آئین میں اس کی خاطر ترمیم کرنے سے پہلے تین عوامل یقینی بنائے جائیں۔ انگلش کا فارمولا کے مطابق صرف عالمی دائرہ کار ہی ’متعین‘ کیا جائے البتہ قومی اور صوبائی معاملات میں اِسے اُردو یا صوبائی زبانوں کی لکھت پڑھت کے ترجمہ کردہ ورژن کے طور پر رکھا جائے اور دوسرا یہ کہ اُردو کو واحد قومی زبان اور وفاقی دفتری زبان بنائے رکھنے کے میثاق کو ترمیم کا نشانہ بنایا جائے۔ سہ لسانی فارمولا کے نفاذ میں یہ بھی احتیاط کی جانی چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انگلش آئین کے خیمہ میں پہلے ’عالمی دفتری زبان‘ کی آڑ میں منہ گھسیڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے 15سال کی جگہ مستقل حیثیت نہ لے بیٹھے۔البتہ فی الحال سہ لسانی فارمولاسے بھی لینگوئج بل کی طرح نفاذِاُردو سے توجہ منتشر کیئے جانے کا کام لیا جا رہا ہے۔
نتیجہ بحث یہ کہ اہلِ رائے اس نکتہ پر تو اختلاف کرتے ہیں کہ آیا اُردو اس قدر ترقی کرچکی ہے یا نہیں کہ اِسے ذریعہ تدریس میں جدید علوم و فنون اور ہنرو مہارتوں کی زبان کے طور پر اپنایا جاسکے تاہم اس نکتہ پر تقریباً تمام صاحبِ رائے اتفاق کرتے ہیں کہ اگر اُردو انگلش کی متبادل زبان بننے کی اہل ہوجاتی ہے تو تب اُردو کے آجانے سے منصفانہ مقابلہ کی فضا قائم ہوگی، خالص میرٹ سامنے آئے گا اور کاروبارِ ریاست پر 5 فیصد اُمراشاہی کی چندسری اجارہ داری ٹوٹے گی، 95 فیصد سے زائد عام عوام کی شراکت داری قائم ہوگی اور جمہوریت اپنی اصل روح میں پنپ سکے گی۔انگلش کو دفتری اور تدریسی زبان کی حیثیت سے ہٹانے کی ضرورت اِس لیے ہے کیونکہ پاکستان میں عام آدمی کاانگلش سے توقعات رکھنا ایسا ہی ہے کہ جیسے کہ:
میرا قاتل ہی میرا منصف ہے
کیا مرے حق میں فیصلہ دے گا
تاہم مارکسزم کے مطابق ریاست کو طبقہِ اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کا آلہ دیکھا جاتے تو پھر رئیس امروہی کے الفاظ میں آثار یہی بتاتے ہیں کہ:
اُردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...