نیشنل چارٹر آف پیس کیا ہے؟

136

عمرانی معاہدے اور بیانیے میں کیا فرق ہے؟کیا ریاست کوئی ایسا بیانیہ رکھتی ہے جوپہلے سے موجود ہے اور رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے اور آج ہم اسے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

انسداد شدت  پسندی  کے لیے پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیر اہتمام  تیسری ورکشاپ  3 اپریل 2017 کو  مارگلہ ہوٹل اسلام آباد  میں  منعقد ہوئی ۔مجلس کی صدارت معروف قلمکار اور سکالر خورشیداحمد ندیم نے کی مقررین میں سابق سینیٹر افراسیاب خٹک ، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی ، ڈاکٹر قبلہ ایاز ، رشاد بخاری ،خورشید ندیم ، ڈاکٹر اعجاز صمدانی ، علامہ نیاز حسین نقوی ، راحت ملک ، ڈاکٹر محمد ضیا الحق، ڈاکٹر اے ایچ نیئر ، ڈاکٹر فرزانہ باری ،یاسر پیرزادہ اور محمد عامر رانا شامل تھے ۔

شرکاءکو  دعوت سخن دینے سے قبل ان کے سامنے  یہ سوال رکھا کہ عمرانی معاہدے اور بیانیے میں کیا فرق ہے؟کیا  ریاست کوئی ایسا بیانیہ رکھتی ہے جوپہلے  سے موجود ہے اور  رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے اور آج ہم اسے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

راحت  ملک   نے بیانیہ  کی ضرورت  بیان کرتے ہوئے کہا  کہ چونکہ   ارکان  اسمبلی قبائلی اثرورسوخ اور مالی وسائل  کے بل بوتے پر  منتخب ہوتے ہیں اور پارلیمان کے معیار پر پورے نہیں اترتے اس لیے ضرورت ہے کہ   انہیں علمی اور فکری حوالے سے انرچ کیاجائے۔ ایک بنیادی تضاد اور بھی ہے اور وہ یہ کہ خود لبرل طبقہ ابھی تک کوئی واضح نقطہ نظر طے نہیں کر سکا،لبرلز کو چاہیے کہ وہ  کسی بھی قسم کا مکالمہ شروع کرنے سے قبل  ایک نقطہ نظر پر متفق ہو جائیں پھر بات کو آگے بڑھایا جائے۔

افرا سیاب خٹک  نے  کہا کہ ہم قدامت پسندی اور جدیدیت کی کشمکش کو اب تک حل نہیں کر سکے،اقبال نے کہا تھا

آئینِ  نو  سے  ڈرنا  طرزِ  کہن  پہ  اُڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

جدیدیت کے علمبردار جاگیردار اشرافیہ  اور  اعلی سطح  کےبیوروکریٹ تھے،دوسری طرف  قدامت کے بزرگ ذہن کا استعمال کوئی زیادہ نہیں کیا کرتے تھے،بس کسی چیز کے بارے میں کہہ  دیا کہ غیر اسلامی ہے اور فل سٹاپ۔علامہ اقبال کے خطبات”تشکیل جدید الہیات اسلامیہ” کہیں بھی داخل نصاب نہیں ہے،ایک طرف ہماری انتہا پسندی ہے اور دوسری طرف مغرب  میں اسلام فوبیا،ہم دونوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔

پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر  ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ بہت سی باتوں کی طرح  بیانیہ کے مفہوم میں بھی ابہام ہے،مفتی منیب صاحب کا بیانیہ ان کے ذاتی خیالات ہیں،اسی طرح مولانا فضل الرحٰمن کے خیالات نے  ابھی تک دیوبندیوں کے بیانیہ کی شکل اختیار نہیں کی۔اس وقت مسلم دنیا میں راشد الغنوشی کی  ایک تحریک  چل رہی ہےجس کے بارے میں ہمارے لوگ نہیں جانتے،انہوں نے  مسلم جمہوریت کے نام سے ایک نیا نظریہ تشکیل دیا ہے،پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز  کوچاہیے کہ وہ اس کا ترجمہ کر کےاسے  پاکستانی عوام میں متعارف کروائیں۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ہمارے نصاب میں  اب بھی ہندو کو مکار اور عیار بتایا جاتا ہے،سب سے بڑا ہندو تو نیپال کا ہے مگر وہ تو عیار نہیں ہے کیونکہ مسئلہ  مذہب کا نہیں ملک کا ہے۔

اے ایچ نیئر نے کہا کہ  ہمارا ڈاائیلاگ شدت پسندوں سے متعلق  ہے اور وہ تو  آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتے،اگر ہم آئین  کو  بالادست مانتے ہیں تو  جو اسے تسلیم نہیں کرتے انہیں ڈائیلاگ سے باہر رکھنا ہو گا۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ  ہم جس آئین کی پاسداری کا حلف اٹھاتے ہیں  اس کی عملداری نہیں ہے،جو لوگ آئین  پر عمل درآمد کروا سکتے ہیں  ان کے ساتھ مکالمہ ہونا چاہیے۔

جامعہ نعیمیہ لاہور کے مولانا راغب نعیمی نے کہا  73 کے  آئین کی روشنی میں ہی کوئی بیا نیہ تشکیل دینا چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ دینی  مدارس میں آئین کی تفہیم کے لیے حکومت نے کیا کیا؟ اور جب یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ دہشتگردی کی کمر ٹوٹ گئی ہے تو اب بیانیے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

رومانہ بشیر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ملک کو کسی نئے آئین کی ضرورت نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ جو آئین موجود ہے اسے ہم بچانا چاہتے ہیں،آئین میں  موجود وہ نکات جو قومیت سازی کی طرف لے جاتے ہیں ان کی مدد سے نیا بیانیہ ترتیب دیا جا سکتا ہے۔

ادارہ تحقیقات اسلامی  کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاءالحق نے کہا  ہمارے بیانیے کی بنیاد دستور ہونا چاہیے،انہوں نے کہا کہ اگر ہم طے شدہ چیزوں کو چھیڑیں گے تو انتشار پیدا ہو گا۔

جامعۃ المنٹظر لاہور کے مہتمم قاضی نیاز حسین نے اپنی گفتگو  میں کہا کہ ہمیں حالات کے مطابق ایک نئے بیانیے کی ضرورت ہے،آئین روز روز نہیں بنتے  لیکن بیانیہ تو حالات کے پیش نظر   پانچ سال بعد بھی دیا جا سکتا ہے۔

جامعہ دارالعلوم کراچی کے استاد ڈاکٹر اعجاز احمد صمدانی   نے کہا کہ عمرانی معاہدے کی اصطلاح پہلی مرتبہ پندرہویں صدی میں استعمال ہوئی جس کے مختلف مفاہیم تھے،آج کی دنیا میں رائج مفہوم روسو کا ہے۔شرعی نقطہ نظر سے  بھی غیر مسلموں کے ساتھ عمرانی معاہدہ کیا جا سکتا ہے جس کی عہد نبویؐ کی مثال میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ ہے۔ 73ء  کا 90 فیصد آئین انتظامی امور سے متعلق ہے،جو اسے غیر شرعی کہتے ہیں انہیں صرف ایک دفعہ یہ دکھا دیا جائے تو ان کے ساتھ بھی مکالمہ کرنا آسان ہو جائے گا۔

سیکولرازم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ تھیوکریسی کے ردعمل میں سامنے آئی تھی اور وولٹائر نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا،آج بدقسمتی سے سیکولرازم کا مطلب تبدیل ہو گیا ہے،طیب اردوان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے سیکولرازم کا اصل مفہوم متعارف کروایا،یہ مفہوم اگر اپنی اصل حقیقت میں رہے تو  مخالفت کرنے والے بھی باز آسکتے ہیں۔

رومانہ بشیر نے کہا کہ ریاست کا غیرجانبدار ہونا ضروری ہے،تمام مذاہب کے شہریوں کو یکساں  حقوق دیے جائیں،پہلے اشتہاروں میں مخصوص مذاہب کا ذکر ہوتا تھا اب فرقوں کا ذکر بھی ہونے لگ گیا ہے۔پاکستان  سب پاکستانیوں کا ہے۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ دین کی نئی تعبیر نہیں  بلکہ اصل تعبیر کی ضرورت ہے۔دارالحرب اور دارلکفر کی اصطلاحیں اپنے زمانے کی تھیں،اقوام متحدہ کے قیام کے بعد ایک نئی صورتحال ہے اور وہ ہے دارلعھد،اس کا تصور بھی  اسلام میں موجود ہے۔

یاسر پیرزادہ   نے شدت پسندی کے فیکٹرز  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چند سوالات اٹھاتے ہوئے کہا  شدت پسندی کے حوالے سے اس وقت مدرسہ  و غیر مدرسہ،ان پڑھ اور پڑھے لکھے سب  کنفیوژن کا شکار ہیں،صرف اس فوجی کو کوئ ابہام نہیں ہے جو  آخری چوکی پر کھڑا ہے،لیکن جوں جوں ہم اوپر چلے آتے ہیں کلیئرٹی  کم ہوتی چلی جاتی ہے،ہمارے ہاں ورلڈ ویو یہ ہے کہ ہم رد عمل کے  موڈ میں ہیں کہ ہمارے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔اس صورحال سے نکلنے کے لیے نصاب میں تبدیلی ہی حل ہے۔

آخری سیشن اور تجاویز

عملی تجاویز پیش کرتے ہوئے افراسیاب خٹک نے کہا  کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم  ایک نیشنل ڈائیلاگ "چارٹر آف  پیس” کے عنوان سے رکھیں جو  کسی بند کمرہ کی بجائےپارلیمنٹ  یا کسی دوسرے فورم پر ہو،اور اس مکالمے کا مقصد اختلاف رائے کو ختم کرنا نہیں  بلکہ تنوع کو برداشت کرنا ہو۔اس تیسرے مشاورتی اجلاس  میں  جو تجاویز سامنے آئیں انہیں ذیل میں نمبر وار درج  کیاجاتا ہے۔

1:۔ تین الگ الگ ڈائیلاگ فورم بنائے جائیں جن میں ریا ست، سول سوسائٹی اور مذہبی تنظیمیں  باہم مکالمہ کریں اور اس کے بعد قومی سطح پر متفقہ تجاویز پر مشتمل ”نیشنل چارٹر آف پیس “ جاری کیا جائے ۔

2:۔ ان مکالموں میں ریاست اور مذہب کے باہمی تعلق ، ریاست اور شہریوں کے تعلق ، ریاست اور سماج کے تعلق سمیت دیگر فکری اور نظری مسائل زیر بحث آئیں ۔

3:۔  تمام مکالمے آئین پاکستان کے دائرے  کے اندر رہ کر کیے جائیں۔اور  اگر  آئین میں کہیں   تبدیلی کی ضرورت ہو تو  وہ بھی آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے ۔

4:۔ ان سہ جہتی مکالموں کے نتائج کی قومی سطح پر تشہیر کی جائے ۔

5:۔ ان ڈائیلاگ میں تمام سٹیک ہولڈرز کی نمائندگی ہونی چاہئے جن میں میڈیا ، اساتذہ ،  علماء ،وکلاحتیٰ کہ شدت پسندوں کو بھی شامل کیا جائے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...