دولت اسلامیہ کی قید کے دوران یزیدی خواتین پر کیا بیتی ؟

308

سولہ سالہ لڑکی بسترسے اٹھنے کے قابل نہیں ہے اور اس کا ماموں اسے پانی پینے کے لیے سہارا دیتا ہے لیکن وہ اس پانی کو مشکل سے نگل سکتی ہیں اس کی آواز بہت نحیف ہے ۔ اس کا ماموں اس کی آواز سننے کے لئے اپنا کان ان کے منہ کے قریب کرتا ہے۔

سوہیلہ نامی لڑکی اسی مہینے موصل کے بہت زیادہ تباہ شدہ حصے سے نکلی اوران کو تین سال کی قید اور متواترعصمت دری کے بعد اس وقت رہا کردیا گیا جب اس کو قید کرنے والافضائی حملے میں مارا گیا۔

اس کے ماموں نے اس کی حالت صدمے کے طورپربیان کی ۔انہوں نے صحافیوں کو مدعو کیا تاکہ وہ اس پر جو بیتی ہے اس کو رقم کر سکیں جو جنسی بدسلوکی کرنے والے بد ترین گروپ نے ان کی بھانجی کے ساتھ کیا تھا۔ ان کے ماموں خالد طولونے کہا یہ وہ کچھ ہے جو انہوں نے ہمارے لوگوں کے ساتھ کیا۔

 گزشتہ سال موصل کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے آپریشن کے بعد تقریبا ًجو 180 عورتیں، لڑکیاں اوریزیدی اقلیت کے بچے جن کو دولت اسلامیہ نے 2014 میں اغوا کرلیا تھا عراق کے اغواکاروں کے بچاؤکے ادارے کے مطابق ان کو آزاد کرالیا گیا ہے۔

 دولت اسلامیہ کے ان کے آبائی علاقوں کے خاتمے کے بعد وہ خواتین جن کو دو سالوں کے اندر بچایا گیا تھا متعدی امراض جیسا ٹوٹے ہوئے اعضا اورخود کش خیالات کے ساتھ واپس آئیں ۔ لیکن اب قید کے تین سال بعد گزشتہ ہفتے  سوہیلہ اور ان جیسی دو خواتین کو رپورٹروں نے دیکھا جو اب نفسیاتی عوارض کا شکار ہیں۔

ناغم نواز حسن  جنہوں نے ہزار سے زیادہ جنسی زیادتی سے متاثرہ لوگوں کا علاج کیا نے کہا کہ یہ لوگ بہت تھکے ،  بے ہوش ، بہت ہی  شدید صدمے اور نفسیاتی گھبراہٹ  میں تھے۔

ہم نے سوچا کہ پہلے حالات مشکل تھے ڈاکٹرحسن نے کہا لیکن موصل کی آزادی کے بعد اب وہ مزید مشکل ہو گئے ہیں۔

 ان کی بحالی سے متعلقہ ادارے کے ڈائرکٹر حسن نے کہا کہ  خواتین اور بچوں میں صدمہ اس طرح ظاہرہوتا ہے کہ ان میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں رہی اور وہ زندہ لاشیں ہوں ۔

دونوں سوہیلہ اوراس کےحاندان نے بتایاکہ مخدوش حالات میں ان کی شناخت ہوئی جس کے بعدان کی تصویریں لی گئیں اور پھر ان کے ماموں نے ان کی آپ بیتی کے ساتھ ان کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔

 مسڑتالو نے کہا انہیں ایک سال سے زیادہ عرصہ سے معلوم تھا کہ ان کی بھتیجی  دولت اسلامیہ  کے  جنگجووں کے قبضے میں ہے ۔ انہوں نے اس سمگلرکی مدد کا  بھی ذکرکیا جنہوں نے بہت ہی خطرے میں سوہیلہ کی تصویرگھرکی کھڑکی سے  کھینچی جہاں وہ قید میں تھیں اور ان کی تصاویرکو ان کے گھربھیجا۔ لیکن انہیں ان کی چنگل سے نکالنے کا کوئی رستہ موجود نہیں تھا۔

سوہیلہ 9 جولائی کواس فضائی حملے کے دو دن بعد فرار ہوئی جس میں عمارت کے اندر دیوار منہدم ہوئی جہاں وہ قید تھیں۔ ایک اور یزیدی جس کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہوا تھا وہ ا سفضائی حملے میں ہلاک ہو چکی تھی.موصل میں ڈیلی ٹائمزکے صحافیوں نے ایسی کئی خواتین کی وہ کہانیاں لکھی ہیں جن کو دولت اسلامیہ نے غلام بنایا ہوا تھا۔جب اس کے خاندان والے انہیں لینے کے لیے گئے تووہ ان سے گلے لگنے کے لئے دوڑیں۔

میں اس کی طرف دوڑا اور وہ میری طرف دوڑی ہم نے چیخنا شروع کیا اور پھرہم نے ہنسنا بھی شروع کیا سوہیلہ کے والد کے  بھائی مسڑ ٹولو نے کہا وہ اس وقت سے لاپتہ تھی جب دولت اسلامیہ نے ان کے آبائی شہر پرقبضہ کرلیاتھا۔ ہم ایک دوسرے کو پکڑے ہوئے اس طرح کھڑے رہے اور اس وقت تک چلاتے اور ہنستے رہے جب تک ہم زمیں پرگرے نہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ گھنٹوں میں اس نے بولنا بندکردیا۔ جب وہ کیمپ پہنچے جہاں اس کی ماں اورپورے خاندان نے پناہ گزینوں کا استقبال کیا۔ جب دولت اسلامیہ نےان کے گاؤں پرقبضہ کرلیاتھا۔  سوہیلہ نے اس بات کو بھلا دیا کہ بے چین ہونے کی وجہ کیا تھی۔ جن ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا انہوں نے سوہیلہ کے لیے پیشاپ کی نالی کے انفیکشن کا نسخہ دیا۔ وہ زخموں کے نشانات بھی دکھا تی ہے ۔

میں خوش ہوں کہ گھرمیں ہوں۔  صحافی کےسوال کے جواب میں وہ  اپنے ماموں کے کان میں مشکل سے ہنسی ’’ لیکن میں بیمارہوں‘‘۔

دولت اسلامیہ موصل پردو ماہ سال تک حکمران رہی۔ جب گروپ کے سربراہ نے شمال کی طرف سنجارمیں 60 میل لمبی ٹھوس پہاڑی پر اپنے لئے جگہ بنائی ۔ یہاں پہاڑی اورپہاڑی گاؤں پر یزیدی  صدیوں سے مقیم ہیں جوایک چھوٹی اقلیت  ہے جو کہ عراق کل آبادی کا دو فیصد ہے ۔

صدیوں پرانا یزیدی مذہب ایک خدا کی عبادت کے گرد گھومتا ہے۔ ان  کے عقائد کی وجہ سے دولت اسلامیہ نے یزیدوں کو مشرک قرار دینےکا جواز فراہم کیا ۔

اسلامی قانون کے بعض حصوں کا سہارا لیتے ہوئے دولت اسلامی نے دلیل دی کہ مذہبی اقلیت ان کی غلامی کے اہل ہے ۔

3 اگست 2014 کو جنگجووں کے قافلے نے اپنے کارکنوں کواردگرد کی وادیوں میں پھلایا ۔ پہاڑوں تک اپنے پہلے شہرسے گزرنے والے راستے کے درمیان وہ قصب شہرتک گئے جن کو سنہری گھاس اورکنکریٹ والی عمارتوں نے گھیراہوا تھا ۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں سوہیلہ اور13 مزید لڑکیاں رہیں۔ عراقی حکام کے مطابق سوہیلہ کے ساتھ  کل 6470 یزیدیوں کو پہاڑی میں اغوا کیا گیا تھا ۔ اغوا بچاؤادارے کے سربراہ  نے کہا کہ تین سال بعد بھی  3410  افراد اب بھی ان کی قید میں ہیں۔ سوہیلہ اور اس کے ماموں نے کہا۔ 7 آدمیوں نے اس کے ساتھ عصمت دری کی۔

 جب  دولت اسلامیہ کہ شہرپرگرفت کمزورہونے لگی تو سوہیلہ کے اغوا کارنے اس کے  بال چھوٹے کرلئے۔ اس کے ماموں نے کہا  وہ سمجھ گئی کہ اسے وہ ایک پناہ گزین کے طور پر ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔

مسٹرٹلواب اپنی بھانجی کی صحت کو بہترکرنے کے لیے اس کی نگہداشت کررہا ہے۔ بیٹھنے کے لیے اس نے اپنے خیمے کو پکڑ کر کرسی پر بیٹھنے کی کوشش کی مگر اس دوران وہ زمین پر گر گئی جسے ماموں نے سہارا دے کر اٹھایا ۔

اس نے اپنی پیشانی کو صاف کرنے کے لئے صاف کپڑا استعمال کیا  جیسے وہ اسےاپنے منہ میں دبائے رکھتی ہے اس کا منہ کھل جاتا ہے اور اس کی آنکھیں پیچھے کی طرف مڑجاتی ہیں۔

 اس کے فرارہونے کے بعد تقریباً دو ہفتے گزرنے کے بعد  تک وہ چند منٹ سے زیادہ  کھڑا ہونے کے قابل نہیں اس کی ٹانگیں لڑکھڑانے لگتی ہیں۔

20 اور 26 سالہ دو یزیدی بہنیں حمام علی 1 کے پناہ گزین مرکزمیں پہنچیں جہاں انہوں نے مرکزکے حکام کی توجہ حاصل کی کیونکہ انہوں نے چہرے کو ڈھانپے ہوئے نقاب پہنے ہوئے تھے اورانہوں نے انہیں کیمپ میں لینے سے انکارکردیا کیوں کہ یزیدی لڑکیاں اپنے چہرے کو بالکل نہیں ڈھانپتیں

انہوں نے دولت اسلامیہ کے ان جنگجووں کا ذکرکیا جنہوں نے ان کےشوہروں کی طرح ان سے جسنی آبروریزی کی اور ان پر تشدد کیا۔ مرکزکے حکام اورعراقی نجات انسانی حقوق کے ڈائریکٹر منتجاب ابراہیم نے کہا۔

ان کے ہاتھوں میں تین بچے تھے جنہوں نے قید میں جنم لیا تھا۔ ان سے زیادتی کرنے والوں کے بچے لیکن انہوں نے ان کی نگہداشت کرنے سے انکار کردیا اس سمگلرنے کہا جس کو اس کے گھروالوں نے ان کو لے جانے کے لیے بھیجا تھا۔

سمگلرکے فون پرریکارڈ ہونے والی ویڈیو سے ظاہرہوتا ہے کہ اس وقت کیا ہوا جب بہنوں نے اپنی واپسی کے بعد اپنا خاندان پہلی مرتبہ دیکھا ان کے رشتے دارگاؤں کی خواتین کو گلے لگانے کے لئے آگے بڑھے ۔ وہ چلائیں۔یہ انتہائی جزباتی مناظر تھے ۔

بشکریہ نیویارک ٹائمز، ترجمہ ظہورالاسلام

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...