اسٹیبلشمنٹ، میکاولی کا ڈیوک حربہ، اور نوازشریف کی تاحیات نااہلی

358

میکاولی کا ڈیوک حربہ بالادست مفاداتی فریقین ریاستوں کی داخلی سیاست میں بھی استعمال کرتے آرہے ہیں اور بین الاقوامی سیاست میں بھی استعمال کررہے ہیں۔ پاکستان میں ڈیوک حربے کو ریاست کی بالادست قوت اسٹیبلشمنٹ ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف پر 4اُنہیں ’مسزرامیرودور‘ کی طرح مہرہ بناکر استعمال کرچکی ہے۔

نکولو میکاولی (1469ء تا 1527ء ) سیاسیات کا نابغہِ روزگار فلسفی ہے .تعلیمی اداروں، تھنک ٹینکس، پالیسی سازوں، خفیہ ایجنسیوں، مقتدر حلقوں اور مدبرین کے ہاں میکاولی کی تصانیف کا آج بھی مطالعہ کیا جاتا ہے بالخصوص ’ پاور پالیٹکس‘ کے تناظر میں اُس کی کتاب ’پرنس کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے سابق چیف آف اسٹاف ڈائریکٹریٹ جنرل آئی ایس آئی بریگیڈیئر (ر) سیّد احمد ارشاد ترمذی اپنی کتاب ’حسّاس ادارے‘ میں چوتھی صدی قبل مسیح کے بھارتی فلسفی اور ’’ارتھ شاستر‘‘ کے مصنف چانکیا کا موازنہ میکاولی سے کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’چانکیا کا نظریہ حکومت میکاولی سے چنداں مختلف نہیں‘ وہ بھی اپنے پیروکاروں کو چالاک‘ سازشی‘ کمینگی کی حد تک بدلہ لینے کے خواہش مند ہر لمحہ اوچھے ہتھ کنڈوں اور بدیانتی سے دشمن کو مات دینے پر تیار اور اس ہنر میں تاک دیکھنا چاہتا ہے۔‘‘ (I)
میکاولی کی پاور پالیٹکس کے کارگر حربوں میں ’ڈیوک حربہ‘ (The Duke’s Tactics) سرکش عناصر سے نبٹنے کےلیےاستعمال کیا جاتا ہے۔(II) دراصل ڈیوک حربہ پسِ پردہ رہ کر مہروں کے ذریعے بلواسطہ ناپسندیدہ عناصر کا سدباب کرنے کا حربہ ہے۔ ڈیوک حربے کا ذکر میکاولی نے اپنی کتاب ’’ دی پرنس II‘‘ میں اِن الفاظ میں کیا تھا:
’’جب ’ڈیوک‘ نے رومانا پر قبضہ کیا تو اس پر نالائق حکمرانوں کی حکومت تھی جن کے پیش نظر رعایا کا مفاد نہیں بلکہ جن کا مقصد رعایا کو لوٹنا تھا اور جو اتحاد کے بجائے نفاق پیدا کرنا چاہتے تھے۔ نتیجہ یہ تھا کہ ملک میں آئے دن ڈکیتی، فساد اور ہر طرح کی زیادتیاں ہوتی رہتی تھیں۔ ان حالات میں اس نے یہ طے کیا کہ ملک میں امن و امان قائم کرے۔ ملک کو مطیع و فرماں بردار بنانے کےلیےضروری تھا کہ اچھی حکومت قائم کی جائے۔ چنانچہ اس نے ’مسزرامیرودور‘ کو جو نہایت درشت اور مستعد آدمی تھا حاکم بنایا اور اسے کامل اختیارات تفیض کئے۔ اس نے تھوڑے ہی عرصہ میں نہایت کامیابی کے ساتھ ملک میں امن و امان قائم کردیا لیکن جب بعد میں اسے یہ خوف ہوا کہ اتنے غیرمحدود اختیارات سے نقصان کا اندیشہ ہے تو ڈیوک نے فیصلہ کیا کہ اس کی اب ضرورت باقی نہیں رہی اور اس نے صوبہ کے مرکز میں ایک عدالتی مجلس ایک لائق صدر کے ماتحت قائم کی جس میں ہر شہر کو اپنے وکیل کے ذریعے نیابت حاصل تھی۔ اسے یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ گزشتہ مظالم کی وجہ سے لوگوں میں اس کے خلاف سخت نفرت پیدا ہوگئی تھی۔ اب اس کو دور کرنے کے لئے اور لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر اس نے یہ ظاہر کرنا شروع کیا کہ ان پر جو زیادتیاں ہوئی تھیں ان کا ذمہ دار وہ خود نہیں بلکہ اس کا نائب تھا۔ اس بہانہ سے فائدہ اٹھا کر ایک دن اس نے رامیرو کا سر تن سے جدا کرادیا۔ اور یہی نہیں بلکہ مع تختہ اور خون آلود کلہاڑی کے سزنیا میں اسے سربازار مشتہر کیا۔ عجیب وحشیانہ منظر تھا۔ جس سے عام لوگ مطمئن بھی ہوئے اور ہکے بکے بھی رہ گئے۔‘‘(2)

میکاولی کا ڈیوک حربہ بالادست مفاداتی فریقین ریاستوں کی داخلی سیاست میں بھی استعمال کرتے آرہے ہیں اور بین الاقوامی سیاست میں بھی استعمال کررہے ہیں۔ پاکستان میں ڈیوک حربے کو ریاست کی بالادست قوت اسٹیبلشمنٹ ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف پر 4اُنہیں ’مسزرامیرودور‘ کی طرح مہرہ بناکر استعمال کرچکی ہے۔

پاکستان میں میکاولی کے ڈیوک حربے کی ابتدائی مثال ذوالفقار علی بھٹو اور خان عبدالولی خان کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) ہیں جن اسٹیبلشمنٹ نے ڈیوک حربے کا نشانہ بنایا تھا۔نیپ کے قائدین کی قوم پرستی کو اسٹیبلشمنٹ شک کی نظر سے دیکھتی تھی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد 1972ء میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی اکثریت کی بنیاد پر مرکز، پنجاب اور سندھ میں حکومت بنائی تھی۔ جمعیت علمائے اسلام نے اپنی سربراہی میں نیپ کے ساتھ صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) میں مخلوط حکومت بنائی تھی۔ بلوچستان میں نیپ نے اپنی سربراہی میں جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی تھی جس میں بلوچ قوم پرست قائدین میر غوث بخش بزنجو ’گورنر‘ اور سردار عطا اللہ مینگل ’وزیراعلیٰ‘ تھے۔ فروری 1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر بلوچستان میں گورنرراج لگا کرنیپ اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت کو برخاست کردیا تھا اور بلوچستان میں ملٹری آپریشن شروع کردیا تھا جس کے ردِعمل میں صوبہ سرحد میں جمعیت علمائے اسلام کی صوبائی حکومت احتجاجاً مستعفی ہوگئی تھی۔بعدازاں 1975 ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر نیپ کی صفِ اول کی قیادت خان عبدالولی خان، غوث بخش بزنجو اور سردار عطا اللہ مینگل سمیت درجنوں سیاستدانوں کو صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرواکر پشتونستان اور عظیم بلوچستان بنانے کی لندن سازش کے الزام پر غداری کے مقدمہ میں زیرِ عتاب کرلیا تھا۔ غداری کا یہ مقدمہ حیدرآبادٹربیونل کے نام سے 1975ء تا 1979ء تک چار سال چلایا جاتا رہا تھااوراِس دوران نیپ کی قیادت قیدوبند کی صعوبتیں جھلتی رہی تھی۔ حیدر آباد ٹریبونل کے بکھیڑوں میں ہی نیپ کی قوت بھی ماند پڑتی جانے لگ پڑی تھی اور اس کے ملبہ پر عوامی نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی ، بلوچستان نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی نامی جماعتیں بنتی چلی گئی تھیں۔1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے مسئلہ پر پاکستان نیشنل الائنس کے رہنماؤں کی صف میں اصغر خان اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ کی حیثیت سے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تصفیہ کی مخالفت کررہے تھے تو اُن کی دیکھا دیکھی خان عبدالولی خان کی اہلیہ بیگم نسیم ولی خان بھی ذوالفقار علی بھٹو سے پرخاش میں اصغر خان کی طرح تصفیہ کی راہ میں رخنہ اندازی کرنے لگ پڑی تھیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے ’ڈیوک‘ کی طرح ذوالفقار علی بھٹو سے نیپ جیسے اپنے ناپسندیدہ عناصر کے خلاف’مسزرامیرودور‘ کا کام لینے کے بعد ڈیوک حربے کی ترتیب کے مطابق 4 جولائی 1977ء کی رات پاکستان نیشنل الائنس اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین غیرتحریری تصفیہ طے پاجانے پر جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا لگا دیا تھا تاکہ انتہائی طاقتور بن جانے والے ذوالفقار علی بھٹو کا بھی بندوبست کیا جاسکے اور اگلے روز پاکستان نیشنل الائنس اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین معاہدے پر دستخط ہوجانے سے ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی حلقوں میں مخالفت کی شدت کو ’رول بیک‘ ہونے سے روکا جاسکے۔ اسٹیبلشمنٹ نے 5 جولائی 1977 ء کو مارشل لالگا کر ایک طرف تو ذوالفقار علی بھٹو کے زیرعتاب رہنے والوں سے ہمدردی بھی جتائی تھی اور ساتھ میں یہ بھی باور کردیا تھا کہ اصلاً پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ صرف اسٹیبلشمنٹ ہی ہے۔ مارشل لا رژیم کی جانب سے نوے دن میں عام انتخابات کروانے کے پروگرام کی رَدّ میں اصغر خان نے جب اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو کی جگہ ’وزیراعظم‘ بنائے جانے کے مبینہ وعدوں پر ’’انتخاب سے پہلے احتساب‘‘ کا مطالبہ کیا تھا توتب اصغر خان کی تائید میں نیپ کے سربراہ خان عبدالولی خان نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اپنی انتقامی آگ کی تسکین کےلیے’’انتخاب سے پہلے احتساب‘‘ کا مطالبہ کردیا تھاکیونکہ عام عوام میں اُس وقت بھی ذوالفقار علی بھٹو ہی مقبول ترین تھے اور اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے عام انتخابات میں بھی انہی کی اکثریت متوقع تھی۔ لہٰذا اسٹیبلشمنٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے اُن کے حریفوں کو تسکین بھی پہچائی تھی اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکا کر اپنی ہیبت بھی طاری کردی تھی کہ جو اسٹیبلشمنٹ ذوالفقار علی بھٹو کو لٹکا سکتی ہے وہ کسی کو بھی لٹکا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ اُس وقت نیپ نظریاتی لحاظ سے ذوالفقار علی بھٹو کی بائیں بازو کی ’اشتراکیت پسند‘ سیاست کے قریب ترین ہونے کے ناطے اُن کی سب سے بہترین حلیف ثابت ہوسکتی تھی لیکن اسٹبلشمنٹ کے ایما پر ذوالفقار علی بھٹو کی مخاصمت پسندی نے انہیں اُس مقام پر پہنچا دیا تھا کہ 5 جولائی 1977 ء کو مارشل لاء کی آمد، 20 ستمبر 1977 کو محترمہ نصرت بھٹو کی سپریم کورٹ میں مارشل لاء کے خلاف پٹیشن اور 4 اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے مواقع پر دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دینے کی بجائے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کو فائدہ پہنچایا تھا کیونکہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے زیرعتاب رہے تھے لہٰذا انہوں نے مارشل لا کے نفاذ سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کی تدفین تک کے عمل میں اپنی نجات اور تحفظ کا سامان محسوس کیا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو کی برائت میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی بغاوت کو بادلِ نخواستہ قبول کرلیا تھا۔ بعدازاں نیپ میں خان عبدالولی خان اور بلوچستان کے قوم پرست قائدین میں علیحدگی کی بنیادی وجہ بھی یہی بنی تھی کہ خان عبدالولی خان بلوچستان میں نیپ حکومت کی معزولی اور ملٹری آپریشن کا قصوروار ذوالفقار علی بھٹو کی ذات کو ٹھہراتے ہوئے جنرل ضیا ء الحق سے مجبوراً وقتی تعاون کے حامی ہوگئے تھے جبکہ سردار عطا اللہ مینگل اور میر غوث بخش بزنجو اِسے ذوالفقار علی بھٹو کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی سازباز قرار دیتے تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کی برائت میں ضیاء رژیم کی حمایت کو جمہوری عمل کے تسلسل اور سولین سپرمیسی کی نفی سمجھتے تھے۔
بعدازاں میکاولی کا ڈیوک حربہ اسٹیبلشمنٹ نے محترمہ بے نظیر بھٹو، ایم کیو ایم ’الطاف‘ اور میر مرتضیٰ بھٹو پر بھی آزمایا تھا۔باوجودیہ کہ ’نظریہِ مفاہمت‘ کے نام پر محترمہ بے نظیر بھٹو اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی مان چکی تھیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں وہ ناپسندیدہ ہی رہی تھی۔ ایک خاتون وزیراعظم جو ہو بھی ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی اُسے سیلیوٹ کرنا جرنیل اپنی ہتک سمجھتے تھے اور قومی سلامتی کی اپنی اختراع کردہ تعریف میں اُنہیں ’سیکورٹی رسک‘ خیال کرتے تھے۔ ایم کیو ایم ’الطاف‘ ضیاء رژیم کی لے پالک کے طور پر ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کےلیےناگزیر ہی رہی ہے لیکن ایم کیو ایم ’الطاف‘ سے اسٹیبلشمنٹ کا رشتہ جماعت اسلامی جیسا طویل مدتی اشتراک والا کبھی نہیں رہا بلکہ کبھی پیار کبھی محبت کا رہا ہے تاکہ حالات و واقعات کی ضرورت کے تحت اُسے مہرہ بازی میں استعمال کیا جاسکے۔ ضیاء اور مشرف کے جرنیل راجوں کو فائدہ دینے کےلیےاسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم ’الطاف‘ کو ایک ’محب وطن‘ جماعت کی طرح قبول کرتی رہی تھی اور ریاستی رِٹ کی دھجیاں اڑانے والے 12 مئی 2007 ء جیسے ناقابلِ فراموش واقعے پر اس لیےآنکھیں بند کرلیتی ہے کہ اس قتل عام کا مقصد عدلیہ بحالی تحریک کو جنرل پرویز مشرف کی ’طاقتور‘ سٹریٹ پاور کا مظاہرہ دیکھا کر خوفزدہ کرنا تھا۔ بصورت دیگر اگر ایم کیو ایم ’الطاف‘ محترمہ بے نظیر بھٹو کی مخالفت میں جنرل حمید گل کے اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ بننے سے انکار کردے تو پھر اسٹیبلشمنٹ نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی جمہوری حکومتوں کی حب الوطنی کا امتحان لینے کےلیےایم کیو ایم ’الطاف‘ کو بطورِ ’را ایجنٹ‘ پیش کرتی ہے اور جمہوری حکومتوں کے دور میں الطاف حسین کی خالی خولی تقریروں کی پاداش میں سرکوبی کرنا شروع کردیتی ہے جبکہ پرویز مشرف کے جرنیل راج میں اسٹیبلشمنٹ الطاف حسین کی اِسی قسم کی تقریروں کو نظرانداز کردیتی رہی تھی کیونکہ تب وہ پرویزمشرف کا دست و بازو تھا۔ اگرچہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت متحدہ قومی موومنٹ کے اتحاد کی بدولت ہی قائم ہوسکی تھی لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دوسرے اور آخری دورِحکومت میں اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر ایم کیو ایم ’’الطاف‘‘ کا بھرپور کریک ڈاؤن کرنا شروع کردیا تھا۔ اِسی کریک ڈاؤن میں ایم کیو ایم ’الطاف‘ کے سینکڑوں کارکنان مارے گئے تھے جس کی مذمت میں کراچی کی مہاجر آبادی سے تعلق رکھنے والا پاکستان پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک محترمہ بے نظیر بھٹو سے متنفر ہوکر ایم کیو ایم ’الطاف‘ کے پلڑے میں چلا گیا تھا اور اُن کی حکومت کے خلاف سب سے پہلے اُن کے صوبہ سندھ کے شہری علاقوں سے آوازیں اٹھنے لگنا شروع ہوگئی تھیں۔ ایم کیو ایم ’الطاف‘ ہی کی طرح اسٹیبلشمنٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے صاحبزادے اور پاکستان پیپلز پارٹی’ بھٹو شہید‘ کے سربراہ میر مرتضیٰ بھٹو کو راستے سے ہٹانے کےلیےبھی محترمہ بے نظیر بھٹو کو مہرے کے طور پر استعمال کیا تھا اور میر مرتضیٰ بھٹو کی گرفتاری کےلیےسندھ پولیس کو آپریشن کرنے کی اجازت دلوائی تھی اور جب 20ستمبر 1996ء کو میرمرتضیٰ بھٹو 70 کلفٹن کی اپنی رہائش گاہ کے سامنے پولیس آپریشن میں مارے گئے تھے تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی مخالفت پورے ملک میں پھیل گئی تھی یہاں تک کہ بھٹو خاندان میں بھی اُن کو قاتل سمجھا جانے لگا تھا۔آخرکار اسٹیبلشمنٹ نے ’ڈیوک‘ کی طرح محترمہ بے نظیر بھٹو سے ایم کیو ایم ’الطاف‘ اور میر مرتضیٰ بھٹو جیسے اپنے ناپسندیدہ عناصر کے خلاف ’مسزرامیرودور‘ کا کام لینے کے بعد ڈیوک حربے کی ترتیب کی رو سے ’جبرزدگان‘ کا مسیحا بن کر اُس وقت کے صدر فاروق لغاری پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا تھا کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت توڑ دیں۔ میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے چھ ہفتوں بعد ہی 5 نومبر 1996ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت بھی توڑ دی گئی تھی۔اُس بار محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت توڑے جانے کو خود سندھ میں بھی نجات خیال کیا گیا تھا حتیٰ کہ 3 فروری 1997ء کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی 207 عام سیٹوں سے صرف 18سیٹیں ملتی ہیں؛ مرکز سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے ہوم گراؤنڈ سندھ میں بھی پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت بنتی ہےاور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے روایتی ووٹ بینک کی انتخابی عمل میں غیردلچسپی سے ٹرن آؤٹ کی بھی کم ترین شرح دیکھنے کو ملتی ہے۔
حال ہی میں میکاولی کا یہی ڈیوک حربہ اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف پر آزمایا ہے۔2014ء تک تو پاکستان پیپلز پارٹی  سیاسی عمل کے تسلسل کی خاطر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے لانگ مارچ کی رَدّ میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی حمایت کررہی تھی اور اعتزاز احسن اور چوہدری نثار کی باہمی پرخاش کے باوجود بھی نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے مطالبے کی مذمت میں اُن کے ساتھ کھڑی تھی۔ نوازشریف نے اپنی وزارتِ عظمیٰ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر عاصم حسین جیسی آصف علی زرداری کے خواص میں شمار ہونے والی شخصیات، ایم کیو ایم ’الطاف‘ اور انتہاپسند اسلامی رائیٹ ونگوں کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر کاروائیاں کرواکر بااثرمذہبی حلقوں اور سیاسی عناصر میں اپنے خلاف انتقامی جذبات کوپروان چڑھوایا حتیٰ کہ نواز شریف کا روایتی حامی مذہبی مکتبہِ فکر بھی اُن سے نالاں ہوگیا لیکن اس کے باوجود بھی نواز شریف عام عوام میں اپنے تیزتر ترقیاتی کاموں اور گزشتہ حکومت سے بہترین کارکردگی کی بدولت بتدریج مقبولیت حاصل کرتے رہے یہاں تک کہ 2018 ء کے عام انتخابات کے ممکنہ تناظرات میں بھی پاکستان مسلم لیگ نواز کی کامیابی توقع کی جانے لگی تھی اور یہ بھی کہ 2018ء کے سینیٹ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی اکثریت سے نواز شریف 2018 ء کے عام انتخابات میں چوتھی ٹرم کےلیےوزیراعظم بننے کی صورت میں ملک کے مقبول ترین اور مستحکم ترین وزیراعظم ہوں گے۔ چونکہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاستدانوں کا ہاوی ہونا کبھی بھی گوارا نہیں رہا لہٰذا اُس نے ’ڈیوک‘ بن کر نواز شریف کو ’مسزرامیرودور‘ کی طرح سیاسی اور سماجی حلقوں کے خلاف کاروائیاں کرواکر ان کے خلاف نفرت کو بھرپور ابھارا دلوایا اور پھر نواز شریف کے ’جبرزدگان‘ بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی اور حاسدین پاکستان تحریک انصاف کی تسکین کےلیےانہیں سپریم کورٹ سے تاحیات نااہل کروادیا۔ اس طرح اسٹیبلشمنٹ نے ایک تیر سے تین شکار کیئے ہیں۔ ایک یہ کہ نواز شریف کو نااہل کرواکر اُن کے حریفوں کی تسکین کا سامان کیا ہے جو نواز شریف کی تیسری مدت پورے ہونے کی صورت میں اپنا سیاسی زوال دیکھ رہے تھے؛ دوسرا یہ کہ نواز شریف کی مستحکم ہوتی سیاسی قوت میں رخنہ ڈال کر اسٹیبلشمنٹ نے بااثرامیدواروں  کو یہ اشارہ دے دیا ہے کہ وہ اب بھی جوڑتوڑ کی سیاست سے انتخابی نتائج کا جماعتی  منظرنامہ بدل سکتی ہےتاہم تیسرا اور سب سے اہم نکتہ یہ کہ اسٹیبلشمنٹ نے یہ باور کروادیا ہے کہ سیاستدانوں کی جانب سے اٹھارہویں ترمیم کی بدولت آئین کی عارضی موقوفیت (abeyance) کو سنگین غداری قرار دے کر مارشل لا اور ایمرجنسی کا راستہ بند کیے جانے کے باوجود بھی اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی کی طرح ’فیصلہ کن‘ حیثیت رکھتی ہے البتہ فرق اتنا ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ نے ’جرنیل راج‘ کی جگہ’جج راج‘کا فرنٹ کھول لیا ہے اور سیاستدانوں کی مزاحمت کو جمہوری جدوجہد کی بجائے توہین عدالت کی آڑ میں قانوناً قابلِ گرفت بنادیا ہے۔
آخر میں یہ کہ اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو سیاست سے بے دخل کرنے کے لیئے: ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل والی غلطی بھی اُن کے معاملے میں نہیں کی؛ اُنہیں جلاوطن کرنے کا وقتی حربہ بھی نہیں دوہرایا؛ غلام اسحاق خان کی طرح زبردستی اسمبلیاں تڑوا کر انہیں’شہید‘ بھی نہیں بنایا؛ اُنہیں فوری قید کرکے ’ضمیرکاقیدی‘ بھی نہیں بنایا بلکہ اُنہیں احتسابی عمل میں آرٹیکل 62 و 63 کی رو سے مالی بدعنوانی میں ملوث سزایاب مجرم کے طور پر تاحیات نااہل کروایا ہے تاکہ وہ عام عوام میں اپنی ’مظلومیت‘ کا کوئی کارڈ کھیل کر دوبارہ اقتدار میں نہ آسکیں۔ یاد رہے کہ جس آرٹیکل 62 ، 63 پر نواز شریف احتسابی عمل میں مجرم ٹھہرے ہیں اُسے ماضی میں خود عمران خان نے انسانوں پر ’ناقابل اطلاق‘ اور حسن نثارنے ’یوٹوپیا‘ قرار دیا تھا جس پر نوازشریف کے خلاف احتساب کے سب سے بڑے استغاثہ عمران خان تو کیا سراج الحق بھی پورا نہیں اتر پائیں گے ۔ لہٰذا نواز شریف کو آرٹیکل 62، 63 کی بھینٹ چڑھائے جانے کے بعد اگر احتساب کا سلسلہ اور دائرہ کار اُسی استعداد اور رفتار کے ساتھ بقیہ سیاستدانوں بالخصوص عمران خان، سراج الحق، پرویز مشرف، شیخ رشید احمد، چوہدری برادران اور آصف علی زرداری تک نہ بڑھا گیا تو پھر اُن کی تاحیات نااہلی کی حیثیت بھی ’قانونی سزا‘ کی بجائے ’سیاسی قدغن‘ کی بن جائے گی اور اُن کی نااہلی سے ابھرنے والا سیاسی قوت کا ’خلا‘ ہی اُن کی دوبارہ ’اہلیت‘ بنانے کی راہیں ہموار کرتا چلا جائے گا اور اگر اللہ نے انہیں لمبی زندگی دی تو شاید اگلے پندرہ سال کے اندر اندر وہ چوتھی مرتبہ ملک کے وزیراعظم بھی بن رہے ہوں گے۔ پاکستان میں افتخار محمد چوہدری کی معزولی پر بحالی اور ترکی میں رجب طیب اردغان پر 1998ء میں سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگنے کے بعد 2003 ء میں ضمنی انتخاب سے بطور وزیراعظم سیاست میں واپسی ’سیاسی محرکات‘‘ سے متاثر پابندیوں اور سزاؤں کے انجام کی مثالیں ہیں۔فی الحال آثار بھی یہی بتارہے ہیں کہ ’جے آئی ٹی‘ کے فیصلے کا انجام احتساب کی شروعات کی بجائے نواز شریف کے سیاسی کیریئر کی ٹارگٹ کلنگ پر ختم ہوگیا ہے جو کہ اُن کی سیاست میں دوبارہ واپسی کےلیےاپنے تئیں ہی کافی قوی محرک ہے البتہ اگر وہ خان عبدالولی خان کی طرح بذاتِ خود سیاست سے ریٹائیرہونا چاہیں تو تب الگ معاملہ ہوگا۔

حواشی:
(I) کتاب: حسّاس ادارے، صفحہ114۔ مصنف: بریگیڈیئر (ر) سیّد احمد ارشاد ترمذی۔ مترجم: افضال شاہد
(II) Cesa, Marco, ed. Machiavelli on International Relations. OUP Oxford, 2014. p 37.
(IIٰI) کتاب: بادشاہ، صفحہ 72تا 73 ۔ مصنف: میکاولی۔ مترجم: ڈاکٹر محمود حسین

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...