شاہ سلمان کا دورہ مصر اور قصہ دوجزیروں کا

63

سعودی فرمانروا اپنا پانچ روزہ مصر کا دورہ  مکمل کرنے کے بعد ترکی پہنچ چکے ہیں،عرب میڈیا کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی اس دورے کو غیرمعمولی اہمیت دی جارہی ہے اور اسے تاریخی دورہ قرار دیا جارہا ہے۔

انتہائی اہمیت کے حامل اس  دورے میں  خادم الحرمین الشریفین اور مصری صدر کے درمیان 17 اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں سے دو   منصوبوں نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے:

1:سعودیہ اور افریقہ کو ملانے کے لیے بحر احمر پر پل کی تعمیر کا منصوبہ جو کہ درحقیقت افریقہ اور ایشیا کو ملانے کامنصوبہ ہے۔

2: : بحراحمر  اور خلیج عقبہ میں واقع  دوجزیرے "تیران” اور "صنافر” کو مصر نے سعودی حدود میں دینے کا فیصلہ۔

قصہ دوجزیروں کا

جزیرہ تیران اور جزیرہ صنافر  اصل میں سعودیہ کے جزیرے تھے جو کہ 1950 میں سعودی حکومت نے مصر کے صدر جمال عبدالناصر  کی طلب پر مصرکو دیے تھے اور وہاں مصری جھنڈے لہرانے پر اتفاق کیا تھا  تاکہ اسرائیل سے جنگ کے وقت مصر ان سے فائدہ اٹھا سکے

"تیران” عربی میں  "تیر” کی جمع ہے جو کہ سعودی لہجے میں سمندر کی موج کو کہتے  ہیں، 80 مربع کیلو میٹر کے رقبے پر مشتمل یہ جزیرہ مصر کے جزیرہ نما سیناء  کے چھ کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے جبکہ جز یرہ صنافر  اس سے مشرق کی جانب تقریبا  اڑھائی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے،اس کا کل رقبہ 33 مربع کلومیٹر ہے۔

یہ دونوں جزیرے اپنی خوبصورتی کی وجہ سے پوری دنیا کےسیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، ان کے  شفاف پانی  کی وجہ سےسوئمنگ کے دلدادے بھی اسی طرف رخ کرتے ہیں،نیز ان کے پانیوں میں دنیا کی نایاب اور مہنگی ترین مچھلیاں بھی  پائی جاتی ہیں۔

خلیج عقبہ میں واقع یہ جزیرے  اردن اور اسرائیل کی بندرگاہوں  کے اہم بحری راستے ہیں جن کو ضرورت پڑنے پر اسرائیلی بحری جہازوں کے لیے بند بھی کیا جاسکتا ہے۔

مصری عوام کی طرف سے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے،ان کا کہنا ہے کہ السیسی نےاپنے تاریخی ورثے کو   بحراحمر پر مجوزہ پل کے عوض فروخت  کر دیا ہے اور اگر اس پرآواز نہ اٹھائی گئی تو  کوئی بعید نہیں کہ صدر السیسی کسی دن اہرام مصر بھی  نیلام کر دیں۔

جزیرہ تیران اور جزیرہ صنافر  اصل میں سعودیہ کے جزیرے تھے جو کہ 1950 میں سعودی حکومت نے مصر کے صدر جمال عبدالناصر  کی طلب پر مصرکو دیے تھے اور وہاں مصری جھنڈے لہرانے پر اتفاق کیا تھا  تاکہ اسرائیل سے جنگ کے وقت مصر ان سے فائدہ اٹھا سکے،دونوں ملکوں نےاسی سال 30 جنوری کو برطانیہ جبکہ 28 فروری کو امریکا کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ معاملہ  سعودیہ اور مصر نے اتفاق رائے سے طے کیا ہے،دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ جب سعودیہ کوضرورت پڑے گی تو مصر یہ جزیرے اسے واپس کر دے گا۔

1967 کی جنگ میں ان دونوں جزیروں پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا  جبکہ مصر نے73 کی جنگ کے بعد مصر نے کیمپ ڈیوڈ  معاہدے کے تحت اسرائیلی قبضہ سے چھڑا کر دوبارہ اپنی تحویل میں لے لیے تھے۔

سعودی وزیرخارجہ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ سعودیہ اپنی حدود کی ازسرنو تعیین چاہتا ہے،اس سے قبل 70ء اور 80ء کی دہائیوں میں سعودی عرب نے عراق کے ساتھ اپنی سرحدوں کا از سر نو تعین کیا۔ اسی طرح 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں قطر کے ساتھ اور 70ء ، 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ سرحدوں کا دوبارہ تعین کیا۔ اس کے علاوہ ماضی قریب میں سلطنت عمان اور یمن کے ساتھ بھی اسی طرح کا معاملہ ہوا۔ اب مصر کے ساتھ بھی اپنے وقت پر سرحدوں کا از سر نو تعین کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں شاہ فاروق اور شاہ عبدالعزیز آل سعود کے زمانے سے ہی یادداشتوں کا تبادلہ جاری تھا۔

2010 میں سابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ اور سابق مصری صدر محمد مرسی کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کی ایک اہم وجہ یہ جزیرے تھے جس پر مرسی نے شاہ عبداللہ سے بات کرنے سے انکار کر دیا تھا،شاہ عبداللہ جانتے تھے کہ مصری فوج روز اول سے  ان جزیروں پر سعودیہ  کا حق تسلیم کرتی ہے  یہی وجہ ہے کہ جب مصری فوج نے صدر مرسی کو قصر حکومت سے بےدخل کیا تو سعودی حکومت  نے مصری فوج کا ساتھ دیا۔ گزشتہ  پانچ سالوں کے دوران السیسی حکومت  سے بھی بھی یادداشتوں اور خط و کتابت کا تبادلہ جاری رہا اور  چند ماہ میں گیارہ اجلاسوں کے بعد  اب جا کر یہ معاملہ دونوں برادر ممالک  کی رضامندی سے حل ہو گیا۔تاہم سوشل  میڈیا پر بڑی شدومد سے اس پر بحث جاری ہے اور اخوان المسلمین سے وابستہ مصری عوام کی طرف سے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے،ان کا کہنا ہے کہ السیسی نےاپنے تاریخی ورثے کو   بحراحمر پر مجوزہ پل کے عوض فروخت  کر دیا ہے اور اگر اس پرآواز نہ اٹھائی گئی تو  کوئی بعید نہیں کہ صدر السیسی کسی دن اہرام مصر بھی  نیلام کر دیں۔

عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے  اس معاہدے کو مصری پارلیمنٹ میں بھی پیش کیا جائے گا تاکہ بحث مباحثہ کے بعد  ارکان پرلیمنٹ سے بھی توثیق کروالی جائے اور قانونی مراحل طے کیے جاسکیں۔

  دوسری طرف  سعودی عوام اسے اپنا حق قرار دے   رہی ہے اور سعودی وزیر خارجہ نے سختی سے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پل کے منصوبے اور جزیروں کے معاملے میں کوئی ربط نہیں ہے اور یہ کہ ان دونوں  معاہدوں کو الگ الگ کر کے مستقل حیثیت سے دیکھا جائے۔

 ایک سوال یہ  پیدا ہوتاہے کہ  سعودی عرب کو اس وقت ان جزیروں کی  کیا ضرورت پیش آگئی؟  جس کا فوری طور پر تو کوئی جواب دینا مشکل ہے لہکن حالیہ مصری دورے کے دوران  شاہ سلمان کا عرب دنیا کے مسائل کے حل کے لیے عرب فوج کی تشکیل کے اعلان سے کچھ اشارے ضرور ملتے ہیں جس میں سعودی فرمانروا نے   سر فہرست مسئلہ فلسطین قرار دیا ہے۔ادھر اسرائیل نے بھی کہا ہے کہ اس    معاہدے کا تعلق ہم سے ہے لیکن ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے ۔

      دوسرا اہم منصوبہ سعودیہ اور مصر کو ملانے کے لیے بحر احمر پر مجوزہ پل کی تعمیر کا ہے جو کہ پانچ سے سات سال میں تقریبا  چار ارب ڈالر کی لاگت سے مکمل ہو گا جس سے نہ صرف سعودیہ اور مصر کی عوام کو سہولت  ملے گی بلکہ یہ پل براعظم ایشیا اور افریقہ کو بھی آپس میں ملا دے گا، حج وعمرہ اور سیاحت و تجارت کی غرض سے آنے جانے   والوں کے لیے فاصلے سمٹ جائیں گے اور  ایشیا سے افریقہ کی مسافت سات سے دس کلومیٹر رہ جائے گی  جو کہ صرف 20 منٹ  میں طے ہو گی۔

ماہرین کے مطابق یہ پل مصر کے علاقے شرم الشیخ سے تیران اور پھر تیران سے تبوک(سعودیہ) کے علاقے راس حمید  تک ہو گا،ایک دوسرا متوقع راستہ  یہ ہے کہ  شرم الشیخ سے تیران تک ایک،پھر تیران سے صنافر تک دوسرا اور صنافر سے  راس حمید تک تیسرا پل تعمیر کیا جائے جس میں لاگت بھی زیادہ آئے گی اور وقت بھی زیادہ صرف ہوگا۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اس پل کا نام شاہ سلمان پل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ان دو  منصوبوں کے علاوہ  سیناء  میں آزاد تجارتی زون اور  شاہ سلمان یونیورسٹی کے قیام پر بھی اتفاق ہوا، اور سعودی فرمانروا نے مصری پارلیمنٹ سے بھی خطاب کیا اور اس طرح شاہ سلمان مصری پارلیمنٹ سے خطاب کرنے والے پہلے سعودی فرمانروا  بن گئے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...