اراکین اسمبلی کے علاوہ اب حقوق نسواں کی توقع کس سے کریں

74

کل بائیس اراکین اسمبلی میں سے تقریباً نصف خواتین نے اسمبلی اجلاس میں شرکت کی ہے، جبکہ اس دوران صرف پانچ خواتین اراکین اسمبلی کی جانب سے دس توجہ دلاﺅ نوٹس پیش کئے گئے.

سوات سے تعلق رکھنے والی فرزانہ اپنی شادی کی رات بہت خوش تھی اوراپنی نئی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے بہت پر امید تھی۔ لیکن اس کی شادی بمشکل چوبیس گھنٹے ہی چل سکی ، شادی کی دوسری رات شوہر نے اس کو اپنے کمرے میں قتل کردیا ۔ یوں بیس سالہ فرزانہ بہت سی امیدوں اور خواہشات کے ساتھ اس دنیا سے چل بسی ۔ یہ صرف ایک واقعہ ہے ایسے افسوس ناک واقعات ہر دوسرے روز ہمارے ملک میں رونما ہوتے ہیں، صنفی تفریق سے خواتین کی زندگیاں اجیرن ہوجاتی ہیں ، ہوّا کی بیٹی کہیں سوارہ کی بھینٹ چڑھتی ہے تو کہیں پر وہ کاری ہوتی ہے ، کہیں پر تیزاب اس کے چہرے پھینک دیا جاتا ہے تو کہیں وہ خونی درندوں کا شکار ہوکر اپنی عزت گنوادیتی ہے یا پھر غیرت کے نام پر قتل ہوکر انسانیت کے ماتھے پر کالک مل دیتی ہے ۔ سال 2017ءکے آغاز سے اب تک خیبر پخوتنخواہ میں 26خواتین ان فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھ کر غیرت کے نام پر اپنی زندگی کی بازی ہار چکی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو دنیا بھر میں خواتین ،مردوں سے چار فی صد زیادہ ہیں یعنی 52فی صد ہوکر بھی وہ اپنے حقوق کے لئے آواز اُٹھانے سے محروم ہیں خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی میں خواتین کی ایک بڑی تعدا د موجود ہے مگر خواتین کے حقوق کے لئے انہوں نے کوئی قابل ذکر قانون ابھی تک نہیں بنا یا نہ ہی کوئی بل پاس کیا ہے ۔ خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی سے ریکارڈ قانون سازی کے باوجود خواتین کے حوالے سے کوئی قابل ذکر قانون ابھی تک نہیں بنا۔گزشتہ سال خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانون سازی کی کوشش بھی ناکام ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور خواتین کے حوالے سے بننے والا بل ابھی تک التواءکا شکار ہے جو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس پڑا ہے ۔ خواتین کے حوالے سے قانون سازی کےلئے یہ بہترین موقع ہے ، اگر خواتین اراکین اسمبلی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتیں تو گزشتہ چار برس میں مثالی قانون سازی کی جاسکتی تھی، صوبائی اسمبلی کی خواتین اراکین اس بات سے انکاری ہیں ان کا ماننا ہے کہ انہوں نے خواتین کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی ہے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما نگہت اورکزئی نے کہا کہ وہ دن گئے جب اسمبلی میں ہونے والی بحث میں شریک ہونے سے اجتناب کرتیں تھیں، بلکہ ان کا مؤقف تھا کہ اہم مسائل اجاگر کرنے اور قوانین میں ترامیم پیش کرنے میں ،خواتین قانون ساز مردوں سے ایک قدم آگے ہیں، نگہت اورکزئی نے مزید کہا کہ میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ تھوڑا سا مسئلہ خواتین اراکین کی نشستوں کا بھی ہے، وزراءکو اپنی بات کرنے کی اتنی جلدی ہوتی ہے کہ وہ حکومتی نشستوں پر بیٹھی اپنی خواتین اراکین اسمبلی کو بات کرنے کا موقع نہیں دیتے۔ الغرض یہ کہ مردوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی نے نگہت اورکزئی کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے خواتین اراکین اسمبلی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں برتا جاتا تاہم ہم خاتون ڈپٹی اسپیکر مہرتاج روغانی کے ساتھ ذیادہ آرام دہ اور پرسکون محسوس کرتے ہیں،میں سمجھتی ہوں کہ دس مرد اراکین میں سے کم از کم تین خواتین اراکین اسمبلی کو بولنے کا موقع دینا چاہیئے ۔ میں یہ نہیں کہوں گیں کہ خواتین اراکین اسمبلی غیر سنجیدہ ہیں لیکن ان میں سے بیشتر نئی ہیں جو یہ نہیں جانتیں کہ معاملات کیسے نبھانے ہیں، جبکہ نگہت اورکزئی، معراج ہمایوں، انیسہ زیب طاہرخیلی جیسی سینئر خواتین اراکین اسمبلی بہتر جانتی ہیں کب کیا کرنا ہے اور کب کیا بات کرنی ہے۔

”خیبر پختونخوا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون رکن اسمبلی کو ڈپٹی اسپیکر بننے کا اعزاز حاصل ہوا، تاہم بیشتر خواتین اراکین اسمبلی جو پہلے کبھی خاموش ہوا کرتیں تھیں اب  متحرک انداز میں قانون سازی میں حصہ لیتی ہیں “تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی عائشہ نعیم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین نے گھریلوں تشدد کی حوالے سے بنائے جانے والے بل میں بھرپور معاونت فراہم کی تاہم وہ بل بعدازاں اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے روک دیا گیا۔ سینٹرل جیل پشاور میں بچوں اور خواتین کی حالت زار کے حوالے سے میں جلد ہی قرار داد پیش کروں گی۔

انیسہ زیب طاہر خیلی جو گزشتہ 29سال سے عملی سیاست کررہی ہیں اور بیشتر قائمہ کمیٹیز کا حصہ بھی ہیں نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ توجہ دلاﺅنوٹس ہو یا قراردار پیش کرنی ہو، پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنی ہو یا کسی بل کو منظور کرنا ہو ہر معاملے پر خواتین اپنا متحرک کردار ادا کرتی ہیں، ماضی کی نسبت موجود اسمبلی میں ذیادہ باصلاحیت اور قابل خواتین اراکین اسمبلی موجود ہیں جو ہر معاملے پر اپنا کردار انتہائی مثبت انداز میں ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریکارڈ دیکھا جائے تو خواتین اراکین اسمبلی کا کردار مردوں کی نسبت ذیادہ متحرک رہا ہے۔

اگر ایک طرف خواتین اراکین اسمبلی، خواتین کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے اور قانون سازی کے بڑے بڑے دعوے کر رہی ہیں لیکن خواتین کے حقوق کیلئےاب تک کسی قسم کی قانون سازی نہیں  کی گئی بلکہ انہوں نے چار سال گزرنے کے باوجود چپ ساد رکھی ہے۔ان کے دعووں کے برعکس فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کی دستاویزات کچھ اور کہانی بتارہی ہیں۔ فافن کی جانب سے اپریل 2016 سے فروری 2017 تک ہونے والے سولویں سیشن سے بائسیوں سیشن تک کی فراہم کردہ معلومات مندرجہ بالا تمام دعووں کی نفی کرتی دکھائی دیتی ہیں، معلومات کے مطابق کل بائیس اراکین اسمبلی میں سے تقریباً نصف خواتین نے اسمبلی اجلاس میں شرکت کی ہے، جبکہ اس دوران صرف پانچ خواتین اراکین اسمبلی کی جانب سے دس توجہ دلاﺅ نوٹس پیش کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی وزیر لیبر اور منرل انیسہ زیب نے ‘‘ دی خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرل ڈیویلپمنٹ اینڈ ریگولیشن بل 2016’’اور معراج ہمایوں نے ‘‘دی خیبر پختونخوا ریگولرائزیشن آف سروسز آف ٹیچنگ اسسٹنٹس ایز لیکچرار بل 2016’’ پیش کئے جنہیں بعدازاں ایوان میں بحث کے بعد منظور کرلیا گیا۔

خواتین اراکین اسمبلی کی کارکردگی کے حوالے سے جب غیر منافع بخش تنظیم ‘‘یونائیٹڈ رورل ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن’’کے ڈائریکٹر ظہیر خٹک سے پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ایوان میں ہونے والی بحث میں حصہ نہ لینا بھی جمہوری اداروں کی مضبوطی اور جمہوری روایات کے فروغ کےلئے مثبت عمل ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی رکن اسمبلی محنتی بھی اور ذہین بھی ہے لیکن اسمبلی کے اجلاس میں شامل نہیں ہوتا تو اس کا کیا فائدہ؟ خواتین اراکین اسمبلی کی اجلاس میں شرکت کورم کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، بے شک کچھ مسائل موجود ہوں گے لیکن جس موثر انداز میں خواتین اراکین اسمبلی نے غیرت کے نام پر قتل، گھریلوں تشدد اور دیگر مسائل پر آواز بلند کی وہ لائق تحسین ہے۔ خواتین میں سیاسی شعور کو فروغ مل رہا ہے جس کے مثبت نتائج مستقبل میں سامنے آئیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...