اڈیالہ جیل میں بند طلحہ ہارون کو امریکہ کے حوالے کیوں کیا جا رہا ہے؟

295

ایف بی آئی کا دعویٰ ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید امریکی شہری طلحہ ہارون کا تعلق دولت اسلامیہ سے ہے جس نے نیویارک کے معروف علاقے ٹائمز سکوائر اور سب وے سسٹم کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جبکہ طلحہ ہارون کے والد ہارون الرشید اسے اپنے بیٹے کے خلاف سازش گردانتے ہیں ۔

ایف بی آئی کا دعویٰ ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید امریکی شہری طلحہ ہارون کا تعلق دولت اسلامیہ سے ہے جس نے نیویارک کے معروف علاقے ٹائمز سکوائر اور سب وے سسٹم کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جبکہ طلحہ ہارون کے والد ہارون الرشید اسے اپنے بیٹے کے خلاف سازش گردانتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ‘‘پاکستان کے سیکورٹی حکام نے کوئٹہ میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور گھر کا کونہ کونہ چھان مارا مگر کچھ بر آمد نہیں ہوا ۔مگر جاتے ہوئے میرے بیٹے  طلحہ ہارون کو ساتھ لے گئے ۔ یہ واقعہ 13 اگست 2016 کا ہے ۔

شلوار قمیض  میں ملبوس سر پر سندگی ٹوپی پہنے ، چہرے پر داڑھی سجائے 46 سالہ ہارون الرشید جب مجھ سے گفتگو کر رہا تھا تو اس کے ساتھ اس کا چھوٹا بیٹا محمد یوسف بھی ساتھ تھا جوکہ امریکی شہری ہے اور خصوصی طور پر اپنے بھائی کے لئے پاکستان آیا ہوا ہے ۔

ہارون الرشید کی دو بیویوں سے  پانچ بچے ہیں ۔ ایک بیوی امریکی شہری جبکہ دوسری مقامی ہے ۔ اسے اس وقت اپنے خاندان کے ساتھ دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا جب 2002 میں وہ ڈینور کی ریاست کے شہر کولوراڈو میں رہ رہا تھا ۔چار سال کی طویل قانونی جنگ کے بعد نومبر2006 میں تما م خاندان پر دہشت گردی کے الزامات واپس لے لئے گئے ۔کیس کے دوران انہیں پاکستان ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا اس کے بعد وہ کبھی واپس نہیں گیا۔

دس سال کے بعد ہارون الرشید کو اسی صورتحال کا سامنا ہے جو اسے پہلے درپیش رہی ۔مگر اس بار ملزم وہ نہیں بلکہ اس کا بیٹا طلحہ ہارون ہے جس پر الزام ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کے ساتھ مل کر نیویارک کے معروف علاقے ٹائمز سکوائر اور سب وے سسٹم کو نشانہ بنانا چاہتا تھا ۔ اس لئے ایف بی آئی اڈیالہ جیل میں قید طلحہ ہارون کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ہارون الرشید کے بقول اس کا بیٹا جو کہ ڈینیور میں ہائی سکول کا طالب علم ہے وہ اپنی ماں کے ساتھ 15 اگست 2014 کو کوئٹہ منتقل ہو گیا تھا ۔بعد ازاں اس کی ماں اپنے دیگر دو بچوں کے ساتھ واپس امریکہ واپس چلی گئ جبکہ طلحہ اس کے ساتھ ٹھہر گیا۔وہ اسے کراچی میں ایک مدرسے میں داخل کرانا چاہتا تھا مگر خاندانی مسائل کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا ۔اسی دوران اس کے بیٹے کو کوئٹہ میں واقع اپنے گھر سے اٹھا لیا گیا۔

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جو دستاویزات وزارت داخلہ کو دی گئی ہیں ان کے مطابق طلحہ ہارون امریکی عدالتوں کو پانچ مختلف کیسوں میں مطلوب ہے :

۱۔بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال  کی سازش

۲۔سرحدوں کے اندر دہشت گردی  کرنے کی سازش

۳۔عوامی مقام اور ٹرانسپورٹ سسٹم کو نشانہ بنانے کی سازش

۴۔دہشت گردوں کی مدد کی سازش

۵۔دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم کے مدد کا الزام

ان دستاویزات کے ساتھ ایک سپیشل ایجنٹ Oscar M.Gifford جو کہ ایف بی آئی کی  ائیر فورس آفس آف سپیشل انویسٹی گیشن  ٹاسک فورس کا رکن ہے اس کا بیان حلفی بھی منسلک ہے ۔جس میں کہا گیا ہے کہ Oscar M.Gifford نے ہارون کی قانون نافذ کرنے والے ایک خفیہ آفیسر (جس کا نام خفیہ رکھا گیا ہے اور اس کے لئے صرف UC کا کوڈ ورڈ استعمال کیا  گیا ہے )کے ساتھ گفتگو ریکارڈ کی جس میں نیویارک میں دولت اسلامیہ کی جانب سے حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی بات ہو رہی ہے طلحہ ہارون اور اور ایک اور شخص جس کانام CC1 ظاہر کیا گیا ہے اس نے ٹائمز سکوئر اور سب وے سسٹم کو نشانہ بنانے کی بات کی اس کے علاوہ کنسرٹ بھی ان کے اہداف میں شامل تھا ۔

ایف بی آئی ایجنٹ کے مطابق مئی 2016 میں ہارون اور CC-1 نے حملوں کی منسوبہ بندی کی ۔CC-1 جو کہ امریکہ سے باہر موجود تھا اس نے بم بنانے کا سامان خیریدااور امریکہ روانہ کر دیا اور نیویارک کے قریب ایک جگہ لے کر  اسے بیس کے طور پر استعمال کر کے اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ۔بیان ِ حلفی میں مزید کہا گیا کہ طلحہ ہارون کے پاکستان سفر کی وجہ یہ تھی کہ وہ وہاں بم بنانے کے ماہر سے رابطہ کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکے ۔اس مقصد کے لئے اس نے پانے پاسپورٹ پر پاکستانی ویزہ لگوایا تاکہ وہ دوبارہ امریکہ آ کر حملے کر سکے ۔ایف بی آئی ایجنٹ کے بقول طلحہ ہارون کا تعلق اخی سے تھا۔ یہ عربی لفظ ہے جس کامطلب بھائی  ہے یہ نام دولت اسلامیہ کے ایک رہنما کے طور پر دیا گیا ہے جس کی تفصیلات نہیں دی گئیں ۔

طلحہ ہارون کو پاکستان میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب امریکی حکام نے پاکستانی حکام سے رابطہ کیا۔اس دوران طلحہ ہارون کا خاندان اس کے حدود اربعہ سے آگاہ نہیں تھا ۔ تاہم نومبر 2016 میں اسے پہلی بار ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اسلام آباد عبدالستار عیسانی کے روبرو پیش کیا گیا۔پہلے عیسانی کو بتایا گیا کہ طلحہ ہارون امریکہ جانے کے لئے تیار ہے لیکن جب طلحہ ہارون نے خود عیسانی کو بتایا کہ اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیااور اسے اپنے خاندان سے ملاقات بھی نہیں کرائی گئی جس پر عیسانی نے اس کے گھر والوں سے ملاقات کروائی ۔

طلحہ کے والد ہارون الرشید نے بتایا کہ جب نومبر 2016 میں مجھے کال آئی تو مجھے خوشی ہوئی کہ میرا بیٹا زندہ ہے لیکن طلحہ نے مجھے بتایا کہ اسے غیر قانونی حراست کے دوران  بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا  اسے غوطے تک دیئے گئے۔اسے کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا لیکن اسلام آباد میں بھی ظاہر نہیں کیا گیا ۔اس نے بتایا کہ جیسے ہی اسے اپنے بیٹے کے بارے میں معلوم ہوا وہ اپنے خاندان کے ساتھ اسلام آباد پہنچ گیا اور اب اس نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس دائر کر دیا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بیٹے کو امریکہ حکام کے حوالے کیا جائے ۔

وزارت داخلہ کے مراسلے جس پر 14 مئی 2017 کی تاریخ درج ہے اس کے مطابق وزارت داخلہ نے طلحہ ہارون کو امریکہ کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے ۔یہ فیصلہ اے ڈی سی جی کیپٹن عبد الستار عیسانی کی انکوائری کی روشنی میں کیا گیا ہے ۔اسی روز کو ایک اور خط جاری ہوا جس میں ایف آئی اے کو کہا گیا کہ وہ طلحہ ہارون کو  جیل سے حراست میں لے کر اسے امریکی حکام کے حوالے کرے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ  دو ہفتے قبل تین مئی کو امریکی حکام نے راولپنڈی کی جیل میں طلحہ ہارون سے ملاقات کی ۔تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ ملاقات کن ضوابط کے تحت ممکن ہوئی ۔طلحہ ہارون کے بھائی یوسف ہارون نے بھی اس رات اپنے بھائی سے سکائپ پر بات کی تھی جس رات اسے کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا تھا ۔ اس لئے وہ بھی اس کا گواہ ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے ایک ماہ پہلے ایف بی آئی کے لوگوں نے ڈینور میں اس کے گھر پر دستک دی اور اس کے بھائی کے بارے میں سوالات کئے جو اس وقت اپنے خاندان کے پاس پاکستان میں تھا۔ یوسف ڈینور کالج میں کمپیوٹر سائنس کا طالب علم ہے جو آج کل اپنے بھائی سے ملنے پاکستان آیا ہوا ہے۔ہارون الرشید نے اس کیس میں طارق اسد کی بطور وکیل  خدمات حاصل کی ہیں جو کہ لال مسجد فاؤنڈیشن کے صدر بھی ہیں اور مسنگ پرسنز، طالبان اور لال مسجد کو وابستگان کے عدالتوں میں کیس لڑتے ہیں ۔ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ کیس لڑنے کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اس لئے طارق اسد نے یہ کیس مفت لڑنے کی پیشکش کی ہے ان کا کہنا ہے کہ میں دگرگوں حالات سے دوچار ہوں میں اپنے بیٹے کو ان حالات میں نہیں دھکیلنا چاہتا جن سے دس سال پہلے میں گزرا ہوں ۔وہ بے گناہ ہے ۔

(انگریزی سے ترجمہ : سجاد اظہر )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...