نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد مگر کیسے؟

138

ملٹری کو تو ہنگامی حالات میں عارضی طور پر لایا جاتا ہے،مستقل نہیں،اس لیے ضرورت ہے کہ شدت پسندی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے.

انسداد شدت پسندی   کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنے کے لیے  پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیر اہتمام چوتھی  مجلس مشاورت 10 اپریل 2017 کو مارگلہ ہوٹل اسلام آباد میں  رکھی گئی ،اجلاس کے آغاز میں   پپس کے ڈائریکٹر  محمد عامر رانا نے   آج کی نشست کے اہداف ،جبکہ اسماعیل خان نے  اس کا پس منظر بیان کیا۔صدر مجلس طارق پرویز نے کہا کہ : اس میں کوئی شک نہیں  کہ ضرب عضب،ردالفساد اور نیشنل ایکشن پلان کے نتائج سامنے آ رہے ہیں لیکن  ملٹری  کو تو  ہنگامی حالات میں عارضی طور پر لایا جاتا ہے،مستقل نہیں،اس لیے ضرورت ہے کہ  شدت پسندی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا سارا زاور پکڑ دھکڑ پر ہی ہے ،روزانہ خبریں آتی ہیں کہ آج اتنے دہشتگرد گرفتار کر لیے لیکن کبھی یہ سننے میں نہیں آتا کہ  اتنے لوگوں نے ہتھیار پھینک دیے ہیں اور پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔اس سے اندازہ لگا لینا چاہیے کہ ہم کتنے سنجیدہ ہیں۔

طارق کھوسہ نے  نیشنل ایکشن پلان کے مختلف نکات پر  گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ یہ پلان  دسمبر 2014 میں پشاور حملے کے بعد بنایا گیا تھا اور اس میں  یہ طے پایا تھا   کہ مدارس میں لوکل  طلبہ  آ سکیں  گے دوسرے صوبوں کے نہیں،اور مدارس  اپنی رجسٹریشن کروائیں گے،فوری طور پر 37 مدرسے رجسٹرڈ ہوئے لیکن پھر یہ کام رک گیا،حکومت مدرسہ  اصلاحات کو لے کر نہیں چل سکی۔فاٹا اصلاحات کے  حوالے سے یہ فیصلہ ہو چکا ہے  کہ  اس  نے کے پی  میں ضم ہونا ہے۔ کراچی آپریشن نے اچھا کام کیا لیکن  سیاست کی نذر ہو گیا۔بلوچستان میں ملٹری ہی ڈرائیونگ فورس ہے،ناراض لوگوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہے جو لوگ الیکشن لڑتے ہیں وہ پاکستان کے خیرخواہ ہیں۔اس حوالے سے سویلین ور ملٹری کو مل کر کام کرنا ہو گا۔یہ نہیں ہو گا کہ دس  نکات پر سویلین نے کام کرنا ہے اور دس پر ملٹری نے،بلکہ  ایک ایک پوائنٹ پر مل کر کام کرنا ہو گا تب جا کر یہ نیشنل ان ایکشن پلان، نیشنل  ایکشن پلان بنے گا۔اس کے لیے صرف اور صرف عزم اور ارادے کی ضرورت ہے۔اگر حکومت چاہیے تو یہ ناممکن ہے کہ کوئی  مجرم یا دہشت گرد پر مار سکے۔پولیس یہ کام کر سکتی ہے۔

سابق سینیٹر افراسیاب ختک نے  حکومت  پر تنقید کرتے ہوئے کہا  کے معاشرے کے ریڈیکلائز ہونے میں ریاست کا ہاتھ ہے،اب ریاست ہی سنجیدگی دکھا کر  اسے ڈی ریڈیکل کر سکتی ہے لیکن افسوس ہے کہ  موجودہ حکومت کا پارلیمنٹ کے حوالے سے ریکارڈ بہت خراب ہے،دو سال ہو گئے ہیں اس پلان کو لیکن اس  پر عملدرآمد کے لیے حکومت کی طرف سے سرے سے کوشش ہی نہیں ہوئی۔

جنرل(ر) امجد شعیب نے خٹک صاحب کی گفتگو کو ہی  آگے بڑھاتے ہوئے کہا  کہ یہ حکومت کچھ نہیں کر رہی اور ہم نے  چیف آف آرمی سٹاف کو غیر اعلانیہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ  سارا کام وہی کریں گے۔حالانکہ  ہمارا نقطہ آغاز یہ ہونا چاہیے کہ وزیراعظم یہ ذمہ داری لیں اور ان 20 نکات پر 20 پلان بنائے جائیں اور وزیراعظم  کو روزانہ کی بنیاد پر ایک پلان  پر تفصیل سے آگاہ کیا جائے۔ملٹری کورٹس  سے متعلق انہوں نے کہا کہ  ان کی حیثیت صرف ایک ماڈل کی ہے،سول عدالتیں بھی  یہی کا م کر سکتی ہیں۔جب سویلین ناکام  ہوتی ہے تو  پھر ملٹری پر ذمہ داری آ جاتی ہے۔آپریشن ردالفساد بھی ہم  پولیس سے کروا سکتے تھے لیکن پولیس کو سیاسی بنا دیا گیا ہے۔پولیس کو فعال بنانے کے لیے تین کام کرنا ہوں گے:۔

1: پولیس کی غیر سیاسی بھرتیاں

2: جدید ٹیکنالوجی اور  ماڈرن تھیاروں سے لیس کرنا

3: میرٹ کی بنیاد پر ترقی دینا

جنوبی پنجاب کو پنجاب حکومت ابھی تک دہشتگردی کا گڑھ نہیں سمجھ رہی،دو سال میں اسے بڑی مشکل سے  رینجرز آپریشن کے لیےآمادہ کیا گیا لیکن وہ بھی محدود ہو رہا ہے۔بلوچستان میں بھی  چھوٹے پیمانے پر مصالحت ہو رہی ہے۔کراچی میں  ٹیرر فنڈنگ بڑے پیمانے پر ہورہی ہے اور وہاں مختلف قسم کی دہشتگردی ہے لیکن  مجرموں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔مدارس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انہیں بند کرنا کوئی حل نہیں ورنہ طلباء کہاں جائیں  گے؟

انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ  کسی بھی پلان کو تھوڑے عرصہ بعد نظرثانی کی ضرورت ہوتی ہے،نیشنل ایکشن پلان پر بھی نظرثانی ہونی چاہیے اور   اس میں حکومت کو یہ تجویز دی جانی چاہیے کہ وہ  پولیس پر توجہ دے۔اور پارلیمنٹ میں ایک بریفنگ  انٹیلی جنس سے بھی کروائیں۔

ورکنگ گروپ کے میزبان محمد عامر رانا نے کہا امجد شعیب کی رائے کی تائید کرتے ہوئے یہ تجویز   دی کہ  نیشنل ایکشن پلان پر نظر ثانی کو  دو حصوں (سی ٹی اور سی وی) میں تقسیم کیا جائے ۔انہوں نے اپنی گفتگو میں تفصیل سے بتایا کہ  کن نکات کو  سی ٹی(کاؤنٹر ٹیرر) کے ضمن میں لایا جائے اور کن کو سی وی(کاؤنٹر وائلنس) کے تحت لایا جائے۔

شمیم شاہد  نے کہا کہ  جب تک ہم اپنی خارجہ پالیسی میں افغانستان،ایران اور ہندوستان سے دشمنی رکھیں گے  ہمارے داخلی حالات درست نہیں ہو سکتے۔افغانوں کو ہم نے اتنا عرصہ پناہ دیے رکھی لیکن  پھر بھی وہ آج ہماری مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ کوئی غلطی ہماری بھی ہو گی جو ہمیں تسلیم کرنا چاہیے۔پختونخواہ حکومت  کی دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے کوئی پالیسی ہی نہیں ہے،مولانا سمیع الحق کو  30 کروڑ دینے کے بعد وہ  کر بھی کیا سکتے ہیں؟

سینیٹر فرحت اللہ بابر  نے کہا کہ  کہ سیکیورٹی ادارے ابھی تک پرانی پالیسی پر  عمل کر رہے ہیں  اور گڈ بیڈ طالبان کی تفریق موجود ہے،اگر واقعی  اسے خیرباد کہہ دیا ہے تو  ممبئی حملہ اور پٹھانکوٹ  حملہ میں پیش رفت دکھائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ  یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا دہشتگردی سے  کوئی تعلق نہیں،اس بیانئے کو درست  کرنے کی ضرورت ہے کہ ‘‘اسلام دہشتگردی کے خلاف ہے لیکن ہم  یہ بھی سمجھتے ہیں کہ  دہشتگردی کے واقعات کے پیچھے مسلمان ہی ہیں’’،اس کے بعد وہ  مسلمان  خود بھی غور کریں گے جو اس کے لیے استعمال ہو رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب ہم  نیپ پر عملدرآمد کی بات کرتے ہیں تو ہمیں  قاضی فائز عیسی  کی رپورٹ کا جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پارلیمان کی کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے کیونکہ وہاں سے گاہے گاہے آوازیں اٹھتی رہتی ہیں لیکن پارلیمان کو اس سے زیادہ کرنا چاہیے،ڈان  لیکس جیسی خبریں  ثابت کرتی ہیں کہ  سول ملٹری ڈسکنکٹ ہیں،دونوں کو ایک ہی  صفحے پر آنا ہو گا۔

سبوخ سید نے  سوشل میڈیا کے اثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بے لگام گھوڑا ہے جو بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ  شدت پسندی اور فرقہ واریت پھیلا رہا ہے ۔فیس بک میں انباکس میں آکر لوگوں کو قائل کیا جاتا ہے،۔مذہب کی توہین کی جاتی ہے جعلی فتوے چلائے جاتے ہیں اور جمہوری نظام کے خلاف  ابھارا جاتا ہے۔دینی مدارس کے طلبہ کی بہت بڑی تعداد  بھی سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہے،اب اس کے منفی استعمال کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟

ایک مقرر نے جمعیت علماء اسلام کے صد سالہ اجتماع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ  ایک ملک کا سفیر آپ کے ملک میں  کسی سیاسی اجتماع میں کیسے شریک ہو سکتا ہے؟ان کے کیا مقاصد ہیں؟ کہیں وہ ریکروٹمنٹ کے لیے تو پاکستان نہیں آئے؟

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلیکٹ سٹڈیز کے نمائندے نے کہا کہ نیپ کے 20 نکات پر ستر فیصد عمل ہو رہا ہے اور اس کے نتیجہ میں عسکری کاروائیاں بھی کم ہو رہی ہیں،جون 2014 میں 161 واقعات ماہانہ ہوتے تھے جو دو سال میں کم ہو کر  اب 42 تک پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عقیدہ  رکھنے میں ہر ایک کو آزادی ہے،جو جس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہے پڑھے،قائداعظم کے جناے میں سر ظفراللہ شریک ہوئے تھے لیکن پڑھا نہیں تھا،یہ عقیدے کا معاملہ ہے جس کا ہر شخص کو اختیار ہے۔

اجلاس کے اختتام  میں میزبان محمد عامر رانا نے کہا  کہ اسی موضوع  پر ایک اور ورکشاپ ہو گی جس میں  اس اجلاس میں  سامنے آنے والی تجاویز   پیش کی جائیں گی اور پھر ان پر عملدرآمد کے لیے حکمت عملی طے کی جائے گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...