قومی جامعات میں فرقہ وارانہ ذہن سازی: مذہبی ہم آہنگی اور قومی سلامتی کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ

131

اکثر مواقع پر یونی ورسٹی کے اساتذہ اپنے مخالف مکاتب فکر کے نقطہ ہائے نظر کو اپنے تدریسی و تحقیقی عمل میں نہ صرف شامل نہیں کرتے بلکہ ان میں سے بعض اپنے سوا سارے مکاتب فکر کی نفی کرتے ہیں، ان کے خلاف نفرت انگیز انداز میں اظہار کرتے ہیں، ان کی تردید کرتے ہوئے ان کو غلط، گمراہ، باطل، مشرک ، گستاخ اور کافر ثابت کر کے ہی دم لیتے ہیں۔

پاکستان میں عام طور پر  فرقہ واریت اور  مسلکی  منافرت  و تشدد کے ذمہ دار دینی مدارس،  مساجد،  مذہبی جماعتوں، کتب خانوں، مراکز   یا   فرقہ ورانہ   ریاستی پالیسیوں   یا  ’’برادر اسلامی ممالک ‘‘ کی پاکستان  میں فرقہ وارانہ  خطوط پر مداخلت کو قرار دیا جاتا ہے  جو  کافی حد تک بجا بھی ہے۔ فرقہ وارانہ رجحانات کا یہ پہلو  ذرائع ابلاغ سمیت عام مباحث   میں دانشوروں،  تجزیہ کاروں اور   ریاستی پالیسی سازوں کی توجہ کافی حد تک  حاصل  کر چکا ہے۔     قابل غور  امر یہ ہے کہ  عوامی ٹیکس اور طلبہ کی فیسوں سے چلنے والی قومی  جامعات اور اعلیٰ تعلیم کے اداروں  خاص طور پر ان کے  علوم اسلامیہ سے منسلک شعبہ جات میں طلبہ،  محققین، اساتذہ، اور ملازمین کے ساتھ  مسلک کی بنیاد پر امتیازی سلوک کرنے  کے واقعات  رونما ہو رہے ہیں اور وہاں پر فرقہ وارانہ سوچ کو پروان چڑھا ئے جانے  کے رجحانات پر خود  طلبہ و اساتذہ  کے حلقوں میں تشوش سامنے آ رہی ہے۔

قومی جامعات   میں   پروان چڑھنے والے فرقہ وارانہ رجحانات کے جائزے کی خاطر لکھے جانے والے اس  مقالے کی تیاری کے دوران  قومی یونی ورسٹیوں   کے اساتذہ، محققین، طلبہ ، ملازمین   اور فراغت پانے والے فاضلین سے فرقہ وارانہ رجحان یا برتاؤ کے بارے میں  ان کے تجربات، مشاہدات، تاثرات  اور خیالات کے بارے میں ان   کی آراء دریافت کی گئیں۔       اس حوالے سے  رائے دینے میں بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد، نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لیگویجز اسلام آباد ، بحریہ یونی ورسٹی اسلام آباد، ائیر یونی ورسٹی اسلام آباد،  ہائی ٹیک یونی ورسٹی  ٹیکسیلا، ایریڈ ایگریکلچرل یونی ورسٹی راولپنڈی، گفٹ یونی ورسٹی گجرانوالہ، یونی ورسٹی آف پشاور،  قراقرم بین الاقوامی  یونی ورسٹی گلگت، یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی،  میرپور  آزاد کشمیر، انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ سائنسز، پشاور، پنجاب یونی ورسٹی لاہور، یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور، یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسیلا،  یونی ورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور، کراچی یونی ورسٹی ، وفاقی اردو یونی ورسٹی، کراچی،   ہزارہ یونی ورسٹی مانسہرہ اور کامسیٹ یونی ورسٹی اسلام آباد سمیت ۲۵ مختلف قومی جامعات اور  تعلیمی اداروں سے   ۹۲  افراد نے حصہ لیا  جو   مذکورہ جامعات اور تعلیمی  اداروں سے  اس وقت براہ راست   وابستہ  ہیں یا ان سے فراغت یافتہ   ہیں۔اظہار رائے کرنے والوں میں  اساتذہ، طلبہ، محققین اور ملازمین ہیں  جن میں مرد و خواتین دونوں  شامل ہیں۔ مقالے میں غیر مسلم  طلبہ، محققین، اساتذہ و ملازمین کے ساتھ ہونے والے  اچھے یا برے امتیازی سلوک شامل نہیں ہیں بلکہ اس کا  دائرہ کار  صرف مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر سے وابستہ لوگوں  کے ساتھ   مسلکی بنیادوں پر  روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق ہے۔

تحقیق  کا ماحصل اور خلاصہ

قومی جامعات  میں فرقہ وارانہ  رجحانات سے متعلق سوالنامے   کے جواب دینے میں   شامل  کل پچیس قومی یونی ورسٹیوں اور اداروں  سے وابستہ     رائے دہندہ گان میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ اور مکتب فراہی  (غامدی)سمیت مختلف مکاتب فکر کی نمائندگی موجود ہے۔  اسی طرح  اس تحقیق  میں رائے دینے والوں میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، فاٹا،  بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان   سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ اظہار رائے کرنے والوں   میں  سے تین چوتھائی  (۷۶ فیصد) جن میں  اساتذہ، محققین، ملازمین، طلبہ اور   فارغ التحصیل فاضلین  شامل ہیں، نے  قومی جامعات اور اداروں  میں  فرقہ وارانہ رجحانات کی موجودگی   کو ایک تلخ حقیقت قرار دیتے ہوئے اس   کی تصدیق کے ساتھ اس  پر  تشویش کا اظہار کیا۔   فرقہ وارانہ رجحان اور امتیازی سلوک  کی تصدیق کرنے والوں میں شامل سارے رائے دہندہ گان کا تعلق اسلامی علوم کے شعبہ جات سے ہیں۔  تقریباً  ایک چوتھائی یعنی    ۲۴  فیصد نے بتایا کہ ان کے ساتھ  ان  جامعات میں کسی قسم   کا تعصب  یا تفریق کا برتاؤ نہیں کیا گیا یا ان کے مشاہدے  میں ایسا رویہ  یا رجحان نہیں آیا۔     نفی میں  رائے دہندہ گان  میں بعض ایسے  بھی ہیں جنہوں نے دونوں طرح کے رجحانات کا تجربہ یا مشاہدہ کیا ہے کہ انہوں نے   جامعات میں تعصب  کا برتاؤ یا فرقہ وارانہ رجحان  بھی دیکھا اور بعض مواقع پر  انہیں تعصب کے بجائے رواداری  ا، احترام اور انصاف کا پہلو نمایاں  نظر آیا ہو ۔ ان جواب دینے والوں میں  سوائے چند ایک کے ( جو علوم اسلامیہ کے شعبہ جات سے ہیں)   تقریبا ً سارے  جواب دہندہ گان ایسے ہیں جن کا تعلق  انجینئرنگ، ٹیکنالوجی سمیت  طبعییاتی و سماجی علوم کے دیگر شعبوں سے    ہے۔ فرقہ وارانہ رجحانات یا امتیازی برتاؤ سے متعلق سوالوں کے جواب میں دی گئی  صرف ہاں یا نہ پر مشتمل آراء کو اسی طرح مبہم یا غیر متعلق آراء کو    جائزے کا حصہ نہیں بنایا گیا ۔    فرقہ وارانہ رجحانات اور روریوں   کے  تجربات  ومشاہدات سے  متعلق   اثبات اور نفی دونوں طرح کی  تفصیلی آراء  کو اس  مقالے میں شامل کیا گیا ہے۔ دونوں طرح کی آراء کی روشنی میں موضوع کے  مختلف پہلوؤں اور مضمرات  پر  تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

تحقیق کے مضمرات

اظہار رائے کرنے والوں  میں مذہبی  لحاظ سے  مختلف مکاتب فکر اور  چاروں صوبوں سمیت دیگر تمام علاقوں سے نمائندگی کی موجودگی  یہ بات  اضح  کرتی ہے کہ قومی جامعات میں فرقہ واریت کا ناسور اتنا پھیل چکا ہے کہ ہر جگہ کم از کم کسی ایک مکتب فکر کے ساتھ تعصب برتا جاتا ہے۔      رائے  دینے والوں کے تجربات و مشاہدات سے متعلق  زیادہ تر آراء کو دیکھ کر معاملے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قومی جامعات کے نصابِ تعلیم، تدریسی عمل، نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں پر مبنی ماحول، تحقیقی موضوعات و رجحانات اور انتظامی معاملات فرقہ وارانہ عصبیت سے کس قدر آلودہ ہو چکے ہیں۔ تحقیق کے چند مضمرات   درج ذیل ہیں:

۱۔ شعبہ علوم اسلامیہ میں فرقہ وارانہ رجحانات میں  تشویش ناک اضافہ

پاکستان کے زیادہ تر قومی جامعات میں اسلامی علوم  سے متعلق ایک یا ایک سے زائد شعبہ جات موجود ہیں۔ جبکہ اسلامیات ایک لازمی مضمون کے طور پر  گریجویشن کے ہر کورس میں پڑھایا جاتا ہے۔ علوم اسلامیہ  یا عربی کے شعبہ جات میں فرقہ وارانہ رجحانات  کے بارے میں سب سے زیادہ شکایتیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ شعبہ علوم اسلامی میں فرقہ وارانہ رجحان کی کی  کلی نفی میں صرف ایک مدرس کی رائے    سامنے آئی ہے جبکہ   چار آراء (تین  محققین اور ایک مدرس کی) ایسی ہیں جو جزوی طور پر   اتفاق کرتی ہیں۔  یہ آراء  تین  صورتوں سے خالی نہیں ہیں،  پہلی صورت  یہ ہے  کہ انہوں نے  مختلف مواقع و موارد  میں دونوں طرح کے  رجحان دیکھے،   کہیں تعصب دیکھا اور کہیں رواداری  اور وسعت نظری نظر آئی، چنانچہ انہوں نے دونوں طرح کی اپنی آراء پیش کی ہیں۔ دوسری صورت  میں یہ عین ممکن ہے کہ   متعلقہ یونی ورسٹی کے تدریسی و انتظامی عہدوں پر   رائے دہندہ گان  کے ہم مسلک  لوگ ہوں  جس کے باعث انہوں نے کسی قسم کا تعصب پر مبنی  رویہ محسوس نہیں  کیا ،   اگر معاملہ ان دونوں صورتوں سے خالی ہے  تو  دوسری طرف کی بھاری اکثریتی آراء کو دیکھتے ہوئے  ایسے موارد کو  استثنائی صورت کہا جا سکتا ہے۔  شعبہ علوم اسلامیہ کے برعکس دیگر شعبہ جات سے تعلق  کھنے والے رائے دہندہ گان کی جانب سے فرقہ وارانہ تعصب کی شکایتیں یا تو بالکل نہیں یا بہت کم۔  بعض آراء سے یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ  ماضی میں قومی جامعات میں  فرقہ وارانہ رجحان  اور امتیازی برتاؤ بہت کم تھا لیکن اب روز افزوں  پھیلتا اور    بڑھتا جا رہا ہے۔

رائے دینے والے  والوں میں شامل  کئی اساتذہ، محققین، طلبہ اور ملازمین نے بتایا  کہ بعض جامعات میں ماحول اتنا ناگفتہ بہ ہو چکا ہے کہ  سربراہ شعبہ یا اساتذہ  یا   فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم  طلبہ تنظیموں کی فرقہ وارانہ ترجیحات  اور سرگرمیوں پر بات کرنا بھی اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ رائے  کا اظہار کرنے والوں میں سے بعض اس بات سے بھی خوف زدہ  دکھائی دیے  کہ ان کے اس مسئلے پر اظہار رائے سے ان کی تعلیم، تحقیق یا ملازمت کو خطرات درپیش ہو سکتے ہیں، چنانچہ ان کی خواہش پر اس  (تفصیلی ) مقالے    میں ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ کچھ  افراد کو یونی ورسٹی اساتذہ، انتظامیہ یا طلبہ کی طرف سے  مسلکی بنیادوں پر امتیازی برتاؤ اور عدم تحفظ کے احساس کے باعث   یونی ورسٹی میں دوران  تحصیل   ہی اپنی تعلیم  کو ادھورا   چھوڑ کر تعلیم سے محروم ہونا پڑا۔    ایسے خدشات اور عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا سارے رائے دہندہ گان علوم اسلامیہ و عربی  کے شعبہ جات سے  تعلق رکھتے ہیں۔

تدریسی و تحقیقی عمل میں  فرقہ وارانہ سوچ کا فروغ اور امتیازی سلوک

تحقیق  و علمی ارتقاء کے ذریعے عصری علمی  مباحث میں اسلامی نقطہ نظر کو پیش کرنے اور قومی  و بین الاقوامی سطح پر اسلامیات کے ماہرین  ومحققین  و  کی تربیت  کے  لیے قائم قومی جامعات میں    معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ   طلبہ کے  امتحانی پرچوں  کی    مارکنگ ،مقالات کی جانچ پڑتال، تحقیقی مجلات میں مقالات کی اشاعت ، اندرون و بیرون ملک  سکالرشپس کے مواقع کے حصول  اور قومی جامعات میں داخلے کے لیے بھی آپ کو  فرقہ وارانہ  بنیادوں پر  وابستگی یا سفارش تلاش کرنی پڑتی ہے،  ورنہ  مسلکی بنیادوں پر آپ کے ساتھ امتیازی برتاؤ   کیا جائے گا۔

اکثر مواقع پر یونی ورسٹی کے  اساتذہ اپنے مخالف مکاتب فکر کے نقطہ ہائے نظر  کو اپنے تدریسی و تحقیقی  عمل  میں  نہ صرف شامل نہیں کرتے  بلکہ ان میں سے بعض  اپنے سوا سارے مکاتب فکر  کی نفی کرتے ہیں،  ان کے  خلاف نفرت انگیز انداز میں اظہار کرتے ہیں،  ان کی تردید کرتے ہوئے ان کو غلط،  گمراہ، باطل، مشرک ، گستاخ   اور  کافر ثابت کر کے ہی دم لیتے ہیں۔ جس سے جامعات میں  مسلکی منافرت   اور فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا ملتی ہے اور پُرتشدد واقعات سامنے آتے ہیں۔  بعض رائے دہندہ گان نے اس تشویش کا بھی  اظہار کیا ہے کہ بعض یونی ورسٹی اساتذہ  کالعدم   تنظیموں کی فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں بھی شریک ہوتے ہیں۔

بعض   لوگوں   نے کہا ہے کہ  ایک اسلامی ملک کی جانب سے اپنے ہاں  سے  فراغت یافتہ اساتذہ کو  ’’مبعوث‘‘ بنا کر  پاکستان کی  بعض قومی جامعات  کے علوم اسلامیہ اور عربیہ کے شعبہ جات میں تدریس کے فرائض سر انجام دینے کے لیے بھیجا جاتا ہے   جنہیں یونی ورسٹی کے بجائے  مذکورہ ملک  خطیر اعزازیہ دیتا ہے۔  جہاں تک  ان کی بلا معاوضہ خدمت  کی بات ہے وہ نہایت قابل تحسین ہے لیکن اس میں تشویش ناک پہلو  یہ  ہے  کہ ایسے اساتذہ کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ   اپنی مخصوص  اور سخت گیر  مذہبی فکر  کو فروغ دیتے ہیں اور اسی پر اصرار کرتے ہیں۔

یونی ورسٹی انتظامیہ اور فرقہ وارانہ سرگرمیاں

عموما ًیہ دیکھا گیا ہے کہ  شعبے کا سربراہ جس فرقے سے  تعلق رکھتا ہو  شعبے کے  انتظامی، تدریسی، نصابی و ہم نصابی اور تحقیقی معاملات  میں بھی ان کی  فرقہ وارانہ ترجیحات نمایاں دکھائی دیتی ہیں ۔ اس کو جانچنے کے لیے اس شعبہ میں کل وقتی یا جزوقتی اساتذہ اور دیگر ملازمین یا شعبے میں زیر تعلیم و تحقیق طلبہ   میں مختلف مسالک کے تناسب  پڑ نظر دوڑائی جائے، یا یہاں سے چھپنے والے تحقیقی مجلات، تھیسز یا کتابوں کے عناوین دیکھ لیے جائیں یا منعقدہ سیمیناروں اور کانفرنسز  میں سپیکرز اور مہمانوں  کی فہرست دیکھ لی جائے  تو  یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ فرقہ وارانہ رجحانات کس قدر ہیں۔

بعض یونی ورسٹیوں میں سربراہ شعبہ کی   موجودہ  یا گزشتہ ادوار میں  براہ راست یا بالواسطہ سرپرستی     کے باعث مسلکی بنیادوں پر  متحرک طلبہ تنظیموں کی فرقہ وارانہ سرگرمیوں  میں غیر معمولی جوش دکھائی دیتا ہے، یونی ورسٹی کی دیواریں، نوٹس بورڈز اور دیگر ڈسپلے ایریاز فرقہ وارانہ تشہیری و تنظیمی نعروں  اور (حتی کہ  کالعدم تنظیموں کے )  اشتعال انگیز  بیانات  سے   اس قدر  آلودہ  نظر آتے ہیں  کہ  یونی ورسٹیاں تحقیق و اعلیٰ تعلیم کے مراکز  بجائے فرقہ وارانہ جماعتوں کے تشہیری کیمپس  دکھائی دیتی ہیں۔    یہی وجہ ہے کہ  تعلیم و تحقیق کے میدان میں کچھ کارناموں کی خبروں کے بجائے قومی جامعات سے   فرقہ وارانہ بنیادوں پر    اساتذہ و ملازمین کی گروہ بندیوں اور طلبہ کی باہمی پُرتشدد لڑائیوں، قتل و غارت گری اور یرغمالیوں  اور دہشت گرد تنظیموں  میں  شمولیت اور ان  کی سہولت کاری کی بریکنگ نیوز ہمیں  بار بار سننے کو ملتی ہیں۔

انتظامی لحاظ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بعض ’’برادر اسلامی‘‘ ممالک کی جانب سے  پاکستانی جامعات  کی  ایسی سرپرستی، تعاون  اور اشتراک عمل جاری ہے جس سے  ان اعلیٰ تعلیمی اداروں کا استقلال مجروح ہو رہا ہے۔   فرقہ وارانہ خطوط پر ان ممالک کی  امداد کے باعث   قومی جامعات کے انتظامی، تدریسی اور تحقیقی عمل پر فرقہ وارانہ چھاپ واضح دکھائی دی رہی ہے۔ تعلیمی ارتقا کے لیے  مختلف ممالک کے تعلیمی و تحقیقی اداروں  میں اشتراک  کے ذریعے تحقیق  و تدریس کے باہمی تجربات  کا تبادلہ نہایت مستحسن عمل ہے لیکن   اگر ایسا   غیر منظم    اشتراک کسی ایسے ایجنڈے کے ضمن میں ہو جو ہماری قومی یک جہتی اور سلامتی کے لیے خدشہ پیدا کرے تو یقیناً اس کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

یہ ہرگز ضروری اور مطلوب  نہیں کہ    اسلامی نظریاتی کونسل کی طرح اسلامی علوم کے شعبوں  کو سیاسی اکھاڑہ بنا کر ان میں مختلف مسالک کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے  یا اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کی مذہبی آزادی پر کسی قسم کا قدغن لگایا جائے۔ بلکہ ضروری   یہ ہے کہ شفافیت اور میرٹ کے  مقررہ  قواعد و ضوابط کے مطابق ہی معاملات کو چلایا جائے،  جامعات میں  تعلیم، تدریس اور تحقیق  کا  ماحول ایسا  سازگار ہو کہ  ہر  شہری کو  حاصل اس کے    آئینی    و انسانی  حقوق کے مطابق اپنے مسلک و عقیدہ کو پڑھنے و پڑھانے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ  کرنے  کے یکساں مواقع  حاصل ہوں۔  عین ممکن ہے کہ   کسی ایک علاقے میں کسی ایک مسلک کی آبادی  کے تناسب سے طلبہ، ملازمین اور اساتذہ کے تناسب میں فرق ہو لیکن  مسئلہ  تب بنتا ہے کہ جب  دانستہ طور پر میریٹ اور انصاف  کی پامالی کر کے   کسی مسلک کی ترویج یا تردید کی جائے۔

قومی جامعات میں فرقہ وارانہ رجحان قومی سلامتی کے لیے خطرہ

کسی بھی معاشرے میں مختلف مسالک، مراکز، نقطہ ہائے نظر اور مکاتب فکر کی موجودگی ایک طرف فطری  ہے اور دوسری طرف  اس کی  علمی ترقی کی ضامن بھی، اس سے انکار نہ صرف  قدرتی تنوع  کے حسن اور  اس کی معاشرتی ضرورت  کی حکمت سے ناآشنائی ہے بلکہ یہ ایک  خواہش ناتمام بھی ہے۔ اصل مسئلہ مختلف و متفرق  فکری مکاتب اور سماجی طبقات  کی موجودگی میں نہیں ہے بلکہ اس تناؤ ، منافرت اور عدم برداشت  میں ہے جو تشدد، سماجی تفریق اور بدامنی  اور منظم قتل و غارت گری پر منتج ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے فرقہ واریت  ایک تنگی اور گھٹن کا نام ہے جس کی جڑیں بہت پختہ ہو چکی ہیں۔ فرقہ وارانہ  حول میں پنپنے والی فکر اور تیار ہونے والے طلبہ کی اولین ترجیح سارے مختلف مکاتب فکر کی تردید کے ذریعے اپنے فرقے کی ترویج ، برتری  ہی ٹھہرتی ہے۔  تحقیق ، معروضیت،  وسعت نظری،  انصاف اور معیار   سے کوسوں دور  اس فکری گھٹن کو   اگر اعلیٰ قومی جامعات کے توسط سے نئی نسل کو مسلسل منتقل کیا جا رہا ہو اور انہی تنگ خطوط پر طلبہ  تعلیم و تربیت   پا رہے ہوں  اور تحقیقی مجلات و مقالات کے نام پر فرقہ وارانہ لٹریچر تیار کیا جا رہا ہو   تو   گلوبلائزیشن کے اس دور میں    پاکستان کے مختلف النوع  فکری طبقات اور کثیر الثقافت  و کثیر العقائد معاشرے میں  پائیدار    امن و ہم آہنگی اور   باہمی الفت و احترام کے ساتھ ترقی و استحکام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

قومی جامعات میں فرقہ وارانہ رجحان کو پروان چڑھانے کا مطلب اسے اداراتی   حیثیت  و قبولیت دینا ہے (institutionalize کرنا ہے)۔  اگر اس طرح فرقہ واریت کو منظم انداز میں  قومی سطح پر ادار تی دھارے  میں شامل کیا جائے تویہ خطرناک صورت حال پر منتج ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر  تشکیل پانے والے اداروں کی پھر یہی کوشش رہے گی کہ ان کا   فرقہ وارانہ خول مضبوط رہے اور اس کی فصیلیں کسی بھی طرح کمزور  نہ ہوں،،   جس مسلک کو جدھر موقع ملے گا، ہر ایک اپنے سکے کو رائج الوقت بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتا  نظر آئے گا۔

ایک لاوا  کی صورت میں پکتا ہوا فرقہ وارانہ تعصب و تشدد   پاکستان کی  سماجی زندگی ، قومی  استحکام و سلامتی اور  امن و ترقی کے لیے  بالقوہ کتنا خطرہ  ہے،   گزشتہ تین دہائیوں  کے دوران فرقہ وارانہ تشدد  اور قتل و غارت  کے واقعات اور اموات  کی  اعداد و شمار   سے  اس  بات کا  اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔     اب تک کی فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں  فرقہ وارانہ تنظیمیں  ملوث رہی ہیں، اب اگر اس میں قومی جامعات بھی  براہ راست  اپنا حصہ شامل  کریں تو خطرے   کی حدت و شدت کا ادراک کرنا زیادہ مشکل نہیں  ہے۔   اگر ایک طرف  ذہن سازی  کے قومی اداروں کے ذریعے ہی  فرقہ وارانہ انتہاپسندی کو فروغ دیا جا رہا ہو  تو دوسری طرف سے  محافظ قومی اداروں کے ذریعے امن  و ترقی کی راہوں کو کیسے ہموار کیا جا سکتا ہے۔۷۰ کی دہائی کے بعد مختلف ادوار میں مختلف استعماری طاقتوں کی ایماء  پر  تعلیمی و تحقیقی میدان  میں کی جانے والی    ’’خاص‘‘ اصلاحات کا خمیازہ پاکستان  چار دہائیوں  بعد بھی بھگت رہا ہے۔ آج اگر ایک بار پھر  بیرونی  عسکری مہمات  کے تناظر میں پروان چڑھنے والی فرقہ وارانہ اور انتہاپسندانہ    فکر کو تعلیم و تحقیق کے ذریعے آئندہ نسلوں تک  منتقل کیا جائے تو  شاید  خوف کی فضا میں پرورش پانے والی ہماری آئندہ کئی نسلیں اسی طرح خون وآگ کی کھیل سے باہر نہ نکل سکیں جس  طرح آج پاکستانی قوم پھنسی ہوئی ہے۔     لمحوں کی ایسی خطائیں نسلوں کئی برسیں بھگتنا پڑتی ہیں۔

  فرقہ وارانہ سوچ اور سلوک  آئین پاکستان اور انسانی حقوق کا منافی

قومی جامعات میں مسلک کی بنیاد پر کی جانے والی  کوئی بھی تفریق جہاں آئین پاکستان   کی  بنیادی دفعات کی خلاف ورزی ہے وہیں یہ  سماجی انصاف،  اسلامی تعلیمات، انسانی حقوق اور اخلاقی اقدار کے بھی منافی  ہے  اور  تعلیم و تحقیق کے شعبے میں  ہماری زبوں حالی کی ابتر عکاس  بھی۔   اس کے خلاف منظم انداز میں آواز اٹھانا اور صورت حال میں بہتری کے لیے کوشش کرنا  جہاں قانون و انصاف کی بالادستی کا تقاضا ہے وہیں تعلیم، تدریس اور تحقیق کے میدان میں بین الاقوامی دوڑ میں شامل ہونے  کی خاطر  ہمارے معیار کو بہتر اور بلند بنانے کے لیے ناگزیر بھی ہے۔

جامعات کا مطلوبہ  منصبی کردار

قومی یونی ورسٹیوں کے  قومی و بین الاقومی سطح پر اسلامیات  کے شعبے میں تحقیق و تدریس  کے معیارات جانچنے کے لیے    بین الاقوامی تحقیقی    منصوبوں و سرگرمیوں  میں    ان شرکت ،  بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں  ان داروں کے فاضلین کی شمولیت  اور  عالمی معیار کے مجلات میں  مقالہ نگاروں کے مقالوں کی اشاعت کو دیکھا جائے تو  اندازہ  ہوگا کہ  وہ اپنے بنیادی ہدف کے حصول  کے حوالے سے  کتنے پانی میں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر اربوں روپے کا قومی بجٹ خرچ کر کے سرکاری جامعات نے تحقیق و تعلیم کے اعلیٰ معیار کے بجائے فرقہ ارانہ رجحانات برآمد کرنے کا یہی کام کرنے تھے تو مسالک کی بنیاد پر قائم دینی مدارس کے ان پانچوں بورڈ ز سے کیا مسئلہ تھا جن کے ہزاروں مدارس ہیں اور ان میں لاکھوں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ جو بغیر کسی عوامی ٹیکسوں یا فیسوں کے طلبہ کو مفت خوراک و پوشاک، رہائش ، کتابین اور تعلیم دے رہے ہیں۔

آگے بڑھنے کا راستہ

سرکاری یونی ورسٹیوں خاص طور پر اسلامی علوم کے شعبہ جات  میں فرقہ وارانہ رجحانات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے،مقاصد تعلیم کی تعیین،اسلام کے متنوع تعبیرات و مکاتب پرمشتمل تحقیقی  نصاب کی تدوین،   اساتذہ کی موثر تربیت،  شفاف نظام اور جدید تحقیقی معیارات کے فروغ ، دیگر بین الاقوامی یونی ورسٹیوں اور تحقیقی اداروں سے اشتراک کے لیے جامع  پالیسی مرتب کرنے اور اس کے یکساں نفاذ کے لیے  ایک وسیع منصوبہ بند تحقیق  درکار ہے جو کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات کے  باہمی اشتراک و تعان پر مبنی    جامع اقدام  کی صورت میں عمل پذیر ہو۔

نوٹ : یہ تحقیق کا خلاصہ ہے۔  رائے دہندہ گان کے تجربات و مشاہدات  اور آراء  پر مشتمل تفصیلی مقالہ  ، تجزیات کے آئندہ  شمارے میں شائع ہوگا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...