شام میں کون کس کے خلاف برسرِ پیکار ہے؟

152

شام میں پُراَمن احتجاج سے پھوٹنے والا تنازعہ پیچیدہ جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

یہ مارچ دوہزار گیارہ تھا جب صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف پُراَمن احتجاج ہوااور اُس میں شام کے تنازعہ نے جنم لیا،لیکن یہ ایک پیچیدہ جنگ میں اُس وقت تبدیل ہوا ،جب جہادی گروپوں ،علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں اس میں شامل ہوئیں ۔اس تنازعہ میں دولاکھ نوے ہزار سے زائد افراد مارے گئے اور آدھی سے زیادہ شامی آبادی گھر سے بے گھر ہوئی ہے ۔رواں ہفتے ترکی نے اپنی فوجوں کو داعش اور کردفورسز کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے بھیجا۔

کون لڑرہا ہے؟

باغیوں کے خلاف حکومت:میدانِ جنگ میں لگ بھگ تین لاکھ شامی فوج کے سپاہی اور اتحادی فوجیں،بے شمار باغی گروپوں اور شامی اور غیر ملکی جہادیوں کے ساتھ نبردآزما ہیں۔سب سے بڑا حکومت مخالف باغی اتحاد جیش الفتح ہے،اسلام پسند گروہوں کی دھڑے بندی جیسا کہ احرارالشام،فیلق الشام،جہادیوں کے ساتھ جیسا کہ فتح الشام فرنٹ اورپہلے القاعدہ ،النصرہ فرنٹ کے ساتھ منسلک تھا۔سب سے بڑا میدانِ جنگ آج کل حلب شہر ہے ،جو حکومت اور اپوزیشن کے مابین تقسیم ہے ،لیکن اس کا گھیرائو وحکومتی وفادار فوج نے کر رکھا ہے ۔حکومت پہلے ہی مشرقی غوطہ کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے لڑ رہی ہے ۔جبکہ دِمشق کو بڑی حد تک باغی گروہ جیش السلام کی طرف سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

حکومت داعش کے خلاف:حکومت اور اپوزیشن کے مابین جو تنازعہ ہے ،شام کے کر د وں نے بڑی حد تک خود کو اس سے باہر رکھا ہوا ہے ۔لیکن ماہِ اگست میں الحسکہ میں حکومتی طیاروں نے کرد فورسز پر پہلی بار فضائی بمباری کی،یہ وہ شہر ہے جس پر حکومت اور کردوں کا مشترکہ کنٹرول ہے۔اس وقت الحسکہ میں کرد فورسز کا نوے فیصد کنٹرول قائم ہے۔

کرد داعش کے خلاف:شامی کرد ،شمال اور شمال مشرق شام میں اپنی طاقت سے ایک نیم خودمختار علاقے پر قابض ہیں ،،جو امریکہ کی قیادت میں داعش کے خلاف کلیدی پارٹنر بن رہے ہیں  ۔جنوری دوہزار پندرہ سے وائی پی جی نے داعش کو حلب صوبے کے کوبانی اور منبج شہروں سے ،رقہ صوبے کے تل ابیض اور الحسکہ صوبے کے بڑے حصہ سے بے دخل کر دیا ہے ۔وائی پی جی شامی ڈیمو کریٹک فورسز (ایس ڈی ایف)کا اہم جزو بھی ہے ،جو گروپ داعش کے مختلف دھڑوں کے ساتھ برسرِپیکار ہے۔

داعش باغیوں کے خلاف:داعش اُن تمام کو اپنا دُشمن سمجھتی ہے جو اُن کے رہنما ابوبکر بغدادی کی بیعت نہیں کرتے اور وہ باغی گروہوں اور حریف جہادیوں کے ساتھ جنگ کرتی ہے۔گذشتہ ہفتے ترکی کے حمایتی باغیوں نے شمولیت کرتے ہوئے جرابلس کا سرحدی علاقہ داعش کے قبضہ سے چھڑوایا۔

کون کس کی حمایت کرتا ہے؟

حکومت:فوج کو دولاکھ بے قاعدہ فورسز اور خاص طور پر نیشنل ڈیفنس فورسز کی طرف سے تقویت مل رہی ہے۔پانچ ہزار سے آٹھ ہزار کے درمیان فورسز لبنان کی طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے شانہ بشانہ بھی لڑ رہی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ایرانی ،عراقی اور افغانی جنگجو بھی۔ایران ایک اور بنیادی اتحادی ہے جو مالی اور عسکری حمایت مہیاکررہا ہے ۔

باغی:اپوزیشن تصورکرتی ہے کہ اعتدال پسند مغرب بالخصوص امریکہ ،فرانس اور برطانیہ سے حمایت حاصل کررہے ہیں ،اگرچہ فورسز یہ الزام لگاتی ہیں کہ اُن کے حمایتی اُنہیں ناکافی مدد فراہم کررہے ہیں ۔ترکی ،سعودی عرب اور قطر اپوزیشن کے ساتھ ہیں مگر یہ سب اسلام پسند دھڑوں کی حمایت بھی کرتے ہیں ۔

کرد:واشنگٹن کی سربراہی میں بننے والے داعش مخالف اتحاد کا ،شامی کرد بنیادی حصہ ہیں ۔لیکن ترکی کا خیال ہے کہ وائی پی جی ،کردستان ورکر پارٹی (پی کے کے)کی ایک شاخ ہے۔

جہادی:کوئی بھی ملک داعش اور فتح السلام جہادیوں کی کھلم کھلا حمایت نہیں کرتا ،اگرچہ داعش محاصل کے فنڈز اور شام اور عراق کے اُن علاقوں کے وسائل ،جن پر اس کا قبضہ ہے ، پر انحصار کرتی ہے ۔

کون کس کو کنٹرول کرتا ہے؟

حکومت:شامی حکومت پینتیس فیصد ملک پربشمول سٹریٹجک علاقے جیسا کہ دارالحکومت دِمشق ،حما اور ساحلی علاقے اور حلب شہر کے بڑے حصے پر اپنا قبضہ رکھتی ہے ۔ساٹھ فیصد سے زائد آبادی حکومتی قوانین کی پابند ہے۔

داعش:دوہزار پندرہ سے جاری ناکامیوں کے باوجود ،داعش شام کے پینتیس فیصد علاقے پر اپنا کنٹرول رکھتی ہے ۔عراق کی سرحد پر دیر الزور صوبہ اور رقہ صوبہ میں اس کا غلبہ ہے۔اس کے علاوہ داعش دوسرے کافی علاقوں میں بھی موجود ہے ۔

کرد:کرد فورسز ملک کے اَٹھارہ فیصد علاقے بشمول شام اور ترکی کی سرحد کا تین چوتھائی ،حصے پر اپنا کنٹرول رکھتی ہے۔جو علاقے اُن کے قبضے میں ہیں ،اُنہیں وہ وفاقی خطہ قرار دے رہے ہیں۔

فتح السلام اور دوسرے باغی گروہ:فتح السلام اور دوسرے باغی گروہ ملک کے بارہ فیصد علاقے پر اپنا کنٹرول رکھتے ہیں

کس کے کیا مقاصد ہیں ؟

حکومت:بشار الاسد کہہ چکے ہیں کہ وہ ایک بار پھر پورے ملک کا کنٹرول حاصل کریں گے اور اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

باغی:باغی فورسز اسد کی شکست کی طالب ہیں ۔

کرد:کرد جہاںاکثریت میں ہیں ،وہاں ایک خود مختار علاقے کے طالب ہیں ۔

داعش:داعش اپنی خودساختہ خلافت کے دعوے کو شام اور عراق کے زیرِ قبضہ علاقے میں، مزید مقبول کرنا چاہتی ہے ۔

امریکہ:واشنگٹن کی طرف سے اسد حکومت کو پیچھے ہٹنے کا کہا گیا،لیکن اُس کی کوششیں داعش کے خلاف جنگ پر مرتکز ہیں۔

روس:ماسکو کا اصرا ر ہے کہ اسد حکومت کو نہیں ہٹایا جائے گااور ماسکو وہاں واشنگٹن کے خلاف سفارتی جیت کے ذریعے حکومت اور باغیوں کے مابین مذاکرات کا طالب ہے۔

ایران:تہران اپنے اہم اتحادی اسد کا تحفظ چاہتا ہے اور عرب دُنیا کے کردارپر زور دیتا ہے۔

ترکی:انقرہ اپوزیشن کی پشت پناہی کرتا ہے لیکن فی الحال انقرہ کی ساری توجہ کردوں کے پیدا کردہ خودمختار علاقوں کی روک تھام پر ہے۔

بشکریہ ڈان۔ترجمہ :شازی احمد

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...